up police

اعظم گڑھ لوک سبھا سیٹ پر ضمنی انتخاب کے تحت جمعرات کو ووٹ ڈالے گئے۔ ایس پی نے اس دوران گڑبڑی  کے الزام لگائے ہیں۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

یوپی ضمنی انتخاب: مسلمانوں کا الزام – پولیس نے انہیں ووٹ ڈالنے سے روکا، پولیس نے کہا – بھیڑ کو کنٹرول کر رہے تھے

اتر پردیش میں رام پور اور اعظم گڑھ کی لوک سبھا سیٹوں کے ضمنی انتخاب کے لیے جمعرات کو ووٹنگ کے دوران سوشل میڈیا پر ایسے ویڈیوز وائرل ہو رہے ہیں، جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پولیس مسلم ووٹروں کو پولنگ مراکز کے اندر جانے سے روک رہی ہے۔ وہیں اپوزیشن پارٹی ایس پی نے بھی مختلف علاقوں میں گڑبڑی کا الزام لگاتے ہوئے کئی ٹوئٹ کیے ہیں۔

The Wire

یوپی: عدالت نے کسانوں کے احتجاجی مظاہرہ سے متعلق رپورٹ پر دی وائر اور مدیر کے خلاف درج مقدمہ کو خارج کیا

چھبیس جنوری 2021 کو نئی دہلی میں زرعی قوانین کے خلاف مظاہرہ کے دوران احتجاج کررہے ایک شخص کی موت سے متعلق رپورٹ کے سلسلے میں دی وائر، اس کے مدیر سدھارتھ وردراجن اور رپورٹر عصمت آرا کے خلاف یوپی پولیس کی طرف سے درج کی گئی ایف آئی آر کو خارج کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ خبرمیں کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی نہیں تھی۔

آشیش مشرا (درمیان میں)۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

لکھیم پور تشدد: سپریم کورٹ نے مرکزی وزیر کے بیٹے کو ضمانت دینے کے فیصلے کو رد کیا

گزشتہ سال 3 اکتوبر کو لکھیم پور کھیری ضلع کے تکونیہ گاؤں میں کسانوں کے احتجاج کے دوران ہوئے تشدد میں چار کسانوں سمیت آٹھ افراد مارے گئے تھے۔ اس معاملے میں وزیر مملکت برائے داخلہ اجئے کمار مشرا ‘ٹینی’ کے بیٹے آشیش مشرا کو 9 اکتوبر 2021 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے انہیں 10 فروری کو ضمانت دی تھی۔

اجئے مشرا۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

یوپی: مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجئے مشرا کو قتل کے معاملے میں بری کیے جانے کی اپیل پر 16 مئی کو سماعت

مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجئے مشرا ‘ٹینی’ اور دیگر کے خلاف لکھیم پور کھیری ضلع کے تکونیہ پولیس اسٹیشن میں ایک 24 سالہ نوجوان کے قتل کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ وہیں مرکزی وزیر کے بیٹے آشیش مشرا پر گزشتہ سال ضلع میں تشدد کے دوران چار کسانوں اور ایک صحافی کو ایس یو وی سے کچل کر ہلاک کردینے کا الزام ہے۔

(تصویر: پی ٹی آئی)

یوپی پولیس نے کہا – گورکھ ناتھ مندر میں جوانوں پر حملہ دہشت گردانہ واقعہ، ملزم کو بھیجا جیل

گورکھپور کے گورکھ ناتھ مندر کے گیٹ پر مذہبی نعرہ لگاتے ہوئے ایک نوجوان نے مندر میں داخل ہونے کی کوشش کی اور دو سیکورٹی گارڈز پر تیز دھار ہتھیار سے حملہ کر دیا۔ نوجوان کی شناخت احمد مرتضیٰ عباسی کے طور پر کی گئی ہے جس نے آئی آئی ٹی ممبئی سے انجینئرنگ کی ہے۔

