Shaheen Bagh

فوٹو: ویڈٰیو اسکرین گریب

دہلی فسادات: پولیس کا دعویٰ-’قومی ترانہ والے ویڈیو‘ میں موجود نوجوان کی حراست کے وقت  تھانے کا کیمرہ خراب تھا

گزشتہ سال دہلی فسادات کے دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا جس میں کچھ پولیس والے پانچ مسلم نوجوانوں کو پیٹتے ہوئے انہیں قومی ترانہ گانے کو مجبور کررہے تھے۔ بعد میں ان میں سے ایک 23 سالہ فیضان کی موت ہو گئی تھی۔ فیضان کی ماں نے پولیس اہلکاروں پر حراست میں قتل کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انصاف کی فریاد کی ہے۔

یتی نرسنہانند کے ساتھ مرکزی وزیر گریراج سنگھ۔ بیچ میں بی جے پی کے بی ایل شرما ہیں اور پیچھے سفید قمیص اور گمچھے میں یتی کا قریبی اور 'ہندو فورس'کا بانی دیپک سنگھ ہندو۔

دہلی فسادات سے ٹھیک پہلے شدت پسند ہندوتوادی رہنما نے لگاتار مسلمانوں کے ’قتل عام‘ کی اپیل کی تھی

خصوصی سیریز: سال 2020 کے دہلی فسادات کو لےکر دی وائر کےخصوصی سلسلہ کے دوسرے حصہ میں جانیےشدت پسند ہندوتوادی رہنمایتی نرسنہانند کو، جن کی نفرت اور اشتعال انگیزی نے ان شرپسندوں کے اندرشدت پسندی کا بیج بویا، جنہوں نے فروری 2020 کے آخری ہفتے میں شمال-مشرقی دہلی میں قہر برپاکیا۔

AKI MOno 1 MARCH.00_35_41_03.Still010

دہلی فسادات: موج پور کے دکانداروں کو نقصان کے مقابلے بہت کم معاوضہ ملا

گراؤنڈ رپورٹ: شمال – مشرقی دہلی کے موج پور علاقے میں پچھلے سال ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران تمام دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ دکانداروں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جتنے نقصان کا دعویٰ کیا تھا، اس سے کافی کم معاوضہ انہیں دیا گیا۔

راگنی تیواری، دیپک سنگھ ہندو اور انکت تیواری۔

دہلی فسادات کی اصل سازش؛ جس کو پولیس نے نظر انداز کیا

خصوصی رپورٹ: سال 2020 کے دہلی فسادات کو لےکردی وائر کی سیریز کے پہلے حصہ میں جانیے ان ہندوتووادی کارکنوں کوجنہوں نےنفرت پھیلانے، بھیڑجمع کرنے اور پھر تشددبرپا کرنے میں اہم رول ادا کیا۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: حکومت کی یقین دہانی کے بعد متاثرین کو ملا 10 فیصدی سے بھی کم معاوضہ

گراؤنڈ رپورٹ:شمال-مشرقی دہلی میں ہوئے دنگوں میں متاثرہ موج پور،اشوک نگر جیسے علاقوں کے55 دکانداروں نے نقصان کی بھرپائی کے لیےکل 3.71 کروڑ روپے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن دہلی سرکار نے اس میں سے 36.82 لاکھ روپے کی ہی ادائیگی کی ہے۔ جودعوے کے مقابلے9.91 فیصدی ہی ہے۔

شاہین باغ میں شہریت ترمیم قانون کی مخالفت کرتیں خواتین(فوٹو :پی ٹی آئی)

شاہین باغ احتجاج پر سپریم کورٹ نے کہا، مزاحمت کا حق کبھی بھی، کہیں بھی نہیں ہو سکتا

سپریم کورٹ نےاکتوبر 2020 میں اپنے فیصلے میں سی اے اے کے خلاف دہلی کے شاہین باغ میں تین مہینے سے زیادہ عرصےتک ہوئے احتجاج کو غیرقانونی بتاتے ہوئے اس کو ناقابل قبول بتایا تھا، جس کے خلاف کچھ کارکنوں نےنظر ثانی کی درخواست دائر کی تھی، جس کو عدالت نے خارج کر دیا۔

