UGC

جواہر لال نہرو یونیورسٹی (فوٹو : پی ٹی آئی)

مودی حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ اعلیٰ تعلیمی ادارے پی آر کےدفتر  نہیں ہوتے

سی سی ایس جیسے قانون کا مقصد اعلیٰ تعلیم کے مقاصد کو ہی تباہ کر دینا ہے۔اعلیٰ تعلیم میں ترقی تب تک ممکن نہیں ہے جب تک خیالات کے لین دین کی آزادی نہ ہو۔اگر ان اداروں کا یہ رول ہی ختم ہو جائے تو اعلیٰ تعلیم کی ضرورت ہی کیا رہے‌گی؟ ٹیچر اور ریسرچ اسکالر سرکاری ملازم کی طرح عمل نہیں کر سکتے۔

گورکھپوریونیورسٹی (فوٹو : دھیرج مشرا / دی وائر)

خاص رپورٹ : گورکھپور  یونیورسٹی میں دلت اور پچھڑوں کے لئے ریزرو سیٹوں پر جنرل امید واروں کی تقرری

اسپیشل رپورٹ: گورکھپور یونیورسٹی انتظامیہ پر الزام ہے کہ اساتذہ کی تقرری کے دوران جنرل میں بھی ایک خاص ذات کو ترجیح دی گئی۔ سلیکشن پروسس کو لےکر سوال اٹھ رہے ہیں۔

modi-ambani_Reuters-featured

جیوانسٹی ٹیوٹ معاملہ : ایک کاغذی انسٹی ٹیوٹ کا’ٹاپ‘ ہوجانا مودی حکومت میں ہی ممکن تھا

ویڈیو: وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے ذریعے انسٹی ٹیوٹ آف ایمننس کی فہرست میں ریلائنس فاؤنڈیشن کے کاغذی انسٹی ٹیوٹ کو جگہ ملنے پر ہوئے تنازعہ کو لے کر دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند سے میناکشی تیواری کی بات چیت

علامتی تصویر (فوٹو : پی ٹی آئی)

حکومت اعلیٰ تعلیمی اداروں کو ’ پریشر کوکر ‘میں تبدیل کر رہی ہے 

جس طرح زراعتی شعبے میں قرض سے بڑھتی کشیدگی نے کسان خودکشی کا مسئلہ پیدا کیا، اسکولی تعلیم میں امتحانات اور میرٹ کے دباؤ نے اسکولی طالب علموں میں خودکشی کے رجحان کو جنم دیا، ذہنی دباؤ کی اسی کڑی میں حکومت نے کالج اور یونیورسٹی کے طالب علموں اور اساتذہ کو جھونکنے کی تیاری کر لی ہے۔

علامتی تصویر

کیا پروفیسر اتل جوہری کی گرفتاری محض خانہ پری تھی؟

تازہ ترین جانکاری کے مطابق اتل جوہری کو گرفتار کر لیا گیا تھا ،لیکن تھوڑی دیر بعد انہیں ضمانت بھی دےدی گئی ہے۔اس خانہ پری کے بعد بھی سوال اپنی جگہ قائم ہیں کہ کیا اس طرح کی گرفتاری کے ساتھ جے این یو میں سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا؟