Savarkar

کرن تھاپر اور راج موہن گاندھی۔ (فوٹو: دی  وائر)

وزیر دفاع کا یہ دعویٰ مضحکہ خیز ہے کہ گاندھی کے کہنے پر ساورکر نے رحم کی درخواست دائر کی: راج موہن گاندھی

سینئر صحافی کرن تھاپر سے بات کرتے ہوئے مہاتما گاندھی کے پوتے اور پروفیسر راج موہن گاندھی نے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کےگاندھی کی صلاح پر وی ڈی ساورکر کے معافی نامہ لکھنے کے دعوے کی تردید کی اور اس کومضحکہ خیز بتایا۔

(فوٹو :پی ٹی آئی )

راجناتھ سنگھ نے دروغ گوئی سے کیوں کام لیا؟

اگر راجناتھ سنگھ کو جھوٹ ہی سہی، ساورکر کے معافی نامےکو قابل قبول بنانے کےلیے گاندھی کاسہارا لینا پڑا تو یہ ایک اور بار ساورکر پر گاندھی کی اخلاقی فتح ہے۔ اخلاقی پیمانہ گاندھی ہی رہیں گے، اسی پر کس کر سب کو دیکھا جائےگا۔جب جب ہندوستان اپنی راہ سےبھٹکتا ہے، دنیا کے دوسرے ملک اور رہنماہمیں گاندھی کی یاد دلاتے ہیں۔

WhatsApp Image 2021-10-13 at 8.17.00 PM (1)

کیا ساورکر کی امیج کو مسخ شدہ حقائق سے وہائٹ واش کیا جا رہا ہے؟

ویڈیو: وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ایک مخصوص طبقہ ونایک دامودر ساورکر کی رحم کی درخواست کو غلط طریقے سےمشتہرکر رہا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ساورکر نے جیل میں اپنی سزا کاٹتے ہوئے مہاتما گاندھی کے کہنے پر انگریزوں کے سامنے رحم کی درخواست دائر کی تھی۔

بی جے پی کا لوگو، وی ڈی ساورکر اور ترنمول کانگریس کا لوگو (فوٹو :دی وائر)

یو پی ایس سی میں ’بی جے پی کے سوالوں‘ کے بعد بنگال سول سروس کے امتحان میں آئے ساورکر، این آرسی پر سوالات

اس سے پہلے گزشتہ آٹھ اگست کو یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) کے تحت آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کی بحالی کے امتحان میں مغربی بنگال میں اس سال اپریل میں ہوئے اسمبلی انتخاب کے بعد تشدد اور تین متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف ہو رہے کسانوں کے مظاہرے کو لےکر سوال پوچھے گئے تھے۔

حکومت ہند کے چیف اکانومک ایڈوائزرسنجیو سانیال(فوٹو : ٹوئٹر /sanjeevsanyal@)

بھگت سنگھ کو بچانے کی گاندھی نے کوئی کوشش نہیں کی تھی: چیف اکانومک ایڈوائزر

گجرات یونیورسٹی میں’دی ریولیوشنریز: اے ری ٹیلنگ آف انڈیاز ہسٹری’پرتقریر کرتے ہوئے حکومت ہند کے چیف اکانومک ایڈوائزرسنجیو سانیال نے کہا کہ اگر پہلی عالمی جنگ کے لئے وہ ہندوستانی فوجیوں کو برٹش فوج میں بھیجنے کو تیار تھے تب ان کو اسی طرح کا کام کرنے کو لےکر بھگت سنگھ سے دقت کیوں تھی؟

Photo: culturalindia.net

مولانا آزاد کے یوم پیدائش پر یاد کیے جائیں گے ساورکر، امبیڈکر جینتی کے متبادل کے طور پر منایا جائے گا ’سمرستا دوس‘

ٹیلی گراف نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ،امبیڈکرکی سالگرہ یعنی 14 اپریل کو’ سمرستا دوس’ کے طور پر منانے کی قواعد دو ہفتے پہلے ہی شروع ہوئی ہے۔

