society

کملا بھسین۔ (فوٹو بہ شکریہ: Tanveer Shehzad, White Star/Herald)

حقوق نسواں کی علمبردار اور معروف سماجی کارکن کملا بھسین نہیں رہیں

ہندوستان اورجنوب ایشیائی خطے میں تحریک نسواں کی علمبردار رہیں 75 سالہ کملا کا سنیچر کوانتقال ہو گیا۔ وہ صنفی مساوات ،تعلیم ، غریبی کے خاتمے،انسانی حقوق اور جنوبی ایشیا میں امن کے مسئلوں پر 1970 سے مسلسل سرگرم تھیں۔

IMG-20210828-WA0003

راجستھان میں مسلمان بھکاری کو پیٹنے کے ملزم نے قبول کیا گناہ

ویڈیو: راجستھان کے اجمیرشہر میں کانپور کے رہنے والے عثمان علی کو ان کے نام اور مذہب کی وجہ سے ہی پیٹا گیا تھا۔ رائٹ ونگ کارکن للت شرما نے ان کی فیملی کے ساتھ بھی مارپیٹ کی تھی۔ اس کے باوجود پولیس نے نامعلوم لوگوں کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ دی وائر سے بات چیت میں للت شرما کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی بھی چیز سے نہیں ڈرتے۔ چونکہ انہیں بجرنگ دل کے رہنماؤں اور مقامی پولیس کی بھی حمایت حاصل ہے۔

ہندوتوادی نوجوان کو وارننگ دیتے ایس ایچ او سی پی بھاردواج۔

دہلی: مولوی کو پریشان کرنے سے رائٹ ونگ گروپ کو روکنے والے تھانہ انچارج سسپنڈ

یہ معاملہ دہلی کے آدرش نگر میں ایک فلائی اوور پر بنے مزار سے جڑا ہوا ہے۔ گزشتہ دنوں ہندوتووادی تنظیم سے جڑے کچھ نوجوان وہاں پہنچتے ہیں اور مولوی سےسوال جواب کرتے ہوئے بحث کرنے لگتے ہیں۔تب بیچ بچاؤ کےلیےایس ایچ او آ جاتے ہیں۔اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔دہلی پولیس کا دعویٰ ہے کہ ڈیوٹی میں لاپرواہی برتنے کے مدنظر انہیں سسپنڈ کیا گیا ہے، لیکن کارروائی کو اس واقعہ سے جوڑکر دیکھا جا رہا ہے۔

(علامتی  تصویر، فوٹو: رائٹرس)

کشمیر: سکھ خطرے میں ہے کا الارم بجاکر فرقہ وارانہ کھیل کیوں کھیلا گیا…

اکالی دل پچھلی کئی دہائیوں سے بی جےپی کا ایک دم چھلہ بن گئی تھی۔ جب اس کے گڑھ پنجاب میں مرکزی حکومت کےکسانوں کے تئیں رویہ کی وجہ سے اس کی سبکی ہو رہی تھی تو وہ اپنی ساکھ بچانے کے لیے بی جے پی اور حکومت سے الگ تو ہوگئی مگر سکھوں کی اکثریت کی حمایت سے ابھی بھی وہ محروم ہے۔ اس لیے کشمیر میں سکھ خطرے میں ہے کاالارام بجا کر وہ اپنا سیاسی الو سیدھا کرنا چاہتی تھی، جس کو مقامی آبادی نے ناکام بنادیا۔

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

مہا راشٹر: بین مذہبی شادی کا کارڈ لیک ہونے کے بعد اس کو ’لو جہاد‘ کا معاملہ بتاتے ہوئے مخالفت کی گئی

معاملہ ناسک کا ہے، جہاں ایک ہندو خاتون کی مسلمان مرد سے شادی کا کارڈ وہاٹس ایپ پر لیک ہونے کے بعد کچھ لوگوں نے اسے ‘لو جہاد’ بتاتے ہوئے اس کی مخالفت کی۔ گھر والوں کی رضامندی سے شادی کی تقریب 18 جولائی کو ہونی تھی، لیکن اب اسے رد کر دیا گیا ہے۔

