Unlawful Activities (Prevention) Act

سریندر گاڈلنگ (فوٹوبہ شکریہ فیس بک)

ممبئی: اب ای ڈی کرے گی ایلگار پریشد کیس کی تحقیقات، سریندر گاڈلنگ پر منی لانڈرنگ کا الزام

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ایلگار پریشد کیس میں جیل میں بند انسانی حقوق کے کارکن سریندر گاڈلنگ پر ممنوعہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤ نواز) کی سرگرمیوں کو چلانے کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اس سلسلے میں ایک خصوصی عدالت میں عرضی داخل کرکے گاڈلنگ سے پوچھ گچھ کرنے کی اجازت طلب کی گئی ہے۔

یاسین ملک۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

یاسین ملک کی عمر قید ہندوستان کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہے

کیا یاسین ملک اپنے اوپر عائد الزامات کے لیے قصوروار ہیں؟ یہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ نہیں ہیں، لیکن جو حکومتیں برسوں سے جاری تنازعات کے پرامن حل کے لیے سنجیدہ ہیں، ان کے پاس اس طرح کے جرائم سے نمٹنے کے اور طریقے ہیں۔

علیحدگی پسند کشمیری رہنما یاسین ملک کو بدھ کے روز دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

علیحدگی پسند کشمیری رہنما یاسین ملک کو عمر قید کی سزا

یاسین ملک کو دو جرائم – آئی پی سی کی دفعہ 121 (حکومت ہند کے خلاف جنگ چھیڑنا) اور یو اے پی اے کی دفعہ 17 (دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے فنڈ اکٹھا کرنا) – کے لیے قصوروار ٹھہراتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ 10 مئی کو ملک نے 2017 میں وادی میں مبینہ دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے متعلق ایک معاملے میں عدالت کے سامنے تمام الزامات کو قبول کر لیا تھا۔

(علامتی تصویر، بہ شکریہ: Ahdieh Ashrafi/Flickr CC BY-NC-ND 2.0)

سیڈیشن پر پابندی بجا ہے، لیکن عدالتوں کو حکومت کے جابرانہ رویوں کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے

اس بات کا امکان ہے کہ سیڈیشن کے جلد خاتمہ کے بعد صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں ،حزب اختلاف کے رہنماؤں کو چپ کرانے اور ناقدین کو ڈرانے کے لیے ملک بھر کی پولیس (اور ان کے آقا) دوسرے قوانین کے استعمال کی طرف قدم بڑھائے گی۔

(تصویر: دی وائر)

سپریم کورٹ نے قانون پر نظر ثانی تک سیڈیشن معاملوں کی کارروائی پر روک لگائی

سپریم کورٹ کی ایک خصوصی بنچ نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ مرکز اور ریاستی حکومتیں کسی بھی ایف آئی آر کو درج کرنے، جانچ جاری رکھنے یا آئی پی سی کی دفعہ 124 اے (سیڈیشن) کے تحت زبردستی قدم اٹھانے سے تب تک گریز کریں گی، جب تک کہ اس پر نظر ثانی نہیں کر لی جاتی ۔ یہ مناسب ہوگا کہ اس پر نظرثانی ہونے تک قانون کی اس شق کااستعمال نہ کیا جائے۔

ڈاکٹر آنند تیلتمبڑے اپنی اہلیہ رما کے ساتھ۔ (فوٹوبہ شکریہ: تیلتمبڑے فیملی)

’گزشتہ دو سالوں میں میری اور آنند کی زندگی ٹھہر گئی ہے …‘

ایلگار پریشد معاملے میں ملزم بنائے گئے سماجی کارکن اور ماہر تعلیم ڈاکٹر آنند تیلتمبڑے نے اپریل 2020 میں عدالت کے فیصلے کے بعد این آئی اے کے سامنے خودسپردگی کی تھی۔ دو سال گزرنے کے باوجود ان کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہو سکے ہیں۔ ان کی اہلیہ رما تیلتمبڑے نے ان دو سالوں کا تکلیف دہ تجربہ تحریر کیا ہے۔

