society

2

ہندوستان میں قتل عام  کے آثار کو نظر انداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے

ویڈیو: اقلیتوں کے خلاف ہیٹ اسپیچ ،حملوں اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم پر ان کو ہراساں کیے جانے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے مدنظرعارفہ خانم شیروانی مسلمانوں کے حقوق، عدم تحفظ اور دیگر موضوعات پر اظہار خیال کر رہی ہیں۔

یتی نرسنہانند۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

یتی نرسنہانند کے خلاف چلے گا توہین عدالت کا مقدمہ

یتی نرسنہانند نے ایک انٹرویو میں کہا تھا … سپریم کورٹ، اس آئین میں ہمیں کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ یہ آئین اس ملک کے سو کروڑ ہندوؤں کو کھا جائے گا… جو لوگ اس نظام، سیاستدانوں، اس پولیس، فوج اور سپریم کورٹ پر بھروسہ کر رہے ہیں، وہ سب کتے کی موت مرنے والے ہیں۔

وزیر اعظم  نریندر مودی۔ (فوٹو بہ شکریہ: پی آئی بی)

پی ایم کے نام آئی آئی ٹی کے سابق طالبعلموں کا خط: دھرم سنسد، بُلی بائی جیسےمعاملوں  پر وزیر اعظم کی خاموشی تشویشناک

آئی آئی ٹی کے سو سے زیادہ سابق طالبعلموں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے نام ایک خط لکھ کر کہا ہے کہ ہم آزادی کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، لیکن ملک پر بحران کے سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں۔

یتی نرسنہا نند، فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

یتی نرسنہانند ہری دوار معاملے میں بھی گرفتار، 14 دن کی حراست میں بھیجا گیا

ہری دوار میں گزشتہ دسمبر میں ہوئے ‘دھرم سنسد’ میں مسلمانوں کے خلاف ہیٹ اسپیچ اور ان کے قتل عام کی اپیل کی گئی تھی۔ یتی نرسنہانند اس کے منتظمین میں سے تھے۔ اس سے قبل انہیں خواتین کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کرنےکے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اتراکھنڈکےہری دوار میں 17-19 دسمبر کے بیچ ہندوتوا لیڈروں اور شدت پسندوں  کی جانب سے ایک'دھرم سنسد'کا اہتمام کیا گیا۔ (فوٹو کربہ شکریہ: فیس بک)

’دھرم سنسد‘ معاملے میں ایس آئی ٹی کی تشکیل کا مطالبہ کرتے ہوئے تین سابق فوجی افسران سپریم کورٹ پہنچے

فوج کے ریٹائرڈ افسروں نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ سیڈیشن اور تفرقہ انگیز بیانات سے نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے بلکہ ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 19 پر بھی حملہ ہوا ہے۔ یہ بیان ملک کے سیکولر تانے بانے کوداغدار کرتے ہیں اور امن عامہ کو شدید طور پرمتاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یتی نرسنہانند (فوٹو بہ شکریہ، ٹوئٹر)

یتی نرسنہانند خواتین کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کرنے کے معاملے میں گرفتار

شدت پسند ہندوتوا رہنما یتی نرسنہانند کو گزشتہ سال ستمبر میں خواتین کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیاہے۔ نرسنہانند گزشتہ ماہ ہری دوار میں ہوئے ‘دھرم سنسد’ کے منتظمین میں سے ایک ہیں، جس میں مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف ہیٹ اسپیچ اور ان کے قتل عام کی اپیل کی گئی تھی۔

جتیندر نارائن تیاگی۔ (تصویربہ شکریہ: ٹویٹر/ @JitendraTyagi)

ہری دوار دھرم سنسد: ہیٹ اسپیچ معاملے میں پہلی گرفتاری، پولیس سے بولے یتی نرسنہانند-’تم سب مرو گے‘

اتراکھنڈ کے ہری دوار میں ہوئے ‘دھرم سنسد’ میں ہیٹ اسپیچ کے معاملے میں پولیس نے چند مہینےپہلے ہندو مذہب اختیار کرنے والے وسیم رضوی عرف جتیندر نارائن تیاگی کوگرفتار کیا ہے۔ وہیں،یتی نرسنہانند اور سادھوی اناپورنا کو پیش ہونے کے نوٹس بھیجے گئے ہیں۔