WhatsApp-Image-2021-07-10-at-2.03.09-PM-1200x600

کیا ہندوستان میں مذہبی رواداری اور نفرت ساتھ ساتھ ہیں؟

ویڈیو: حال ہی میں پیو ریسرچ سینٹر نے 2019 کے اواخر اور 2020 کی شروعات کے بیچ17زبانوں میں لگ بھگ 30000بالغان کےانٹرویوز پر مبنی ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ ‘ہندوستان میں مذہبی رواداری اور علیحدگی’کے عنوان سےاس مطالعے نےہندوستانی سماج میں مذہب کی حرکیات میں جامع بصیرت فراہم کی ہے۔ اس موضوع پر پروفیسر اپوروانند نے ماہر تعلیم پرتاپ بھانو مہتہ کے ساتھ بات چیت کی۔

1706 YAQUT AAP OXYGEN.00_25_19_19.Still029

پھل بیچنے والوں کو ہندو اور مسلمان میں بانٹنے سے کس کا فائدہ؟

ویڈیو: دہلی کےاتم نگر علاقے میں لگ بھگ 500 ریہڑی پٹری کی دکانیں روز لگتی ہیں۔ ان میں سے اکثر مسلمان دکاندار ہیں۔ گزشتہ 18 جون کو ایک پھل بیچنے والے اور ایک دکاندار کے بیچ ہوئی کہا سنی کے بعد بجرنگ دل نے کچھ پوسٹر لگائے تھے جس میں لکھا تھا ‘سبھی ہندوؤں سے گزارش ہے کہ کسی بھی غیرسماجی فروٹ ریہڑی والے سے خریداری نہ کریں’۔ اس کے بعد پھل بیچنے والوں کو اپنی روزی کمانے کے لیے مشقت کرنی پڑ رہی ہے۔

(فوٹو: رائٹرس)

کیا ہندوستان میں مذہب کے سلسلے میں قول و فعل میں تضاد ہے

امریکہ کے پیو ریسرچ سینٹرنے ہندوستان میں مذہبی ہونے کو لےکرسروے رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ دکھاتی ہے کہ ہم ہندوستانی دور سے سلام کےاصول پر عمل پیرا ہیں۔ آپ ہم سے زیادہ دوستی کی امید نہ کریں، ہم آپ کو تنگ نہیں کریں گے جب تک آپ اپنے دائرے میں بنے رہیں۔

WhatsApp Image 2021-06-29 at 20.51.15

کشمیر پہنچا لو جہاد کا جھوٹ، کیا چاہتی ہیں سکھ دلہنیں؟

ویڈیو: کشمیر میں دو سکھ لڑکیوں کے مذہب تبدیل کرنےاور نکاح کا معاملہ طول پکڑ چکا ہے۔ سکھ کمیونٹی کے لوگ کشمیر سے لےکر نئی دہلی تک مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ کشمیر میں آئے دن اغوا، دباؤ بناکر تو کبھی بہلا پھسلاکر لڑکیوں کا مذہب تبدیل کروایا جا رہا ہے۔ اس موضوع پر عارفہ خانم شیروانی نے جموں وکشمیر کے صحافیوں گوہر گیلانی، شاکر میر اور سماجی کارکن کنول جیت کور سے چرچہ کی۔

(السٹریشن:پری پلب چکرورتی/د ی وائر)

اس ملک میں مسلمانوں کو کھلے عام گالی دی جا سکتی ہے، ان کا خون کرنے کی بات کی جاسکتی ہے …

یہ ہندوستان کی معاشرتی فطرت بنتی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کو کھلے عام مارا جا سکتا ہے، ان کے خلاف پرتشدد پروپیگنڈہ کیا جا سکتا ہے اور پولیس انتظامیہ سے لےکر سیاسی پارٹیوں تک کوئی بھی اسے سنگین معاملہ ماننے کو تیار نہیں۔

(علامتی تصویر، فوٹو:اسپیشل ارینجمنٹ)

مسلمانوں کو  ہراساں کرنے کی وجہ اب پولرائزیشن نہیں

ملک کے رہنماگزشتہ کوئی بیس سالوں کی انتھک کوششوں سے سماج کا اتنا پولرائزیشن پہلے ہی کر چکے ہیں کہ آنے والے کئی سالوں تک ان کی انتخابی جیت یقینی ہے۔ پھر کچھ لوگ اقلیتوں کو ہراساں کرنے اور انہیں ذلیل وخوارکرنے کے لیے جوش و خروش کا مظاہرہ کیوں کر رہے ہیں؟