(فوٹوبہ شکریہ: اے این آئی)

جموں و کشمیر: 2011 میں لکھے گئے مضمون کی وجہ سے پولیس نے یو اے پی اے کے تحت پی ایچ ڈی کے طالبعلم کو گرفتار کیا

کشمیر یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی کے طالبعلم عبد العالا فاضلی نے تقریباً 11 سال قبل 6 نومبر 2021 کو آن لائن میگزین ‘دی کشمیر والا’ میں ایک مضمون لکھا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ مضمون انتہائی اشتعال انگیز تھا اور جموں و کشمیر میں بدامنی پھیلانے کی نیت سے لکھا گیا تھا۔ اس کا مقصد دہشت گردی کو بڑھاوا دینا اور نوجوانوں کو تشدد کا راستہ اختیار کرنے کی ترغیب دینا تھا۔

گوہر گیلانی ، فوٹو بہ شکریہ : ٹوئٹر

جموں و کشمیر: مصنف اور صحافی گوہر گیلانی کا وارنٹ گرفتاری جاری

شوپیاں کےایگزیکٹیو مجسٹریٹ نےگرفتاری وارنٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گوہر گیلانی لگاتارعوامی امن وامان کو متاثرکر رہے ہیں۔ انہیں 7 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے بلایا گیا تھا، لیکن وہ حاضر نہیں ہوئے۔

 جسٹس آر ایف نریمن(فوٹو : یوٹیوب)

مقتدرہ جماعت نہ صرف ہیٹ اسپیچ پر خاموش ہیں، بلکہ اس کو بڑھاوا بھی دے رہے ہیں: جسٹس نریمن

سپریم کورٹ کے سابق جج روہنٹن نریمن نے لاء کالج کے ایک پروگرام میں کہا کہ اظہار رائے کی آزادی سب سے اہم انسانی حق ہے، لیکن بدقسمتی سے آج کل اس ملک میں نوجوان، طالبعلم، کامیڈین جیسےکئی لوگوں کی جانب سےحکومت کی تنقیدکیے جانے پر نوآبادیاتی سیڈیشن قانون کے تحت معاملہ درج کیا جا رہا ہے۔

(فوٹوبہ شکریہ: انصاف)

ہندوستان میں انسانی حقوق کے کارکنوں پر حملوں کے خلاف انٹرنیشنل گروپ نے کہا-آواز اٹھانا نہیں اس کو دبانا اینٹی نیشنل

دنیا بھر کے 15 سےزیادہ ممالک کے ہندوستانی تارکین وطن اور 30 بین الاقوامی انسانی حقوق کے گروپوں نے ہندوستان میں انسانی حقوق پر ہو رہےحملوں کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے اُن قوانین کو رد کرنے کی وکالت کی بھی ہےجو انسانی حقوق کےتحفظ کو جرم قرار دے رہے ہیں اورانسانی حقو ق کے کارکنوں کو جیل میں ڈال رہے ہیں۔

جیل سے رہا ہونے کے بعد سدھا بھاردواج۔ (فوٹو بہ شکریہ ٹوئٹر/@IJaising)

ایلگار پریشد معاملے میں ملزم سدھا بھاردواج تین سال بعد جیل سے رہا

بامبے ہائی کورٹ نے 60سالہ وکیل اور کارکن سدھا بھاردواج کو گزشتہ یکم دسمبر کو ضمانت دے دی تھی۔ بھاردواج کو اگست 2018 میں پونے پولیس نے یو اے پی اے کے تحت جنوری 2018 کے بھیما کورےگاؤں تشدد اور ماؤنوازوں کے ساتھ مبینہ روابط کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

3011 Gondi.00_01_30_22.Still009

سدھا بھاردواج کو ضمانت: کیا سب سے بڑی جمہوریت میں سیاسی قیدیوں کے حقوق محفوظ ہیں؟

ویڈیو: بھیماکورےگاؤں -ایلگار پریشد معاملے میں ساڑھے تین سال سے جیل میں بند وکیل سدھا بھاردواج کو گزشتہ دنوں بامبے ہائی کورٹ نے ڈفالٹ ضمانت دے دی ہے۔ حالانکہ عدالت نے دیگر آٹھ ملزمین کی ضمانت عرضی ایک بار پھر خارج کر دی ہے۔