سُلی ڈیلز ایپ کا اسکرین شاٹ۔

دہلی: سُلی ڈیلز اور بُلی بائی ایپ بنانے والے ملزمین کو ضمانت ملی

سُلی ڈیلز اور بُلی بائی ڈیلز نامی ایپ پر سینکڑوں مسلم خواتین کی تصاویر ان کی رضامندی کے بغیر ‘نیلامی’کے لیے ڈالی گئی تھیں۔ سُلی ڈیلزبنانے والےاومکاریشور ٹھاکر کو ضمانت دیتے ہوئے دہلی کی ایک عدالت نے کہا کہ ملزم نے پہلی بار جرم کیا ہے اور طویل عرصےتک قید اس کے لیے نقصاندہ ہو سکتی ہے۔

(تصویر: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

آئینی اداروں سے مسلم مخالف تشدد روکنے کی اپیل، صحافیوں نے کہا – خاموشی کوئی آپشن نہیں

ملک کے 28 سینئر صحافیوں اور میڈیا پرسن نے صدر جمہوریہ، سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس کے ججوں، الیکشن کمیشن آف انڈیا اور دیگر قانونی اداروں سے ملک کی مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر ہورہےحملوں کو روکنے کی اپیل کی ہے۔

یوگی آدتیہ ناتھ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

امریکی لا فرم نے ’انکاؤنٹر‘ میں ہلاکتوں کے لیے یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا

امریکی وکیلوں کے ایک بین الاقوامی گروپ گورینیکا 37 نے یو ایس ٹریژری ڈپارٹمنٹ کے پاس جمع کرائی گئی ایک درخواست میں مطالبہ کیا ہے کہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ سابق ڈی جی پی اوم پرکاش سنگھ اور کانپور کےایس پی سنجیو تیاگی کےخلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی وجہ سے عالمی پابندیاں عائد کی جائیں۔

1902 TWBR.00_40_21_00.Still008

سی اے اے تحریک کے دوران جیل جانے والی کانگریس امیدوار صدف جعفر نے یوگی آدتیہ ناتھ کو دیا چیلنج

ویڈیو: اتر پردیش کی لکھنؤ سینٹرل سیٹ سے کانگریس نےسی اے اے تحریک کے دوران جیل جانے والی سماجی کارکن صدف جعفر کواپنا امیدوار بنایا ہے۔ جعفر کو سی اے اے مخالف مظاہروں کا فیس بک لائیو کرنے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ اسکول ٹیچر اور سماجی کارکن سے لیڈر بنیں صدف سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

ہاتھرس گینگ ریپ متاثرہ کے آخری رسومات کی ادائیگی کرتے پولیس اہلکار۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

اتر پردیش میں لاء اینڈ آرڈر کو بہتر بنانے کے بی جے پی کے دعووں میں کتنی سچائی ہے؟

گزشتہ پانچ سالوں میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے خواتین، اقلیتوں اور اختلاف رائے کا اظہار کرنے والوں پر ہوئے جبر واستبدادکو نظر انداز کیا ہے یا اس عمل میں خود اس کا رول رہا ہے۔ اس صورتحال میں بھی ستم ظریفی یہ ہے کہ بی جے پی ریاست میں امن و امان کے خودساختہ ریکارڈ کو کامیابی کےطور پر پیش کر رہی ہے۔

24 جنوری کو پٹنہ میں ریلوے ٹریک پر مظاہرہ کر رہے امیدوار۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

اسٹوڈنٹ کے مظاہرہ کے سلسلے میں مایاوتی نے کہا–نوجوانوں سے پکوڑے فروخت کروانے کی سوچ بدلے بی جے پی

آر آر بی-این ٹی پی سی امتحان کے سلسلے میں طلبا کے مظاہروں کے بارے میں بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ غریب اور بے روزگار نوجوانوں کےمستقبل کے ساتھ کھلواڑکرنا اور احتجاج کرنے پر ان کی پٹائی کرنا بالکل نامناسب ہے۔ وہیں کانگریس نے نوجوانوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے مسائل کو فوراً حل کرے اور گرفتار طلبا کو رہا کرے۔

گیا میں مظاہرین نےیارڈ میں کھڑی ٹرین کی بوگی کو آگ لگا دی تھی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

آر آر بی امتحان کے خلاف احتجاجی مظاہرہ جاری، یوپی میں طلبا کی پٹائی کرنے والے 6 پولیس اہلکار معطل

