RSS

علامتی تصویر،فوٹو: رائٹرس

ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کی مغرب میں پذیرائی

آر ایس ایس، ایچ ایس ایس اور دیگر تنظیمیں اب 48 ممالک میں سرگرم ہیں۔ امریکہ میں ایچ ایس ایس نے 32 ریاستوں میں 222 شاکھائیں قائم کی ہیں۔کیا وقت نہیں آیا ہے کہ مغرب کو بتایا جائے کہ جس فاشزم کو انہوں نے شکست دی تھی، وہ کس طرح ا ن کی چھتر چھایا میں دوبارہ پنپ رہا ہے اور جلد ہی امن عالم کے لیے ایک شدید خطرہ ثابت ہو سکتا ہے؟

دی آرگنائزر کے حالیہ شمارے کا سرورق۔ (بہ شکریہ: Facebook/@eOrganiser)

آر ایس ایس سے وابستہ میگزین نے ایمیزون پر ملک میں تبدیلی مذہب کے لیے فنڈنگ  کرنے ​​کا الزام لگایا

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے وابستہ میگزین آرگنائزرنے اپنے تازے شمارے کی کور اسٹوری میں ای– کامرس کمپنی ایمیزون پر ہندوستان کی شمال–مشرقی ریاستوں میں تبدیلی مذہب کے لیے فنڈنگ مہیاکرنے کا الزام لگایا ہے۔ کمپنی نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

آر ایس ایس کی صرف زبان بدلی ہے، سوچ نہیں

پچھلے کچھ دنوں سے آر ایس ایس لیڈروں کی زبان بدلی بدلی سی نظر آ رہی ہے، لیکن تبدیلی سنگھ کے ایجنڈے کا حصہ کبھی نہیں رہی۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ سنگھ نے ‘غیر سیاسی ہونے کی سیاست’ کرتے ہوئے اپنے سویم سیوکوں کو اقتدار کی چوٹی تک پہنچایا ہے اور کیسے وہ جمہوری اور آئینی اقدار کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں۔

لیسٹر میں تشدد کے بعد کارکنوں نے ہندوستانی  ہائی کمیشن کے باہر احتجاج کیا۔ (فوٹو بہ شکریہ: ساؤتھ ایشیا سالیڈیرٹی نیٹ ورک)

ملک میں پھیلی فرقہ پرستی کا وائرس اب تارکین وطن تک رسائی حاصل کر چکا ہے

ہندوستانی تارکین وطن کی سیاست اب ہندوستانی صورت حال کا ہی عکس ہے۔ وہی پولرائزیشن، وہی سوشل میڈیا مہم، وہی سیاسی اور سرکاری سرپرستی اور وہی تشدد۔ اختلاف تو دور کی بات ، کسی دوسرےنظریے کو برداشت بھی نہیں کیا جا رہا ہے۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

آبادی کے عدم توازن کے بارے میں آر ایس ایس سربراہ کی بات محض ایک سیاسی پروپیگنڈہ ہے

سال 1995 کے بعد 2020 میں تمام برادریوں میں مسلم خواتین کی برتھ ریٹ میں سب سے تیز گراوٹ درج کی گئی۔ نتیجتاً ان کی آبادی میں اضافے کی شرح میں بھی کمی آئی۔ ایک سیاسی پروپیگنڈہ کے تحت مسلمانوں کی آبادی میں اضافے کی بات کرتے ہوئے خوف اور اندیشہ پیدا کر کے ہندوؤں کو پولرائزکیا جا رہا ہے۔

 (تصویر ، بہ شکریہ: Facebook/@RSSOrg)

آبادی کے عدم توازن پر موہن بھاگوت کی تشویش: کسی کمیونٹی کا نام نہیں لیا، لیکن سنگھ کے عقلمندوں کو اشارہ ہی کافی ہے …

