right wing groups

(علامتی تصویر: رائٹرس)

ہندوستان میں اس سال جولائی تک عیسائیوں پر 300 سے زیادہ حملے ہوئے: این جی او

غیر سرکاری تنظیم یونائیٹڈ کرسچن فورم نے اپنی ہیلپ لائن پر مدد کے لیےآئے فون کال کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ 2022 کے پہلے سات مہینوں میں ملک میں عیسائیوں کے خلاف ہوئے حملوں میں اتر پردیش سرفہرست اور چھتیس گڑھ دوسرے نمبر پر ہے۔

جہانگیر پوری میں ترنگا یاترا۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نفرت کے خلاف عام شہریوں کا متحد ہونا مطمئن کرتا ہے کہ نفرت ہارے گی

ملک میں جہاں ایک طرف نفرت کے علمبردار فرقہ واریت کی خلیج کو مزید گہرا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف ان کی بھڑکانے اور اکسانے کی تمام تر کوششوں کے باوجود عام لوگ فرقہ وارانہ خطوط پر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نہیں ہو رہے بلکہ ان کے منصوبوں کو سمجھ کرزندگی کی نئی سطحوں کوتلاش کرنے کی سمت میں بڑھن رہے ہیں۔

موہن بھاگوت(فوٹو : پی ٹی آئی)

ہندوستان عدم تشدد کی بات کرے گا، لیکن اپنے ہاتھوں میں چھڑی رکھے گا: موہن بھاگوت

آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ مذہب کی ترقی کے بغیر ہندوستان کی ترقی ممکن نہیں ہے۔ سناتن دھرم ہی ہندو راشٹر ہے۔ اس ہندوستان کے راستے میں جو بھی کھڑا ہوگا اسے ہٹا دیا جائے گا یا ختم کردیا جائے گا۔

دھارواڑ کے ایک مندر احاطہ میں سنیچر کومسلمان پھل فروش کے ساتھ توڑ پھوڑ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@harishupadhya)

کرناٹک: مسلم دکانداروں پر حملے کی حمایت میں بی جے پی ایم ایل اے نے کہا – یہ ہندو مندر ہے

کرناٹک کے دھارواڑ میں واقع ایک مندر میں شری رام سینا کے کارکنوں نے گزشتہ سنیچر کو مسلم پھل فروشوں کے ٹھیلوں میں توڑ پھوڑ کی اور ان کے پھلوں کو سڑک پر پھینک دیا۔ اس پر مقامی بی جے پی ایم ایل اے اروند بیلاڈ کا کہنا ہے کہ ہندو مندر میں مسلمانوں کا پہناوا دیکھ کر ہندو بھکت کیسا محسوس کرتے ہوں گے۔

(فوٹو : رائٹرس)

کرناٹک: حجاب اور حلال تنازعہ کے بیچ دائیں بازو گروپ نے کہا – مسلم ڈرائیوروں کا بائیکاٹ کریں

کرناٹک کے دائیں بازو گروپ بھارت رکشا ویدیکے نے بنگلورو سمیت ریاست کے کئی حصوں میں گھر گھر جا کر لوگوں سے کہا ہے کہ وہ مسلم ٹیکسی ڈرائیوروں کی خدمات نہ لیں، بالخصوص ہندو مندروں یا تیرتھ یاترا کے دوران ایسا نہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ریاست میں دائیں بازو گروپوں نےمسلمانوں اور ان کے روزگارکو شدید طور پر نشانہ بنایا ہے۔

 ہندو جن جاگرتی سمیتی کے کوآرڈینیٹرچندرو موگر(فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

بنگلورو: مسلمان پھل فروشوں کے بائیکاٹ کی اپیل کے تین دن بعد بھی ایف آئی آر درج نہیں

بنگلورو کی ہندو جن جاگرتی سمیتی کے کوآرڈینیٹر چندرو موگر نے تین دن پہلے ہندوؤں سے صرف ہندو دکانداروں سے پھل خریدنے کی اپیل کی تھی تاکہ پھلوں کی تجارت میں مسلمانوں کی اجارہ داری کو ختم کیا جاسکے۔ اس کے بعد سے چار سماجی کارکن فرقہ وارانہ منافرت اور تشدد کو فروغ دینے کے الزام میں موگر کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

علامتی تصویر : فوٹو/ پی ٹی آئی

کرناٹک: حجاب اور حلال گوشت پر تنازعہ کے بعد مساجد میں لاؤڈ اسپیکر پر پابندی کا مطالبہ

کرناٹک میں حجاب اور ‘حلال گوشت’ مخالف مہم کے بعد بجرنگ دل اور شری رام سینا کی قیادت میں دائیں بازو کی تنظیموں نے اب مساجد میں لاؤڈ اسپیکر پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ شری رام سینا کے کنوینر پرمود متالک نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ مساجد میں نصب لاؤڈ اسپیکر پر پابندی لگائی جائے اور صوتی آلودگی کے خلاف سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کیا جائے۔

کرن مجمدار شا۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

کرناٹک: وزیر اعلیٰ سے کرن مجمدار شا کی اپیل؛ مذہب کی بنیاد پر تفریق کے معاملے کو حل کریں

