Srinagar

kashmir killing

جموں و کشمیر: بڈگام میں کشمیری پنڈت تحصیل ملازم کا قتل، لوگوں کا احتجاجی مظاہرہ، تحقیقات کا مطالبہ

جمعرات کو وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع کے چاڈورہ واقع تحصیل دفتر میں گھس کر 35 سالہ کشمیری پنڈت ملازم راہل بھٹ کو ہلاک کرنے کے بعد دہشت گردوں نے جمعہ کو پلوامہ میں ایک پولیس کانسٹبل کو ان کے گھر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ راہل کی موت کے خلاف کشمیری پنڈتوں نے مظاہرہ کیا۔

شاہ فیصل، فوٹو بہ شکریہ فیس بک

عدم برداشت کا حوالہ دیتے ہوئے 2019 میں آئی اے ایس کے عہدے سے استعفیٰ دینے والے شاہ فیصل سروس میں واپس لوٹے

بتایا جا رہا ہے کہ شاہ فیصل نے اپنے تمام سابقہ ​​ٹوئٹ ڈیلیٹ کر دیے ہیں، جو مرکزی حکومت کی تنقید میں لکھے گئے تھے۔ ساتھ ہی وہ سوشل میڈیا پر موجودہ بی جے پی حکومت کی پالیسیوں کے زبردست حامی نظر آ رہے ہیں۔ ان دنوں وہ اکثر اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی تقاریر، بیانات اور اعلانات کو شیئر کر رہے ہیں۔

شہلا رشید، فوٹو: پی ٹی آئی

شہلا رشید کے خلاف زی نیوز کی نشریات سے این بی ڈی ایس اے ناراض، ویڈیو ہٹانے کی ہدایت

نومبر 2020 میں زی نیوز کی ایک نشریات میں شہلا رشید کے والد کا انٹرویو دکھایا گیا تھا، جس میں انہوں نے شہلا پر دہشت گردانہ فنڈنگ ​​سے متعلق سرگرمیوں میں شامل ہونے کا الزام لگایا تھا۔این بی ڈی ایس اے نے یہ کہتے ہوئے کہ اس نشریات میں غیرجانبداری کا فقدان تھا، چینل سے اس کی ویب سائٹ سمیت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارموں سے اس ویڈیو کو ہٹا نےکوکہا ہے۔

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

دہلی: کشمیری ہونے کی وجہ سے ایک شخص کو ہوٹل میں کمرہ دینے سے منع کیا گیا، پولیس نے معاملہ درج کیا

گزشتہ 22 مارچ کو جموں و کشمیر کے سری نگر کے رہنے والے سید فیصل کو دہلی کے جہانگیر پوری واقع ایک ہوٹل میں ٹھہرنے سے منع کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو کے مطابق ہوٹل کی ایک خاتون ملازمہ نے انہیں جموں و کشمیر سے ہونے کی وجہ سے ہوٹل میں ٹھہرنےسے منع کیا۔ فیصل نے کہا یہ پہلا موقع ہے کہ انہیں اس طرح کے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

(فوٹو بہ شکریہ: وکی پیڈیا)

این آئی اے نے دہشت گرد کو خفیہ دستاویز لیک کرنے کے الزام میں اپنے سابق افسر کو گرفتار کیا

این آئی اے نے اپنےسابق سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اورآئی پی ایس افسر اروند دگوجے نیگی کو ممنوعہ دہشت گردتنظیم لشکر طیبہ کے ایک رکن کو خفیہ دستاویز لیک کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ این آئی اے اسی معاملے میں چھ لوگوں کو گرفتار کر چکی ہے۔ ان میں سے ایک کشمیر سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کو این آئی اے نے گزشتہ سال گرفتار کیا تھا۔

(فوٹو:  پی ٹی آئی)

سری نگر انکاؤنٹر میں تین مشتبہ دہشت گردوں کی موت، عینی شاہدین نے پولیس کے دعووں پر سوال اٹھایا

سری نگر میں 24 نومبر کی شام پولیس انکاؤنٹرمیں تین مشبہ دہشت گردوں کو مار گرایا گیا تھا، لیکن مقامی لوگوں اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جن لڑکوں کو پولیس نے انکاؤنٹر میں مارا، وہ نہتے تھے اور سڑک کنارے کھڑے تھے۔