موہن بھاگوت نے کسی بھی برادری کا نام لیے بغیر ملک میں برادریوں کے درمیان آبادی کے بڑھتے ہوئے عدم توازن پرتشویش کا اظہارکیا۔ سنگھ شروع سے ہی اشاروں میں بات کرتا رہا ہے۔ اس سے وہ قانون کی گرفت سے بچتا رہا ہے۔ ساتھ ہی اشاروں کی زبان کی وجہ سے دانشور حضرات بھی ان کے دفاع میں کود پڑتے ہیں، جیسا کہ اس وقت سابق الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی کر رہے ہیں۔

آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری  دتاتریہ ہوس بولے۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

آر ایس ایس لیڈر نے بے روزگاری اور آمدنی میں عدم مساوات پر تشویش کا اظہار کیا

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوس بولے نے کہا کہ ہمیں اس بات کا دکھ ہونا چاہیے کہ 20 کروڑ لوگ خط افلاس سے نیچے ہیں اور 23 کروڑ لوگ یومیہ 375 روپے سے بھی کم کما رہے ہیں۔ غریبی ہمارے سامنے ایک قوی ہیکل دیو کی طرح چیلنج بن کر کھڑی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ اس شیطان کو ختم کیا جائے۔

فائل فوٹو : پی ٹی آئی

تمل ناڈو: آر ایس ایس کو روٹ مارچ کی اجازت نہیں، حکومت نے لاء اینڈ آرڈر کا حوالہ دیا

تمل ناڈو حکومت نے 2 اکتوبر کو آر ایس ایس کو ریاست میں روٹ مارچ کی اجازت دینے سےمنع کر دیا ہے ۔ اسی دن وی سی کےاور بائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے اس کے خلاف ‘کاؤنٹر مارچ’بھی کیا جانا تھا، اس کے لیےبھی حکومت نے منظوری نہیں دی۔ سنگھ نے حکومت کے خلاف مدراس ہائی کورٹ کا رخ کیا ہے۔

پی ایف آئی ارکان کی گرفتاری کے دوران لی گئی ایک تصویر۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

پی ایف آئی پر پابندی کے بعد آر ایس ایس کو بھی بین کرنے کا مطالبہ

مرکزی حکومت کی جانب سے پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر یو اے پی اے کےتحت پابندی عائد کیے جانے کے بعد سامنے آئے ردعمل میں کئی پارٹیوں کے رہنماؤں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سمیت متعدد ہندوتوا تنظیموں پر بھی پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی قومی یکجہتی کے دن 'ترنگا یاترا' کے دوران۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

حیدرآباد : اُویسی نے کہا — اے آئی ایم آئی ایم کو آر ایس ایس-بی جے پی سے وفاداری کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں

اے آئی ایم آئی ایم نے یوم قومی یکجہتی (نیشنل انٹیگریشن ڈے) کے موقع پر ‘ترنگا یاترا’ نکالی۔ اس دوران پارٹی کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا کہ جنہوں نے (سابق ) ریاست حیدرآباد کی آزادی کے لیےایک بوند پسینہ نہیں بہایا، وہ اب اسے’ مکتی دوس’ کہہ رہے ہیں۔

29 اگست کے حملے کا اسکرین شاٹ۔ (تصویر: اسپیشل ارینجمنٹ)

اتراکھنڈ: جائیداد کے جھگڑے میں پڑوسیوں نے مبینہ طور پر مسلم فیملی پر حملہ کیا

یہ واقعہ اتراکھنڈ کے ہری دوار ضلع کے جھبریڑا قصبے کا ہے۔ ایک مسلم فیملی کا اپنے پڑوسیوں کے ساتھ جائیداد کو لے کر تنازعہ چل رہا ہے، جس کو لے کر انہیں پہلے بھی دھمکیاں مل چکی ہیں، جس کی شکایت انہوں نے پولیس میں بھی درج کرائی تھی۔ شکایت پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ 29 اگست کو پڑوسیوں نے ہتھیاروں کے ساتھ فیملی پر مبینہ طور پر حملہ کیا تھا۔

