Ujjain

اجمیر جارہی  ٹرین سے ایک مسلمان  مسافر کو گھسیٹ کراس کے ساتھ مارپیٹ کرتے وی ایچ پی کے کارکن ۔ (فوٹو: ویڈیو گریب)

ایم پی: بجرنگ دل کے کارکنوں نے ساتھ سفر کر رہے مسلمان مرد اور ہندو خاتون کو ٹرین سے اتارا

یہ واقعہ 14 جنوری کو اجین ریلوے اسٹیشن پر پیش آیا۔ الزام ہے کہ بجرنگ دل کے کارکنوں نے ایک مسلمان پر ‘لو جہاد’ کا الزام لگا کرمار پیٹ بھی کی۔ دونوں شادی شدہ ہیں اور فیملی فرینڈ ہیں۔

(فوٹو : یوتھ فار ہیومن رائٹس ڈاکیومینٹیشن)

یوپی پولیس کے فرضی انکاؤنٹر معاملوں کو دبایا گیا، این ایچ آرسی نے بھی قوانین کی خلاف ورزی کی: رپورٹ

سول سوسائٹی گروپوں نے مارچ 2017 اور مارچ 2018 کے بیچ میں اتر پردیش میں پولیس انکاؤنٹر کے 17معاملوں کا مطالعہ کیا،جن میں18 لوگوں کی موت ہوئی تھی۔ ان میں سے کسی میں بھی کسی پولیس اہلکار پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ان معاملوں کی جانچ نیشنل ہیو من رائٹس کمیشن نے بھی کی تھی۔ ان میں سے 12 معاملوں میں کمیشن نے پولیس کو کلین چٹ دے دی ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی)

ایم پی: پاکستان کے حق میں نعرے بازی کے الزام میں 10 لوگ گرفتار، چار پر لگایا گیا این ایس اے

مدھیہ پردیش کے اجین شہر کا معاملہ۔الزام ہے کہ گزشتہ19 اگست کو اجین میں محرم کے موقع پر ایک پروگرام کے دوران کچھ لوگوں نے پاکستان کی حمایت میں نعرے لگائے تھے۔ کانگریس کے سینئر رہنمااور سابق وزیر اعلیٰ دگ وجئے سنگھ کا کہنا ہے کہ فرضی خبر کی بنیادپر‘قاضی صاحب زندہ باد’کو ‘پاکستان زندہ باد’بتاکر کئی لوگوں پر مقدمے دائر ہو گئے ہیں۔ مدھیہ پردیش پولیس کو کارروائی کرنے کےپہلے حقائق کا پتہ لگا لینا چاہیے تھا۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

پولیس انکاؤنٹر: کیا ’فوری انصاف‘ کے نام پر لاقانونیت کو قبول کیا جاسکتا ہے؟

ایک ملک اور ایک مجرم میں یہی فرق ہوتا ہے کہ ملک قانون کا پابند ہوتا ہے جبکہ مجرم اس کو توڑتا ہے۔ اگر ملک ایک بار بھی قانون توڑ دےتو اس کا مطلب ہوگا کہ وہ بھی مجرم کےخانے میں آ گیا اور اس کو حکومت کرنے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔

Don`t copy text!