Photo: PTI

کشمیر کی ہیبت ناک کہانیاں

پچھلے تین سالوں میں کشمیر میں حکومتی اور میڈیا سے لیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 837 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جب میں 172 سیکورٹی فورسز کے اہلکار تھے۔ ان میں سے اکثر افراد کو لائن آف کنٹرول کے پاس ورثاکی موجودگی اور آخری رسومات کے بغیر ہی پولیس نے خود ہی نامعلوم قبروں میں دفن کر دیا ہے۔

خرم پرویز(فوٹوبہ شکریہ:  ٹوئٹر)

حقو ق انسانی کے کشمیری کارکن خرم پرویز گرفتار، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے کیا رہائی کا مطالبہ

این آئی اے نےسوموار کو صوبے میں حقوق انسانی کے سرگرم کشمیری کارکن خرم پرویز کو گرفتار کیا ہے۔اس سے پہلےٹیررفنڈنگ سےمتعلق ایک معاملے میں رواں سال کی شروعات میں سری نگر میں ان کے گھر اور دفترکی تلاشی لی گئی تھی۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اس قدم کی تنقید کرتے ہوئے حراستی تشدد کے خطرے کے مدنظرتشویش کا اظہارکیا ہے۔

انکاؤنٹر میں مارے گئے محمد الطاف بھٹ کے سوگواراہل خانہ۔ (تمام فوٹو: فیضان میر)

کشمیر: حیدر پورہ انکاؤنٹر میں مارے گئے شہریوں کے اہل خانہ نے کہا، ان کا استعمال ہیومن شیلڈ کے طور پر ہوا

گزشتہ15نومبر کو سری نگر کے حیدر پورہ علاقے میں ایک شاپنگ کمپلیکس میں دہشت گردوں سے انکاؤنٹر کے دوران دو مشتبہ دہشت گردوں کی موت کے ساتھ ہی دو شہریوں کی بھی موت ہوئی تھی ۔ ان میں سے ایک شاپنگ کمپلیکس کے مالک محمد الطاف بھٹ اور دوسرے ڈینٹسٹ ڈاکٹر مدثر گل شامل ہیں۔ پولیس نے دونوں کےدہشت گردوں کا ساتھی ہونے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ان کے اہل خانہ کاالزام ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے ان کا استعمال ‘ہیومن شیلڈ’کے طور پر کیا۔

جائے وقوع پر پہنچےسیکیورٹی فورسز۔ (فوٹو: فیضان میر)

جنوبی کشمیر میں دہشت گردوں نے بہار کے دو اور مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کیا

یہ واقعہ کلگام ضلع میں پیش آیا۔یہ جنگجو تنظیم ‘دی ریزسٹنس فرنٹ’کے بانی عباس شیخ کا آبائی ضلع ہے، جس نے سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ کشمیر میں رہنے والے مقامی اور غیر مقامی اقلیتوں پر حالیہ حملوں کی زیادہ تر ذمہ داری قبول کی ہے۔ رواں ماہ میں اب تک شہریوں کو نشانہ بنانے والی فائرنگ میں11 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والی اسکول کی پرنسپل سپندر کور کی آخری رسومات کے دوران سوگوار رشتہ دار۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

دہشت گردوں کے حملے میں مارے گئے پرنسپل اور ٹیچر کی آخری رسومات ادا کی گئیں، جموں و کشمیر میں احتجاجی مظاہرہ

جموں وکشمیر میں گزشتہ چھ دنوں میں دہشت گردوں کے ہاتھوں سات شہری ہلاک ہوئے، جن میں سے چھ سرینگر میں ہلاک ہوئے۔مہلوکین میں سے چار اقلیتی کمیونٹی سے ہیں۔سات اکتوبر کو سرینگر میں پرنسپل سپندر کور اور ٹیچر دیپک چند کوہلاک کر دیا گیا۔ پانچ اکتوبر کو کشمیری پنڈت کمیونٹی کے معروف کیمسٹ ماکھن لال بندرو سمیت تین لوگوں اور دو اکتوبر کو دو شہریوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