سریندر گاڈلنگ (فائل فوٹو:  پی ٹی آئی)

ایلگار پریشد: سریندر گاڈلنگ نے جیل حکام پر دوائیوں کی سپلائی روکنے کا الزام لگایا  

ایلگارپریشدمعاملےمیں ملزم وکیل سریندرگاڈلنگ نےتلوجہ سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ پر ان کی دوائیوں کی سپلائی روکنے کاالزام لگایا ہے۔ بتایا گیا کہ ان دوائیوں کےلیےان کےاہل خانہ نے نچلی عدالت سے اجازت لی تھی،لیکن اب عدالتی احکامات کی بھی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

سدھا بھاردواج، فوٹو: دی وائر

این آئی اے کورٹ نے سدھا بھاردواج کو جیل سے رہا کرنے کی اجازت دی

این آئی اے کی خصوصی عدالت نےوکیل اور کارکن سدھا بھاردواج کو 50 ہزار روپے کے مچلکے پر رہائی دیتے ہوئے کہا کہ انہیں عدالت کے دائرہ اختیار میں رہنا ہوگا اور عدالت کی اجازت کے بغیر ممبئی نہیں چھوڑیں گی۔اس کے ساتھ ہی ان کے میڈیا کے ساتھ بات چیت پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

تریپورہ میں ہوئےتشدد اور فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے ارکان کے خلاف درج یو اے پی اے کیس کے خلاف دہلی کے تریپورہ بھون میں مظاہرہ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

تریپورہ: فرقہ وارانہ تشدد پر سوشل میڈیا پوسٹ کے لیے 102 لوگوں پر یو اے پی اے کے تحت مقدمہ

تین نومبر کو لکھے ایک خط میں مغربی اگرتلہ تھانے نے ٹوئٹر کو اس کے پلیٹ فارم سے کم از کم 68 اکاؤنٹس کو بلاک کرنے اور ان کی نجی جانکاری دینے کی درخواست کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے خلاف یو اے پی اے کی دفعہ13 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔اپوزیشن نے اس کو لےکرمقتدرہ بی جے پی کو نشانہ بنایا ہے۔

تریپورہ میں ہوئےتشدد اور فیکٹ پھائنڈنگ ٹیم کےارکان پر درج یو اے پی اے کے معاملے کے خلاف  دہلی کے تریپورہ بھون پر ہوا احتجاج۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

تریپورہ میں فرقہ وارانہ تشدد کا فائدہ کس کو مل رہا ہے …

تریپورہ میں مسلمانوں کے خلاف تشدد بی جے پی کی سیاسی ضرورت ہے۔ ایک تو انتخاب ہونے والے ہیں اور جانکاروں کا کہنا ہے کہ ہر انتخاب میں ایسےتشدد سے بی جے پی کو فائدہ ہوتا ہے۔اس کے علاوہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہندو سماج کا مزاج بنانے کے لیے ایسے تشددکی تنظیم ضروری ہے۔

(فوٹو:  پی ٹی آئی)

تریپورہ تشدد: فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کا حصہ رہے دو وکیلوں کے خلاف یو اے پی اے کے تحت معاملہ درج

وکیل انصاراندوری اورمکیش اس چاررکنی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کا حصہ تھے،جس نے تریپورہ میں مسلم مخالف تشدد کی رپورٹ کے بعد خطے میں کشیدگی کے ماحول کے جائزہ کے لیےصوبے کا دورہ کیا تھا۔ مغربی اگرتلہ تھانے کے عہدیداروں کی جانب سےدائر معاملے میں ان پر مذہبی گروہوں کے بیچ عداوت پیدا کرنے،امن و امان کو خراب کرنے سمیت کئی الزام لگائے گئے ہیں۔

جسٹس روہنٹن نریمن۔ (السٹریشن: دی وائر)

