Unemployment

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ(فوٹو : پی ٹی آئی)

معیشت کی صورت حال تشویشناک، حالیہ جی ڈی پی اعداد و شمار پوری طرح ناقابل قبول: منموہن سنگھ

رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں اقتصادی شرح نمو 4.5 فیصد رہنے کو سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ناکافی بتایا۔ انہوں نے یہ بھی جوڑا کہ معیشت کی حالت تشویشناک ہے لیکن ہمارے سماج کی حالت زیادہ تشویشناک ہے۔

The latest GDP figures confirm the slump in growth of India's economy. Photo: Pixelbay

رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں 4.5 فیصد رہا اقتصادی شرح نمو، 6 سال میں سب سے کم

این ایس او کے ذریعے جاری اعداد و شمار کے مطابق،مینوفیکچرنگ سیکٹر میں گراوٹ اور زراعتی شعبہ میں گزشتہ سال کے مقابلے کمزور مظاہرے میں مالی سال 2019-20 کی دوسری سہ ماہی میں جی ڈی پی شرح نمو 4.5فیصد رہ گئی۔ گزشتہ مالی سال کی اسی سہ ماہی میں یہ 7 فیصد تھی۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

پی ایم امپلائمنٹ جنریشن پروگرام  کے تحت گزشتہ سال کی بہ نسبت آدھے سے بھی کم روزگار پیدا ہوئے: حکومت

لیبر اور امپلائمنٹ منسٹر سنتوش گنگوار نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ یونین ٹرٹیری لکش دیپ میں پچھلے تین مالی سالوں میں پرائم منسٹر امپلائمنٹ جنریشن پروگرام کے تحت پیدا ہوئے روزگار کے مواقع کی تعداد زیرو رہی، جبکہ 2016-17 میں لکش دیپ میں روزگار کے 1398 مواقع پیدا ہوئے تھے۔

فوٹو: رائٹرس

ملک میں روزگار کی کمی نہیں،شمالی ہند میں اہل لوگوں کی کمی ہے: مرکزی وزیر سنتوش گنگوار

مرکزی وزیر برائے محنت و روزگار سنتوش گنگوار کے اس بیان پر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے کہا کہ شمالی ہندکےباشندوں کو ذمہ دار ٹھہرا کر وزیر روزگار کے سوالوں سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اروند سبرمنیم (فوٹو : پی ٹی آئی)

2011 سے 12اور 2016سے17 کے بیچ جی ڈی پی 7 فیصد نہیں، بلکہ 4.5 فیصد کی شرح سے بڑھی : اروند سبرمنیم

ملک کے سابق چیف اکانومک ایڈوائزراروند سبرمنیم کا کہنا ہے کہ سال 2011سے12 اور 2016سے17 کے دوران ملک کی جی ڈی پی کے اعداد و شمار کو کافی بڑھاچڑھاکر بتایا گیا۔ اس دوران جی ڈی پی سات فیصد نہیں، بلکہ 4.5 فیصد کی شرح سے بڑھی ہے۔

ادھو ٹھاکرے، فوٹو : پی ٹی آئی

شیو سینا نے کہا-نوکریاں نہ پیدا کر پانے کے لیے نہرو –گاندھی  فیملی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے

شیو سینا نےاپنے ماؤتھ پیس سامنا میں کہا ہے کہ محض لفظو ں کے کھیل یا اشتہارات سے بڑھتی بے روزگاری کا مدعا حل نہیں ہونے والا ۔صرف اشتہارات دینے سے ہی نوکریاں نہیں مل جائیں گی ۔

(علامتی فوٹو : رائٹرس)

انتخاب کے بعد مودی حکومت نے جاری کیا بےروزگاری سے متعلق اعداد وشمار، 45 سال میں سب سے زیادہ رہی بے روزگاری

عام انتخاب سے ٹھیک پہلے بےروزگاری سے متعلق اعداد و شمار پر مبنی یہ رپورٹ لیک ہو گئی تھی اور جمعہ کوحکومت کے ذریعے جاری اعداد و شمار میں اس کی تصدیق ہو گئی۔

آرٹ ورک : پرینکا کمار

الیکشن نامہ: سنیے،کیا بےروزگاری سچ مچ ایک انتخابی مدعا بن پایا ہے؟

آڈیو : دی وائر اردو اور سنو انڈیا کے اس خاص پوڈ کاسٹ سیریز الیکشن نامہ کے اس ایپی سوڈ میں سنیے اس لوک سبھا انتخاب میں نوجوانوں کا رول کیا ہے اور ان کے ایشوز کیا ہیں۔ ساتھ ہی جانیے ان نوجوانوں کے بارے میں جو ان انتخابات میں حصہ تو لے رہے ہیں پر چرچہ میں نہیں ہیں۔

فوٹو: رائٹرس

این اے پی ایس : 20 لاکھ نوجوانوں کو کرنا تھا روزگار کے لئے تیار، ہوئے صرف 2.90 لاکھ

