RSS

(فوٹو: پی ٹی آئی)

کیا گجرات میں سیاسی پھیر بدل اسمبلی انتخاب سے قبل بی جے پی کے عدم تحفظ کا اشاریہ ہے

پچھلی دہائیوں میں گجرات بی جے پی کامحفوظ ترین گڑھ رہا ہےاور آج کی تاریخ میں وہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی آبائی ریاست ہے۔اگر وہاں بھی بی جے پی کو ہار کا ڈر ستا رہا ہے تو ظاہر ہے کہ اس نے اپنی ناقابل تسخیر امیج کا جو متھ پچھلے سالوں میں بڑی کوشش سے گڑھا تھا، وہ ٹوٹ رہا ہے۔

سافٹ ویئر کمپنی انفوسس کو لےکرپانچجنیہ میگزین میں شائع  رپورٹ کا سرورق۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

آر ایس ایس نے انفوسس کی تنقید کرنے والے ’پانچجنیہ‘ کے مضمون سے خود کو الگ کیا

آر ایس ایس کی ترجمان میگزین‘پانچجنیہ’ کے 5 ستمبر کےایڈیشن کےمضمون میں ہندوستانی سافٹ ویئر کمپنی انفوسس کی شدید نکتہ چینی کی گئی تھی اور اسے‘اونچی دکان، پھیکا پکوان’قرار دیا گیا تھا۔ اس میں یہ بھی الزام لگایا گیا تھا کہ انفوسس کا ‘ملک مخالف’ طاقتوں سےتعلق ہے اور اس کے نتیجےمیں سرکار کے جی ایس ٹی اورانکم ٹیکس پورٹل میں گڑبڑی کی گئی ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

سی اے اے: کفیل خان کے خلاف فوجداری کارروائی رد، کہا-عدلیہ اور جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کے لیے تاریخی فیصلہ  

الہ آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر کفیل خان کےخلاف درج چارج شیٹ اور کاگنیجنس آرڈر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیےحکومت کی اجازت نہیں لی گئی تھی۔ 29 جنوری 2020 کو یوپی-ایس ٹی ایف نے شہریت قانون کے خلاف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں دسمبر 2019 میں مبینہ طور پر ہیٹ اسپیچ کے معاملے میں کفیل خان کو ممبئی ہوائی اڈے سے گرفتار کیا تھا۔ وہاں وہ سی اے اےمخالف ریلی میں حصہ لینے گئے تھے۔

ڈاکٹر کفیل۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک/drkafeelkhanofficial)

الہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی سرکار سے پوچھا-کفیل خان چار سالوں سے سسپنڈ کیوں

ڈاکٹرکفیل خان 2017 میں اس وقت سرخیوں میں آئے تھے، جب گورکھپور کے بی آرڈی میڈیکل کالج میں ایک ہفتے کے اندر60 سے زیادہ بچوں کی موت مبینہ طورپر آکسیجن کی کمی سے ہو گئی تھی۔اس واقعہ کے بعد انسیفلائٹس وارڈ میں تعینات ڈاکٹر خان کو سسپنڈ کر دیا گیا تھا۔ وہ لگ بھگ نو مہینے تک جیل میں بھی رہے تھے۔

علامتی تصویر،(فوٹو: پی ٹی آئی)

ایم پی: اے بی وی پی کی مخالفت اور پولیس کی وارننگ  کے بعد ویبی نار کے انعقاد سے پیچھے ہٹی یونیورسٹی

مدھیہ پردیش کے ساگر شہر واقع ڈاکٹر ہرسنگھ گور یونیورسٹی کا معاملہ۔ یونیورسٹی کاشعبہ بشریات، امریکہ کی ایک یونیورسٹی کے ساتھ 30 اور 31 جولائی کو ایک ویبی نار کی میزبانی کرنے والا تھا۔ اے بی وی پی نے ویبی نار میں مقررین کے طور پر سابق سائنسدان گوہر رضا اور پروفیسر اپوروانند کو شامل کیے جانے کی مخالفت کی تھی، جس کے بعد پولیس نے یونیورسٹی کو ایک خط لکھا تھا۔

0407 AKI.00_25_53_00.Still003

بھاگوت کہتے ہیں ہندو اور مسلمان کا ڈی این اے ایک، لیکن ہندوتوا سے نفرت کرنے والوں کا کیا؟

ویڈیو:ایک طرف آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت کا ملک کی یکجہتی کو لےکر بیان آتا ہے اور دوسری طرف اقلیتی طبقے کے خلاف کچھ بی جے پی رہنما نفرت کی آگ پھیلا رہے ہیں۔ اس موضوع پر دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کا نظریہ