ریلوےبھرتی بورڈ کی جانب سےغیرتکنیکی زمروں (آرآر بی-این ٹی پی سی)کے لیےامتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کےخلاف احتجاجی مظاہروں کے بیچ ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو نے امن و امان بنائے رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے طلبہ کو ان کی شکایات کے ازالے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

(تصویر: پی ٹی آئی)

ریلوے بھرتی امتحان کے نتائج کے خلاف شدید احتجاج، الہ آباد پولیس نے ہاسٹل میں گھس کر طالبعلموں کی پٹائی کی

ریلوےبھرتی بورڈ کےآرآر بی-این ٹی پی سی امتحان 2021 کے نتائج کے خلاف الہ آباد میں ریلوے ٹریک پر اترنے والے امیدواروں پر پولیس نے لاٹھیاں برسائیں، وہیں بہار کے سیتامڑھی میں پولیس نے ہوائی فائرنگ کرکے مظاہرین کو منتشر کیا۔ احتجاجی مظاہروں کے بیچ ریلوے نے پٹری پر مظاہرہ، ٹرین کی آمدورفت میں خلل ڈالنے اور ریلوے کی املاک کو نقصان پہنچانے جیسی سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کو زندگی بھر کے لیےنوکری سے محروم رکھنے کی وارننگ دی ہے۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

بُلی بائی ایپ کے نشانے پر رہی خواتین کے پاس ایک ہی راستہ ہے … وہ ہے آگے بڑھتے رہنا

سال 2021 میں اقلیتوں کے خلاف ہیٹ کرائم میں اضافہ ہوا، لیکن میڈیا خاموش رہا۔ اس سال کی ابتدا اور زیادہ نفرت سے ہوئی، لیکن اس کے خلاف ملک بھر میں آوازیں بلند ہوئی۔ اقلیتوں اور خواتین سے نفرت کی مہم کا نشانہ بننے کے بعد میں اپنے آپ کو سوچنے سے نہیں روک پاتی کہ کیا اب بھی کوئی امید باقی ہے؟

لکھیم پور کھیری کےتکونیہ علاقے میں3 اکتوبر کو پیش آئےتشدد کے بعد کچھ گاڑیوں میں آگ لگا دی گئی تھی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

لکھیم پور کھیری تشدد: دوسری چارج شیٹ میں چار کسانوں پر قتل اور دنگے سمیت کئی الزام، تین بری

لکھیم پورکھیری تشدد معاملےمیں درج دوسری ایف آئی آر کے تحت گرفتار کیے گئے سات کسانوں میں سے پولیس نے چار- وچتر سنگھ، گرویندر سنگھ، کمل جیت سنگھ اور گرپریت سنگھ کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔ چار کسانوں پر الزام ہے کہ انہوں نے بی جے پی کے دو مقامی لیڈروں اور وزیر مملکت اجئے مشرا کی گاڑی کے ڈرائیور کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا۔

Up rozgar

اتر پردیش: یوگی حکومت سے نوکری مانگتے نوجوان انتخابی تصویر میں کہاں ہیں

چار جنوری کو الہ آباد میں رہ کر پڑھائی کرنے والے اور مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طالبعلم اچانک سڑکوں پر نکل آئے اور تالی-تھالی پیٹتے ہوئےمؤخربھرتیوں کو پُرکرنے کامطالبہ کرنے لگے۔ ان کا کہنا تھاکہ وہ روزگار جیسے اہم مدعے پر سوئی ہوئی حکومت کونیند سےجگانا چاہتے ہیں۔

جئے منگل کنوجیا۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

اتر پردیش: کورونا پازیٹو بی جے پی ایم ایل اے باہر گھومتے ہوئے پائے گئے، معاملہ درج

الزام ہے کہ اتر پردیش کی مہاراج گنج صدر سیٹ سے بی جے پی ایم ایل اے جئے منگل کنوجیاکووڈ-19سے متاثر ہونے کے باوجودلوگوں کے ساتھ گروپ میں گھوم رہے تھے اور اپنے انتخابی حلقے میں لوگوں سے ملاقات کر رہے تھے۔ ان کے علاوہ مظفر نگر اور نوئیڈا میں بھی بی جے پی کے ممبران اسمبلی اور امیدواروں کے خلاف ضابطہ اخلاق اور کووڈ 19 کے پروٹوکول کی خلاف ورزی کے الزام میں معاملے درج کیے گئے ہیں۔