کرناٹک میں فرقہ وارانہ واقعات مثلاً؛ حجاب ، ہندو مذہبی مقامات پر مسلمانوں کو کاروبار کرنے کی اجازت نہ دینا یا حلال گوشت کے تنازعہ کے پیش نظر بایوکان کمپنی کی سربراہ کرن مجمدار شا نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ وہ مذہب کی بنیاد پر تفریق کے اس معاملے کو حل کریں۔ اس پر وزیر اعلیٰ بومئی نے کہا ہے کہ اس طرح کے ایشو پر عوامی فورم پر جانے سے پہلے سب کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

علامتی تصویر، فائل فوٹو: رائٹرس

کرناٹک حلال گوشت تنازعہ: حلال گوشت کے بائیکاٹ کی اپیل کے بیچ مسلم دکاندار پر حملہ

ہندو تنظیموں کا الزام ہےکہ اسلامی تنظیمیں ملک میں ایک متوازی مالیاتی نظام قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ ملکی سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔ وہیں اپوزیشن کا الزام ہے کہ بی جے پی یہ سارا کھیل اگلے سال ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخابات کے لیے کھیل رہی ہے۔

چیف منسٹر بسواراج بومئی۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

کرناٹک: وزیر اعلیٰ نے کہا – حکومت حلال گوشت کے خلاف لوگوں کے اعتراضات پر غور کرے گی

کرناٹک میں دائیں بازو کے کئی گروپوں نے حلال گوشت کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔ ‘اوگادی’ کے بعد ریاست کی مختلف کمیونٹی نان ویجیٹیرین کھانے کا اہتمام کرتی ہیں۔ اوگادی کو ہندو نیا سال ماناجاتا ہے اور اس کے اگلے دن گوشت چڑھانے کی روایت ہے۔ لیکن، سوشل میڈیا پر کچھ دائیں بازو کی تنظیمیں حلال گوشت نہ خریدنے کی اپیل کر رہی ہیں۔ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری سی ٹی روی نے تو حلال گوشت کو ‘اقتصادی جہاد’ بھی قرار دیا ہے۔

photo_2021-12-07_21-13-27

مدھیہ پردیش میں مشنری اسکول پر بھگوا غنڈوں کا حملہ: نشانے پر عیسائی کیوں؟

ویڈیو: مدھیہ پردیش کے ودیشا ضلع کے گنج باسودا میں سینٹ جوزف ہائی اسکول میں گزشتہ چھ دسمبر کو جب 12ویں کے طلباامتحان دے رہے تھے، عین اسی وقت بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے تقریباً 300 لوگ کیمپس میں گھس آئے۔ ان لوگوں نے الزام لگایا کہ ہندو بچوں کو اسکول میں زبردستی مذہب تبدیل کرکے عیسائی بنایا جا رہا ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی)

ہریانہ: رائٹ ونگ ہجوم   نے چرچ میں داخل ہونے کی کوشش کی، پولیس نے روکا

واقعہ روہتک کا ہے، جہاں رائٹ ونگ گروپوں کے ممبروں نے مبینہ طور پر آٹھ دسمبر کو چرچ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ ہندوتوا ہجوم کاالزام تھا کہ چرچ مذہب تبدیل کرا رہا ہے لیکن پولیس نے بتایا کہ انہیں ابھی تک ایسی کوئی شکایت نہیں ملی ہے۔

2411 GONDI.00_05_11_01.Still009

دہلی: دوارکا چرچ میں توڑ پھوڑ، عیسائیوں نے لگایا بجرنگ دل پر الزام

ویڈیو: راجدھانی دہلی کے دوارکا علاقے میں بنے ایک چرچ میں گزشتہ دنوں کچھ لوگوں نے توڑ پھوڑ کی۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ مبینہ طور پر بجرنگ دل کے ہیں۔ پچھلے 11 مہینوں میں ہندوتوا تنظیموں سے جڑے لوگوں کی طرف سے عیسائی کمیونٹی کے خلاف 300 سے زیادہ حملے ہوئے ہیں۔ دی وائر نے ان حملوں اور جبراً تبدیلی مذہب کےالزامات کے بارے میں عیسائی کمیونٹی اور دائیں بازو کی ہندو تنظیموں سے بات کی۔

روڑکی کا تباہ شدہ  چرچ۔ (فوٹوا سپیشل ارینجمنٹ)

اتراکھنڈ: وشو ہندو پریشد سمیت کئی رائٹ ونگ تنظیموں نے چرچ میں توڑ پھوڑ کی، معاملہ درج

یہ واقعہ روڑکی میں پیش آیا، جہاں اتوار کو مبینہ طور پر مقامی رائٹ ونگ تنظیموں سے وابستہ لگ بھگ 200 نامعلوم افراد نے ایک چرچ میں توڑ پھوڑ کی۔ اس میں صبح کی عبادت کے لیےجمع کئی لوگ زخمی ہو گئے۔ حملہ آوروں پر خواتین سے بدسلوکی کرنے کا بھی الزام ہے۔ معاملے میں کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔

Lankesh-collage-2

بی جے پی نے ملک میں فرقہ پرستی اور نفرت کا جن چھوڑ دیا ہے

دایاں محاذ کی شدت سے تنقید کرنے والی صحافی گوری لنکیش کےبہیمانہ قتل کے بعد نفرت پھیلانے والی طاقتوں نے یہ صاف کر دیا ہے اب وہ کچھ بھی کر سکتی ہیں، و ہی اقتدار ہیں۔ دھمکانا، تشدد اور یہاں تک کہ قتل کی  واردات ان کے لئے عام […]

Don`t copy text!