اولمپک میں ہندوستان کی جیت سے لاتعلق کیوں رہا کشمیر؟

جس دن اخباراور ٹی وی چینل جیولن تھرو میں نیرج چوپڑا کے اس کارنامے کی تفصیلات چھاپ رہے تھے،جس دن نیرج کے پہلے کوچ نسیم احمد کشور انہیں یاد کر رہے تھے، اسی دن دہلی میں سینکڑوں لوگ ہندوستان کے نسیم احمد جیسے نام والوں کو کاٹ ڈالنے کے نعرے لگا رہے تھےاورہندوؤں کو ان کا قتل عام کرنے کا اکساوا دے رہے تھے۔ یہ لوگ بھی، نسیم احمدجیسے نام ایک طرح سے ہندوستان کے کشمیر ہیں، پورے ہندوستان میں بکھرے ہوئے!

(فوٹو: رائٹرس)

کشمیر اور خطے کی جیو اکانومکس کا خواب

جہاں مغربی اور عرب ممالک ان دنوں ہندوستان کی ناراضگی کے پیش نظر حکومتی سطح پر کشمیر سے دامن بچا کر ہی چلتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ انسانی حقوق کے حوالے سے کوئی بیان جاری کرکے خاموش ہو جاتے ہیں، وسط ایشائی ممالک کشمیر کی صورت حال کے حوالے سے خاصے فکرمند دکھائی دے رہے تھے۔

(السٹریشن دی وائر)

جموں وکشمیر: 2019 سے یو اے پی اے کے تحت 2300 سے زیادہ لوگوں پر کیس، لگ بھگ آدھے ابھی بھی جیل میں

اس بیچ مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ 2019 میں یو اے پی اے کے تحت 1948 لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور 34 ملزمین کو قصوروار ٹھہرایا گیا۔ ایک اور سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ 31 دسمبر 2019 تک ملک کی مختلف جیلوں میں478600قیدی بند تھے،جن میں144125 قصوروار ٹھہرائے گئے تھے جبکہ 330487 زیر سماعت و 19913 خواتین تھیں۔

فوٹو: رائٹرس

کشمیر: آئینی سرجیکل اسٹرائیک کے دو سال

دو سال قبل یہ بھی بتایا گیا تھا کہ پچاس ہزار نوکریاں فوری طور فراہم کی جائیں گی۔تاہم دوسال بعد صورتحال یہ ہے جموں وکشمیر میں بےروزگار نوجوانوں کی تعداد 6لاکھ سے زائد ہے جن میں ساڑھے تین لاکھ کشمیر اور تقریباًاڑھائی لاکھ جموں صوبہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ایک طرف ترقی و خوشحالی کی باتیں ہورہی ہیں تو دوسری جانب عملی طور یہاں روزگار کے مواقع محدود کیے جارہے ہیں۔

عمران قیوم کے والد۔ (فوٹو: منیب الاسلام)

’پولیس نے میرے بھائی کو ماردیا اور اب وہ نہیں چاہتے کہ ہم اس کی قبر پر دعا بھی کر پائیں‘

گزشتہ دنوں جموں وکشمیر پولیس نے ایک انکاؤنٹر میں عمران قیوم نام کےایک شخص کو دہشت گرد بتاتے ہوئے مار گرانے کے بعد ان کو دفن کر دیا۔عمران کے اہل خانہ نے پولیس کے دعووں کی تردیدکرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فرضی انکاؤنٹر تھا۔ انہوں نے معاملے کی جانچ کے لیےلیفٹیننٹ گورنراورسینئر پولیس افسران کو خط بھی لکھا ہے۔

علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے انتخابات کے تئیں سرینگر میں عدم دلچسپی کیوں؟

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں فی الوقت انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ 724 امیدوار 25 جولائی کو 45 انتخابی حلقوں میں قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ ان میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے 33حلقوں سے 602 امیدوارجبکہ مہاجرین مقیم پاکستان کے 12 انتخابی حلقوں سے 122 امیدوار میدان میں ہیں۔