بُلی بائی  ایپ پلیٹ فارم کا اسکرین شاٹ۔ (بہ شکریہ: ٹوئٹر)

 بُلی بائی جیسے ایپ کو محض جرم سمجھنا اس میں پوشیدہ بدنیتی اور گہری سازش سے منھ موڑنا ہے

مسلم خواتین کو نشانہ بنانے کے پس پردہ ، اس سازش کا مقصد یہ ہے کہ اس قوم کو اس قدر ذلت دی جائے، ان کےعزت نفس کو اتنی ٹھیس پہنچائی جائے کہ تھک ہارکر وہ ایک ایسی’شکست خوردہ قوم’کے طور پر اپنے وجود کو قبول کر لیں، جوصرف اکثریت کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے کو مجبور ہے۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر)

کیا ہمارے گھروں میں تشدد اور جرائم پل رہے ہیں؟

سال 2014 کےبعدتشددجیسےاس معاشرے کےپور پورسے پھوٹ کر بہہ رہا ہے۔ یہ کہنا پڑے گا کہ ہندوستان کی ہندو برادری میں تشدد اور دوسری برادریوں کے تئیں نفرت کا احساس بڑھ گیا ہے۔غیر ہندو برادریوں میں ہندو مخالف نفرت کےپروپیگنڈے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔یہ نفرت اور تشددیکطرفہ ہے۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

بُلی بائی ایپ معاملہ: آسام سے انجینئرنگ کا طالبعلم گرفتار، اب تک چار لوگ پکڑے گئے

بُلی بائی ایپ پر نیلامی کے لیےسینکڑوں مسلم خواتین کی چھیڑچھاڑ کی گئی تصویروں کو ان کی اجازت کے بغیراپ لوڈ کرنےکےمعاملے میں گرفتار چوتھے شخص کی شناخت 21 سالہ نیرج وشنوئی کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ بشنوئی نے گٹ ہب پلیٹ فارم پر ‘بُلی بائی’ایپ بنایا تھا اور وہ ٹوئٹر پر ‘بُلی بائی’کاکلیدی اکاؤنٹ ہولڈر بھی ہے۔

ممبئی کے پولیس کمشنر ہیمنت ناگرالے نے 'بُلی بائی'ایپ کے حوالے سے میڈیا سے خطاب کیا۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

بُلی بائی ایپ معاملہ: ممبئی پولیس نے کہا-گمراہ کرنے کے لیے سکھ ناموں کا استعمال کیا گیا

ممبئی پولیس نے کہا کہ سکھ برادری سےمتعلق ناموں کا استعمال یہ ظاہر کرنے کے لیے کیا گیا کہ یہ ٹوئٹر ہینڈل اسی کمیونٹی کے لوگوں نے بنایاہے۔ ‘بُلی بائی’ایپ کے ذریعے جن خواتین کو نشانہ بنایا گیا وہ مسلمان ہیں، اس لیے اس بات کا بہت امکان تھا کہ اس کی وجہ سے دونوں برادریوں کے بیچ دشمنی پیدا ہو سکتی تھی اور عوامی امن وامان میں خلل پڑ سکتا تھا۔

(فوٹو: رائٹرس)

بُلی بائی ایپ کا مقصد مسلم خواتین کے خلاف تشدد کو بڑھاوا دینا ہے: جرنلسٹس ایسوسی ایشن

دہلی جرنلسٹس ایسوسی ایشن اور انڈین ویمن پریس کورپس نے ایپ کے ذریعےمسلم خواتین کو نشانہ بنائے جانےپر شدیدبرہمی کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ اگر پولیس بدنام زمانہ’سلی ڈیل’کے مجرموں کی پہچان کرلیتی تو یہ واقعہ دہرایا نہ جاتا۔

(علامتی تصویر بہ شکریہ: پکسا بے)

