Supreme Court Collegium

1234

کیا امت شاہ سے ٹکرانے کی سزا ملی جسٹس عقیل قریشی کو؟

ویڈیو: سپریم کورٹ کی کالجیم کی جانب سے نو ناموں کی سفارش کے بعد 31ستمبر کو تین خاتون ججوں سمیت نو نئے ججوں نے حلف لیا، جس کے بعد سپریم کورٹ میں ججوں کی مجموعی تعداد 33 ہو گئی۔ حالانکہ ہائی کورٹ کے ججوں کی سنیارٹی لسٹ میں میں دوسرے نمبر پر ہونے کے باوجود تریپورہ کے چیف جسٹس عقیل قریشی کا نام اس میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس موضوع پر سابق جسٹس انجنا پرکاش سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

جسٹس مدن بی لوکر، فوٹو بہ شکریہ : یو ٹیوب اسکرین شاٹ

کورونا بحران کے دوران سپریم کورٹ کا رویہ مایوس کن رہا ہے: جسٹس مدن بی لوکر

سپریم کورٹ کے سابق جسٹس مدن بی لوکر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سپریم کورٹ اپنی آئینی ذمہ داریوں کو صحیح طریقے سے نہیں نبھا رہا ہے۔ہندوستان کا سپریم کورٹ اچھا کام کرنے میں اہل ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ ان کو اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

چیف جسٹس وجیہ کے تہل رمانی (فوٹو: پی ٹی آئی)

سی جے آئی رنجن گگوئی نے جسٹس تہل رمانی کے خلاف کارروائی کے لئے سی بی آئی کو اجازت دی

سپریم کورٹ کےکالیجئم نے جسٹس وجیہ کے تہل رمانی کا تبادلہ میگھالیہ ہائی کورٹ میں ہونے پر از سر نوغور کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد 6 ستمبر کوانہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

جج پرموشن: جسٹس لوکور نے  کالجیئم کے 12 دسمبر کے فیصلے کو عام نہ کرنے پر مایوسی کا اظہار  کیا

12 دسمبر کو سپریم کورٹ کے کالجیئم نے جسٹس پردیپ نندراجوگ اور جسٹس راجیندر مینن کے پروموشن کی تجویز رکھی تھی، لیکن 10 جنوری کو چیف جسٹس رنجن گگوئی کی صدارت والے کالجیئم نے سینئرٹی کو درکنار کرتے ہوئے جسٹس دینیش ماہیشوری اور جسٹس سنجیو کھنہ کا پروموشن کیا۔

Don`t copy text!