Sir Syed Ahmad Khan

sir syed_amu

سر سید اپنا کام کر کے چلے گئے،اب ہمیں آج کے حالات کا مقابلہ کرنا ہے

سر سید اور ان کے عہد کے لوگوں کو جو کرنا تھا وہ کر کے چلے گئے۔ اب ہمیں آج کے حالات کا مقابلہ کرنا ہے۔ آج کا سب سے بڑا چیلنج اپنے اوپر چھا رہے مایوسی کے بادل کو چھانٹنا ہے اور اپنے لوگوں میں، خاص کر نئی نسل میں، عزم اور حوصلہ پیدا کرنا ہے۔

SIR

سرسید احمدخان کا نظریۂ ذات پات

سرسید نے انگلینڈ اور ہندستان میں سول سروس کے یکساں امتحان کی مخالفت کی، کیوں کہ ان کے نزدیک اگر ہندستان میں بھی یہ امتحان ہونے لگےگا تو اس میں (مزعومہ) رذیل برادریوں کے لوگ امتحان پاس کر کے کلکٹر اورکمشنر ہوسکتے ہیں۔ مولانامحمدقاسم نانوتوی(شیخ 1833-1880ء)کے استاذ مولانا […]

sir syed_amu

جب سرسید نےگھنگھرو باندھے

سر سید کو یہ طریقہ دیکھ کر خیال آیا کہ ایسی ہی منڈلی اور تھیئٹر مسلمانوں کے لیے بھی ہونا چاہیے۔ چند دن ہوئےکہ سر سید احمد خان کی دو صد سالہ سالگرہ کی تقریبات منعقد ہوئیں۔ اسی دوران ہندوستانی رائٹر رعنا صفوی نے دہلی میں سر سید […]

SirSyedGhalib

جب سرسید نے غالب کی بات نہیں مانی تھی…

1855میں”آئین اکبری”کی تدوین کرنے کے بعد غالب کے پاس تقریظ لکھوانے کے لیےگئے۔غالب نے اس ترجیح کو بے سود قرار دیتے ہوئےسر سید کو مشورہ دیا کہ زوال شدہ ماضی میں جھانکنےکے بجائےیہ دیکھا جائے کہ مغرب نےسائنسی علوم کے ذریعے مادی ترقی حاصل کر کے دنیا پر حکمرانی کر نا شروع کر دیا ہے۔ سر سید کو یہ بات پسند نہیں آئی۔

AMU_Clg

کیا ماڈرن ایجوکیشن کے پیروکار سر سید احمد خان عورتوں کی تعلیم کے خلاف تھے؟

سرسید کا ماننا تھا کہ جب مرد لائق ہوجاتے ہیں تب عورتیں بھی لائق ہوجاتی ہیں ۔جب تک مرد لائق نہ ہوں ، عورتیں بھی لائق نہیں ہوسکتیں ۔یہی سبب ہےکہ ہم کچھ عورتوں کی تعلیم کا خیال نہیں کرتے ہیں۔

sir-syed-ahmed-khan

بک ریویو: سرسید احمد خاں اور ان کے معاصرین

سرسید احمد خان کے دو سو سالہ جشن ولادت کی مناسبت سے بھی کچھ کتابیں اور رسالے حالیہ دنوں میں شائع ہوئے ہیں جن میں سہ ماہی ’فکر و نظر‘ علی گڑھ کا سرسید نمبر اور راحت ابرار کی کتاب ’سرسید احمد خاں اور ان کے معاصرین‘ قابل […]