Shopian

(فوٹو: پی ٹی آئی)

رگھناتھ کستور اور ابن حسام کا کشمیر

کشمیری پنڈتوں اور بہاری مزدوروں کی ہلاکتوں پر پورے ہندوستان میں ایک طوفان سا آگیا ہے۔ کئی مقتدر مسلم رہنمابھی کشمیری مسلمانوں کو باور کرا رہے ہیں کہ اقلیتوں کی حفاظت کے لیے ان کو میدان میں آنا چاہیے۔یہ سچ ہے کہ اقلیت کی سلامتی اور ان کا تحفظ اکثریتی فرقہ کی اہم ذمہ داری ہوتی ہے۔ مگر کشمیر میں اکثریتی طبقہ تو اپنے جان و مال پر بھی قدرت نہیں رکھتا۔ فوجی گرفت کے بیچوں بیچ اْدھار زندگی گزارنے والا کیسے کسی اور کی زندگی کی ضمانت دے سکتا ہے؟

شاہد احمد راتھر۔(فوٹو: فیضان میر)

کشمیر: سی آر پی ایف کی گولی سے مزدور کی موت، گھر والوں نے کہا-جان بوجھ کر ماری گئی گولی

شوپیاں ضلع میں پیش آئے اس واقعہ میں مارے گئےشخص کی پہچان شاہد احمد راتھر کےطور پر ہوئی ہے، جو ایک مزدور تھے۔سی آر پی ایف نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردوں کی طرف سے ہوئی گولی باری کا جواب دیتے وقت یہ واقعہ پیش آیا۔ اس واقعہ پر وادی کے مین اسٹریم کی پارٹیوں نے سخت ردعمل دیتے ہوئےغیرجانبدارانہ جانچ کی مانگ کی ہے۔

فوٹو: سوشل میڈیا

لگاتار ہلاکتوں کے باوجود کشمیری نوجوان کیوں بندوق اٹھارہے ہیں؟

ایک پولیس افسرکے مطابق ،ملی ٹنٹ تنظیمیں اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہی ہیں ۔ اس سے پہلے ملی ٹنسی میں شامل ہوئے ہر ایک ملی ٹنٹ کی تصویر جان بوجھ کر سوشل میڈیا پر وائرل کی جاتی تھی مگر اب سائیلنٹ یا چھپ کر ملی ٹنسی میں شمولیت کی حکمت عملی اپنائی جارہی ہے تاکہ نئے ملی ٹنٹ سیکورٹی راڈارسے محفوظ رہیں اور مختلف علاقوں میں نقل و حمل کرسکیں۔

Don`t copy text!