up police

Up rozgar

اتر پردیش: یوگی حکومت سے نوکری مانگتے نوجوان انتخابی تصویر میں کہاں ہیں

چار جنوری کو الہ آباد میں رہ کر پڑھائی کرنے والے اور مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طالبعلم اچانک سڑکوں پر نکل آئے اور تالی-تھالی پیٹتے ہوئےمؤخربھرتیوں کو پُرکرنے کامطالبہ کرنے لگے۔ ان کا کہنا تھاکہ وہ روزگار جیسے اہم مدعے پر سوئی ہوئی حکومت کونیند سےجگانا چاہتے ہیں۔

جئے منگل کنوجیا۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

اتر پردیش: کورونا پازیٹو بی جے پی ایم ایل اے باہر گھومتے ہوئے پائے گئے، معاملہ درج

الزام ہے کہ اتر پردیش کی مہاراج گنج صدر سیٹ سے بی جے پی ایم ایل اے جئے منگل کنوجیاکووڈ-19سے متاثر ہونے کے باوجودلوگوں کے ساتھ گروپ میں گھوم رہے تھے اور اپنے انتخابی حلقے میں لوگوں سے ملاقات کر رہے تھے۔ ان کے علاوہ مظفر نگر اور نوئیڈا میں بھی بی جے پی کے ممبران اسمبلی اور امیدواروں کے خلاف ضابطہ اخلاق اور کووڈ 19 کے پروٹوکول کی خلاف ورزی کے الزام میں معاملے درج کیے گئے ہیں۔

بُلی بائی  ایپ پلیٹ فارم کا اسکرین شاٹ۔ (بہ شکریہ: ٹوئٹر)

 بُلی بائی جیسے ایپ کو محض جرم سمجھنا اس میں پوشیدہ بدنیتی اور گہری سازش سے منھ موڑنا ہے

مسلم خواتین کو نشانہ بنانے کے پس پردہ ، اس سازش کا مقصد یہ ہے کہ اس قوم کو اس قدر ذلت دی جائے، ان کےعزت نفس کو اتنی ٹھیس پہنچائی جائے کہ تھک ہارکر وہ ایک ایسی’شکست خوردہ قوم’کے طور پر اپنے وجود کو قبول کر لیں، جوصرف اکثریت کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے کو مجبور ہے۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر)

کیا ہمارے گھروں میں تشدد اور جرائم پل رہے ہیں؟

سال 2014 کےبعدتشددجیسےاس معاشرے کےپور پورسے پھوٹ کر بہہ رہا ہے۔ یہ کہنا پڑے گا کہ ہندوستان کی ہندو برادری میں تشدد اور دوسری برادریوں کے تئیں نفرت کا احساس بڑھ گیا ہے۔غیر ہندو برادریوں میں ہندو مخالف نفرت کےپروپیگنڈے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔یہ نفرت اور تشددیکطرفہ ہے۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

بُلی بائی ایپ معاملہ: آسام سے انجینئرنگ کا طالبعلم گرفتار، اب تک چار لوگ پکڑے گئے

بُلی بائی ایپ پر نیلامی کے لیےسینکڑوں مسلم خواتین کی چھیڑچھاڑ کی گئی تصویروں کو ان کی اجازت کے بغیراپ لوڈ کرنےکےمعاملے میں گرفتار چوتھے شخص کی شناخت 21 سالہ نیرج وشنوئی کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ بشنوئی نے گٹ ہب پلیٹ فارم پر ‘بُلی بائی’ایپ بنایا تھا اور وہ ٹوئٹر پر ‘بُلی بائی’کاکلیدی اکاؤنٹ ہولڈر بھی ہے۔

ممبئی کے پولیس کمشنر ہیمنت ناگرالے نے 'بُلی بائی'ایپ کے حوالے سے میڈیا سے خطاب کیا۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

بُلی بائی ایپ معاملہ: ممبئی پولیس نے کہا-گمراہ کرنے کے لیے سکھ ناموں کا استعمال کیا گیا