کیشو پرساد موریہ۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

یوپی: ڈپٹی سی ایم کیشو پرساد موریہ نے ’دھرم سنسد‘ کا دفاع کیا، درمیان میں ہی انٹرویو چھوڑا

اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرسادموریہ نےانٹرویو کے دوران کہا کہ جب ہم مذہبی رہنماؤں کی بات کرتے ہیں تو مذہبی رہنما صرف ہندو نہیں ہیں، وہ مسلمان بھی ہیں اور عیسائی بھی؟ اور کون کیا باتیں کر رہا ہے، ان باتوں کو جمع کرکےسوال کیجیے۔ میں ہر سوال کا جواب دوں گا۔

سپریم کورٹ / فوٹو: پی ٹی آئی

دھرم سنسد: سپریم کورٹ نے ہیٹ اسپیچ معاملے میں مرکز اور دیگر کو نوٹس جاری کیے

سپریم کورٹ نے گزشتہ دنوں ہری دوار اور دہلی میں ہوئے ‘دھرم سنسد’ میں مبینہ طور مسلمانوں کے خلاف ہیٹ اسپیچ دینے اور ان کےقتل عام کی اپیل کرنے والوں پر کارروائی کرنے کی ہدایت دینےسےمتعلق ایک عرضی کی سماعت کر رہی ہے۔ عدالت نے عرضی گزاروں کو مستقبل میں اسی طرح کے پروگراموں کے بارے میں اپنے تحفظات سے متعلق عرضی مقامی اتھارٹی کودینے کی بھی اجازت دی۔

بُلی بائی  ایپ پلیٹ فارم کا اسکرین شاٹ۔ (بہ شکریہ: ٹوئٹر)

 بُلی بائی جیسے ایپ کو محض جرم سمجھنا اس میں پوشیدہ بدنیتی اور گہری سازش سے منھ موڑنا ہے

مسلم خواتین کو نشانہ بنانے کے پس پردہ ، اس سازش کا مقصد یہ ہے کہ اس قوم کو اس قدر ذلت دی جائے، ان کےعزت نفس کو اتنی ٹھیس پہنچائی جائے کہ تھک ہارکر وہ ایک ایسی’شکست خوردہ قوم’کے طور پر اپنے وجود کو قبول کر لیں، جوصرف اکثریت کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے کو مجبور ہے۔

فوٹو: حلف برداری کے مبینہ وائرل ویڈیو سے  لیا گیااسکرین گریب

چھتیس گڑھ: مسلمانوں کے بائیکاٹ کا حلف لیتے ہوئے گاؤں والوں کا مبینہ ویڈیو سامنے آیا

معاملہ چھتیس گڑھ کےسرگجا ضلع کا ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ویڈیو میں کئی گاؤں والے ایک جگہ پر مسلمانوں کا سماجی اور معاشی بائیکاٹ کرنے کا حلف لیتے ہوئےنظر آ رہے ہیں۔ سرگجا کےپولیس سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ پولیس نے معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے۔ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی شناخت کے بعد مقدمہ درج کیا جائے گا۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر)

کیا ہمارے گھروں میں تشدد اور جرائم پل رہے ہیں؟

سال 2014 کےبعدتشددجیسےاس معاشرے کےپور پورسے پھوٹ کر بہہ رہا ہے۔ یہ کہنا پڑے گا کہ ہندوستان کی ہندو برادری میں تشدد اور دوسری برادریوں کے تئیں نفرت کا احساس بڑھ گیا ہے۔غیر ہندو برادریوں میں ہندو مخالف نفرت کےپروپیگنڈے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔یہ نفرت اور تشددیکطرفہ ہے۔

(السٹریشن: دی وائر)

ملک میں آر ٹی آئی کارکنوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے بیچ احتسابی قانون کی ضرورت

گزشتہ21 دسمبر کو کسان اور آر ٹی آئی کارکن امرارام گودارا کو باڑمیر سے اغوا کیا گیا اور بے رحمی سے پیٹنے کے بعدقریب قریب موت کے گھاٹ اتار کران کے گھر کےپاس پھینک دیا گیا۔ لگاتارآر ٹی آئی اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر بڑھتے ہوئے حملے احتسابی قانون سازی کی ضرورت کو نشان زدکرتےہیں۔

ہندو مذہبی رہنما کالی چرن مہاراج۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@omkaliputra)