تیرتھ سنگھ راوت۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

زیادہ راشن چاہیے تھا تو بیس بچہ پیدا کیوں نہیں کیے: تیرتھ سنگھ راوت

رام نگر میں ایک پروگرام کے دوران اتراکھنڈ کےوزیر اعلیٰ تیرتھ سنگھ راوت نے کہا کہ اگر لوگوں کو کووڈ 19کے دوران زیادہ راشن پانا تھا تو دو سے زیادہ بچہ پیدا کرتے۔ اسی پروگرام میں راوت نے کہا کہ ہندوستان 200 سال امریکہ کا غلام تھا اور اب کووڈ 19 نے اس کی طاقت کو بھی کم کر دیا۔

Bulletin 16 March 2021.00_11_53_18.Still004

کیا ہندوؤں کو تشدد پسند بنایا جا رہا ہے؟

ویڈیو: اتر پردیش کے غازی آبادواقع شیو شکتی دھام ڈاسنہ مندر میں ایک مسلمان لڑکے کو پانی پینے کے لیےبے رحمی سے پیٹا گیا۔ ڈاسنہ میں ہونے والا یہ واقعہ نفرت کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ذہنیت کیوں پیدا ہوتی ہے؟ اس کے پیچھے کیا وجہ ہے؟ ان باتوں کو سمجھنے کے لیےآزاد صحافی علی شان جعفری سے دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند کی بات چیت۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/د ی وائر)

ہندوستانی خواتین جب جیل جاتی ہیں تب وہ جیل کے اندر ایک اور قید خانے میں داخل ہوتی ہیں…

جیلیں جرم کی بنیاد پر قیدیوں کی درجہ بندی کر سکتی ہیں، لیکن جیلوں بالخصوص خواتین جیلوں میں درجہ بندی کا تعین صرف جرائم سے نہیں ہوتا ۔ یہ صدیوں کی روایات اور اکثر مذہب کی اخلاقی لکشمن ریکھاکو پار کرنے سے وابستہ ہے۔ ایسے میں ہندوستانی خواتین جب جیل جاتی ہیں تب وہ اکثر جیل کےاندر ایک اور قید خانےمیں داخل ہوتی ہیں۔

ڈاسنہ کے مندر میں نابالغ مسلم لڑکے کی بے رحمی سےپٹائی کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔ (بہ شکریہ: ویڈیوگریب)

ظلم و بربریت بھلے ہی معمول بن جائے اس کو فطری نہ تسلیم کرنے سے ہی انسانیت بچی رہتی ہے

ڈاسنہ کے واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس کوتشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، پولیس اس کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے۔ جس نے تشدد کیاپولیس اس کو ڈھونڈ کر اس کے ساتھ انصاف کاعمل شروع کر سکتی ہے۔ انسانیت کی بقا کی امیدقانون یا آئین کی فہم کے زندہ رہنے پر ہی منحصر ہے۔

گجرات کے وزیر اعلیٰ وجئےروپانی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

سخت قانون کے ذریعے ہندو لڑکیوں کے تبدیلی مذہب کو روکیں گے: وجئے روپانی

گجرات کے وزیر اعلیٰ وجئے روپانی نے گودھرا میں ایک انتخابی ریلی کے دوران کہا کہ ان کی سرکار ایک مارچ سے شروع ہو رہے ودھان سبھاسیشن میں لو جہاد کے خلاف قانون لانا چاہتی ہے تاکہ ہندو لڑکیوں کے اغوا اور تبدیلی مذہب کو روکا جا سکے۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر)

کیا ہندوستان شدت پسندی کے معاملے میں پاکستان بننے کی راہ پر ہے؟

کئی سال پہلےپاکستانی شاعرہ فہمیدہ ریاض نے لکھا تھا کہ ‘تم بالکل ہم جیسے نکلے،اب تک کہاں چھپے تھے بھائی۔ وہ مورکھتا وہ گھامڑ پن ، جس میں ہم نے صدی گنوائی، آخر پہنچی دوار تمہارے…ملک کے آج کے حالات میں یہ مصرعے سچ کے کافی قریب نظر آتے ہیں۔

