society

(فوٹوبہ شکریہ: cinestaan.com)

ہندوستان اور چین کے دوستانہ تعلقات کی مثال ہے ڈاکٹر کوٹنس کی امر کہانی

خواجہ احمد عباس کی سنیمائی زندگی اور ان کےتخلیقی استعداد کے بارے میں بہت سی باتیں کہی اورلکھی جا چکی ہیں، لیکن آج ہندستان اور چین کے بیچ جاری کشیدگی میں ان کےناول ڈاکٹر کوٹنس کی امر کہانی کی اہمیت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

(فوٹو بہ شکریہ: jhalawar.rajasthan.gov.in)

راجستھان: چوری کے الزام میں لڑکے کو برہنہ کر کے پیٹا، بال کاٹے، ملزمین گرفتار

معاملہ12 جون کو جھالاواڑ کے بال گڑھ میں ہوا،جہاں تین نوجوان نے بکری چوری کرنے کا الزام لگاتے ہوئے لڑکے سے ایک لاکھ روپے مانگے۔ اس کے انکار کرنے پر اس کوبرہنہ کرکے بری طرح سے پیٹا گیا اور بال کاٹ کرکے منھ کالا کر دیا گیا۔

AKI 5 June.00_16_12_22.Still003

پہلے میں نریندر مودی کی قائل تھی…

ویڈیو: ہندوستانی فضائیہ میں ونگ کمانڈر رہیں انوما آچاریہ کو بی جے پی نے اتنامتاثر کیا کہ انہوں نے وزیر اعظم سے ملاقات کی اور پارٹی کے لیے کام کرنے کا فیصلہ کر لیا، لیکن کچھ عرصے میں ہی وہ پارٹی سے مایوس ہو گئیں۔ انوما آچاریہ کی مودی پرستار سے مودی نقاد بننے کی کہانی۔

(فوٹو بہ شکریہ: آصف خان/رائٹرس)

’مجھے ان ٹوئٹس کی وجہ سے نوکری سے نکالا گیا، جو میں نے کیے ہی نہیں تھے‘

گزشتہ دنوں گو ایئر کے ذریعے ان کے ایک پائلٹ کو یہ کہتے ہوئے نوکری سے نکال دیا گیا کہ انہوں نے ٹوئٹر پر ہندو بھگوانوں کو لےکرقابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔ نوکری سے نکالے گئے اسٹاف کا کہنا ہے کہ وہ ٹوئٹر اکاؤنٹ ان کا نہیں ہے اور کمپنی نے بنا ان کی بات سنے یہ فیصلہ لیا ہے۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/د ی وائر)

نریندر مودی کے بارے میں میری رائے کیوں بدل گئی…

میں نریندر مودی سے متاثر تھی، گجرات میں رہتے ہوئے میں نے اچھی سڑکیں، چھوٹی صنعتیں دیکھی تھیں، ان کی تعریف بھی سنی تھی۔ سیاست میں جانے کا سوچنے کے بعد میں نے بی جے پی سے رابطہ بھی کیا اور پارٹی کے لیے کام بھی کیا۔ لیکن گزشتہ کچھ سالوں میں رونما ہوئے واقعات نے وزیر اعظم مودی کے بارے میں میری رائے بدل کر رکھ دی۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی: کورنٹائن سینٹر میں تبلیغی جماعت کے دو ممبروں کی موت، اقلیتی کمیشن  نے جانچ کی مانگ کی

دہلی اقلیتی کمیشن کے صدر ظفرالاسلام خان نے ایل جی انل بیجل اوروزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کوخط لکھ کر کہا کہ کورنٹائن سینٹر میں وقت پرکھانے کی عدم فراہمی کی وجہ سے دو لوگوں کی موت ہوئی ہے۔

video

دہلی: لاک ڈاؤن میں پھنسے مہاجر مزدوروں کو کھانے کے لیے گھنٹوں کرنا پڑ رہا ہے انتظار

ویڈیو: کو رونا وائرس کی وجہ سےنافذ لاک ڈاؤن کے بیچ دہلی کے بھلسوا ڈیری علاقے میں پھنسے مہاجر مزدوروں کو کھانے کے لیے بنی لمبی قطاروں میں گھنٹوں اپنی باری کا انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

TWBR 17 April.01_50_19_23.Still006

مبینہ طور پر چھ ہاسپٹل  نے دہلی کے نظام الدین کی حاملہ خاتون کو بھرتی کر نے سے کیا انکار

ویڈیو: دہلی کے نظام الدین علاقے میں رہنے والی ایک حاملہ خاتون کوصفدرجنگ ہاسپٹل نے مبینہ طور یہ کہتے ہوئے بھرتی کرنے سے منع کر دیا کہ وہ ریڈ زون علاقے سے آ رہی ہیں۔ خاتون کاالزام ہے کہ اسی طرح پانچ دوسرے ہاسپٹل نے بھی انہیں بھرتی کرنے سے منع کر دیا تھا۔