مدھیہ پردیش: ’مہاتما گوڈسے زندہ باد‘ کی نعرے بازی کا ویڈیو سامنے آنے کے بعد کالی چرن کے 50 حامیوں پر مقدمہ درج

کالی چرن مہاراج کو چھتیس گڑھ میں ہوئے’دھرم سنسد’میں مہاتما گاندھی کے خلاف مبینہ توہین آمیز تبصروں کے الزام میں 30 دسمبر 2021 کورائے پور پولیس نےگرفتار کیا تھا۔ ان کی ضمانت کی درخواست عدالت نے مسترد کر دی ہے۔ ان کی حمایت میں بی جے پی کے جنرل سکریٹری کیلاش وجئے ورگیہ نے کہا ہے کہ سنتوں کے تئیں’تھوڑا سا لبرل’ رہا جانا چاہیے۔

اتراکھنڈکےہری دوار میں 17-19 دسمبر کے بیچ ہندوتوا لیڈروں اور شدت پسندوں  کی جانب سے ایک'دھرم سنسد'کا اہتمام کیا گیا۔ (فوٹو کربہ شکریہ: فیس بک)

اتراکھنڈ: مسلمانوں کے خلاف ہیٹ اسپیچ  کے معاملے میں دوسری ایف آئی آر درج

اس ایف آئی آر میں دھرم سنسد کے منتظمین یتی نرسنہانند گیری، جتیندر نارائن تیاگی ( وسیم رضوی)، ساگر سندھوراج مہاراج، دھرم داس، پرمانند، سادھوی اناپورنا، آنند سوروپ، اشونی اپادھیائے ، سریش چوہان اور پربودھانند گیری کو نامزد کیا گیا ہے۔ 17-19 دسمبر 2021 کو ہری دوار میں ہوئے دھرم سنسد میں مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف تشدد اور قتل عام کی اپیل کی گئی تھی۔

یتی نرسنہانند اور یوگی آدتیہ ناتھ۔ (فوٹو: ٹوئٹر/پی ٹی آئی)

دھرم سنسد کے منتظمین کے خلاف کوئی بھی کارروائی کی جائے، انتخابی فائدہ صرف بی جے پی کو ملے گا

یتی نرسنہانند نے بتایا ہےکہ نام نہاد دھرم سنسد ہر چھ ماہ پر ہوتے رہے ہیں ۔تو پھر آئندہ ایک مہینے میں تین ‘دھرم سنسدوں’کے انعقاد کے پیچھے کیا راز ہے، وہ بھی دو بار اتر پردیش میں، جہاں اسمبلی انتخابات قریب ہیں؟

نصیر الدین شاہ کرن تھاپر کے ساتھ۔ (فوٹو: دی وائر)

مسلمانوں کے قتل عام کی اپیل سے ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے: نصیر الدین شاہ

دی وائر کےلیے کرن تھاپرکو دیے گئے ایک انٹرویو میں اداکار نصیر الدین شاہ نے حال ہی میں ہری دوار میں ہوئے ‘دھرم سنسد’میں مسلمانوں کےقتل عام کی کال پر کہا کہ اگر مسلمانوں کو کچلنے کی بات آتی ہے تو ہم لڑیں گے۔ ہم یہیں کے ہیں،یہ ملک ہمارابھی ہے۔ ہم یہیں پیدا ہوئے، یہیں رہیں گے۔

فائل فوٹو: پی ٹی آئی

مہاتما گاندھی کے خلاف توہین آمیز تبصرہ: ملزم کالی چرن مہاراج گرفتار

چھتیس گڑھ کی رائے پور پولیس نے بتایا کہ کالی چرن مہاراج کو مدھیہ پردیش کے کھجوراہو شہر کے پاس سے گرفتار کیا گیا ہے۔ رائے پور میں 26 دسمبر کو دو روزہ ‘دھرم سنسد’ پروگرام میں کالی چرن مہاراج نےبابائے قوم کے خلاف مبینہ طور پرتوہین آمیز تبصرے کیے تھے اور ان کے قاتل ناتھورام گوڈسے کی تعریف کی تھی۔

ہندو مذہبی رہنما کالی چرن مہاراج۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@omkaliputra)

گاندھی پر قابل اعتراض تبصرہ: کالی چرن مہاراج نے کہا، اپنے بیان پر کوئی افسوس نہیں