(علامتی تصویر،فوٹو: پی ٹی آئی)

ہندوستانی مسلمانوں کا المیہ: ہو ئے اپنے ہی گھر میں بیگانے

جس طرح ملک میں فرقہ وارانہ عداوتیں بڑھ رہی ہیں، اس سے مسلمانوں کے افسردہ اور اس سے کہیں زیادہ خوف زدہ ہونے کے متعدد اسباب ہیں۔سماج ایک‘بائنری سسٹم’سے چلایا جا رہا ہے۔ اگر آپ اکثریت سے متفق ہیں تو دیش بھکت ہیں، نہیں تو جہادی،اربن نکسل یاغدار، جس کی جگہ جیل میں ہے یا ملک سے باہر۔

ایک تقریب میں سپنا اور وشال۔ (فوٹو: اسپیشل ارینجمنٹ)

یوپی: دبنگوں کا خوف، دو مہینے سے چھپ کر رہ رہے ہیں اپنے گیتوں میں امبیڈکر کے خیالات کوپیش کر نے والے گلوکار

غازی پور ضلع کے وشال غازی پوری اور ان کی اہلیہ سپنا دلت اورپسماندہ مفکرین کی تعلیمات کو گیتوں کے ذریعہ پیش کرتے ہیں۔گزشتہ اکتوبر میں ان گیتوں سے ناراض علاقے کے کچھ دبنگوں نے ان کے اسٹوڈیو میں آگ زنی کی اور جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ پولیس میں شکایت درج ہونے کے باوجود وشال اپنی فیملی کے ساتھ چھپ کر رہنے کو مجبور ہیں۔

یوگی آدتیہ ناتھ۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/MYogiAdityanath)

اترپردیش تبدیلی مذہب کے انسداد سے متعلق قانون کی قانونی ’خامیاں‘ اس کے نفاذکی بدنیتی کو دکھاتی ہیں

مدھیہ پردیش اور اڑیسہ کےتبدیلی مذہب کے انسداد سے متعلق قوانین میں کہیں بھی بین مذہبی شادی کا ذکر نہیں تھا اور نہ ہی سپریم کورٹ نے اس پر کوئی تبصرہ کیا تھا۔ ایسے میں اتر پردیش سرکار کا ایسا کوئی اختیار نہیں بنتا کہ وہ بنا کسی ثبوت یادلیل کے بین مذہبی شادیوں کو نظم و نسق کے سوال سے جوڑ دے۔

2307 Gondi.00_47_04_06.Still146

یوپی میں ’لو جہاد‘ آرڈیننس: ہندو مسلم شادی  پر کیا ہوگا اثر؟

ویڈیو: مبینہ لو جہاد کو لےکر اتر پردیش سرکار نے آرڈیننس کو منظوری دے دی ہے۔ اس کے تحت شادی کے لیے فریب، لالچ یا جبراًمذہب تبدیل کرائے جانے پر زیادہ سے زیادہ10 سال کی قیداور جرما نے کی سزا کا اہتمام ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

لو جہاد فحش پروپیگنڈہ ہے

بی جے پی لو جہاد کے راگ کو کیوں نہیں چھوڑ رہی؟وہ ہندوؤں میں خوف بٹھا رہی ہے کہ ‘ہماری’عورتوں کا استعمال کرکے ‘ودھرمی’اپنی تعداد بڑھانے کی سازش کر رہے ہیں۔ ‘ودھرمیوں’ کی تعداد میں اضافہ پریشانی کا سبب ہے۔ تعداد ہی طاقت ہے اور وہی برتری کی بنیاد ہے۔ اس لیے ایسی ہر شادی یا رشتے کی مخالفت کی جانی ہے، کیونکہ اس سے ‘ودھرمی’ کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔

(علامتی  تصویر،فوٹو: پی ٹی آئی)

لو جہاد معاملے میں یوپی پولیس نے سونپی رپورٹ، کہا- کسی سازش یا غیرملکی فنڈنگ کے ثبوت نہیں