جے سی سی کی جانب سےجاری سی سی ٹی وی فوٹجد مں  پولسض اہلکار لائبریری مںھ بٹھے  طلبا کو لاٹھی سے مارتے دکھ رہے تھے۔ (بہ شکریہ: ٹوئٹر/ویڈیوگریب)

جامعہ تشدد: پولیس پر ایف آئی آر کی عرضی خارج، عدالت نے کہا-سرکاری ڈیوٹی تھی

دسمبر2019 میں سی اے اے کے خلاف ایک احتجاج میں ہوئے جھڑپ کے بعد دہلی پولیس نے جامعہ ملیہ کیمپس میں گھس کر لاٹھی چارج کیا تھا، جس میں تقریباً 100 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ یونیورسٹی نے بنا اجازت کیمپس داخل ہونے اور طلباا ورسکیورٹی گارڈز پر حملے کے الزام میں پولیس پر ایف آئی آر درج کرنے کی عرضی دائر کی تھی۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات:  قومی ترانہ گانے پر مجبور کیے گئے نوجوان کی موت کی جانچ کی مانگ کو لے کر عرضی

دہلی ہائی کورٹ نے دہلی دنگے کے دوران 23 سالہ فیضان کی موت کے معاملے میں عدالت کی نگرانی میں جانچ کی مانگ سےمتعلق عرضی پر دہلی سرکار اور کرائم برانچ کو نوٹس جاری کیا ہے۔ دنگوں کے دوران ایک ویڈیو میں کچھ پولیس اہلکار زمین پر فیضان سمیت کچھ زخمی نوجوانوں سے قومی ترانہ گانے کو کہتے دکھ رہے تھے۔ فیضان کی اسپتال میں موت ہو گئی تھی۔

2307 Gondi.00_12_44_11.Still215

سی اے اے کی مخالفت کیوں ضروری تھی اور ہے؟

ویڈیو: حکومت ہند کی جانب سے لائے گئے شہریت قانون کی مخالفت11دسمبر 2019 سے دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے شروع ہوئی تھی۔ اس قانون کے پاس کیے جانے اور اس کی مخالفت کے ایک سال مکمل ہونے پر تحریک کی ضرورت اوراہمیت پر دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند کا نظریہ۔

WhatsApp Image 2020-12-15 at 14.44.35

جامعہ تشدد کا ایک سال: ’پولیس کی بربریت کو بھول پانا آسان نہیں‘

ویڈیو:گزشتہ سال دسمبر میں شہریت قانون کے خلاف ہوئے مظاہرہ کے بعد دہلی پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس میں گھس کر لاٹھی چارج کیا تھا، جس میں تقریباً 100 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ وہیں ، ایک اسٹوڈنٹ کے ایک آنکھ کی روشنی چلی گئی تھی۔

دسمبر 2019 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی لائبریری میں کی گئی توڑ پھوڑ۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

جامعہ تشدد کے ایک سال بعد بھی ایف آئی آر درج نہیں، اب امید بھی نہیں: وی سی

گزشتہ سال دسمبر میں شہریت قانون کے خلاف ہوئے مظاہرہ کے بعد دہلی پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس میں گھس کر لاٹھی چارج کیا تھا، جس میں تقریباً 100 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ وہیں، ایک اسٹوڈنٹ کے ایک آنکھ کی روشنی چلی گئی تھی۔

گل فشاں  فاطمہ(فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

دہلی فسادات: گرفتار جامعہ اسٹوڈنٹ نے تہاڑ جیل کے اہلکاروں پرذہنی ہراسانی کے الزام لگائے

دہلی تشددسے جڑے معاملے میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار اسٹوڈنٹ گل فشا ں فاطمہ نے مقامی عدالت کی شنوائی میں الزام لگایا کہ جیل میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے، فرقہ وارانہ تبصرےکیے جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر وہ خود کو کوئی نقصان پہنچاتی ہیں، تو جیل انتظامیہ اس کی ذمہ دار ہوگی۔

طاہر حسین۔ (فوٹو: دی وائر/ویڈیوگریب)

دہلی پولیس کے پاس طاہر حسین کو فسادات سے جوڑ نے کا کوئی ثبوت نہیں: وکیل

گزشتہ دنوں دہلی پولیس نے دعویٰ کیا کہ عآپ کےسابق کونسلر طاہرحسین نے شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات میں شامل ہونے کی بات قبول کرلی ہے۔حسین کے وکیل جاوید علی کا کہنا ہے کہ ان کے موکل نے کبھی اس طرح کا کوئی بیان نہیں دیا۔ پولیس کے پاس اپنے دعووں کی تصدیق کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہے۔