چھتیس گڑھ کی راجدھانی رائے پور میں دو روزہ ‘دھرم سنسد’پروگرام میں مہاتما گاندھی کے بارے میں مبینہ طور پر توہین آمیز تبصرہ کرنے پر ہندو مذہبی رہنما کالی چرن مہاراج کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد انہوں نے کہا ہے کہ وہ گاندھی کو بابائے قوم نہیں مانتے اور اگر سچ بولنے کی سزا موت ہے تو وہ انہیں قبول ہے۔

2712 Sumedha.00_05_29_10.Still007

ہری دوار دھرم سنسد کے خلاف دہلی میں مظاہرہ؛ ہندوتوا لیڈروں کی گرفتاری کا مطالبہ

ویڈیو: اتراکھنڈ کےہری دوارمیں 17-19 دسمبر کے درمیان ہندوتوا لیڈروں اور شدت پسندوں کی طرف سے ایک’دھرم سنسد’کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں مبینہ طور پرمسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف کھلے عام نفرت انگیز بیان بازی کی گئی، یہاں تک کہ ان کے قتل عام کی بھی اپیل کی گئی۔

مہاتما گاندھی۔ (فوٹوبہ شکریہ: وکی میڈیا کامنس)

چھتیس گڑھ: ہندو مذہبی رہنما کے بعد سرکاری افسر نے گاندھی کے خلاف مبینہ طور پر قابل اعتراض تبصرہ کیا

چھتیس گڑھ حکومت نے رائے پور ضلع کے اسسٹنٹ فوڈ آفیسر سنجے دوبے کو معطل کر دیاہے۔اس سے قبل رائے پور میں دو روزہ ‘دھرم سنسد’پروگرام کے دوران ہندو مذہبی رہنما کالی چرن مہاراج نے مبینہ طور پر مہاتما گاندھی کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کیا تھا۔رائے پور میں مقدمہ درج ہونے کے بعد مہاراشٹر پولیس نےبھی کالی چرن کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔

ہری دوار دھرم سنسد۔ (بہ شکریہ: یوٹیوب/اسکرین گریب)

ہری دوار دھرم سنسد: نفرت کے پھیلتے کاروبار کے سامنے پولیس بے بس کیوں ہے؟

ہری دوار میں ہوئے نام نہاد دھرم سنسد میں کہی گئی زیادہ تر باتیں ہندوستانی قانون کے تحت سنگین جرم کے زمرے میں آتی ہیں، لیکن اب تک اس کولے کر کی گئی اتراکھنڈ پولیس کی کارروائی یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ قانون یا آئین کے لیے نہیں، بلکہ مقتدرہ جماعت کے لیے کام کر رہی ہے۔

سوامی پربودھانند گیری، سادھوی اناپورنا عرف پوجا شکن پانڈے اور سوامی آنندسوروپ۔

وکیلوں نے سی جے آئی کو لکھا –مسلمانوں کے قتل عام کی اپیل کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو

سپریم کورٹ کے 76 وکیلوں نے چیف جسٹس این وی رمنا کو خط لکھ کر دہلی اور ہری دوار میں ہوئے حالیہ پروگراموں میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیان بازی کے خلاف سخت کارروائی کےلیے ہدایت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

تیجسوی سوریہ:(فوٹوبہ شکریہ: یوٹیوب اسکرین گریب)

کرناٹک: تیجسوی سوریہ نے کہا-ہندو مذہب چھوڑ کر گئے لوگوں کو واپس لانے کا سالانہ ہدف بنائیں

بی جے پی رکن پارلیامنٹ تیجسوی سوریہ نے اُڈپی میں ایک پروگرام کے دوران کہا کہ ہندو مذہب چھوڑ کر گئے لوگوں کی واپس اسی مذہب میں’ٹیپو جینتی’پر ہونی چاہیے اور یہ’گھر واپسی’ہندوؤں کی ذمہ داری ہے۔سوریہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے مسلمانوں کو ہندو مذہب اختیار کرنا چاہیے۔ پاکستان متحدہ ہندوستان کےنظریےمیں شامل ہے۔

ناتھورام گوڈسے۔ (فوٹو بہ شکریہ: وکی میڈیا کامنس)

چھتیس گڑھ: دھرم سنسد میں مہاتما گاندھی پر قابل اعتراض تبصرہ کرتے ہوئے گوڈسے کی تعریف کی گئی، مقدمہ درج