ممبئی پولیس نے کہا کہ سکھ برادری سےمتعلق ناموں کا استعمال یہ ظاہر کرنے کے لیے کیا گیا کہ یہ ٹوئٹر ہینڈل اسی کمیونٹی کے لوگوں نے بنایاہے۔ ‘بُلی بائی’ایپ کے ذریعے جن خواتین کو نشانہ بنایا گیا وہ مسلمان ہیں، اس لیے اس بات کا بہت امکان تھا کہ اس کی وجہ سے دونوں برادریوں کے بیچ دشمنی پیدا ہو سکتی تھی اور عوامی امن وامان میں خلل پڑ سکتا تھا۔

(فوٹو: رائٹرس)

بُلی بائی ایپ کا مقصد مسلم خواتین کے خلاف تشدد کو بڑھاوا دینا ہے: جرنلسٹس ایسوسی ایشن

دہلی جرنلسٹس ایسوسی ایشن اور انڈین ویمن پریس کورپس نے ایپ کے ذریعےمسلم خواتین کو نشانہ بنائے جانےپر شدیدبرہمی کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ اگر پولیس بدنام زمانہ’سلی ڈیل’کے مجرموں کی پہچان کرلیتی تو یہ واقعہ دہرایا نہ جاتا۔

(علامتی تصویر بہ شکریہ: پکسا بے)

بُلی بائی ایپ معاملہ: ممبئی پولیس نے اتراکھنڈ سے ایک اور طالبعلم کو گرفتار کیا

گزشتہ سال ‘سلی ڈیلز’ نام کے ایپ کی طرح ‘بُلی بائی’ایپ پر ‘نیلامی’کے لیے مسلم خواتین کی تصویریں اپ لوڈکیے جانے کو لے کرممبئی پولیس نےمقدمہ درج کیا ہے۔اس سلسلے میں بنگلورو سے گرفتار کیے گئے طالبعلم کو ایک مقامی عدالت نے 10 جنوری تک عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔

(فوٹو: رائٹرس)

’مسلم خواتین کی تصویروں کی آن لائن نیلامی‘ معاملہ: ایک خاتون اور انجینئرنگ کا طالبعلم ممبئی پولیس کی گرفت میں

ممبئی پولیس نےہوسٹ پلیٹ فارم ‘گٹ ہب’کے ‘بُلی بائی’ایپ پرنیلامی کے لیےمسلم خواتین کی تصویریں اپ لوڈ کیے جانےکی شکایت موصول ہونے کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔ اسی طرح گزشتہ سال ‘سلی ڈیلز’ نامی ایپ پر ‘ مسلم خواتین کی تصویریں آن لائن نیلامی’کے لیےپوسٹ کی گئی تھیں۔ اس سلسلے میں دہلی اور نوئیڈا پولیس نے الگ الگ ایف آئی آر درج کی تھی۔

آشیش مشرا (کرتے میں)۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

لکھیم پور کھیری تشدد: چارج شیٹ میں مرکزی وزیر کے بیٹے کے خلاف قتل اور سازش کے الزام

اتر پردیش پولیس کی ایس آئی ٹی نے لکھیم پور کھیری تشدد کےکیس میں مرکزی وزیر اجئے کمار مشرا ‘ٹینی’کے بیٹےآشیش سمیت تمام 14 ملزمان کے خلاف عدالت میں5000 صفحات کی چارج شیٹ داخل کی ہے۔ یہ چارج شیٹ پچھلے سال 3 اکتوبر کو گاڑیوں سے کچل کر چار کسانوں اور ایک صحافی کے مبینہ قتل کے معاملے سے متعلق ہے۔

بُلی بائی پلیٹ فارم کا اسکرین شاٹ (فوٹو: ٹوئٹر)

’بُلی بائی‘ سائٹ پرمسلم خواتین کی تصویریں ایک بار پھر نیلامی کے لیے پوسٹ کی گئیں

گزشتہ سال جولائی میں’سلی ڈیلز’نامی ایپ پر ‘آن لائن نیلامی’ کے لیے مسلم خواتین کی تصویریں پوسٹ کی گئی تھیں۔ اس سلسلے میں دہلی اور نوئیڈا پولیس نے الگ الگ ایف آئی آر درج کی تھی۔ حالاں کہ اب تک اس کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی قابل ذکر کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ ‘بُلی بائی’ پورٹل معاملے میں بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