(فائل فوٹو: رائٹرس)

دہلی فسادات: ایل جی کے آرڈر پر پیروی کے لیے سالیسیٹر جنرل تشار مہتہ سمیت چھ وکیلوں کی تقرری

دہلی سرکار نے اس سے پہلے دہلی پولیس کی جانب سے بتائے گئے وکیلوں کے ناموں کوقبول کرنے سے منع کر دیا تھا۔ایل جی انل بیجل نے سرکار کے آرڈر کو خارج کرتے ہوئے پولیس کی جانب سے بھیجے گئے وکیلوں کے نام کو قبول کرنے کو کہا۔

فوٹو: رائٹرس

دہلی فسادات: جب راجدھانی تشدد کی آگ میں جل رہی تھی، تب وزیر داخلہ اور وزارت کیا کر رہے تھے؟

خصوصی مضمون: فروری کےآخری ہفتے میں شمال مشرقی دہلی میں جو کچھ بھی ہوا اس کی اہم وجہوں میں سے ایک سینٹرل فورسز کو تعینات کرنے میں ہوئی تاخیرہے۔ ساتھ ہی وزیر داخلہ کا یہ دعویٰ کہ تشدد25 فروری کو رات 11 بجے تک ختم ہو گیا تھا،سچ کی کسوٹی پر کھرا نہیں اترتا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

دہلی فسادات : وکیلوں کی تقرری کے سلسلے میں دہلی سرکار نے پولیس کی تجویز کو خارج کیا

دہلی کابینہ کی میٹنگ میں وکیلوں کی تقرری کے سلسلےمیں دہلی پولیس کی تجویز کو نامنظور کرتے ہوئے کہا گیا کہ دنگا معاملے میں پولیس کی جانچ کو عدالت نے غیرجانبدارنہیں پایا ہے، اس لیے پولیس کے پینل کو منظوری دی گئی، تو معاملوں کی غیرجانبدارشنوائی نہیں ہو پائےگی۔

گل فشاں  فاطمہ(فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

دہلی فسادات کے سلسلے میں گرفتار گل فشاں فاطمہ کی رہائی کے لیےشہریوں  نے اپیل کی

دہلی فسادات کےسلسلےمیں گرفتار گل فشاں فاطمہ سو دن سے زیادہ عرصے سے تہاڑ جیل میں ہیں۔سول سوسائٹی کے ممبروں، ماہرین تعلیم اور قلمکاروں سمیت450 سے زیادہ لوگوں نے ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دہلی پولیس وباکا فائدہ اٹھاکر مظاہرین کو غیر قانونی طریقےسے گرفتار کر رہی ہے۔

فوٹو: رائٹرس

دہلی فسادات: کیا انصاف کا گلا گھونٹنے کے لیےمرکزی حکومت ’گجرات ماڈل‘ اپنا رہی ہے؟

گجرات فسادات کے بعد کی گئی کچھ ریکارڈنگس بتاتی ہیں کہ کس طرح سنگھ پریوار کے ممبروں کی پبلک پراسیکیوٹر کے طور پرتقرری کی گئی، جنہوں نے ان معاملوں کو ‘سیٹل’ کرنے میں مدد کی، جن میں ملزم ہندو تھے۔ اب دہلی فسادات کے معاملے میں مرکزی حکومت اپنی پسند کے پبلک پراسیکیوٹر چننا چاہتی ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: ایک ہی معاملے میں دو عرضیاں دائر کر نے پر ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کو پھٹکار لگائی

دہلی ہائی کورٹ نے ایک ہی معاملے میں الگ الگ عرضیاں دائر کرنے کے لیے دہلی پولیس پر ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالتی نظام کاغلط استعمال کر رہی ہےاور سسٹم کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے۔

AKI 20 July 2020.00_36_01_20.Still002

دہلی فسادات کا سچ: پولیس چارج شیٹ بنام دہلی اقلیتی کمیشن

ویڈیو: شمال مشرقی دہلی میں فروری میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں 53 لوگ مارے گئے تھے۔ دہلی پولیس نے جون میں عدالت میں دائر کئی چارج شیٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ تشدد نریندرمودی سرکار کو بدنام کرنے کی سازش کا نتیجہ تھا۔ اس مدعے پر سپریم کورٹ کے وکیل ایم آر شمشاد سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