بُلی بائی ایپ معاملہ: ممبئی پولیس نے اتراکھنڈ سے ایک اور طالبعلم کو گرفتار کیا

گزشتہ سال ‘سلی ڈیلز’ نام کے ایپ کی طرح ‘بُلی بائی’ایپ پر ‘نیلامی’کے لیے مسلم خواتین کی تصویریں اپ لوڈکیے جانے کو لے کرممبئی پولیس نےمقدمہ درج کیا ہے۔اس سلسلے میں بنگلورو سے گرفتار کیے گئے طالبعلم کو ایک مقامی عدالت نے 10 جنوری تک عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔

(فوٹو: رائٹرس)

’مسلم خواتین کی تصویروں کی آن لائن نیلامی‘ معاملہ: ایک خاتون اور انجینئرنگ کا طالبعلم ممبئی پولیس کی گرفت میں

ممبئی پولیس نےہوسٹ پلیٹ فارم ‘گٹ ہب’کے ‘بُلی بائی’ایپ پرنیلامی کے لیےمسلم خواتین کی تصویریں اپ لوڈ کیے جانےکی شکایت موصول ہونے کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔ اسی طرح گزشتہ سال ‘سلی ڈیلز’ نامی ایپ پر ‘ مسلم خواتین کی تصویریں آن لائن نیلامی’کے لیےپوسٹ کی گئی تھیں۔ اس سلسلے میں دہلی اور نوئیڈا پولیس نے الگ الگ ایف آئی آر درج کی تھی۔

آشیش مشرا (کرتے میں)۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

لکھیم پور کھیری تشدد: چارج شیٹ میں مرکزی وزیر کے بیٹے کے خلاف قتل اور سازش کے الزام

اتر پردیش پولیس کی ایس آئی ٹی نے لکھیم پور کھیری تشدد کےکیس میں مرکزی وزیر اجئے کمار مشرا ‘ٹینی’کے بیٹےآشیش سمیت تمام 14 ملزمان کے خلاف عدالت میں5000 صفحات کی چارج شیٹ داخل کی ہے۔ یہ چارج شیٹ پچھلے سال 3 اکتوبر کو گاڑیوں سے کچل کر چار کسانوں اور ایک صحافی کے مبینہ قتل کے معاملے سے متعلق ہے۔

بُلی بائی پلیٹ فارم کا اسکرین شاٹ (فوٹو: ٹوئٹر)

’بُلی بائی‘ سائٹ پرمسلم خواتین کی تصویریں ایک بار پھر نیلامی کے لیے پوسٹ کی گئیں

گزشتہ سال جولائی میں’سلی ڈیلز’نامی ایپ پر ‘آن لائن نیلامی’ کے لیے مسلم خواتین کی تصویریں پوسٹ کی گئی تھیں۔ اس سلسلے میں دہلی اور نوئیڈا پولیس نے الگ الگ ایف آئی آر درج کی تھی۔ حالاں کہ اب تک اس کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی قابل ذکر کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ ‘بُلی بائی’ پورٹل معاملے میں بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

1412 AKI.00_13_10_13.Still002

یوگی-مودی جواب دیں، لکھیم پور میں کسانوں کے قتل کی سازش کس نے رچی؟

ویڈیو: اکتوبر میں اتر پردیش کےلکھیم پور کھیری ضلع میں کسانوں کے احتجاج کے دوران ہوئے تشدد کی جانچ کر رہی ایس آئی ٹی نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسانوں کی موت کوئی حادثہ نہیں بلکہ سازش کا واضح معاملہ ہے۔ الزام ہے کہ مرکزی وزیر اجئے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا نے مظاہرے کے دوران کسانوں کو اپنی کار سے کچل دیا تھا، جس سے چار کسانوں اور ایک صحافی کی موت ہو گئی تھی۔

مرکزی وزیر اجئے مشرا سے لکھیم پور تشدد کے بارے میں سوال پوچھتے صحافی۔(تصویر: ویڈیو گریب)

لکھیم پور تشدد: مرکزی وزیر اجئے مشرا نے ایس آئی ٹی کی جانچ سے متعلق سوال پر صحافی کے ساتھ بدسلوکی کی

لکھیم پور کھیری میں گزشتہ اکتوبر میں کسانوں کے احتجاجی مظاہرہ کے دوران ہوئے تشدد کی جانچ کر رہی ایس آئی ٹی نے چھان بین اورشواہد کی بنیاد پر دعویٰ کیا تھا کہ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجئے کمار مشرا کے بیٹے آشیش مشرا اور ان کے ساتھیوں نے اس معاملے کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت انجام دیا۔ اس میں چار کسانوں اور ایک صحافی کی موت گاڑی سے کچل دیے جانے سے ہو گئی تھی۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