1412 AKI.00_13_10_13.Still002

یوگی-مودی جواب دیں، لکھیم پور میں کسانوں کے قتل کی سازش کس نے رچی؟

ویڈیو: اکتوبر میں اتر پردیش کےلکھیم پور کھیری ضلع میں کسانوں کے احتجاج کے دوران ہوئے تشدد کی جانچ کر رہی ایس آئی ٹی نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسانوں کی موت کوئی حادثہ نہیں بلکہ سازش کا واضح معاملہ ہے۔ الزام ہے کہ مرکزی وزیر اجئے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا نے مظاہرے کے دوران کسانوں کو اپنی کار سے کچل دیا تھا، جس سے چار کسانوں اور ایک صحافی کی موت ہو گئی تھی۔

مرکزی وزیر اجئے مشرا سے لکھیم پور تشدد کے بارے میں سوال پوچھتے صحافی۔(تصویر: ویڈیو گریب)

لکھیم پور تشدد: مرکزی وزیر اجئے مشرا نے ایس آئی ٹی کی جانچ سے متعلق سوال پر صحافی کے ساتھ بدسلوکی کی

لکھیم پور کھیری میں گزشتہ اکتوبر میں کسانوں کے احتجاجی مظاہرہ کے دوران ہوئے تشدد کی جانچ کر رہی ایس آئی ٹی نے چھان بین اورشواہد کی بنیاد پر دعویٰ کیا تھا کہ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجئے کمار مشرا کے بیٹے آشیش مشرا اور ان کے ساتھیوں نے اس معاملے کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت انجام دیا۔ اس میں چار کسانوں اور ایک صحافی کی موت گاڑی سے کچل دیے جانے سے ہو گئی تھی۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

لکھیم پور تشدد: وزیر کے بیٹے سمیت 13 افراد پر قتل کی کوشش کا مقدمہ چلانے کے لیے عرضی

اتر پردیش کےلکھیم پور کھیری ضلع میں گزشتہ3 اکتوبر کو ہوئے تشدد میں الزام ہے کہ مرکزی وزیر کے بیٹے آشیش مشرا نے کسانوں کو اپنی کار سے کچل دیا تھا، جس کی وجہ سے ان کی موت ہوگئی تھی۔معاملےکی جانچ کررہی ایس آئی ٹی نے آشیش مشرا سمیت 13ملزمین کے خلاف قتل کی کوشش اور آرمس ایکٹ کے تحت اور چار مزید مجرمانہ الزامات عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے عدالت میں ایک عرضی دائر کی ہے۔

گزشتہ 18 نومبر کو ایس ایچ او راجندر تیاگی کےتبادلے کےخلاف غازی آباد میں ضلع مجسٹریٹ کے دفترکے باہربچھڑا ہاتھ میں لےکراحتجاج کرتے ہندوتوا گروپوں کے ممبر۔ (فوٹوبہ شکریہ: ویڈیوگریب)

یوپی: لونی ’انکاؤنٹر‘ کی جانچ کے خلاف اترے بی جے پی ایم ایل اے اور ہندوتوا گروپ

گیارہ نومبر کو غازی آباد کے لونی بارڈر پر ہوئے‘انکاؤنٹر’میں سات مسلمانوں کو غیرقانونی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کرنے سے پہلے گولی چلائی گئی تھی، جو تمام لوگوں کے پاؤں پر تقریباً ایک ہی جگہ لگی تھی۔ معاملے میں لونی تھانے کے ایس ایچ او کو سسپنڈ کر دیا گیا ہے اور جانچ کےآرڈر دیے گئے ہیں۔

2018 میں کاس گنج میں ہوئےتشدد میں مارے گئے چندن گپتا۔ (فوٹو بہ شکریہ: سوشل میڈیا)

کیا چندن گپتا ہندوتوا قوم پرستی کا شکار ہوا؟

کاس گنج میں سال 2018 میں مارے گئے چندن گپتا کے والدکہہ رہے ہیں کہ نوجوانوں کو اس راستےپر نہیں جانا چاہیے جس پر ہندوتوایاقوم پرستی کے جوش وجنون میں ان کا بیٹا چل پڑا تھا۔ کیا ان کی ناراضگی کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس موت کے بعد یا اس کے بدلے جو چاہتے تھے، وہ نہیں ملا؟ یا وہ اس کے خطرے کو سمجھ پائے ہیں؟

