state bank of India

وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی (فوٹو : پی ٹی آئی)

گزشتہ 10 سالوں میں 7 لاکھ کروڑ کا قرض رائٹ آف کیا گیا، 80 فیصد مودی حکومت میں ہوا

آر بی آئی کے مطابق؛ گزشتہ دس سالوں میں سات لاکھ کروڑ سے زیادہ کا بیڈ لون رائٹ آف ہوا یعنی نہ ادا کیے گئے قرض کو بٹے کھاتے میں ڈالا گیا۔ جس کا 80 فیصدی حصہ جو تقریباً555603 کروڑ روپے ہے،گزشتہ پانچ سالوں میں رائٹ آف کیا گیا ۔

فوٹو: پی ٹی آئی

عدالت نے پوچھا-کیا الیکشن کمیشن کے پاس پارٹیوں کو ملنے والے فنڈ اوراخراجات کے انکشاف  کی طاقت نہیں ہے

دہلی ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو حلف نامہ دائر کرکے یہ بتانے کو کہا ہے کہ اس کے پاس سیاسی پارٹیوں کے اخراجات کے انکشاف کے لیےاور اس کی ریگولیٹری کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے کیا اختیارات اور قوت ہیں اور اگر ان باتوں کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو کیا اقدام کیے جاسکتے ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف انڈیا۔ فوٹو: پی ٹی آئی

آر ٹی آئی میں انکشاف، مالی سال 2018سے 19 کے 9 مہینوں میں ایس بی آئی میں تقریباً 8 ہزار کروڑ کی بینکنگ دھوکہ دھڑی

اپریل-دسمبر 2018 کے دوران بینکنگ دھوکہ دھڑی کے شکار ہونے والے لوگوں کی تعداد اور ان کو ہوئے نقصان کی جانکاری مانگے جانے پر اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے کہا کہ قانونی اہتماموں کے مطابق اس کو اس بارے میں مانگی گئی جانکاری نہیں دینے کا اختیار ہے۔

علامتی فوٹو: رائٹرس

لوگوں کے پاس بچے 500 اور 1000 روپے  کے پرانے نوٹ نہیں لئے جائیں‌ گے: مرکزی حکومت

مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ ملک بھر میں پبلک سیکٹر کے بینکوں کے 50 فیصدی اے ٹی ایم بند کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ساتھ ہی نوٹ بندی کے بعد چھاپے گئے 2000 روپے اور 500 روپے کے نئے نوٹوں کے خراب معیار کو حکومت نے خارج کیا۔

(فوٹو : رائٹرس)

ایس بی آئی میں پہلی ششما ہی کے دوران 5555 کروڑ روپے کا بینکنگ فراڈ: آر ٹی آئی

ایس بی آئی کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اس مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بینک میں کل 723.06 کروڑ روپے کے بینکنگ فراڈ کے 669 معاملے اور دوسری سہ ماہی میں کل 4832.42 کروڑ روپے کے بینکنگ فراڈ کے 660 معاملے سامنے آئے ہیں۔

فوٹو: رائٹرس

ایس بی آئی کا الیکشن بانڈ سے چندہ پانے والی سیاسی پارٹیوں کی جانکاری دینے سے انکار: آر ٹی آئی

بینک نے مانگی گئی جانکاری کو متعلقہ لوگوں کے بارے میں ذاتی جانکاری بتاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اطلاعات اس کے پاس ‘ دوسروں کی امانت’ کے تحت رکھی گئی ہیں اور قانون میں اس طرح کی جانکاری نہ دینے کی چھوٹ ہے۔ بینک نے جو بیورا دیا ہے اس کے مطابق مارچ 2018 میں اس نے 222 کروڑ روپے کی قیمت سے زیادہ کے انتخابی بانڈ بیچے۔