(فوٹوبہ شکریہ: Flickr/don’t panic CC BY NC ND 2.0)

آر ایس ایس کے سابق کارکن کا دعویٰ – ناندیڑ بم بلاسٹ میں تھا رائٹ ونگ کے بڑے لیڈروں کا رول

پچیس سال تک راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے کارکن رہے یشونت شندے نے سی بی آئی کی ایک خصوصی عدالت میں داخل کیے گئے ایک حلف نامے میں دعویٰ کیا ہے کہ 2006 کے ناندیڑ دھماکے سے تین سال قبل وی ایچ پی کے ایک سینئر لیڈر نے انہیں دہشت گردی کے تربیتی کیمپ کے بارے میں بتایا تھا، جو ‘ ملک بھر میں بم بلاسٹ کرنے کی نیت سے چلا یا گیا تھا۔’

(السٹریشن: دی وائر)

آر ایس ایس کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کرنے پر ناگپور پولیس کو عدالت کا نوٹس: رپورٹ

ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق، مہاراشٹر میں ناگپور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ہتھیاروں کے ‘غیر قانونی قبضے’کے سلسلے میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے خلاف شکایت موصول ہونے کے باوجود مقدمہ درج کرنے میں مبینہ ناکامی کے لیے یہ نوٹس جاری کیا ہے اور چار ہفتے کے اندر جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔

نئی دہلی میں سی جے آئی  جسٹس این وی رمنا نےسوموارکودروپدی مرمو  کوہندوستان کے 15ویں صدر کے طور پر حلف دلایا۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

دروپدی مرمو نے ہندوستان کے 15ویں صدر کے طور پر حلف لیا

چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا نے دروپدی مرمو کو ملک کے 15ویں صدر کے طور پر عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ 64 سالہ مرمو اس اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک پہنچنے والی پہلی آدی واسی اور ملک کی دوسری خاتون صدر ہیں۔ سنتھال کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی صدر اس سے قبل جھارکھنڈ کی گورنر رہ چکی ہیں۔

گوہاٹی میں جمعرات کو تیوا کمیونٹی کے فنکاراین ڈی اے کی صدارتی امیدوار دروپدی مرمو کی تصویر کے ساتھ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

این ڈی اے امیدوار دروپدی مرمو کی انتخاب میں جیت، ملک کی 15ویں صدر بنیں گی

بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے کی امیدوار دروپدی مرمو اس اعلیٰ ترین آئینی عہدے پر فائز ہونے والی ملک کی پہلی آدی واسی اور دوسری خاتون صدر ہوں گی۔ جمعرات کو صبح 11 بجے شروع ہوئی ووٹوں کی گنتی میں مرمو نے متحدہ اپوزیشن کے امیدوار یشونت سنہا کو کے تیسرے مرحلے ہی شکست دےدی۔ سنہا نے اپنی ہار قبول کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی۔

دروپدی مرمو وزیر اعظم نریندر مودی کے ہمراہ۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

مہابھارت کی دروپدی ناانصافی کے خلاف سینہ سپر تھیں – صدر جمہوریہ کے طور پر ملک کو ایسی ہی دروپدی چاہیے

مہابھارت کی دروپدی ایک وفادار بیوی اور بیٹی تھیں، لیکن جب ناانصافی کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے سب سے سوال پوچھنے کی ہمت کی۔ امید کرنی چاہیے کہ آر ایس ایس کی ایک وفادار بیٹی ہونے کے باوجود دروپدی مرمو وقت آنے پر انصاف کے لیے کھڑی ہوں گی۔

پٹنہ کے ایس ایس پی مانوجیت سنگھ ڈھلوں۔ (ScreenGrab Credits: Twitter/@UtkarshSingh_)