TWBR 17 April.01_41_34_17.Still005

کیا وقت پر کھانا اور دوائی نہ ملنے سے کورنٹائن سینٹر میں ہوئی شخص کی موت؟

ویڈیو: دہلی کے سلطان پوری کورنٹائن سینٹر میں پچھلے ہفتے 59 سالہ محمد مصطفیٰ کی موت ہو گئی۔ وہ پچھلے مہینے تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شامل ہوئے تھے۔الزام ہے کہ وہ ذیابطیس کے مریض تھے اور وقت پر علاج اور کھانا نہ ملنے سے ان کی موت ہوئی ہے۔

AKI 20 April.00_25_49_05.Still005

ہندوستان میں پنپتے اسلاموفوبیا پر خلیجی ممالک میں اٹھے سوال

ویڈیو: ہندوستان میں کوروناوائرس انفیکشن کو فرقہ وارانہ رنگ دیے جانے کے بعد خلیجی ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانیوں کے ذریعے سوشل میڈیا پر اسی طرح کے پوسٹ لکھنے پر ان ممالک کے صحافیوں ، وکیلوں اور شاہی خاندان کے لوگوں نے مخالفت درج کی ہے۔ اس بارے میں عارفہ خانم شیروانی سے گلف نیوز کےمدیر بابی نقوی کی بات چیت۔

مارچ کے آخری ہفتے میں لاک ڈاؤن کے بعد دہلی سے اپنے گاؤں لوٹ رہے مزدوروں کے لیے یوپی سرکار نے بسوں کا  انتظام  کیا تھا، لیکن کئی لوگوں  کو ا ن میں جگہ نہیں مل سکی۔ آنند وہار بس اڈے پر ایسی  ہی ایک فیملی۔ (فوٹو: رائٹرس)

لاک ڈاؤن: اگر سچ میں کچھ جاننا یا پڑھنا ہے تو یہ کتاب بند کر دینے کا وقت ہے

اس لاک ڈاؤن کو اتنے بھر کے لیے درج نہیں کیا جا سکتا کہ لوگوں نے کچن میں کیا نیا بنانا سیکھا، کون سی نئی فلم ویب سیریز دیکھی یا کتنی کتابیں پڑھ گئے۔ یہ دور ہندوستانی سماج کے کئی چھلکے اتار کر دکھا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ کی نظر کہاں ہے؟

(فوٹو: پی ٹی آئی)

کورونا وائرس: جان جانے کے بعد بھی ختم نہیں ہو رہی متاثرین کی جدوجہد

ملک میں کو رونا وائرس متاثرین کے آخری رسومات کی ادائیگی کو لےکر سرکار نے صاف صاف ایڈوائزری جاری کی ہے، اس کے باوجود کئی ایسے معاملے سامنے آ رہے ہیں جہاں انفیکشن کے ڈر سے لاش کو دفن کرنے یا جلانے کی مخالفت کی گئی یا پھر مرنے والوں کے اہل خانہ کے انکار کے بعد انتظامیہ نے یہ ذمہ داری اٹھائی۔

حملے میں زخمی کرشنا مسہر۔

بہار: بھوج پور میں مہادلتوں کے گھروں پر حملہ، چھ لوگوں کو گولی ماری

واقعہ بھوج پور ضلع کے تراری تھانہ حلقہ کے سارا گاؤں کاہے۔ پولیس کے مطابق گاؤں کے بااثر کمیونٹی کے کچھ لوگ خواتین سے چھیڑ چھاڑ کے ارادے سے مسہر ٹولی میں گھسے تھے۔ مخالفت ہونے پر انہوں نے فائرنگ کی، جس میں ایک سال کی بچی سمیت چھ لوگ زخمی ہو گئے ہیں۔

لاک ڈاؤن کے دوران کولکاتہ میں دوا خریدنے کے لیے لائن میں لگے لوگ/فوٹو: رائٹرس

60 سے زیادہ عمر کے سینٹرل گورنمنٹ ہیلتھ اسکیم کے مستفید کے گھر پر دوائیں پہنچانے کا حکم

کو رونا وائرس کے مدنظر ملک میں نافذ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ضروری دواؤں کی بھی گھر پر بھی فراہمی کی اجازت دی گئی ہے۔ سرکاری حکم کےمطابق، ایسی دوائیں جنہیں لوگوں کے گھروں تک پہنچایا جائے گا، انہیں کسی اہل ڈاکٹر کے پرچے کے بنا نہیں خریدا جا سکےگا۔

high-court-delhi_pti-1

فساد متاثرہ علاقوں میں پیڑ لگائے ایم سی ڈی، سماج کو اس سے نکلنے میں مدد ملے‌ گی: دہلی ہائی کورٹ

دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس نجمی وزیری نے مشرقی دہلی میونسپل کارپوریشن کو پانچ سو درخت لگانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے فسادات سے زخمی سماج کو باہر نکلنے میں مدد ملے‌گی۔

جسٹس دیپک گپتا(فوٹو : وکی پیڈیا)

عدم اتفاق کا حق جمہوریت کے لیے ضروری ہے: جسٹس دیپک گپتا

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام منعقد ‘ جمہوریت اور عدم اتفاق ‘کے موضوع پر ایک لیکچر دیتے ہوئے جسٹس دیپک گپتا نے کہا کہ اگر یہ بھی مان لیا جائےکہ اقتدار میں رہنے والے 50 فیصد سے زیادہ رائےدہندگان کی نمائندگی کرتے ہیں تب کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ باقی کی 49 فیصد آبادی کا ملک چلانے میں کوئی رول نہیں ہے؟

 نصیرالدین شاہ(فوٹو : دی وائر)

کون ہے ’ٹکڑے ٹکڑے گینگ؟‘ اگر کوئی ہے، تو حکمراں پارٹی ہے: نصیر الدین شاہ

خصوصی انٹرویو: گزشتہ دنوں دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ بھاٹیا کے ساتھ بات چیت میں معروف فلم اداکار نصیرالدین شاہ نے سی اے اے-این آر سی-این پی آر کے خلاف جاری احتجاج اورمظاہرہ، فرقہ پرستی کے عروج اور دیگراہم مسائل پرانڈسٹری کے نامور ہستیوں کی خاموشی اوردوسرے کئی اہم موضوعات پر اظہار خیال کیا۔

Modi-Shah-Gandhi

رویش کا خصوصی مضمون : کیا شہریت قانون کو لے کر گاندھی کے نام پر مودی اور امت شاہ جھوٹ بول رہے ہیں؟

گزشتہ دنوں ایک ریلی میں وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ مہاتماگاندھی نے 1947 میں کہا تھا کہ پاکستان میں رہنے والا ہندو، سکھ ہر نظریے سےہندوستان آ سکتا ہے۔ اس سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی بتایا تھا کہ گاندھی جی نے کہا تھا کہ پاکستان میں رہنے والے ہندو اور سکھ ساتھیوں کو جب لگے کہ ان کوہندوستان آنا چاہیے تو ان کا استقبال ہے۔ کیا واقعی مہاتما گاندھی نے ایسا کہاتھا جیسا وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کہہ رہے ہیں؟

بند کے دوران سرینگر کا لال چوک (فوٹو : رائٹرس)

17 غیر ملکی سیاسی رہنما کو آج جموں و کشمیر کا دورہ کرائے‌ گی حکومت، یورپی یونین شامل نہیں

اپنی مرضی سے خود کے چنے ہوئے لوگوں سے ملنے کی خواہش رکھنے کی وجہ سے یورپی یونین کے سیاسی رہنما نے جموں و کشمیر کا یہ دورہ ٹال دیا۔ وہ ریاست کے تین سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سے بھی ملاقات کرنا چاہتے ہیں، جو 5 اگست کو ریاست کا خصوصی درجہ ختم ہونے کے بعد سے ہی حراست میں ہیں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

مسلمانوں کے پاس رہنے کے لیے 150ممالک، ہندوؤں کے پاس صرف بھارت وجئے روپانی

گجرات کے وزیر اعلیٰ وجئے روپانی نے سابرمتی آشرم میں شہریت قانون کی حمایت میں ایک ریلی کوخطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب آزادی ملی تب بھارت میں مسلمانوں کی آبادی کل آبادی کی محض 9 فیصدی تھی، جو 70 سال میں بڑھ کر 14 فیصدی ہو گئی ہے۔

2511 Faiyaz Interview.00_39_12_22.Still004

’کرشن چندر آج لکھ رہے ہو تے تو تہاڑ جیل میں ہو تے‘

ویڈیو: گزشتہ دنوں آئی سی ایس ای نے معروف فکشن نویس کرشن چندر کی کہانی’جامن کا پیڑ‘کو دسویں جماعت کے نصاب سے ہٹا دیا تھا۔ ان کی فکشن نویسی اور ان کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں ان کے بھتیجے پون چوپڑہ سے فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت۔