(فوٹو بہ شکریہ  پی آئی بی)

کیا وزیر اعظم مودی گاندھی کے نظریات کا قتل کر رہے ہیں؟

گاندھی کا نظریہ ان کی موت کے بعد بھی سنگھ کے شدت پسند نظریے کے آڑے آتارہا، اس لئے اپنی پہلی مدت کار میں ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے گاندھی کے سارےاقدار کو طاق پر رکھ‌کر ان کے چشمے کو صفائی مہم کی علامت بناکر ان کو صفائی تک محدود کرنے کی مہم شروع کر دی تھی۔

فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر

اگرویر ساوکر وزیر اعظم ہوتے تو پاکستان نہیں بنتا: ادھو ٹھاکرے

ٹھاکرے نے   کہا، مجھے   نہرو  کو ویر کہنے میں گریز نہیں ہوتااگر وہ ساورکر کی طرح  14 منٹ بھی جیل میں رہے ہوتے ،جبکہ ساورکر   14 سالوں  تک جیل میں رہے۔ نئی دہلی: شیو سینا چیف  ادھو ٹھاکرے نےاپنے ایک بیان میں  کہا کہ پاکستان نہیں  بنتا اگر  بٹوارے کے […]

ریڈ

دی وائر کی عارفہ خانم شیروانی اور فیاض احمد وجیہہ کوملا ریڈ انک ایوارڈ

بہترین صحافت کے لیے ممبئی پریس کلب کی طرف سے دیا جانے والا یہ ایوارڈ پالیٹکس کی کٹیگری میں عارفہ خانم شیروانی کو شری شری روی شنکر کے انٹرویو اور فیاض احمد وجیہہ کو آرٹس کیٹگری میں ایک پبلشنگ ہاؤس کے بارے میں کی گئی ویڈیو رپورٹ کے لیے ملا ہے۔

راجستھان کے وزیر تعلیم گووند سنگھ ڈوٹاسرا (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

راجستھان کے وزیر تعلیم نے کہا-کتابوں سے ہٹایا جائے‌گا نوٹ بندی کا سبق

راجستھان کے وزیر تعلیم گووند سنگھ ڈوٹاسرا نے کہا کہ نوٹ بندی سب سے ناکام تجربہ تھا۔ نوٹ بندی کے لئے وزیر اعظم نے جن تین مقاصد-دہشت گردی، بد عنوانی کو ختم کرنے اور کالا دھن کو واپس لانے، کا ذکر کیا تھا، ان کو حاصل نہیں کیا جا سکا۔

Savarkar_RajasthanBook

راجستھان: نصاب میں تبدیلی، ساورکر کو ویر کی جگہ انگریزوں سے معافی مانگنے والا بتایا

راجستھان کے وزیر تعلیم نے بتایا کہ ریاست کی پچھلی بی جے پی حکومت نے محکمہ تعلیم کو تجربہ گاہ بنا دیا تھا، آر ایس ایس کے سیاسی مفادات کی تکمیل کے لئے نصاب میں تبدیلی کی گئی تھی۔ سیاسی مفادات کے لئے ساورکر کی بہتر امیج بنائی گئی تھی۔

Kancha_Ilaiah-wikipedia

کانچہ ایلیا کا انٹرویو؛ یونیورسٹی کوئی مذہبی ادارہ نہیں، جہاں ایک ہی طرح کی مذہبی فکر پڑھائی جائے

انٹرویو: دہلی یونیورسٹی کے ایم اے کے نصاب سے مصنف اور مفکر کانچہ ایلیا شیفرڈ کی کتاب ہٹانے کی تجویز پر ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی الگ الگ خیالات کو پڑھانے، ان پر بحث کرنے کے لئے ہوتی ہیں، وہاں سو طرح کے خیالات پر بات ہونی چاہیے۔ یونیورسٹی کوئی مذہبی ادارہ نہیں ہیں، جہاں ایک ہی طرح کے مذہبی افکار پڑھائے جائیں۔

Don`t copy text!