Swami Aseemanand

وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ، دھماکے کے بعد سمجھوتہ ایکسپریس اور سوامی اسیمانند۔ (فوٹو : پی ٹی آئی/ رائٹرس)

جب مقدمہ چلانے والے این آئی اے جیسے ہوں، تو بچاؤ میں وکیل رکھنے کی کیا ضرورت ہے

سمجھوتہ ایکسپریس معاملے کی سماعت کر رہے جج نے کہا کہ استغاثہ کئی گواہوں سے پوچھ تاچھ اور مناسب ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا اس لئے مجبوراً ملزمین کو بری کرنا پڑا۔ جب این آئی اے جیسی اعلیٰ جانچ ایجنسی ایک خوفناک دہشت گرد حملے کے ہائی پروفائل معاملے میں اس طرح برتاؤ کرتی ہے، تو ملک کی جانچ اور استغاثہ نظام کی کیا عزت رہ جاتی ہے؟

سوامی اسیمانند (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

سمجھوتہ ایکسپریس بلاسٹ: عدالت نے کہا، ثبوتوں کے فقدان میں گناہ گاروں کو سزا نہیں مل پائی

این آئی اے عدالت کے جج جگدیپ سنگھ نے اپنے فیصلے میں کہا، ’مجھے شدید رنج اور تکلیف کے ساتھ فیصلے کا خاتمہ کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ قابل اعتماد اور قابل قبول ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے اس گھناؤنے جرم میں کسی کو گناہ گار نہیں ٹھہرایا جا سکا۔‘

فوٹو: پی ٹی آئی

سمجھوتہ بلاسٹ کیس: اگر بری ہوئے لوگ بے گناہ ہیں تو ذمہ دارکون ہے؟

وزیر اعظم نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد جس طرح عدالت میں اس کیس کی پیروی ہورہی تھی، یہ فیصلہ توقع کے عین مطابق ہی تھا۔ملزمیں کا دفاع کوئی اور نہیں بلکہ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی )کے لیگل سیل کے سربراہ ستیہ پال جین کر رہے تھے۔

فوٹو : اے ایف پی

کیا دارالعلوم دیوبند واقعی دہشت گردی کا اڈہ ہے؟

دارالعلوم دیوبند کو دہشت گردی کا مرکز بتانے والے لوگوں کو ان کے اپنے ادارے بھونسلا ملٹری اسکول کی یاد دلانا ضروری ہے۔یہ وہ ادارہ ہے جہاں دہشت گردی کی ٹریننگ پاکر ابھینو بھارت جیسی تنظیم نے ہندوستان کی منتخب شدہ حکومت کا تختہ پلٹنے کی سازش کی تھی۔

فوٹو:این آئی اے

مکہ مسجد بلاسٹ کیس میں فیصلہ سنانے والے جج نے ظاہر کی بی جے پی جوائن کرنے کی خواہش

اسپیشل این آئی اے کورٹ کےاس وقت کے جج رویندر ریڈی نے اس سال 16 اپریل کو مکہ مسجد بلاسٹ کیس میں سوامی اسیمانند اور دیگر 4 کو بری کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد استعفیٰ دینے والے ریڈی نے اب بی جے پی کا دامن تھامنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

فوٹو:این آئی اے

مکہ مسجد بلاسٹ: جج کا استعفیٰ نامنظور،بدعنوانی کا الزام،این آئی اے وکیل کا اے بی وی پی سے رشتہ

حیدر آباد کی مکہ مسجد بلاسٹ معاملے میں 16 اپریل کو این آئی اے کورٹ نے سوامی اسیمانند سمیت تمام پانچ ملزمین کو بری کیا تھا۔ 2007 میں ہوئے ان دھماکوں میں 9 لوگ مارے گئے تھے، جبکہ قریب 58 لوگ زخمی ہوئے تھے۔