]

دہلی تشدد: کئی کیس فری میں لڑ نے والے ایک وکیل، کیوں اٹھا رہے ہیں جانچ پر سوال؟

ویڈیو: فروری میں ہوئے دہلی فسادات سے متعلق تقریباً50 کیس وکیل عبدالغفار اکیلے لڑ رہے ہیں۔ ان میں سے لگ بھگ آدھے کے لیے وہ فیس بھی نہیں لے رہے۔ دہلی فسادات میں ہو رہی جانچ اور گرفتاریوں پر لگاتار سوال اٹھ رہے ہیں۔ عبدالغفار کا بھی ماننا ہے کہ جانچ میں شواہد سے پہلے ایک نیریٹو سیٹ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی انتخاب کے دوران بی جے پی رہنماؤں کے اشتعال انگیز بیانات کے بعد فسادات ہو ئے: رپورٹ

فروری2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات پر دہلی اقلیتی کمیشن کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی رہنما کپل مشراکی تقریر کے بعد فسادات شروع ہوئے تھے لیکن اب تک ان کے خلاف کوئی کیس درج نہیں کیا گیا ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات میں رہنماؤں کے رول کے ثبوت نہیں: دہلی پولیس

دہلی ہائی کورٹ کے سامنے دہلی پولیس نے یہ جواب ان پی آئی ایل عرضیوں کے جواب میں دیا ہے، جن میں کپل مشرا سمیت بی جےپی، کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے کچھ رہنماؤں پر ہیٹ اسپیچ کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: پولیس نے کہا، ہندوؤں کی گرفتاری پر کمیونٹی میں غصہ، احتیاط برتنے کی ضرورت

دہلی فسادات کے سلسلے میں دہلی پولیس کی جانب سے کی جا رہی جانچ اورگرفتاریوں کے بیچ اسپیشل پولیس کمشنر پرویر رنجن نے ایک آرڈر میں خفیہ ان پٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شمال مشرقی دہلی کے فسادات متاثرہ علاقوں میں کچھ ہندو نوجوانوں کوحراست میں لیے جانے سے کمیونٹی کے لوگوں میں غصہ ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

یوپی: میرٹھ کے ہاسپٹل پر 2500 روپے میں کورونا نگیٹو رپورٹ بنانے کا الزام، جانچ کا حکم

معاملہ نیو میرٹھ ہاسپٹل کا ہے، جہاں کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔ اس میں پیسے لےکر کورونا کی نگیٹو رپورٹ تیار کرنے کی بات کہی جا رہی ہے۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے ہاسپٹل کو سیل کر دیا گیا ہے۔

ایم ایل اے امین الاسلام کے ذریعے فیس بک پرشیئر کی گئی تصویر

آسام: مذہبی مبلغ اور ایم ایل اے کے والد کے جنازے میں ہزاروں افراد کی شمولیت، تین گاؤں سیل

معاملہ آسام کے نگاؤں ضلع کا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق، ضلع کے ڈھینگ اسمبلی حلقہ سے اےآئی یوڈی ایف پارٹی کے ایم ایل اے کےوالد87 سالہ امیر شریعت خیرالاسلام کے جنازے میں تقریباً 10 ہزار افراد شامل ہوئے تھے۔ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کو لےکر دو معاملے درج کیے گئے ہیں۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: ’پہلے شرپسندوں  نے گھر اور دکان لوٹ لیا، اب مقدمہ واپس لینے کا دباؤ بنایا جا رہا ہے‘

رواں سال فروری میں شمال-مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے شکار ریڈی میڈ کپڑوں کے تاجرنثار احمد نے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کر کے الزام لگایا ہے کہ پولیس ان کی شکایت پر مناسب کارروائی نہیں کر رہی ہے اور ملزمین کی جانب سے ان کو ڈرایا- دھمکایا جا رہا ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