لکھیم پور تشدد: وزیر کے بیٹے سمیت 13 افراد پر قتل کی کوشش کا مقدمہ چلانے کے لیے عرضی

اتر پردیش کےلکھیم پور کھیری ضلع میں گزشتہ3 اکتوبر کو ہوئے تشدد میں الزام ہے کہ مرکزی وزیر کے بیٹے آشیش مشرا نے کسانوں کو اپنی کار سے کچل دیا تھا، جس کی وجہ سے ان کی موت ہوگئی تھی۔معاملےکی جانچ کررہی ایس آئی ٹی نے آشیش مشرا سمیت 13ملزمین کے خلاف قتل کی کوشش اور آرمس ایکٹ کے تحت اور چار مزید مجرمانہ الزامات عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے عدالت میں ایک عرضی دائر کی ہے۔

گزشتہ 18 نومبر کو ایس ایچ او راجندر تیاگی کےتبادلے کےخلاف غازی آباد میں ضلع مجسٹریٹ کے دفترکے باہربچھڑا ہاتھ میں لےکراحتجاج کرتے ہندوتوا گروپوں کے ممبر۔ (فوٹوبہ شکریہ: ویڈیوگریب)

یوپی: لونی ’انکاؤنٹر‘ کی جانچ کے خلاف اترے بی جے پی ایم ایل اے اور ہندوتوا گروپ

گیارہ نومبر کو غازی آباد کے لونی بارڈر پر ہوئے‘انکاؤنٹر’میں سات مسلمانوں کو غیرقانونی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کرنے سے پہلے گولی چلائی گئی تھی، جو تمام لوگوں کے پاؤں پر تقریباً ایک ہی جگہ لگی تھی۔ معاملے میں لونی تھانے کے ایس ایچ او کو سسپنڈ کر دیا گیا ہے اور جانچ کےآرڈر دیے گئے ہیں۔

2018 میں کاس گنج میں ہوئےتشدد میں مارے گئے چندن گپتا۔ (فوٹو بہ شکریہ: سوشل میڈیا)

کیا چندن گپتا ہندوتوا قوم پرستی کا شکار ہوا؟

کاس گنج میں سال 2018 میں مارے گئے چندن گپتا کے والدکہہ رہے ہیں کہ نوجوانوں کو اس راستےپر نہیں جانا چاہیے جس پر ہندوتوایاقوم پرستی کے جوش وجنون میں ان کا بیٹا چل پڑا تھا۔ کیا ان کی ناراضگی کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس موت کے بعد یا اس کے بدلے جو چاہتے تھے، وہ نہیں ملا؟ یا وہ اس کے خطرے کو سمجھ پائے ہیں؟

WhatsApp Image 2021-11-11 at 21.45.43 (1)

کاس گنج میں الطاف کی موت: کیا یہ پولیس حراست میں کیا گیا قتل ہے؟

ویڈیو: اتر پردیش کے کاس گنج ضلع میں ایک‘گمشدہ’لڑکی کےمعاملے میں حراست میں لیے گئے 22 سالہ نوجوان الطاف کی پولیس تھانے میں گزشتہ 8 نومبر کو موت ہو گئی تھی۔اس کو لےکر ایک ایس ایچ او سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کو سسپنڈ کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ الطاف نے ٹوائلٹ کے نل کی ٹوٹی سے پھانسی لگاکر خودکشی کی ہے۔

(فوٹو : یوتھ فار ہیومن رائٹس ڈاکیومینٹیشن)

یوپی پولیس کے فرضی انکاؤنٹر معاملوں کو دبایا گیا، این ایچ آرسی نے بھی قوانین کی خلاف ورزی کی: رپورٹ

سول سوسائٹی گروپوں نے مارچ 2017 اور مارچ 2018 کے بیچ میں اتر پردیش میں پولیس انکاؤنٹر کے 17معاملوں کا مطالعہ کیا،جن میں18 لوگوں کی موت ہوئی تھی۔ ان میں سے کسی میں بھی کسی پولیس اہلکار پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ان معاملوں کی جانچ نیشنل ہیو من رائٹس کمیشن نے بھی کی تھی۔ ان میں سے 12 معاملوں میں کمیشن نے پولیس کو کلین چٹ دے دی ہے۔