لوگ آزادی سے سانس لے سکیں، اس لیے یو اے پی اے اور سیڈیشن قانون کو رد کرنا چاہیے: جسٹس نریمن

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس روہنٹن نریمن نے کہا کہ شاید یہی وجہ ہے کہ ان جابرانہ قوانین کی وجہ سےبولنے کی آزادی پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔اگرآپ ان قوانین کے تحت صحافیوں سمیت تمام لوگوں کو گرفتار کر رہے ہیں، تو لوگ اپنے دل کی بات نہیں کہہ پائیں گے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی)

جموں وکشمیر: یو اے پی اے-پی ایس اے ملزمین سے رابطہ رکھنے والے سرکاری ملازم برخاست کیے جائیں گے

جموں وکشمیر کے جنرل ایڈمنسٹریشن کی جانب سے15ستمبر کو جاری کیے گئے نئے ضابطوں سے جموں وکشمیر کے چھ لاکھ سرکاری ملازمین کی اظہار رائے کی آزادی شدید طور پرمتاثر ہو سکتی ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ یو اے پی اے اور پی ایس اے کا استعمال اختلافات کو دبانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

فوٹو: بہ شکریہ فیس بک

سال 2018 میں صحافی کے خلاف درج کیس کو جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے قانون کا غلط استعمال بتایا

جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ اس طرح ایف آئی آر درج کرنا صحافی کو ‘چپ کرانے’ کا طریقہ تھا۔ صحافی کی ایک رپورٹ 19اپریل2018 کو جموں کےایک اخبار میں شائع ہوئی تھی، جو ایک شخص کو پولیس حراست میں ہراساں کرنے سے متعلق تھی۔ اس کو لےکر پولیس نے ان پر کیس درج کیا تھا۔

(السٹریشن: دی وائر)

وزارت داخلہ نے دہلی میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار لوگوں کے نام بتانے سے کیوں انکار کیا

گزشتہ دنوں لوک سبھا میں وزیرمملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے ‘عوامی مفاد’کا حوالہ دیتے ہوئے دہلی پولیس کی جانب سے درج یو اے پی اےمعاملوں کی جانکاری دینے سےمنع کردیا۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس بارے میں ساری جانکاری عوامی طور پر دستیاب ہے۔ یہ بھی قابل غور ہے کہ دہلی میں اس سخت قانون کے تحت گرفتار 34 لوگوں میں اکثر مذہبی اقلیت ہیں۔

(السٹریشن دی وائر)

جموں وکشمیر: 2019 سے یو اے پی اے کے تحت 2300 سے زیادہ لوگوں پر کیس، لگ بھگ آدھے ابھی بھی جیل میں

اس بیچ مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ 2019 میں یو اے پی اے کے تحت 1948 لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور 34 ملزمین کو قصوروار ٹھہرایا گیا۔ ایک اور سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ 31 دسمبر 2019 تک ملک کی مختلف جیلوں میں478600قیدی بند تھے،جن میں144125 قصوروار ٹھہرائے گئے تھے جبکہ 330487 زیر سماعت و 19913 خواتین تھیں۔

سریندر گاڈلنگ (فوٹوبہ شکریہ فیس بک)

ایلگار پریشد معاملہ: عدالت نے سریندر گاڈلنگ کو عارضی ضمانت دی

ایلگار پریشد معاملے میں گرفتار وکیل سریندر گاڈلنگ کی ماں کا پچھلے سال 15 اگست کوانتقال ہو گیا تھا۔ بامبے ہائی کورٹ نے گاڈلنگ کو 13 اگست سے 21 اگست تک عارضی ضمانت دیتے ہوئے این آئی اے کےسامنے اپنا پاسپورٹ جمع کرانے، ضمانت کی مدت کے لیے پوراپروگرام دینے اور ناگپور شہر چھوڑکر نہیں جانے کے لیے کہا ہے۔

(فوٹو بہ شکریہ: Gordon Johnson/Pixabay/السٹریشن: د ی وائر)

ارندھتی را ئے کی خصوصی تحریر: پیگاسس جاسوسی، یہ جیب میں جاسوس لے کر چلنے سے کہیں آگے کی بات ہے