بہار: پولیس افسر نے پی ایف آئی کا موازنہ آر ایس ایس سے کیا، تنازعہ

بہار پولیس کے ذریعے مبینہ طور پر پاپولر فرنٹ آف انڈیا سے وابستہ مشتبہ دہشت گردوں کی گرفتاری کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے پٹنہ کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ ‘جس طرح آر ایس ایس اپنی شاکھامنعقد کرتی ہے اور لاٹھی کی تربیت دیتی ہے، اسی طرح یہ لوگ نوجوانوں کو بلا کر جسمانی تربیت دیتے تھے اور ‘برین واش’ کرکےان کے توسط سےاپنے ایجنڈے کو لوگوں تک پہنچانےکا کام کرتے تھے۔

رام مادھو/ فوٹو: بہ شکریہ فیس بک

آر ایس ایس کا مسلمانوں کے لیے تین نکاتی فارمولہ

آر ایس ایس کے ایک مرکزی لیڈر او ر نظریہ سازشری رام مادھو نے مسلمانوں کو ایک تین نکاتی فارمولہ پیش کیا ہے جس سے وہ ہندوستان میں سکون کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔ یہ شرطیں کچھ اس طرح کی ہیں کہ مسلمان غیر مسلموں کو کافر نہ کہیں، مسلمان خود کو امت اسلام یا مسلم امت کا حصہ سمجھنا ترک کردیں اور مسلمان جہاد کے نظریے سے خودکو الگ کریں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

دہشت گردی کی وجہ سے 90 کی دہائی میں 64827 کشمیری پنڈت خاندان نقل مکانی کو مجبور ہوئے : وزارت داخلہ

وزارت داخلہ کی 2020-21 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، 1990 اور 2020 کے درمیان جموں و کشمیر میں دہشت گردی کی وجہ سے 14091 شہری اور 5356 سیکورٹی فورس اہلکار ہلاک ہوئے۔ کشمیری پنڈتوں کے علاوہ عسکریت پسندی کی وجہ سے کچھ سکھ اور مسلم خاندان کو بھی وادی سے جموں، دہلی اور ملک کے دیگر حصوں میں نقل مکانی کرنے کو مجبور ہونا پڑا۔

کیرالہ کے لوکل سیلف گورنمنٹ اینڈ ایکسائزکے وزیرایم وی گووندن۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

اکثریتی شدت پسندی، اقلیتی شدت پسندی سے زیادہ خطرناک ہے: کیرالہ کے وزیر

منسٹری آف لوکل سیلف گورنمنٹ اینڈ ایکسائز کے وزیر ایم وی گووندن نے کہا کہ اقلیتی شدت پسندی اور اکثریتی شدت پسندی کو ایک ہی عینک سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اکثریتی شدت پسندی زیادہ خطرناک ہے، یہ ہندو راشٹر کے قیام کے لیے کام کر رہی ہے۔ اقلیتی شدت پسندی اکثریتی شدت پسندی کی مخالفت میں ابھرتی ہے۔

جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک (فوٹو: پی ٹی آئی)

جموں و کشمیر: سابق گورنر ملک کے رشوت کی پیشکش سے متعلق الزامات کی تحقیقات سی بی آئی کرے گی

گزشتہ سال اکتوبر میں جموں و کشمیر کے سابق گورنر ملک نے راجستھان میں ایک تقریب میں کہا تھا کہ جب وہ جموں و کشمیر کے گورنر تھے تو انہیں دو فائل کلیئر کرنے کے لیے 300 کروڑ روپے کی رشوت کی پیشکش کی گئی تھی۔ دونوں سودے رد کر دیے گئے تھے۔

آر ایس ایس لیڈر کلڈکا پربھاکر بھٹ (فوٹو بہ شکریہ: آر ایس ایس)

بنگلورو: آر ایس ایس لیڈر نے کہا-ترنگے کو بھگوا جھنڈا سے بدلا جا سکتا ہے

آر ایس ایس لیڈر کلڈکا پربھاکر بھٹ نے منگلورو کے مضافاتی علاقے کٹر میں وشو ہندو پریشد کے کرنیکا کورگجا مندرکی جانب سےہندو اتحاد کے لیےمنعقدایک بڑے پیدل مارچ کے دوران کہا کہ اگر ہندو سماج متحد ہو جائے تو ایسا ہو سکتا ہے۔