فوٹو: بہ شکریہ ٹوئٹر@MirwaizKashmir

کشمیر: مظلوم عوام کی بیداری کی 90 ویں سالگرہ

سال 2019سے سرکاری طور پر ان شہدا کو نظر انداز کرکے یہ ثابت کر دیا گیا کہ عوام ابھی بھی حقیقی آزادی سے محروم ہیں۔ وہ ابھی اپنے خوا بوں اور خواہشوں کے مطابق نظام حیات تعمیر نہیں کرسکے جس کے لیے بے انتہا قربانیاں دی گئیں۔

علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس

جموں و کشمیر: قضیہ دارالحکومت کا

موجودہندو قوم پرست حکومت کوئی بھی قدم خلاف مصلحت نہیں اٹھاتی ہے، اسی لیے اس پر چہ می گوئیاں شروع ہو گئی ہیں اور بتایا جا تاہے کہ بیک ڈور سے سرینگر سے دارالحکومت کا درجہ چھین کر جموں کو دیا گیا ہے۔ ویسے بھی مرکزی حکومت کے کئی اہم ادارے برسوں قبل اپنے دفاتر مستقل طو پر جموں منتقل کر چکے تھے۔

علامتی تصویر، فائل فوٹو: پی ٹی آئی

کیا جموں و کشمیر کا نام بدل کر جموں پردیش رکھا جائے گا؟

کئی افواہوں کے درمیان جس افواہ نے واقعی خوف و ہراس پھیلایا ہے وہ یہ ہے کہ وادی کشمیر کے کل رقبہ 15520مربع کلومیٹر میں سے 8600مربع کلومیٹر پر جموں اور دہلی میں رہنے والے کشمیری پنڈتوں کو بسا کر ایک علیحدہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ تشکیل دیے جانے کی تجویز ہے۔ اس کا نام پنن کشمیرہوگا۔

فوٹو: رائٹرس

کشمیر کی زمینی صورت حال پر ایک تازہ رپورٹ

جن دنوں یہ گروپ کشمیر کے دورہ پر تھا، حکومت نے بتایا کہ حریت لیڈر میر واعظ عمر فاروق ہاؤس اریسٹ نہیں ہیں اور کہیں بھی آ جا سکتے ہیں۔ اگلے روز یہ گروپ ان کی رہائش گا ہ پر پہنچا۔ مگر سیکورٹی اہلکاروں نے ان کو اندر جانے کی اجازت نہیں دے دی۔

جموں و کشمیر(فوٹو: پی ٹی آئی)

جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد سے 173 لوگ اب بھی حراست میں: وزارت داخلہ

وزیر مملکت برائے داخلہ جی کشن ریڈی نے لوک سبھا میں بتایا کہ ایک اگست 2019 کے بعد سے کئی علیحدگی پسندرہنماؤں، پتھراؤ کرنے والوں سمیت 627 لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا، جن میں سے 454 لوگوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کوئی بھی نظربند نہیں ہے۔

(فوٹو: رائٹرس)

جموں و کشمیر: مبینہ انکاؤنٹر میں مارے گئے لڑکے کے والد پر یو اے پی اے کے تحت معاملہ درج

سرینگر کے باہری علاقے لاوے پورہ میں29-30 دسمبر کو ایک مبینہ انکاؤنٹر میں تین مشتبہ دہشت گردوں کو مار گرایا گیا تھا، جس میں سے ایک16سال کا تھا۔ یہ اس طرح کا دوسرا واقعہ ہے، جس میں انکاؤنٹر میں مارے گئے مبینہ دہشت گرد کے اہل خانہ کے خلاف پولیس نے یو اے پی اے کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔

شہلا رشید، فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

شہلارشید کے خلاف توہین آمیز اور ذاتی مواد شائع کر نے سے ان کے والد اور میڈیا پر روک

شہلارشید، ان کی والدہ زبیدہ اختر اور بہن آصمہ رشید نے یہ کہتے ہوئے مقدمہ دائر کیا تھا کہ ان کے والد عبدالرشید شورا جھوٹے اور بیہودہ الزام لگاکر ان کی عزت کو کم کرنے کا کام کر رہے ہیں، جس میں انہیں ملک مخالف کہنا تک شامل ہے۔ مدعا علیہان میں عبدل، کچھ میڈیا آؤٹ لیٹس، فیس بک، ٹوئٹر، یوٹیوب اور گوگل شامل ہیں۔