ٹکنالوجی کو واپس نہیں لیا جا سکتا۔لیکن اسے کھلے بازار میں بےقابو، قانونی صنعت کے طور پر کام کرنے کی اجازت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس پر قانون کی گرفت ہونی چاہیے۔ تکنیک رہ سکتی ہے، لیکن صنعت کا رہنا ضروری نہیں ہے۔

اسٹین سوامی۔ (السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر)

فادر، انہیں معاف کر دینا…

فادراسٹین سوامی کی حراست، خارج ہوتی ضمانت، بنیادی ضرورتوں کے لیے عدالت میں عرضیاں اور آخر میں اپنوں سے دور ایک انجان شہر میں ان کا گزر جانا یہ احساس دلاتا ہے کہ ان کے خلاف کوئی الزام طے کیے بنا اور ان پر کوئی مقدمہ چلائے بغیر ان کے لیے سزائے موت مقررکر دی گئی۔

WhatsApp Image 2021-07-06 at 23.10.44

اسٹین سوامی کی غیرانسانی موت کا ذمہ دار کون؟

ویڈیو:بھیما کورےگاؤں-ایلگارپریشد معاملے میں پچھلے سال آٹھ اکتوبر کو گرفتار کیے گئے آدی واسی حقوق کے لیے لڑنے والے 84 سالہ سماجی کارکن اسٹین سوامی کاانتقال ​پانچ جولائی کو میڈیکل کی بنیاد پر ضمانت کا انتظار کرتے ہوئے اسپتال میں ہو گیا۔ ان کے اہل خانہ نےسوگواری کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ان کی موت کے لیے پوری طرح سے لاپرواہ جیل،عدالتیں اور جانچ ایجنسیاں ذمہ دار ہیں۔

Gadling-Arsenal

سریندر گاڈلنگ کا کمپیوٹر ہیک کر ڈالے گئے تھے ان کو ملزم ٹھہرانے والے دستاویز: رپورٹ

امریکہ کے میساچوسیٹس کی ڈیجیٹل فارنسک کمپنی آرسینل کنسلٹنگ کی جانچ رپورٹ بتاتی ہے کہ ایلگار پریشد معاملے میں حراست میں لیے گئے 16لوگوں میں سے ایک وکیل سریندر گاڈلنگ کے کمپیوٹر کو 16فروری 2016 سے ہیک کیا جا رہا تھا۔ دو سال بعد انہیں چھ اپریل 2018 کو گرفتار کیا گیا تھا۔

فادر اسٹین سوامی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

جیل میں کورونا سے متاثر ہونے کے بعد فادر اسٹین سوامی کی موت، عدالتی تحقیقات کا مطالبہ

ایلگار پریشدمعاملے میں گرفتار 84سالہ سماجی کارکن اسٹین سوامی کی حالت کئی دنوں سے نازک بنی ہوئی تھی اور وہ لائف سپورٹ سسٹم پر تھے۔ ان کے قریبی لوگوں نے تلوجہ جیل پر الزام لگایا ہے کہ صحت کی سہولیات کی عدم فراہمی کے سبب سوامی کی حالت بدتر ہوئی تھی۔

عمر خالد، فادرا سٹین سوامی اور ہینی بابو ایم ٹی۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/پی ٹی آئی/ٹوئٹر)

کیا عدالتیں اپنے اوپر عائد کی گئی غیر ضروری پابندیوں سے خود کو آزاد کر پائیں گی

انسان کی آزادی سب سے اوپر ہے۔ جو ضمانت ایک ٹی وی پروگرام کرنے والے کا حق ہے، وہ حق گوتم نولکھا یا فادرا سٹین کا کیوں نہیں، یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ عدالت کہےگی ہم کیا کریں، الزام یو اے پی اے قانون کے تحت ہیں۔ ضمانت کیسے دیں! لیکن اپنے او پر یہ بندش بھی خود سپریم کورٹ نے ہی لگائی ہے۔

(علامتی  تصویر: پی ٹی آئی)