فوٹو: رائٹرس

کشمیر میں 1990 سے 2021 کے درمیان 89 کشمیری پنڈت مارے  گئے: آر ٹی آئی

آر ٹی آئی کارکن پی پی کپور نے جموں و کشمیر پولیس اور لیفٹیننٹ گورنر کے پاس دائر ایک درخواست میں کشمیری پنڈتوں کے خلاف تشدد، ان کی نقل مکانی اور بازآبادی سے متعلق جانکاری مانگی تھی ۔ اس کے جواب میں بتایا گیا ہے کہ تشدد یا تشدد کی دھمکیوں کی وجہ سے وادی چھوڑکر نقل مکانی کرنے والے 1.54 لاکھ افراد میں سے 88 فیصد ہندو تھے، لیکن 1990 کے بعد سے تشدد میں مرنے والے زیادہ تر لوگ دوسرے مذاہب سے تھے۔

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

آئین اور مذہبی آزادی کی آڑ میں مذہبی شدت پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے: آر ایس ایس

احمد آباد میں منعقدہ آر ایس ایس کی میٹنگ میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک میں تفرقہ انگیز عناصر کے بڑھنے کا چیلنج بھی خطرناک ہے۔ ہندو سماج میں ہی طرح طرح سے تفرقہ انگیز رجحانات کو ابھار کر سماج کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

Synced Sequence.00_26_58_13.Still001

بچو ں کی جان کے لیے دوبارہ آواز بلند کرنی پڑی تو کروں گا: ڈاکٹر کفیل خان

ویڈیو: 2017میں گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں پیش آئے آکسیجن سانحہ پر ڈاکٹر کفیل خان کی کتاب ‘دی گورکھپور ہاسپٹل ٹریجڈی:اے ڈاکٹرز میموئیر آف اے ڈیڈلی میڈیکل کرائسس’نے اس سانحہ کو ایک بار پھر سے سرخیوں میں لا دیا ہے۔ ڈاکٹر کفیل سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

Photo: Reuters

جانیے رام جنم بھومی تحریک نے آخر کس طرح مودی کو وزارت عظمیٰ کی کرسی تک پہنچایا

ویڈیو: ’ان دنوں‘کےاس ایپی سوڈمیں ملاحظہ کیجیے-ہندوستان کی سیاسی اور سماجی صورتحال پر رام جنم بھومی اور ایودھیا تحریک کےاثرات کےسلسلے میں سینئر صحافی اور قلمکار نیلانجن مُکھو پادھیائے سے مہتاب عالم کی بات چیت۔دراصل نیلانجن نےاپنی تازہ ترین کتاب’دی ڈیمولیشن اینڈ دی ورڈکٹ:ایودھیا اینڈ دی پروجیکٹ ٹو ری کنفیگر انڈیا(اسپیکنگ ٹائیگر:2021)میں اس بات کا مفصل جائزہ پیش کیا ہے کہ کس طرح رام مندر کی سیاست اور بابری مسجدانہدام نے عسکریت پسند ہندو قوم پرستی کے خیال اور رام مندر کی تعمیر کے لیےطویل مدتی حمایت حاصل کی۔

فوٹو: پی ٹی آئی

رام مندر کی تحریک آزادی کی جدوجہد سے بڑی تھی: وشو ہندو پریشد

وی ایچ پی کے جوائنٹ جنرل سکریٹری سریندر جین نے کہا کہ ملک کو سیاسی آزادی1947میں ملی لیکن مذہبی اور ثقافتی آزادی رام مندر کی تحریک کے ذریعے حاصل ہوئی۔ جین نے یہ بھی کہا کہ چندے کی مہم نے پورے ملک کو ساتھ لاکر بتایا کہ صرف رام ہی ملک کو متحد کر سکتے ہیں۔ سیکولر سیاست نے صرف ملک کو تقسیم ہی کیا ہے۔