رائے پور میں25-26دسمبر کو ہوئےدو روزہ ‘دھرم سنسد’میں20 ہندو مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔ اس دوران ‘سناتنی ہندوؤں سے ہتھیار اٹھانے’کی اپیل کی گئی اور ‘ہندو راشٹرکے قیام کے لیے تیار رہنے’ کو بھی کہا گیا۔

'

ہری دوار میں قتل عام کی اپیل، مسلمانوں کے تحفظ پر سوال

ویڈیو: ہری دوار میں گزشتہ17 سے 19 دسمبر تک ہوئے’دھرم سنسد’میں مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز اور اشتعال انگیز بیان بازی کی گئی۔ اس موضوع پر دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کانظریہ۔

یتی نرسنہانند (فوٹو بہ شکریہ، ٹوئٹر)

یتی نرسنہانند نے ’ہندو پربھاکرن‘ بننے کے لیے ایک کروڑ روپے کی پیشکش کی

گزشتہ 17-19دسمبر کے بیچ ہری دوار میں ہوئے متنازعہ’دھرم سنسد’کے اہم منتظمین میں سے ایک ہندوتوا رہنما نرسنہانندتھے۔یہاں دیے گئے ‘ہندو پربھاکرن’والے بیان پر انہوں نے کہا کہ جب تک ہر ہندو مندر میں ایک پربھاکرن ، ایک بھنڈراوالا اور ایک شابیگ سنگھ نہیں ہوگا، تب تک ہندو مذہب نہیں بچے گا۔

اتراکھنڈ پولیس۔ (علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی)

ہری دوارکے ہیٹ اسپیچ معاملے میں پولیس نے تیاگی عرف وسیم رضوی  اور دیگر کےخلاف مقدمہ درج کیا

ہری دوار میں ہوئے دھرم سنسد میں نفرت بھری بیان بازی کے الزام میں اتراکھنڈ پولیس نے جتیندر نارائن تیاگی عرف وسیم رضوی اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔رضوی اتر پردیش سینٹرل شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین تھے۔حالاں کہ مسلمانوں کےقتل عام کی اپیل کرنے والے نرسمہانند گیری، سوامی پربودھانند گیری، سادھوی اناپورنا عرف پوجا شکن پانڈے اور سوامی آنندسوروپ کے خلاف ابھی تک معاملہ درج نہیں ہوا ہے۔

سوامی پربودھانند گیری، سادھوی اناپورنا عرف پوجا شکن پانڈے اور سوامی آننداسوروپ۔

اتراکھنڈ: ’دھرم سنسد‘ میں مسلمانوں کے قتل عام کی اپیل

گزشتہ دنوں ہری دوار میں منعقدایک’دھرم سنسد’ میں شدت پسند ہندوتوا لیڈروں نے مسلمانوں کے لیےانتہائی نازیبالفظوں کااستعمال کرتے ہوئےان کا’صفایا’کرنےکی بات کہی تھی۔ابھی تک پولیس نے اس سلسلے میں نہ تو مقدمہ درج کیا ہے اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔

 (علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی)

بہار: پنچایت انتخاب میں ووٹ نہ دینے کا الزام  لگا کر دلتوں کو ہراساں کرنے والا شخص گرفتار

یہ بہار کے اورنگ آباد ضلع کے انبہ تھانہ حلقے کا معاملہ ہے۔ ملزم بلونت سنگھ نے ڈمری پنچایت کے مکھیا کےعہدے کےلیے الیکشن لڑا تھا لیکن اس شکست ملی تھی۔سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ایک ویڈیو میں ملزم مبینہ طور پر کچھ لوگوں کو زمین پر تھوکنے اور اس کوچاٹنےپر مجبور کرتے ہوئے، جوتوں سے پیٹتے ہوئے اور ان کی ذات کونشانہ بناکر گالیاں دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

ٹائمز گروپ ایونٹ میں کنگنا رناوت۔(فوٹو کریڈٹ:اسکرین گریب/ٹائمز ناؤ)

کنگنا کی زبان درازی کے پس پردہ کون ہے؟

کہتے ہیں کہ آر ایس ایس کےہزار ہزاربازو اور ہزار ہزار منہ ہیں۔ان ‘ہزار ہزار منہ’میں بی جے پی ایم پی ورون گاندھی کو چھوڑ دیں تو کنگنا کے معاملے پر خاموشی اختیار کرنےکو لےکرزبردست اتفاق رائے ہے۔ پھر اس نتیجہ تک کیوں نہیں پہنچا جا سکتا کہ کنگنا کا منہ بھی ان ہزاروں منہ میں ہی شامل ہے؟