موہن بھاگوت(فوٹو : پی ٹی آئی)

اگر ہندو کہتا ہے کہ کسی مسلمان کو یہاں نہیں رہنا چاہیے تو وہ ہندو نہیں: موہن بھاگوت

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے آر ایس ایس کی اقلیتی اکائی مسلم راشٹریہ منچ کے ایک پروگرام میں کہا کہ تمام ہندوستانیوں کا ڈی این اے ایک ہے۔ جو لوگ لنچنگ میں شامل ہیں، وہ ہندوتوا کے خلاف ہیں۔ کئی اپوزیشن رہنماؤں نے ان کے بیان کو‘قول وفعل میں تضاد’قرار دیتے ہوئے ان کو نشانہ بنایا ہے۔

File photo of Narendra Modi and Yogi Adityanath. Photo: PTI

کیا اتر پردیش بی جے پی میں ہو رہی اٹھاپٹک کسی تبدیلی کا اشارہ ہے

اسمبلی انتخابات سے کچھ مہینے پہلے اتر پردیش بی جے پی میں‘سیاسی عدم استحکام’کا انفیکشن شروع ہو گیا، جس کے مرکزمیں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ہیں۔ بی جے پی-آر ایس ایس کے رہنماؤں کے غوروخوض کے بیچ سوال اٹھتا ہے کہ حالیہ دنوں میں ایسا کیا ہوا کہ انہیں یوپی کا میدان فتح کرنااتنا آسان نہیں دکھ رہا، جتنا سمجھا جا رہا تھا۔

0602 AP Discussion.01_31_29_21.Still009

کیا آر ایس ایس بدل رہا ہے؟

ویڈیو: حال ہی میں آئی کتاب ‘ری پبلک آف ہندوتوا’کے مصنف بدری نارائن بتا رہے ہیں کہ آر ایس ایس کس طرح سے زمین پر کام کرتا ہے۔ پہلے کے اور ابھی کے آر ایس ایس میں کیا کیا بدل گیا ہے۔ اس کتاب اور آر ایس ایس سے جڑے کئی مدعوں پر پروفیسر اپوروانند نے ان سے بات چیت کی۔

علامتی تصویر : پی ٹی آئی

دہلی میں افطار کی سیاست؛ جانے کہاں گئے وہ دن…

ہندوستان اس وقت کورونا وبا کی بدترین گرفت میں ہے۔ اس سال تو شایدہی کسی افطار پارٹی میں جانے کی سعادت نصیب ہوگی۔ امید ہے کہ یہ رمضان ہم سب کے لیےسلامتی لےکر آئے اور زندگی دوبارہ معمول پر آئے۔ اسی کے ساتھ دہلی میں حکمرانوں کو بھی اتنی سمجھ عطا کرکے کہ ہندوستان کا مستقبل تنوع میں اتحاداور مختلف مذاہب اور فرقوں کے مابین ہم آہنگی میں مضمر ہے، نہ کہ پوری آبادی کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے اور ایک ہی کلچر کو تھوپنے سے۔

(فائل فوٹو: sgpcamritsar.org)

ایس جی پی سی نے ہندوستان کو ’ہندو راشٹر بنانے کی کوششوں‘ کے خلاف قرارداد منظور کی

شرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی کی جانب سے منظور اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ آر ایس ایس کی طرف سےملک کو ہندو راشٹر بنانے کی کوششوں کی وجہ سے اقلیتوں کی مذہبی آزادی کو دبایا جا رہا ہے۔ اقلیتوں کو دبانے والوں کو سزا دی جانی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی مودی سرکار کے زرعی قوانین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک اور قرارداد منظور کی گئی۔

فوٹو : پی ٹی آئی

یوجی سی نے تاریخ کے نصاب میں ہندو اسطوری قصوں اور مذہبی لٹریچر کو شامل کیا، تعلیم  کے بھگواکرن کا الزام

یوجی سی کی جانب سے بی اے کی تاریخ کےنصاب کے لیے تیارکیےگئے ڈرافٹ میں معروف مؤرخین،مثلاً قدیم ہندوستان پر آر ایس شرما اورقرون وسطیٰ کے ہندوستان پر عرفان حبیب کی کتا بیں ہٹا دی گئی ہیں ۔ ان کی جگہ ‘سنگھ اور اقتدار’کے قریبی سمجھے جانے والے مصنفین کو شامل کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر کفیل۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک/drkafeelkhanofficial)

اتر پردیش: گورکھپور کے ہسٹری شیٹرس کی فہرست میں شامل کیا گیا ڈاکٹر کفیل خان کا نام