(علامتی تصویر،فوٹو: پی ٹی آئی)

ہندو راشٹر ہو یا نہ ہو ہم یقینی طور پر ایک غنڈہ راج میں تبدیل ہو چکے ہیں

پچھلےسات سالوں میں باربارمسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف تشدد کے اشارے کیےگئے ہیں اور بڑے پیمانے پر ان کےحق میں دلائل دیے گئے ہیں۔ جب آپ آبادی کنٹرول کے نام پر قانون بناتے ہیں، اپنی بیٹیوں کی دوسرے مذاہب میں شادی کو روکنے کے نام پر، مسلم خواتین کو ان کے مردوں سے بچانے کے نام پر، آپ ان کے خلاف تشدد کے لیے زمین تیار کرتے ہیں۔

ہریانہ کے وزیر اعلیٰ  منوہرلال کھٹر۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کھلے میں نماز پڑھنے کی روایت کو ’برداشت‘ نہیں کیا جائے گا: وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر

ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے یہ بھی کہا کہ ضلع انتظامیہ کا کھلی جگہوں پر نماز کے لیے کچھ جگہوں کو محفوظ رکھنے کاقبل کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے اور ریاستی حکومت اب اس مسئلے کا پرامن حل تلاش کرے گی۔ گڑگاؤں میں پچھلے کچھ مہینوں میں، کچھ ہندو تنظیموں کے ارکان ان جگہوں پر جمع ہوتے ہیں اور ‘بھارت ماتا کی جئے’ اور ‘جے شری رام’کے نعرے لگاتے ہیں جہاں مسلمان نماز ادا کرتے ہیں۔

 (فوٹو: پی ٹی آئی)

نماز میں رائٹ ونگ گروپوں کے رکاوٹ ڈالنے کی مذمت ہونی چاہیے: گڑگاؤں مسلم کاؤنسل

گڑگاؤں مسلم کاؤنسل نے کہا کہ دو دہائیوں سے زیادہ سے کھلی جگہوں پر جمعہ کی نماز ادا کی جا رہی ہے، کیونکہ مسلمانوں کے پاس مطلوبہ تعدادمیں مسجد نہیں ہے۔ مئی 2018 کے بعد شہر میں پہلی بار نمازمیں خلل کی اطلاع ملی تھی، جس کے بعد سے مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی کئی کوششیں ہوئی ہیں۔

 (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

گڑگاؤں: نماز جمعہ میں پھر سےخلل ڈالنے کی کوشش، مظاہرین  نے کھڑے کیے ٹرک

سنیکت ہندوسنگھرش سمیتی نےانتظامیہ کو ایک الٹی میٹم جاری کرکے کہا کہ وہ اگلے ہفتے سےشہر میں کسی بھی عوامی جگہ پر نماز کی اجازت نہیں دیں گے۔جمعہ کو گڑگاؤں کے سیکٹر37 میں مظاہرین کی طرف سے مسلسل نعرےبازی اور امن وامان میں خلل پڑنے کے اندیشہ کو دیکھتے ہوئے پولیس نے 10 لوگوں کو حراست میں لیا اور بعد میں ایک کو گرفتار بھی کیا۔

وشو ہندو پریشد کی ریلی(فوٹو:  پی ٹی آئی)

دکشن کنڑ میں گزشتہ آٹھ ماہ میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے 71 معاملے درج: رپورٹ

پیپلزیونین فار سول لبرٹیزکرناٹک، آل انڈیا لائرزایسوسی ایشن فار جسٹس، آل انڈیا پیپلزفورم اور گوری لنکیش نیوز ڈاٹ کام نے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس میں انہوں نے فرقہ وارانہ کشیدگی کے 71 معاملوں کی پہچان کی ہے۔ یہ تمام معاملے جنوری 2021 سے اگست تک کے ہیں۔