سیڈیشن کے معاملوں میں مرکز کا کوئی رول نہیں، ریاست درج کراتے ہیں مقدمے: مرکزی حکومت

سیڈیشن کے معاملوں میں قصور ثابت ہونے کی شرح کافی کم ہونے کو لےکر راجیہ سبھا میں اپوزیشن نے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ جی کشن ریڈی نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ حکومت نے سیڈیشن سمیت مجرمانہ قانون میں اصلاحات کے لیے ایک کمیٹی بنائی ہے اور مختلف جماعتوں سے اس سلسلے میں تجاویزطلب کی گئی ہیں۔

law-1063249_960_720

گجرات: سیمی کا ممبر ہو نے کے الزام میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار 122 افرادکو 20 سال بعد عدالت نے بری کیا

گجرات میں سورت کی ایک عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے کے لیے ٹھوس، قابل اعتماد اور تسلی بخش شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا کہ ملزم سیمی سے وابستہ تھے اور کالعدم تنظیم کی سرگرمیوں کو رفتار دینے کے لیے جمع ہوئے تھے۔

bhima

بھیما کورے گاؤں : کیا رونا ولسن کے کمپیوٹر میں پلانٹ کیے گئے تھے انہیں ملزم  ٹھہرانے والے دستاویز

ویڈیو:بھیما کورےگاؤں ایلگار پریشد معاملے میں ملزمین کے وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزمین میں سے ایک رونا ولسن کے لیپ ٹاپ سے برآمد مبینہ سازش کے میل انہوں نے نہیں لکھے تھے بلکہ انہیں پلانٹ کروایا گیا تھا۔ کیا ہے یہ پورا معاملہ، بتا رہے ہیں مکل سنگھ چوہان۔

رونا ولسن۔ (فوٹو: یوٹیوب/پکسابے)

رونا ولسن کے لیپ ٹاپ میں پلانٹ کیے گئے تھے ’مجرمانہ‘ دستاویز: یو ایس ڈیجیٹل فارینسک فرم

ایلگار پریشدمعاملے میں گرفتار سماجی کارکن رونا ولسن کے کمپیوٹر سے ملے خطوط کی بنیاد پر ولسن سمیت پندرہ کارکنوں پر سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے تھے۔ اب معاملے کے الیکٹرانک شواہد کی جانچ کرنے والے امریکی فرم کا کہنا ہے کہ انہیں ایک سائبر حملے میں ولسن کے لیپ ٹاپ میں ڈالا گیا تھا۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

سال 2019 میں سیڈیشن کے 93 معاملوں میں 96 گرفتار: مرکز

مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ جی کشن ریڈی نے راجیہ سبھا کو بتایا کہ 2019 میں 76 لوگوں کے خلاف چارج شیٹ دائر کیےگئے، جبکہ 29 لوگوں کو عدالتوں کی جانب سے بری کر دیا گیا۔ سب سے زیادہ معاملے کرناٹک میں درج کیے گئے۔

(علامتی تصویر، فوٹو:رائٹرس)

سال 2016-2019 کے دوران یو اے پی اے کے تحت 5922 لوگوں کو گرفتار کیا گیا: سرکار

راجیہ سبھا میں مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ جی کشن ریڈی نے بتایا کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے تازہ ترین اعدادوشمارکےمطابق سال2019 میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیے گئےافراد کی کل تعداد 1948 ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2016 سے 2019 کے دوران قصوروار ثابت ہوئے افراد کی تعداد132 ہے۔

ورورا راؤ

اسرائیلی شعرا نے کیا ورورا راؤ کی رہائی کا مطالبہ،کہا-جیلوں کو شاعروں سے نہیں بھرا جانا چاہیے

اسرائیل میں ہندوستانی سفیر کو بھیجے گئے خط میں وہاں کے شعرا کے ایک گروپ نے تیلگوشاعراورسماجی کارکن ورورا راؤ کی فوراً رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ راؤ اپنےجرأت مندانہ افکار کے باعث کئی بڑے کارپوریٹ،طاقتور اور بدعنوان رہنماؤں کے دشمن بن گئے ہیں۔

Don`t copy text!