1311 HKB.00_11_54_12.Still002

راہل گاندھی: ہندو دھرم بنام ہندوتوا

ویڈیو: کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بیان دیا ہے کہ جب آپ کے پاس ہندو دھرم ہے تو ہندوتوا کی کیا ضرورت ہے۔اس بیان نے ہندوتوا بنام ہندو دھرم کے پرانے مدعے کو ایک بار پھر بحث میں واپس لا دیا ہے۔ دی وائر کی سینئر ایڈیٹرعارفہ خانم شیروانی نے اس ویڈیو میں اس موضوع پرتفصیل سے بات کی ہے۔

12 November 2021.00_18_27_23.Still001

کنگنا رناوت: ہندوتوا کی پوسٹر گرل

ویڈیو: گزشتہ دنوں اداکارہ کنگنا رناوت نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ہندوستان کو ‘1947 میں آزادی نہیں، بلکہ بھیک ملی تھی’ اور ‘آزادی 2014 میں ملی ہے’، جب نریندر مودی حکومت اقتدار میں آئی۔ پہلے بھی متنازعہ بیان دیتی رہیں کنگنا کے اس بیان سے ایک بار پھر نیاتنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔

بچے کے ساتھ کھڑا یتی نرسنہانند سرسوتی۔ (فوٹو: اسکرین گریب)

غازی آباد: ڈاسنہ مندر میں ’غلطی‘ سے جانے والے دس سالہ مسلم بچے سے پولیس کی پوچھ تاچھ

ڈاسنہ مندر کے پجاری اوررائٹ ونگ کےشدت پسند رہنمایتی نرسنہانند سرسوتی نےالزام لگایا کہ بچے کو ان پر نظر رکھنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ بچہ اس علاقے سے واقف نہیں تھا اور انجانے میں مندر میں چلا گیا تھا۔ اس کے بیان کی سچائی جاننے کے بعد اسے چھوڑ دیا گیا۔

علامتی فوٹو:پی ٹی آئی

ہندوتوا کو سلامتی کے لیے خطرہ نہ مان کر ہم کس کو بچا رہے ہیں؟

ہندوتواکو ایک قومی خطرہ نہیں بلکہ مقامی یا انتخابی سیاست کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔سادہ لفظوں میں ہمارے یہاں خطرے  کا مطلب؛ ایٹم بم،دشمن کے جنگی طیارےاور لمبی لمبی داڑھیوں والے آدمی تھے۔ دوسروں کو پیٹ کر جبراً جئےشری رام  بلوانے والے لوگ محض شر پسند نظر آتے […]

کملا بھسین۔ (السٹریشن:پری پلب چکرورتی/دی وائر)

کملا بھسین: سرحد پر بنی دیوار نہیں، اس دیوار پر پڑی دراڑ …

حقوق نسواں کی علمبردارکملابھسین اپنی سادگی اور صاف گوئی سےکسی بھی مسئلہ کےاندرون تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی تھیں۔انہوں نے ماہرین تعلیم اورحقوق نسواں کے علمبرداروں کےدرمیان جس سطح کی عزت حاصل کی، وہ سماجی کارکنوں کے لیےعام نہیں ہے۔ان کے لیے وہ ایک آئی-کان تھیں،تانیثی ڈسکورس کو ایک نئے نظریے سے برتنے کی ایک کسوٹی تھیں۔

حملے کے بعد درگاہ (بہ شکریہ : ٹوئٹر ویڈیوگریب/@KashifKakvi)

مدھیہ پردیش: تبدیلی مذہب کے شک میں نامعلوم ہجوم نے درگاہ پر دھماکہ خیز مواد سے حملہ کیا

معاملہ نیمچ ضلع کےجاود تحصیل کا ہے۔پولیس نے بتایا کہ دو درجن نقاب پوشوں نےمبینہ طور پر ایک درگاہ پر دھماکہ خیز مواد سے حملہ کر کےاس کو نقصان پہنچایا ہے، ساتھ ہی اس کے خادم اور زائرین کی لاٹھی ڈنڈوں سے پٹائی کی۔ حملہ سنیچر کی شب تقریباً11 بجے سے اتوار کی صبح تین بجے تک چلا۔

Don`t copy text!