گڑگاؤں میں نمازادا کرتے لوگ۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

گڑگاؤں: رائٹ ونگ گروپوں کی مخالفت کے بیچ نماز کے لیے اپنی جگہ دے گی گوردوارہ کمیٹی

گڑگاؤں میں پچھلے کچھ مہینوں سے رائٹ ونگ گروپ کھلے میں نمازکی مخالفت کر رہے ہیں۔گوردوارہ کمیٹی ساتھ ہی اکشے یادو نام کے ایک دکان مالک نے بھی نماز کے لیے اپنی خالی جگہ دینے کی پیش کش کی ہے۔

0511 Sumedha Pal Interview.00_14_36_09.Still001

اگر گڑگاؤں میں نماز ہوئی تو میں وہاں تلوار لےکر دکھائی دوں گا: ہندوتوا لیڈر

ویڈیو: گزشتہ پانچ نومبر کو بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے کارکنوں نے گڑگاؤں کے سیکٹر12اے میں اس جگہ پر گئووردھن پوجا کااہتمام کیا تھا، جہاں ہر جمعہ کو نماز ادا کی جاتی تھی۔ یہ کارکن پچھلے کچھ وقتوں سےیہاں نماز کی مخالفت کر رہے تھے۔ دی وائر نے دنیش بھارتی سے بات کی، جو گڑگاؤں میں نماز کو روکنے کےالزام میں کئی بار جیل جا چکے ہیں۔ دنیش بھارت ماتا واہنی کے رکن ہیں اور وشو ہندو پریشد سے بھی وابستہ ہیں۔

نرسنہانند اور کپل مشرا۔

گڑگاؤں: نماز کی جگہ  پر پوجا کے لیے ہندوتوا گروپ نے کپل مشرا اور نرسنہا نند کو مدعو کیا

گڑگاؤں میں پچھلے کچھ مہینوں سےہندوتوا گروپ کھلے میں نماز کی مخالفت کر رہے ہیں۔انتطامیہ نے گزشتہ تین نومبرکو 37طے شدہ مقامات میں سے آٹھ پر نماز ادا کرنے کی منظوری کو منسوخ کر دیا ہے ۔ اس بیچ سنیکت ہندو سنگھرش سمیتی نے سیکٹر12اے میں اس مقام پرگئووردھن پوجا کا اہتمام کیا ہے، جہاں پچھلے کچھ دنوں سے نماز کی مخالفت کی جا رہی ہے۔

کرن تھاپر اور راج موہن گاندھی۔ (فوٹو: دی  وائر)

وزیر دفاع کا یہ دعویٰ مضحکہ خیز ہے کہ گاندھی کے کہنے پر ساورکر نے رحم کی درخواست دائر کی: راج موہن گاندھی

سینئر صحافی کرن تھاپر سے بات کرتے ہوئے مہاتما گاندھی کے پوتے اور پروفیسر راج موہن گاندھی نے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کےگاندھی کی صلاح پر وی ڈی ساورکر کے معافی نامہ لکھنے کے دعوے کی تردید کی اور اس کومضحکہ خیز بتایا۔

(فوٹو :پی ٹی آئی )

راجناتھ سنگھ نے دروغ گوئی سے کیوں کام لیا؟

اگر راجناتھ سنگھ کو جھوٹ ہی سہی، ساورکر کے معافی نامےکو قابل قبول بنانے کےلیے گاندھی کاسہارا لینا پڑا تو یہ ایک اور بار ساورکر پر گاندھی کی اخلاقی فتح ہے۔ اخلاقی پیمانہ گاندھی ہی رہیں گے، اسی پر کس کر سب کو دیکھا جائےگا۔جب جب ہندوستان اپنی راہ سےبھٹکتا ہے، دنیا کے دوسرے ملک اور رہنماہمیں گاندھی کی یاد دلاتے ہیں۔

Don`t copy text!