مودی حکومت کے دعوے اور ان کی زمینی حقیقت پر اسپیشل سریز: 2016 میں مرکزی حکومت کے ذریعے شروع کی گئی اس اسکیم کا مقصد روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور نوجوانوں کو تربیت دے کر ان کو روزگار دینا تھا۔ آر ٹی آئی سے ملی جانکاری کے مطابق 31 مارچ 2018 تک 20 لاکھ ٹرینی کو تیار کرنے کا ہدف تھا، جس میں سے صرف 2.90 لاکھ ٹرینی تیار ہوئے۔ ان میں سے بھی محض 17493 کو اس اسکیم کا فائدہ ملا۔

آر بی آئی کے سابق گورنر رگھو رام راجن /فوٹو : پی ٹی آئی

ملک میں نوکریوں کی بھاری قلت ہے اور حکومت اس پر  توجہ نہیں دے رہی: رگھورام راجن

سابق آر بی آئی گورنر رگھو رام راجن نے کہا کہ ہمیں جاب سے متعلق ڈیٹا جمع کرنے والی شماریات میں اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔ہم ای پی ایف اویا اس طرح کے دوسرے ورزن پر منحصر نہیں رہ سکتے۔ہمیں بہتر جاب ڈیٹا جمع کرنے کی ضرورت ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

گزشتہ 6 سا لوں میں روزگارتلاش کرنے والی دیہی خواتین کی تعداد میں 2.8 کروڑ کی کمی

سال 2005-2004سے اب تک 5 کروڑ سے زیادہ دیہی خواتین نیشنل مارکیٹ کی نوکریاں چھوڑ چکی ہیں ۔ یہ اعداد و شمار این ایس ایس او کے پی ایل ایف ایس (Periodic Labour Force Survey) 2018-2017 کی رپورٹ پر مشتمل ہے جس کو مودی حکومت نے جاری کرنے پر روک لگادی ہے۔

(علامتی تصویر : پی ٹی آئی)

کھیتوں میں کام کرنے والے 3 کروڑ عارضی مزدور روزگارسے محروم: این ایس ایس او کی رپورٹ

این ایس ایس او کے ذریعے سال2018-2017 میں کئے گئے سروے سے یہ پتہ چلا ہے کہ 12-2011 سے لےکر18-2017 کے درمیان کھیت میں کام کرنے والے عارضی مزدوروں میں 40 فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ حکومت نے اس سروے کو جاری کرنے سے منع کر دیا ہے۔

The Prime Minister, Shri Narendra Modi addressing at the Business and Community event, at Marina Bay Sands Convention Centre, in Singapore on May 31, 2018.

مدرا یوجنا کے تحت ملے روزگار کے اعداد و شمار الیکشن کے بعد جاری کرے‌گی مودی حکومت

آئندہ لوک سبھا انتخابات سے پہلے روزگار کو لےکر یہ تیسری رپورٹ ہے جس کو مودی حکومت نے دبا دیا ہے۔ اس سے پہلے اس نے بےروزگاری پر این ایس ایس او کی رپورٹ اور لیبر بیورو کی نوکریوں اور بےروزگاری سے متعلق 6ویں سالانہ رپورٹ کو بھی جاری ہونے سے روک دیا تھا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

رویش کا بلاگ: وزیر اعظم کا راشٹرواد ووٹ پانے کا راستہ ہے

آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کیوں وزیر اعظم نریندر مودی بےروزگاری پر بات نہیں کر رہے ہیں۔ پلواما کے بعد ایئر اسٹرائک ان کے لئے بہانہ بن گیا ہے۔راشٹر واد راشٹر واد کرتے ہوئے انتخاب نکال لیں‌گے اور اپنی جیت‌کے پیچھے خوفناک بےروزگاری چھوڑ جائیں‌گے۔

علامتی تصویر (فوٹو : رائٹرس)

2016 کے بعد اس سال فروری میں سب سے زیادہ رہی بے روزگاری کی شرح

سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی(سی ایم آئی ای) کی منگل کو جاری رپورٹ کے مطابق، اس سال فروری میں بےروزگاری کی شرح 7.2 فیصد ہو گئی جو کہ ستمبر 2016 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ گزشتہ سال فروری میں یہ اعداد و شمار 5.9 فیصدی تھا۔

علامتی فوٹو: رائٹرس

این ایس ایس او رپورٹ پر فضیحت کے بعد حکومت ’مدرا یوجنا‘ سے ملے روزگار کے اعداد و شمار کو پیش کرے گی

نیتی آیوگ نے جمعرات کو منسٹری آف لیبر سے سروے کی کارروائی شروع کرنے اور 27 فروری کو اس کے نتائج پیش کرنے کے لیے کہا ہے تاکہ اس کو مارچ کے پہلے ہفتے میں جاری کیا جاسکے۔

سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ (فوٹو بہ شکریہ : فیس بک)

