Section 144

(فائل فوٹو: رائٹرس)

دہلی: اوکھلا-جامعہ نگر میں دفعہ 144نافذ، ریلی اور جلوس میں مشعل پر پابندی

دہلی پولیس کے ایک حکم نامےکے مطابق، سی آر پی سی کی دفعہ 144 نیو فرینڈس کالونی، جامعہ نگر اور اوکھلا علاقے میں 17 نومبر تک نافذ رہے گی۔ اس حکم کو ذہن میں رکھتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اپنے طلبا اور اساتذہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ یونیورسٹی کیمپس اور اس کے آس پاس گروپ میں جمع نہ ہوں۔

جھارکھنڈ کے دمکا میں ایک نوجوان نے 19 سالہ لڑکی کو زندہ جلا دیا، جس کی وجہ سے اس کی موت ہو گئی۔ (فوٹو: اے این آئی)

جھارکھنڈ: نوجوان نے لڑکی کو زندہ جلایا، وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے احتجاج کے بعد دفعہ 144 نافذ

جھارکھنڈ کے دمکا شہر کا معاملہ۔ پولیس نے بتایا کہ شاہ رخ حسین نامی نوجوان کچھ عرصے سے لڑکی کو ہراساں کر رہا تھا۔ 23 اگست کو جب لڑکی اپنے گھر میں سو رہی تھی تو اس نے اس پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ واقعہ کے بعد وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے کارکنوں نے احتجاج کیا، جس کے بعد دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔

ہندو یووا واہنی کے ارکان نے قبرستان میں ایک عارضی مندر قائم کیا تھا جسے بعد میں انتظامیہ نے ہٹا دیا۔ (تصویر: اسپیشل ارینجمنٹ)

تریپورہ: ہندوتوا گروپ کے قبرستان میں مندر بنانے کے بعد اگرتلہ کے مضافات میں کشیدگی

جانکاری کے مطابق، تریپورہ کی راجدھانی اگرتلہ کے مضافات میں واقع نندن نگر کے ایک قبرستان میں ہندو یوا واہنی کے ارکان نے مبینہ طور پر پہلے بلڈوزر کا استعمال کرکے زمین کو صاف کیا اور پھر بانس کا عارضی ڈھانچہ کھڑا کرکے اس میں شیولنگ نصب کردیا۔ آس پاس تنظیم کے بینر–جھنڈے اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی تصویریں لگا دیں۔ انتظامیہ نے بعد میں اس ڈھانچے کو ہٹا دیا۔

علامتی  فوٹو:رائٹرس

چھتیس گڑھ: ہندو تنظیموں کی ریلی کے دوران ہوئے تشدد کے بعد کوردھا میں کرفیو

پولیس حکام کے مطابق، کبیردھام ضلع کے ہیڈکوارٹر کوردھا میں مذہبی جھنڈے کو ہٹانے کو لےکر اتوار کو دوکمیونٹی کے بیچ جھڑپ ہوئی تھی۔ اس کے بعد منگل کو​​ ہندوتنظیموں نے ریلی نکالی تھی جس کی اجازت انتظامیہ نے نہیں دی تھی۔ اس ریلی کے دوران ہی تشددبرپا ہوا۔

سی اے اے-این آر سی کے خلاف نئی دہلی میں ہوا ایک مظاہرہ(فوٹو : پی ٹی آئی)

سی اے اے مخالف پر امن مظاہرہ کرنے والے باغی اور غدار نہیں: بامبے ہائی کورٹ

بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ نے شہریت قانون کے خلاف ہونے والے ایک مظاہرہ پر دفعہ 144 کے تحت روک لگانے والے حکم کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ملک کوانگریزوں سے آزادی مظاہرے کے ذریعے ہی ملی تھی۔

 نتیش کمار(فوٹو : پی ٹی آئی)

فرقہ وارانہ فسادات میں بہار اول کیوں ہے؟

ایک سال کی تاخیرسے جاری کئے گئے این سی آر بی کے اعداد و شمار کے مطابق،سال 2017 میں ملک میں فسادات کے کل 58729 معاملے درج کیے گئے۔ ان میں سے 11698 فسادات بہار میں ہوئے۔2017 میں ہی ملک میں کل 723 فرقہ وارانہ / مذہبی فسادات ہوئے۔ ان میں سے اکیلے بہار میں 163 معاملے ہوئے، جو کسی بھی صوبے سے زیادہ ہے۔

modi-nitish-kumar-pti

نتیش کمار کا دعویٰ ؛ ہماری حکومت میں نہیں ہوئے فسادات، جانیے کیا ہے حقیقت

نتشب کمار نے ایک حالیہ انٹرویو مںم کہا تھا کہ ا ن کی 13 سالہ حکومت مں صرف ایک بار نوادہ مںا کرفوی لگا اور وہ بھی محض 48 گھنٹے کے لئے۔ مگر مڈییا رپورٹس کی مانں ، تو ان کا یہ دعویٰ بھی سچائی سے پرے ہے۔

فوٹو : رائٹرس

سیتامڑھی فساد: توکیا نتیش حکومت میں مسلمانوں کواحتجاج کرنے کا بھی حق نہیں رہا؟

جے ڈی یوکے قانون سازکونسل کے رکن خالد انورکا میڈیامیں ایک بیان آیاکہ سیتامڑھی میں کچھ نہیں ہوا اورفسادمیں کسی کے مارے جانے کی بات محض افواہ ہے، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

نورالحسن کے گیراج میں جلی ہوئی ٹرک۔(فوٹو :امیش کمار رائے /دی وائر)

بہار :فساد متاثرہ دکانداروں کو کیوں لگ رہا ہے کہ نتیش حکومت ان کو ٹھگ رہی ہے؟ 

گراؤنڈ رپورٹ :بہار کے اورنگ آباد میں مارچ میں رام نومی کے وقت ہوئے فرقہ وارانہ تشدد میں کئی دکانوں میں لوٹ پاٹ کرکے آگ لگا دی گئی تھی۔اس وقت نتیش حکومت نے متاثر دکانداروں کو معاوضہ دینے کی بات کہی تھی، لیکن چار مہینے کے بعد بھی زیادہ تر دکانداروں کو ایک روپیہ بھی معاوضہ نہیں ملا ہے۔

Don`t copy text!