فوٹو: دی وائر

کشمیر کا مواصلاتی محاصرہ: عصبیت کی بدترین مثال

جے کے سی سی ایس نے اپنی ایک جامع رپورٹ میں بتایا ہے کہ مواصلاتی رابطوں کو بند کرنے میں کشمیر دنیا کی تاریخ میں پہلی مثال ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال رواں کے ماہ جنوری میں جب ٹو جی موبائل انٹرنیٹ خدمات بحال کی گئیں، تب سے بھی 70 بار عارضی طور پر اس کو معطل کرنے کے احکامات صادر کیے گئے ہیں۔

علامتی تصویر / ٖفوٹو : رائٹرز

’کشمیریوں کو جان لینا چاہیے کہ اب وہ ہمارے غلام ہیں‘

رپورٹ کے مطابق پچھلے ایک سال کے دوران 12سے 15ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔مصنفین کے مطابق ایک شخص کو گرفتار کرکے آگرہ جیل میں بس اس وجہ سے پہنچایا گیا کہ کسی فوٹو میں اس کو کسی کی نماز جنازہ ادا کرتے ہو ئے دیکھا گیا تھا۔

Screengrab of the viral video showing the attack in Reasi district of Jammu and Kashmir.

جموں و کشمیر:  بھیڑ نے مسلم نوجوان کی بے رحمی سے پٹائی کی

واقعہ جموں وکشمیر کے ریاسی ضلع کے گری گبر گاؤں کا ہے۔ متاثرہ فرد کے کھیتوں میں کچھ گائے بھٹک کر آ گئی تھیں اور کھیت کو نقصان پہنچایا تھا۔الزام ہے کہ گایوں کو کھیت سے بھگانے کے دوران ایک گائے زخمی ہو گئی تھی، جس کے بعد بھیڑ نے نوجوان کی پٹائی کی۔

HBB 5 August 2020.00_38_23_09.Still002

ایودھیا کی دیوالی کشمیر تک کیوں نہیں پہنچی؟

ویڈیو:وزیر اعظم نریندر مودی نے پانچ اگست کو ایودھیا میں رام مندر کا سنگ بنیاد رکھا۔ دوسری طرف پچھلے سال اسی دن مرکزی حکومت نے پارلیامنٹ میں جموں وکشمیر کاخصوصی درجہ ختم کرنے کااعلان کیا تھا۔ اس مدعے پر سابق راءچیف اے ایس دُلت، کشمیر پر مرکزکی سابق مذاکرہ کار رادھا کمار اور دفاعی امور کے ماہرایئر مارشل (ریٹائرڈ)کپل کاک سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹرعارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

HBB 4 August 2020.61860.Still002

آرٹیکل370 ہٹنے کے ایک سال بعد کشمیر کا حال؟

ویڈیو: پچھلے سال پانچ اگست کومرکزی حکومت نے جموں وکشمیر کاخصوصی درجہ ہٹاکر اس کو دو یونین ٹریٹری میں تقسیم کر دیا تھا۔ اس کی پہلی سالگرہ پر سیاسی کارکن شہلا رشید اور سٹی پلانر انیسہ درابو سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

HBB-28-July.00_23_18_06.Still002-1200x600

کشمیر کو مودی سرکار نے ہندو راشٹر کا سنگ بنیاد بنایا: پی ڈی پی رہنما

ویڈیو: جموں وکشمیر سےآرٹیکل 370کے خاتمہ کو ایک سال ہونے والے ہیں۔ریاست کاخصوصی درجہ ختم کر کے اس کو یونین ٹریٹری میں بانٹنے کے بعدمودی سرکار کی جانب سے کئی طرح کے دعوے کیے گئے تھے، آج ان کی زمینی سچائی کیا ہے؟ اس بارے میں پی ڈی پی کے سینئررہنما نعیم اختر سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹرعارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