فوٹو: رائٹرس

پریس کی آزادی کے اصلی دشمن باہر نہیں، بلکہ اندر ہی ہیں

مودی کے انتخاب جیتنے کے بعد یا پھر اس سے کچھ پہلے ہی میڈیا نے اپنا غیر جانبدارانہ رویہ طاق پر رکھنا شروع کر دیا تھا۔ ایسا تب ہے جب حکومت اور وزیر اعظم نے میڈیا کو پوری طرح سے نظرانداز کیا ہے۔ میڈیا اہلکاروں کی جتنی زیادہ توہین کی گئی ہے، وہ اتنا ہی زیادہ اپنی وفاداری دکھانے کے لئے بےتاب نظر آ رہے ہیں۔

bokaro

جھارکھنڈ: چوری کے الزام میں بھیڑ نے دو نوجوانوں کو پیٹا، ایک کی موت

معاملہ بوکاروتھرمل تھانہ حلقہ کے گووندپور کالونی کا ہے،جہاں بیٹری چرانے کے الزام میں بھیڑ نے دو لوگوں کو باندھ کر پیٹا۔پولیس نے معاملے میں 5 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ نئی دہلی: جھارکھنڈ کے بوکارو تھرمل تھانے کی گووند پور کالونی میں بیٹری چوری کے الزام میں […]

سرینگر کی ڈل جھیل میں شکارے میں یورپی یونین کے رکن پارلیامان کا وفد(فوٹو: پی ٹی آئی)

یورپی رکن پارلیامان کے کشمیر دورے کو فنڈ کر نے والے گروپ پر کیوں اٹھ رہے ہیں سوال؟

کشمیر میں یورپی رکن پارلیامان کے دورے کو مبینہ طور پر فنڈ دینےوالا انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار نان-الائنڈ اسٹڈیز، شریواستو گروپ کا حصہ ہے۔ اس کی ویب سائٹ پر اس کے کئی کاروبار ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ حالانکہ دستاویز ایساکوئی بزنس نہیں دکھاتے، جس سے وہ یورپی رکن پارلیامان کو ہندوستان بلانے اور وزیراعظم سے ملاقات کروانے میں اہل ہوں۔

 کشمیر دورے پر آئے یورپی یونین کے وفد کے ممبر اور جرمن رکن پارلیامان نکولس فیسٹ(فوٹو : رائٹرس)

کشمیر گئے یورپی رکن پارلیامان نے کہا، ہندوستان کو اپوزیشن کو بھی کشمیر جا نے دینا چا ہیے

مرکزی حکومت کے ذریعے آرٹیکل 370 کے زیادہ تراہتماموں کو ختم کرنے کے بعد جموں و کشمیر کی صورتحال جاننے کے لئے سرینگر پہنچےیورپی وفدمیں شامل جرمنی کے رکن پارلیامان نکولس فیسٹ نے یہ بات کہی ہے۔

سرینگر میں ڈل جھیل کے کنارے یورپی وفد(فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ: کشمیر اندرونی مسئلہ ہے تو غیرملکی رکن پارلیامان کو پچھلے دروازے سے کیوں بلایا گیا؟

ہندوستان کو ایک انٹرنیشنل بزنس بروکر کے ذریعے غیر ملکی رکن پارلیامان کے کشمیر آنے کی تمہید تیار کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟ جو رکن پارلیامان بلائے گئےہیں وہ شدید طور پر رائٹ ونگ جماعتوں کے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایسی پارٹی سے نہیں ہے جن کی حکومت ہو یا نمایاں آواز رکھتے ہوں۔ تو ہندوستان نے کشمیر پر ایک کمزور وفد کوکیوں چنا؟ کیا اہم جماعتوں سے من مطابق ساتھ نہیں ملا؟

برٹن کے رکن پارلیامان کرس ڈیوس (فوٹو بہ شکریہ : ٹوئٹر)

کشمیر میں مودی حکومت کے پروپیگنڈہ کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا: برٹش ایم پی

برٹن کی لبرل ڈیموکریٹس پارٹی کے رکن پارلیامان کرس ڈیوس کا کہنا ہے کہ کشمیر دورہ کے لئے ان کو دی گئی دعوت کو حکومت ہند نے واپس لے لیا کیونکہ انہوں نےسکیورٹی کی غیر موجودگی میں مقامی لوگوں سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

UovYrg9z

میڈیا بول: کشمیر میں حکومت کی پسند کا غیر ملکی وفد اور میڈیا

ویڈیو: جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹنے کے بعد پہلی بار 27 یورپی رکن پارلیامان کا ایک غیر ملکی وفد ریاست کے دورے پر ہے، جبکہ ریاست کا خصوصی درجہ ختم ہونے کے بعد مرکزی حکومت نے اب تک کسی بھی غیر ملکی صحافی، افسر یا رہنما کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی ہے۔ میڈیا بول کے اس ایپی سوڈ میں ارملیش اس مدعے پر سینئر صحافی آشوتوش اور دی ہندو کی پالیٹیکل ایڈیٹر پورنیما جوشی سے با ت کر رہے ہیں۔

Don`t copy text!