ڈاکٹر کفیل خان ان 81 لوگوں میں ہیں، جنہیں سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جوگیندر کمار کی ہدایت پر گورکھپورضلع کے ہسٹری شیٹرس کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر خان کے بھائی نے بتایا کہ ان کا نام اس فہرست میں جون 2020 میں ڈالا گیا تھا، لیکن میڈیا سے یہ جانکاری اب شیئرکی گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اورنائب وزیر اعلیٰ  کیشو پرساد موریہ۔ (السٹریشن: دی  وائر)

ایودھیا: مندر تعمیر کے لیے چندہ اکٹھا کر نے کے مقصد سے یوپی حکومت کے محکمہ نے کھولا بینک اکاؤنٹ

اتر پردیش کے پی ڈبلیو ڈی محکمہ نے ایودھیا میں رام مندرکی تعمیر کے لیے چندہ حاصل کرنے کے مقصد سے ایک بینک اکاؤنٹ کھولا ہے۔ یہ قدم آئین کے اس شق کی خلاف ورزی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت کسی خاص مذہب کے نام پر ٹیکس یا پیسہ جمع نہیں کر سکتی ہے۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر)

کیا ہندوستان شدت پسندی کے معاملے میں پاکستان بننے کی راہ پر ہے؟

کئی سال پہلےپاکستانی شاعرہ فہمیدہ ریاض نے لکھا تھا کہ ‘تم بالکل ہم جیسے نکلے،اب تک کہاں چھپے تھے بھائی۔ وہ مورکھتا وہ گھامڑ پن ، جس میں ہم نے صدی گنوائی، آخر پہنچی دوار تمہارے…ملک کے آج کے حالات میں یہ مصرعے سچ کے کافی قریب نظر آتے ہیں۔

Firozabad-MAP

یوپی: لڑکی کامذہب تبدیل کر نے کےالزام سے انکار، ناراض بھیڑ نے ملزم مسلم نوجوان کے گھر والوں کا پیچھا کیا

اتر پردیش کے فیروزآباد ضلع کے ناگلا ملا گاؤں کا معاملہ۔ لڑکی گزشتہ سال دسمبر میں ملزم مسلم نوجوان کے ساتھ گھر چھوڑکر چلی گئی تھی۔ پولیس نے لڑکی کا پتہ لگا لیا، لیکن پولیس کو ابھی نوجوان کی تلاش ہے۔ فی الحال نوجوان اور لڑکی کے گاؤں میں کشیدگی ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

تبدیلی مذہب کے الزام میں کیس درج ہو نے کے ایک مہینے بعد یوپی سرکار نے کہا، نہیں ملے ثبوت

الہ آباد ہائی کورٹ میں معاملے کی شنوائی کے دوران ایک حلف نامہ داخل کرکےیوپی سرکار کی جانب سے عدالت کو یہ جانکاری دی گئی۔ اتر پردیش میں تبدیلی مذہب سے متعلق قانون نافذ ہونے کے ایک دن بعد گزشتہ سال 29 نومبر کو مظفرنگر میں دو مسلمان مزدوروں کے خلاف کیس درج کیا گیا تھا۔

ناصر۔ (فوٹو: ویڈیو اسکرین گریب)

اتر پردیش: ’ٹھاکر‘ لکھا جوتا فروخت کر نے پر مسلم دکاندار گرفتار، تنازعہ کے بعد رہا

معاملہ اتر پردیش کے بلندشہر کا ہے۔ بجرنگ دل کےکنوینر نے دکاندار ناصر پرفرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب نے کا الزام لگاتے ہوئے معاملہ درج کرایا تھا۔ ٹھاکر فٹ ویئر کمپنی کے مالک نے کہا کہ یہ نام ان کے داداجی سےمنسوب ہے۔ کسی سیاست کے لیے نہیں بدلیں گے۔

(علامتی  تصویر،فوٹو: پی ٹی آئی)

یوپی: بریلی پولیس نے کہا جبراً تبدیلی مذہب کےمعاملے میں مسلم نوجوانوں کو پھنسایا گیا

معاملہ بریلی ضلع کا ہے، جہاں پہلی جنوری کوایک24 سالہ خاتو ن پر جبراًتبدیلی مذہب کا دباؤ ڈالنے کے الزام میں تین مسلم نوجوانوں پر معاملہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جانچ میں تینوں نوجوانوں پر لگائے گئے الزام غلط پائے گئے ہیں۔

اتر پردیش کے دگمبر جین کالج میں جین کے مجسمے کے پاس اکٹھا اے بی وی پی کارکن۔ (ویڈیو اسکرین گریب: ٹوئٹر/@djohninc)