کشمیر پرمودی حکومت کی آئینی سرجیکل اسٹرائیک کی برسی

ایک سال کے بعد اس آئینی اسٹرئیک کی افادیت اور حصولیابیو ں کی جو دستاویز ہندوستانی حکومت نے جاری کی ہے، اس کے مطابق کشمیر کو ہندوستان میں ضم کرنے سے کھلے میں رفع حاجت کرنے کو روکنے پر صد فیصد کامیابی حاصل ہوئی ہے۔لیجیے ہم تو سمجھےتھے کہ پانچ اگست کو اٹھائے گئے اقدامات کا مقصد کشمیر میں دودھ اور شہد کی نہریں بہانا، سڑکوں کو سونے سے مزین کرنا اور ہندوستان کے تئیں عوام میں نرم گوشہ پیدا کروانا تھا، مگر مودی حکومت نے تو اس سے بھی بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔

عمرعبداللہ(فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/@Omar-Abdullah)

جب تک جموں و کشمیر یونین ٹریٹری رہے گا، اسمبلی انتخاب نہیں لڑوں گا: عمر عبداللہ

نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرتے ہوئے دلیل دی گئی تھی کہ آرٹیکل370کی وجہ سے ریاست میں دہشت گردانہ واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر ایسا ہی تھا تو ایک سال بعد مرکزی حکومت سپریم کورٹ میں یہ کیوں کہہ رہی ہے کہ یہاں تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

فوٹو: بہ شکریہ ٹوئٹر@MirwaizKashmir

تیرہ جولائی: پیرس کے باسطل سے سرینگر کی سینٹرل جیل تک

بندوقوں کے دہانے ان لوگوں کی طرف کردیے گئےجو باغ میں نماز ادا کرنے کےلیے صف بستہ تھے۔ ایک شخص دیوار کی بلندی سے اذان دے رہا تھا کہ پولیس کی گولی سے ڈھیر ہوگیا۔ جو ش وجنوں کا یہ عالم تھا کہ اس کی جگہ دوسرے نے اذان وہاں سے جاری رکھی، جہاں سے پہلا شخص گولی لگنے سے شہید ہو گیا تھا۔ اس کو بھی گولی سے بھون دیا گیا۔ اس طرح 22افراد جام شہادت نوش کر گئے۔

 احمد آباد میں ہوئے ایک پروگرام میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ(فوٹو : پی ٹی آئی)

مودی حکومت کی حصولیابی: وزارت داخلہ نے ترمیم شدہ فہرست میں سی اے اے کو شامل کیا

قابل ذکر ہے کہ پہلے جاری کی گئی فہرست میں سی سی اے کو حصولیابی کے طور پر شامل نہیں کیا گیا تھا ۔وہیں وزارت داخلہ نےاپنی حصولیابیوں میں جموں وکشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والےآئین کے آرٹیکل 370 اور 35اے کو ختم کرنے کو تاریخی قدم بتایا ہے۔

شاہ فیصل، فوٹو بہ شکریہ فیس بک

جموں و کشمیر: سابق آئی اے ایس شاہ فیصل کی نظربندی پی ایس اے کے تحت تین مہینے بڑھائی گئی

آئی اے ایس کی نوکری سے استعفیٰ دینے کے بعد جموں اینڈ کشمیر پیپلس موومنٹ پارٹی بنانے والے شاہ فیصل جموں وکشمیر کاخصوصی درجہ ختم کیے جانے کے بعد سے نظربندی میں ہیں اور ان پر اس سال فروری میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کارروائی کی گئی تھی۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

کشمیر میں صرف انٹرنیٹ نہیں، کشمیریوں کی زندگی کے کئی دروازے بند تھے

گزشتہ 5 مارچ کو سات مہینے کے بعد جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ سے پابندی ہٹائی گئی ہے۔ ایک طبقے کا ماننا تھا کہ یہ پابندی امن امان کی بحالی کے لئے ضروری تھی ، حالانکہ مقامی لوگوں کے مطابق یہ پابندی تفریح یا سوشل میڈیا پر نہیں بلکہ عوام کے جاننے اور بولنے پرتھی۔

Don`t copy text!