اتر پردیش کے کانپور شہر میں کچھ رائٹ ونگ ہندو تنظیموں نے الزام لگایا تھا کہ مسلم نوجوان مذہب تبدیل کرانے کے لیے ہندو لڑکیوں سے شادی سے کر رہے ہیں۔ اس کے لیے انہیں دوسرے ملکوں سے فنڈ مل رہا ہے اور لڑکیوں سے انہوں نے اپنی پہچان چھپا رکھی ہے۔ اس کی جانچ کے لیے کانپور رینج کے آئی جی نے ایس آئی ٹی بنائی تھی۔

ہلہلیا کے گرودوارے میں کشن سنگھ اور سکھ مذہب اپنانے والوں  کے بچے۔ (فوٹو: ہیمنت کمار پانڈے)

بہار: روزگار کے لیے پنجاب گئے مزدور سکھ مذہب کیوں اپنا رہے ہیں

گراؤنڈ رپورٹ: ارریہ ضلع کے ہلہلیا پنچایت میں مسہر کمیونٹی سمیت پسماندہ طبقات کے کئی مزدور، جو روزگار کے لیے پنجاب گئے تھے، انہوں نے سکھ مذہب اپنا لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس بات سے بہت متاثر ہوئے کہ اس مذہب میں اونچ نیچ نہیں ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

انکار کے بعد اب مرکزی حکومت  نے مانا، شرمک ٹرینوں میں97 لوگوں کی موت ہوئی

گزشتہ14 ستمبر کو شروع ہوئےپارلیامنٹ کی کارر وائی کے دوران لوک سبھا میں کل 10رکن پارلیامان نے مزدوروں کی موت سے متعلق سوال پوچھے تھے، لیکن سرکار نے یہ جانکاری عوامی کرنے سے انکار کر دیا۔مرکزی وزیرسنتوش گنگوار نے کہا تھا کہ ایسا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا ہے۔

علامتی تصویر: پی ٹی آئی

لاک ڈاؤن میں مزدوروں کی موت کا اعداد و شمار سرکار نے اکٹھا کیا، پھر بھی پارلیامنٹ کو بتانے سے انکار

دی وائر کےذریعےانڈین ریل کے 18زون میں دائر آر ٹی آئی درخواست کے تحت پتہ چلا ہے کہ شرمک ٹرینوں سے سفرکرنے والے کم سے کم 80 مزدوروں کی موت ہوئی ہے۔مرکزی حکومت کے ریکارڈ میں یہ جانکاری دستیاب ہونے کے باوجود اس نے پارلیامنٹ میں اس کو عوامی کرنے سے منع کر دیا۔

(فوٹو بہ شکریہ: وکی میڈیا کامنس)

عام عورتوں کا بڑھتا سیاسی شعور ان کا اپنا ہے یا وہ کسی سیاسی ایجنڈے کی شکار ہیں؟

سوسائٹی کے وہاٹس ایپ گروپ میں وہ خواتین عموماً گھرگرہستی سے جڑے مسئلے شیئرکیا کرتی تھیں۔ پتہ نہیں یہ کب اورکیسے ہوا کہ اپنی زندگی کےتمام مسائل کو چھوڑ کربالی ووڈ کی اقربا پروری کو ختم کرنا، سشانت سنگھ راجپوت کے لیے انصاف مانگنا اور عالیہ بھٹ کو نیست و نابود کر دینا ان عورتوں کا مقصد بن گیا۔

بیربھوم میں ہول تہوار میں آدی واسی سماج کے لوگ(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

عالمی یوم قبائلی: آدی واسی سماج دنیا کے لیے واحد امید ہیں، لیکن…

کسی بھی منظم مذہب میں شامل ہونے والا آدی واسی اپنی بنیادی پہچان بچائے رکھنے کے نام پر قدرت/فطرت سے وابستہ تہواروں میں حصہ لےکر اس وہم میں رہتا ہے کہ وہ زمین سے جڑا ہوا ہے۔ لیکن کیا وہ کبھی یہ محسوس کرتا ہے کہ اپنی تہذیب، زبان وغیرہ کو لےکر اس کا نظریہ کیسےمبینہ مین اسٹریم کےنظریے کے مماثل ہوجاتا ہے؟

Don`t copy text!