UIDAI

وزیر داخلہ امت شاہ(فوٹو : پی ٹی آئی)

این پی آر میں کسی طرح کے دستاویز نہیں مانگے جا ئیں گے، کسی کو ’مشکوک‘ نہیں مانا جائے گا: امت شاہ

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے راجیہ سبھا میں کہا، ‘این پی آر کے لیے کسی طرح کے دستاویز نہیں مانگے جائیں گے۔ اگر کسی کے پاس کوئی جانکاری نہیں ہے تو اس کو شیئر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔’

mP9B-Kdg

خصوصی رپورٹ: این پی آر پر عوام کو گمراہ کرتی مودی حکومت

ویڈیو: دی وائر کے ذریعے حاصل کیے گئے سرکاری دستاویزوں سے انکشاف ہوتا ہے کہ کس طرح مرکزکی مودی حکومت کافی پہلے سے این پی آر میں آدھار کو ’لازمی‘ کرنے کا نہ صرف من بنا چکی تھی، بلکہ تقریباً 60 کروڑ آدھار نمبر کو این پی آر سے جوڑنے کا کا م بھی پورا ہو چکا ہے۔

Illustration: The Wire

پی ایم او نے خود کہا تھا کہ این پی آر کے ساتھ آدھار ضرور جوڑا جانا چاہیے

خصوصی رپورٹ:د ی وائر کے ذریعے حاصل کئے گئے سرکاری دستاویزوں سے پتہ چلتا ہے کہ 15 اپریل 2015 کو وزیراعظم نریندر مودی کے اس وقت کے چیف سکریٹری نرپیندر مشرا کی صدارت میں ایک میٹنگ ہوئی تھی، جس میں آدھار جاری کرنے، این پی آر ڈیٹابیس کے ساتھ آدھار نمبر کو جوڑ نے اور وقت قت پر این پی آر میں آدھار نمبر اپ ڈیٹ کرنے کو لے کر چرچہ کی گئی تھی۔

PTI1_16_2020_000088B

تقریباً 60 کروڑ آدھار نمبر پہلے ہی این پی آر سے جوڑے جا چکے ہیں

دی وائر کی خصوصی رپورٹ: وزارت داخلہ بھروسہ دلارہا ہے کہ جن لوگوں کے پاس آدھار نمبر نہیں ہے انہیں این پی آر اپ ڈیٹ کرنے کے دوران اس طرح کا دستاویز دینے کے لیے مجبور نہیں کیا جائےگا۔حالانکہ حاصل کیےگئےسرکاری دستاویزحکومت کی ان یقین دہانیوں پرسوالیہ نشان کھڑے کرتے ہیں۔

علامتی تصویر / پی ٹی آئی

نجی کمپنیوں کو کیوں دینا چاہ رہے ہیں آدھار کے استعمال کا حق، سپریم کورٹ نے کیا مرکزی حکومت سے جواب طلب

اس سے پہلے، پانچ ججوں کی بنچ نے آدھار قانون کے جواز کو برقرار رکھتے ہوئے کچھ اعتراض درج کیاتھا۔اس کے ساتھ ہی کہا تھا کہ نجی کمپنیوں کو صارفین کی اجازت سے بھی ان کی جانکاری کی تصدیق کے لیے آدھار ڈیٹا کے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

(السٹریشن : دی وائر)

آدھار ترمیم بل راجیہ سبھا سے پاس، اپوزیشن نے ڈیٹا تحفظ کو لے کر کیا تشویش کا اظہار

اس بل میں بینک میں کھاتا کھولنے، موبائل فون کا سم لینے کے لئے آدھار کو رضاکارانہ بنانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نجی اداروں کے ذریعے آدھار ڈیٹا کا غلط استعمال کرنے پر ایک کروڑ روپے کا جرمانہ اور جیل کا اہتمام رکھا گیا ہے۔

(علامتی تصویر : پی ٹی آئی)

آئی ٹی کمپنی نے غیر قانونی طریقے سے جمع کیا 7.8 کروڑ  لوگوں کا آدھار ڈیٹا، ایف آئی آر درج

حیدر آباد کی آئی ٹی گریڈ کمپنی پر الزام ہے کہ اس نے ’سیوا متر ‘ ایپ کے ذریعے غیر قانونی طریقے سے تلنگانہ اور آندھر پردیش کے 7.8 کروڑ لوگوں کے آدھار ڈیٹا کو اکٹھا کیا ہے۔اس ایپ کو مبینہ طور پرٹی ڈی پی کے ذریعے استعمال کیا جاتا تھا۔یو آئی ڈی اے آئی کی شکایت کے بعد ایس آئی ٹی کرے گی جانچ۔

فوٹو: رائٹرس

نیوز پورٹل ہف پوسٹ کا دعویٰ ، آدھار ڈیٹا بیس میں لگائی جارہی ہے سیندھ

پیچ سے آدھار کے Enrollment Software میں جزوی تبدیلی کرکے اس کے سیکورٹی فیچر کو بند کردیا جاتا ہے اور آسانی سے اس کو ہیک کرلیا جاتا ہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ پیچ آسانی سے 2500روپے میں دستیاب ہے۔

علامتی تصویر (فوٹو : پی ٹی آئی)

آدھار نمبر عام کرکے کسی کو چیلنج نہ دیں : یو آئی ڈی اے آئی

ٹی آر اے آئی چیئر مین آر ایس شرما نے ٹوئٹر پر اپنا آدھار نمبر ڈال کر چیلنج دیا تھا کہ صرف اس نمبر کی بنیاد پر کوئی ان کونقصان پہنچا کر دکھائے ۔کچھ وقت کے بعد فرانسیسی ماہرین نے آدھار کے ذریعے ان کا ذاتی پتہ ،یوم پیدائش ،فون نمبر سمیت کئی ساری جانکاری ڈھونڈ نکالیں۔

علامتی تصویر

بغیر آدھار کارڈوالے غریبوں کو راشن دینے سے انکار نہ کریں : مرکز

جھارکھنڈ میں آدھار لنک نہ ہونے کی وجہ سے اکتوبر مہینے میں مبینہ طور پر بھوک سے تین لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ نئی دہلی : مرکزی حکومت نے ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی ہے کہ کسی بھی ضرورت مند کو پی ڈی ایس کا فائدہ دینے سے […]

aadhaar-Reuters

پرائیویسی کے حق کے لئے سنگین خطرہ ہے آدھار

پرائیویسی کو بنیادی حق ماننے کےاُصول پر مبنی ہونے کےبجائے آدھارحقیقت میں اس کی مخالفت میں کھڑا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں آدھار پر پھر سے غور و فکر کی ضرورت ہے۔ پرائیویسی کو شہریوں کا بنیادی حق قرار دینے والے سپریم کورٹ کے فیصلے […]

aadhar-pti

فرضی آدھار کارڈ بنانے والےگروہ کا پردہ فاش،49000آپریٹر بلیک لسٹ کیے گئے

انگلیوں کے نشان اور آنکھ کی پتلیوں کے اسکین کا کلون تیار کرکے بن رہے فرضی آدھارکارڈ نئی دہلی: فرضی آدھار کارڈ بنانے والےگروہ کا پردہ فاش ہوا ہے۔ یوآئی ڈی اےآئی نے اس کی جانکاری  دیتے ہوئے کہا کہ اس کےتکنیکی نظام کو کچھ غیرمعمولی سرگرمیوں کا […]

Don`t copy text!