’جاب لیس‘ گروتھ اب بگڑ کر ’جاب لاس ‘گروتھ بن گئی ہے: منموہن سنگھ

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ ملک میں روزگار پیدا ہونے کے بجائے روزگار کے نقصان والی حالت بن گئی ہے۔ دیہی علاقے کے لوگوں کے قرض بڑھ رہے ہیں اور شہری بدانتظامی سے مستقبل کی بہتر توقع رکھنے والے نوجوانوں میں عدم اطمینان پیدا ہو رہا ہے۔

فوٹو: رائٹرس

گزشتہ 45 سالوں کے مقابلے 2017 سے 18 میں سب سے زیادہ رہی بے روزگاری: رپورٹ

نیشنل سیمپل سروےآفس (این ایس ایس او)نے یہ اعداد و شمار جولائی 2017 سے جون 2018 کے درمیان جمع کیے ہیں ۔ نومبر 2016 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعے نوٹ بندی کے بعد ملک میں روزگار کی صورت حال پر یہ پہلا سروے ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

مودی حکومت نے ریلوے میں 4 لاکھ لوگوں کو نوکری دینے کا کیا وعدہ ،پی چدمبرم نے بتایا ایک اور ’جملہ‘

وزیر ریل پیو ش گوئل نے بدھ کو کہا تھا کہ ریلوے آئندہ دو سالوں میں ریٹائر منٹ کی وجہ سے خالی ہوئے عہدوں اور دوسرے عہدوں کو ملا کر 4 لاکھ لوگوں کو نوکری دینے جارہی ہے۔

بینگلورو میں ایچ ڈی کمارسوامی کی حلف برداری کے دوران اسٹیج پر متحدہ ہوئے اپوزیشن کے رہنما (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

آئندہ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے؟

اتر پردیش میں کسی بھی پارٹی کے ساتھ اتحاد میں نہ رہنا کانگریس کے لیے بھی سودمند رہے گا۔ اس سے اسے راجستھان، مدھیہ پردیش و چھتیس گڑھ میں ایس پی، بی ایس پی کے امیدواروں کا تصفیہ کرنے میں آسانی ہوگی، جہاں پارٹی کو بی جے پی سے سیدھے مقابلے میں زیادہ فائدہ ہونے کی امید ہے۔

مدھیہ پردیش کے چھندواڑا میں ایک انتخابی ریلی کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی (فوٹو بشکریہ: ٹوئٹر / بی جے پی)

رویش کمار نے وزیر اعظم کے لیے اسپیچ لکھی ہے،کیا وہ اس کو پڑھ سکتے ہیں؟

بی جے پی کی حکومت نے اعلیٰ تعلیم پرسب سے زیادہ پیسے بچائے ہیں۔ ہمارا نوجوان خودہی پروفیسر ہے۔ وہ تو بڑےبڑے کو پڑھا دیتا ہے جی، اس کو کون پڑھائے‌گا۔ مدھیہ پردیش کے پونے 6لاکھ نوجوان کالجوں میں بنا پروفیسر،اسسٹنٹ پروفیسر کے ہی پڑھ رہے ہیں۔ ہمارا نوجوان ملک مانگتا ہے، کالج اور کالج میں ٹیچرنہیں مانگتا ہے۔

Credit: Valay Singh

بڑھتی بے روزگاری اور معاشی ترقی ، آخر کھیل کیا ہے ؟

سرکاری خزانے میں یہ بے روزگار نوجوان کتنا مالی تعاون دیتے ہیں۔مدھیہ پردیش کے ویاپم گھپلے کے دوران یہ راز فاش ہو اتھا کہ گذشتہ پانچ برسوں میں تقریباً86 لاکھ بے روزگاروں نے مختلف سرکاری نوکریوں کے لئے جو فارم بھرے تھے اس فارم کی فیس سے حکومت کو چار سو تیس کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے۔

علامتی تصویر/فوٹو: رائٹرز

رویش کا بلاگ : نوجوانوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ روزگار کو لےکر اُن کے وزیر اعظم کا نظریہ کیا ہے ؟

ہندوستانی نوجوان پرماننٹ روزگار کی تیاری میں جوانی کے پانچ پانچ سال ہون کر رہے ہیں۔ان سے یہ بات کیوں نہیں کہی جا رہی ہے کہ روزگار کا چہرہ بدل گیا ہے۔ اب عارضی کام ہی روزگار کا نیا چہرہ ہوگا۔

فوٹو: ٹوئٹر

مدھیہ پردیش : ایک غیر سیاسی تنظیم جس نے بے روزگاری کو انتخابی مدعا بنا دیا

بےروزگار سیناکی تشکیل اسی سال ہوئی اور شروعات سے ہی اس نے بےروزگاری کے مسئلے پر مسلسل آواز اٹھائی۔ خاص طور پر صوبہ میں پڑھے لکھے نوجوانوں کو نوکری نہ ملنا اور بےروزگاری کی بڑھتی شرح کو لے کر اس نے احتجاج کئے۔

Don`t copy text!