اتر پردیش: جین کے مجسمے کو نقصان پہنچانے والے اے بی وی پی کے چار کارکنوں کی رکنیت رد

گزشتہ 22 دسمبر کو بڑوت کے دگمبر جین کالج میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے چار ممبروں نے شرت دیوی کے مجسمے کو نقصان پہنچایا تھا، جس کے بعدتنظیم نے معافی مانگی تھی۔ ان چاروں کے خلاف دنگا کرنے سمیت آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔

کلکتہ ہائی کورٹ(فوٹو بہ شکریہ: Twitter/@LexisNexisIndia)

بالغ خاتون اپنی مرضی سے شادی اور مذہب تبدیل کرے تو دخل اندازی کی ضرورت نہیں :  کلکتہ ہائی کورٹ

کلکتہ ہائی کورٹ نےایک 19سالہ لڑکی کے والد کی عرضی پر شنوائی کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔ پولیس کے مطابق، لڑکی نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرکے شادی کی تھی اوروہ اپنے والد کے گھر نہیں لوٹنا چاہتی۔

یوپی پولیس( فوٹو: رائٹرس)

اتر پردیش: بین مذہبی شادی کرانے والے وکیل نے پولیس پر ہراساں کر نے کے الزام  لگائے

دہلی کے ایک وکیل نے بتایا کہ اتر پردیش کے ایٹہ ضلع واقع جلیسر کی خاتون کو ان کی مرضی سے مذہب تبدیل کرواکر شادی کروانے میں مدد کی تھی۔ ڈر کی وجہ سےجوڑا لاپتہ ہو گیاہے۔الزام ہے کہ ان کی تلاش میں اتر پردیش پولیس نے وکیل کی فیملی کے لگ بھگ دس لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

’لو جہاد‘ کے نام پر ہراسانی کے ڈر سے لڑکے-لڑکی نے کہا-لوٹ کر یوپی نہیں جا ئیں گے

اتر پردیش کے ایک مسلم نوجوان اور ہندولڑکی نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرکے نہ صرف ان کی فیملی بلکہ یوپی پولیس سے بھی تحفظ کی مانگ کی ہے۔ دہلی سرکار کی جانب سے تحفظ کا بھروسہ دلائے جانے کے بعد دونوں نے اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت شادی کے لیے رجسٹریشن کرایا ہے۔

1912 KT.00_29_55_02.Still012

این ایس اے: سپریم کورٹ کے ہائی کورٹ کے فیصلے میں دخل اندازی سے انکار پر ڈاکٹر کفیل نے کیا کہا

سپریم کورٹ نے گزشتہ17دسمبر کونیشنل سکیورٹی ایکٹ(این ایس اے)کے تحت ڈاکٹر کفیل خان کی حراست کو رد کرنے اور انہیں فوراً رہا کیےجانے کے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں دخل اندازی سے انکار کر دیا تھا۔ اس فیصلے پر ڈاکٹر کفیل نے دی وائر سے بات چیت کی۔

ڈاکٹر کفیل خان۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/@drkafeelkhanofficial)

ڈاکٹر کفیل کی رہائی کے فیصلے میں دخل اندازی سے سپریم کورٹ کا انکار، کہا-اچھا فیصلہ تھا

اتر پردیش پولیس کے ذریعےاین ایس اے کے تحت گرفتار کیے گئے ڈاکٹرکفیل خان کی حراست رد کر انہیں فوراً رہا کیےجانے کے الہ آباد ہائی کورٹ کے آرڈر کو ریاستی سرکار نے سپریم کورٹ میں چیلنج دیا تھا، جسے سی جے آئی ایس اے بوبڈے کی قیادت والی بنچ نے خارج کر دیا۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

یوپی پولیس نے لو جہاد کی افواہ پر مسلمان لڑکے-لڑکی کی شادی رکوائی

اتر پردیش کے کشی نگر ضلع کا معاملہ۔لڑکے نے پولیس پر پٹائی کا الزام لگایا ہے۔ یہ بھی الزام ہے کہ پولیس نے لڑکے-لڑکی کو تب تک حراست میں رکھا جب تک کہ لڑکی کے بھائی نےثبوت دیتے ہوئے یہ نہیں بتایا دیا کہ دونوں پیدائش سے مسلمان ہیں اور مذہب تبدیل نہیں ہوا ہے۔