کورونا وائرس کے بڑھتے معاملوں کے بیچ سرکاروں کا زور ٹیسٹ کم کر نے پر کیوں ہے؟

گزشتہ مارچ مہینے میں ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹرجنرل نے کہا تھا کہ اگر ہمیں پتہ ہی نہیں ہوگا کہ کون متاثر ہے تو ہم اس وبا کو نہیں روک سکتے۔ انہوں نے کورونا وائرس سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کرنے کی ضرورت پرزوردیا تھا، لیکن اس وقت ہندوستان میں ڈبلیو ایچ او کی اس صلاح کے برعکس ہوتا دکھ رہا ہے۔

فروری میں ہوئےتشدد کے دوران موج پور میٹرو اسٹیشن کے پاس تعینات سیکورٹی فورس۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی: پولیس نے چارج شیٹ میں طاہر حسین کو ’فسادات کا ماسٹر مائنڈ‘ بتایا، وکیل نے کہا-پھنسایا جا رہا ہے

فروری میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے تشدد کے معاملے میں پولیس نے مقامی عدالت میں ہزارصفحات سے زیادہ کی چارج شیٹ دائر کی ہے۔ طاہر حسین کے وکیل کا کہنا ہے کہ پولیس ان کے موکل کے خلاف ایک بھی ثبوت نہیں پیش کر پائی ہے اور انہیں سازش کے تحت پھنسایا جا رہا ہے۔ حسین ملزم نہیں مظلوم ہیں۔

کورنٹائن سینٹر سے 30 لوگوں کو پولیس کے ذریعےحراست میں لیے جانے کے بعد ایک عارضی  جیل میں رکھا گیا ہے۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

غیر ملکیوں کو پناہ دینے کے الزام میں الہ آباد یونیورسٹی کے پروفیسر کو معطل کیا گیا

الہ آبادیونیورسٹی کےشعبہ سیاسیات کے 55 سالہ پروفیسر کو ضلع انتظامیہ کی اجازت کے بنا غیرقانونی طور پرغیر ملکیوں کے ٹھہرنے کا انتظام کرنے سمیت مختلف الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے۔

علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس

ہر تبلیغی کورونا کا مریض نہیں اور ہر مسلمان تبلیغی نہیں: دہلی اقلیتی کمیشن

کمیشن نے اپنے خط میں دہلی پولیس کی توجہ اس طرف دلائی ہے کہ دہلی کے بعض علاقوں میں پولیس گوشت کی دکانیں بند کرا رہی ہے۔ کمیشن نے کہا کہ اگر ایسی کوئی پالیسی بنائی گئی ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران گوشت کی دکانیں بند رہیں گی تو اس پالیسی کی کاپی کمیشن کو مہیا کی جائے اور اگر ایسی کوئی پالیسی نہیں ہے تو گوشت کی دکانوں کو کھلنے دیا جائے۔

(فائل فوٹو: رائٹرس)

ڈبلیو ایچ او نےکہا-رپورٹ میں غلطی ہوئی، ہندوستان میں کورونا وائرس کے کمیونٹی ٹرانس میشن کا خطرہ نہیں

مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں ابھی تک کو رونا وائرس کو لےکر کمیونٹی ٹرانس میشن کے ثبوت نہیں ملے ہیں اور ملک میں انفیکشن کی شرح ابھی بھی دو فیصدی پر بنی ہوئی ہے۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

لاک ڈاؤن: گجرات میں تنخواہ کی مانگ کو لے کر مزدور سڑک پر اترے

معاملہ گجرات کے سورت کا ہے۔ لاک ڈاؤن کے بیچ تنخواہ اور گھر واپس لوٹنے کی مانگ کر رہے مہاجر مزدوروں کے ذریعے توڑ پھوڑ اور ٹھیلوں میں آگ لگائے جانے کے بعد پولیس نے ان میں سے تقریباً 80 لوگوں کو حراست میں لے لیا۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

آئندہ 15 اپریل سے ٹرینوں کی خدمات بحال کر نے کا کوئی منصوبہ نہیں: وزارت ریل

آئندہ 15 اپریل سے ٹرین کی آمد ورفت شروع کرنے کی خبروں کو غلط بتاتے ہوئے وزارت ریل نے کہا ہے کہ میڈیا ایسے وقت میں غیر مصدقہ خبروں کو شائع کرنے سے بچے، کیونکہ اس سے عوام کے ذہن میں غیر ضروری بھرم پیدا ہوتا ہے۔

Don`t copy text!