WhatsApp Image 2021-10-24 at 6.15.03 PM

یوپی میں چھینی جا رہی ہے دلتوں کی زمین اور مافیاؤں کو روکنے میں ناکام یوگی حکومت

ویڈیو: اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا دعویٰ ہے کہ ان کی حکومت نے صوبے سے زمین مافیاؤں کو ختم کر دیا ہے۔مگر میرٹھ میں دلتوں کی زمین مافیاؤں کے ذریعے چھینی جا رہی ہے اور ان کا استحصال کیا جا رہا ہے۔دی وائر نے دلت کمیونٹی کے ان لوگوں سے بات کی، جن کا کہنا ہے کہ پولیس انتظامیہ مافیا کو روکنے میں ناکام ہیں۔

دشا روی۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

ٹول کٹ کیس: دشا روی کے خلاف جانچ میں کچھ ملا نہیں، پولیس فائل کر سکتی ہے کلوزر رپورٹ

دہلی پولیس نے ماحولیاتی کارکن دشا روی کو کسانوں کے مظاہرہ کی حمایت کرنے والے ٹول کٹ کو شیئر کرنے میں مبینہ رول کی وجہ سے 14 فروری کو بنگلورو سے گرفتارکیا تھا۔ ان پر 26 جنوری کو کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران ہوئےتشدد کے سلسلے میں سیڈیشن اور مجرمانہ سازش کی دفعات لگائی گئی تھیں۔

نرسنہانند سرسوتی۔ (فوٹو: فیس بک)

یوپی پولیس نے شدت پسند ہندوتوا لیڈریتی نرسنہانند پر غنڈہ ایکٹ لگانے کی کارروائی شروع کی

شدت پسندہندوتوا لیڈریتی نرسنہانند غازی آبادواقع ڈاسنہ دیوی مندر کے مہنت ہیں۔ وہ مسلم مخالف بیان بازیوں کو لےکرسرخیوں میں رہتے ہیں۔اس مہینے کی شروعات میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ایک مسلم لڑکے کو ان کی جاسوسی کے لیے بھیجا گیا تھا۔ اسی سال مارچ میں ڈاسنہ مندر میں ایک مسلم لڑکے کے پانی پینےکی وجہ سے اس کی پٹائی کی گئی تھی۔ جس شخص نے لڑکے کو پیٹا تھا، نرسنہانند نے اس کی حمایت کی تھی۔

اجئے مشرا۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

لکھیم پور تشدد: کسانوں کو ’دھمکی‘ دینے والے اجئے مشرا وزیر بننے سے پہلے کیا تھے

اتر پردیش کےلکھیم پور کھیری سےایم پی اور وزیرمملکت برائےداخلہ اجئے کمارمشرا‘ٹینی’نے کسانوں کی تحریک کو لےکر دھمکی دی تھی۔ان کے خلاف تین اکتوبر کو کسانوں نے ان کے آبائی گاؤں بن بیرپورمیں منعقد ایک پروگرام میں ڈپٹی سی ایم کیشو پرساد موریہ کے جانے کی مخالفت کی تھی۔الزام ہے کہ اس دوران ان کے بیٹے آشیش مشرا نے اپنی گاڑی سے کچل کر چار کسانوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ مرکزی وزیر کی مجرمانہ تاریخ رہی ہے۔

ویڈیوگریب۔

بی جے پی اور نرسنہانند سے وابستہ ہندوتوا لیڈر نے ایک مسلمان کو ٹرین میں پیٹا

معاملے کا ایک ویڈیو سامنے آیا ہے،جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شدت پسند ہندوتوا لیڈریتی نرسنہانند کی پیروکار مدھو شرما مسلمان شخص کا بال پکڑ کر کھینچ رہی ہیں اور انہیں تھپڑ مار رہی ہیں۔دھکا دینے کاالزام لگاتے ہوئے انہوں نے اس کو پاؤں چھونے کے لیے بھی مجبور کیا۔

Don`t copy text!