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

اتر پردیش: گھر والوں کی رضامندی کے باوجود لکھنؤ پولیس نے بین مذہبی شادی رکوائی

پولیس کے مطابق، ہندو یووا واہنی کے کچھ ممبروں نے شادی کو لےکر اعتراض کیا تھا۔ نئے قانون کے تحت بین مذہبی شادی کے لیے ضلع مجسٹریٹ سے اجازت لینا ضروری کر دیا گیا ہے۔ اس کی جانکاری لڑکے اور لڑکی کے اہل خانہ کو دے دی گئی ہے، انہوں نے منظوری ملنے کے بعد شادی کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

unnamed

مودی کے انکار کے باوجود کیوں ڈٹینشن سینٹر بنا رہی ہے یوپی سرکار؟

ویڈیو: وزیراعظم نریندر مودی نے دسمبر 2019 میں کہا تھا کہ کوئی ڈٹینشن سینٹر نہیں ہے۔ اس کے باوجود غازی آباد کے نندگرام میں مبینہ طور پر ڈٹینشن سینٹر بنایا جا رہا تھا۔بی ایس پی چیف مایاوتی کے وزیراعلیٰ رہتےہوئے بنے ایک ہاسٹل کو ڈٹینشن سینٹر بنائے جانے پر انہوں نے ٹوئٹ کر کےاس کو دوبارہ ہاسٹل بنانے کی مانگ کی۔ دی وائر کے شیکھر تیواری کی یہاں کےطلبا سے بات چیت۔

آسامی زبان کے سیریل  بیگم جان کا پوسٹر۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

آسام: لو جہاد کے الزام میں بند سیریل سے ہائی کورٹ نے پابندی ہٹائی

آسام کے رینگونی چینل پرنشر ہونے والے سیریل‘بیگم جان’پر لو جہاد کو بڑھاوا دینے کا الزام لگاکر دو مہینے کی پابندی لگا دی گئی تھی۔ گوہاٹی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ دوسرے فریق کو سنے بنا یک طرفہ طور پر یہ پابندی لگائی گئی تھی۔

ڈاکٹر کفیل خان اور پرشانت کنوجیا(فوٹوبہ شکریہ: فیس بک)

دلت ،مسلمان اور آدی واسی  کے لیے انصاف کی راہ مشکل کیوں ہے

این سی آربی کی ایک رپورٹ کے مطابق جیلوں میں بند دلت، آدی واسی اور مسلمانوں کی تعدادملک میں ان کی آبادی کے تناسب سے زیادہ ہے، ساتھ ہی مجرم قیدیوں سے زیادہ تعدادان طبقات کے زیر غور قیدیوں کی ہے۔ سرکار کا ڈاکٹر کفیل اور پرشانت کنوجیا کو باربار جیل بھیجنا ایسے اعدادوشمار کی تصدیق کرتا ہے۔

متھرا جیل سے رہا ہونے کے بعد ڈاکٹر کفیل خان۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کیا ڈاکٹر کفیل خان کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں

گزشتہ سال آکسیجن حادثے کی محکمہ جاتی جانچ میں دوالزامات میں ملی کلین چٹ کے بعد ڈاکٹر کفیل خان کی بحالی کے امکانات پیدا ہوئے تھے، لیکن سرکار نے نئےالزام جوڑتے ہوئے دوبارہ جانچ شروع کر دی۔ متھرا جیل میں رہائی کے وقت ہوئی حجت یہ اشارہ ہے کہ اس بار بھی حکومت کا روریہ ان کے لیےنرم ہونے والا نہیں ہے۔

متھرا جیل سے رہا ہونے کے بعد ڈاکٹر کفیل خان (فوٹو: پی ٹی آئی)

یوگی حکومت کے آگے نہیں جھکوں گا، ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتا رہوں گا: ڈاکٹر کفیل خان

اے ایم یو میں سی اے اے کے خلاف مبینہ‘ہیٹ اسپیچ’دینے کے الزام میں جنوری سے متھرا جیل میں بند ڈاکٹر کفیل خان کو ہائی کورٹ کے آرڈر کے بعد منگل دیر رات کو رہا کر دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اتنے دن جیل میں اس لیے رکھا گیا کیونکہ وہ ریاست کی طبی خدمات کی کمیوں کو اجاگر کرتے رہتے ہیں۔

ڈاکٹر کفیل۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک/drkafeelkhanofficial)

الہ آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف این ایس اے کے الزام  ہٹانے اور فوراً رہائی کاحکم  دیا

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پچھلے سال دسمبر میں مبینہ طور پرمتنازعہ بیان دینے کے معاملے میں29 جنوری کو ڈاکٹرکفیل خان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ 10 فروری کو الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد رہا کرنے کے بجائے ان پراین ایس اے لگا دیا گیا تھا۔

Don`t copy text!