WhatsApp Image 2021-11-11 at 21.45.43 (1)

کاس گنج میں الطاف کی موت: کیا یہ پولیس حراست میں کیا گیا قتل ہے؟

ویڈیو: اتر پردیش کے کاس گنج ضلع میں ایک‘گمشدہ’لڑکی کےمعاملے میں حراست میں لیے گئے 22 سالہ نوجوان الطاف کی پولیس تھانے میں گزشتہ 8 نومبر کو موت ہو گئی تھی۔اس کو لےکر ایک ایس ایچ او سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کو سسپنڈ کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ الطاف نے ٹوائلٹ کے نل کی ٹوٹی سے پھانسی لگاکر خودکشی کی ہے۔

(فوٹو : یوتھ فار ہیومن رائٹس ڈاکیومینٹیشن)

یوپی پولیس کے فرضی انکاؤنٹر معاملوں کو دبایا گیا، این ایچ آرسی نے بھی قوانین کی خلاف ورزی کی: رپورٹ

سول سوسائٹی گروپوں نے مارچ 2017 اور مارچ 2018 کے بیچ میں اتر پردیش میں پولیس انکاؤنٹر کے 17معاملوں کا مطالعہ کیا،جن میں18 لوگوں کی موت ہوئی تھی۔ ان میں سے کسی میں بھی کسی پولیس اہلکار پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ان معاملوں کی جانچ نیشنل ہیو من رائٹس کمیشن نے بھی کی تھی۔ ان میں سے 12 معاملوں میں کمیشن نے پولیس کو کلین چٹ دے دی ہے۔

WhatsApp Image 2021-10-24 at 6.15.03 PM

یوپی میں چھینی جا رہی ہے دلتوں کی زمین اور مافیاؤں کو روکنے میں ناکام یوگی حکومت

ویڈیو: اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا دعویٰ ہے کہ ان کی حکومت نے صوبے سے زمین مافیاؤں کو ختم کر دیا ہے۔مگر میرٹھ میں دلتوں کی زمین مافیاؤں کے ذریعے چھینی جا رہی ہے اور ان کا استحصال کیا جا رہا ہے۔دی وائر نے دلت کمیونٹی کے ان لوگوں سے بات کی، جن کا کہنا ہے کہ پولیس انتظامیہ مافیا کو روکنے میں ناکام ہیں۔

دشا روی۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

ٹول کٹ کیس: دشا روی کے خلاف جانچ میں کچھ ملا نہیں، پولیس فائل کر سکتی ہے کلوزر رپورٹ

دہلی پولیس نے ماحولیاتی کارکن دشا روی کو کسانوں کے مظاہرہ کی حمایت کرنے والے ٹول کٹ کو شیئر کرنے میں مبینہ رول کی وجہ سے 14 فروری کو بنگلورو سے گرفتارکیا تھا۔ ان پر 26 جنوری کو کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران ہوئےتشدد کے سلسلے میں سیڈیشن اور مجرمانہ سازش کی دفعات لگائی گئی تھیں۔

نرسنہانند سرسوتی۔ (فوٹو: فیس بک)

یوپی پولیس نے شدت پسند ہندوتوا لیڈریتی نرسنہانند پر غنڈہ ایکٹ لگانے کی کارروائی شروع کی

شدت پسندہندوتوا لیڈریتی نرسنہانند غازی آبادواقع ڈاسنہ دیوی مندر کے مہنت ہیں۔ وہ مسلم مخالف بیان بازیوں کو لےکرسرخیوں میں رہتے ہیں۔اس مہینے کی شروعات میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ایک مسلم لڑکے کو ان کی جاسوسی کے لیے بھیجا گیا تھا۔ اسی سال مارچ میں ڈاسنہ مندر میں ایک مسلم لڑکے کے پانی پینےکی وجہ سے اس کی پٹائی کی گئی تھی۔ جس شخص نے لڑکے کو پیٹا تھا، نرسنہانند نے اس کی حمایت کی تھی۔

اجئے مشرا۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

لکھیم پور تشدد: کسانوں کو ’دھمکی‘ دینے والے اجئے مشرا وزیر بننے سے پہلے کیا تھے

اتر پردیش کےلکھیم پور کھیری سےایم پی اور وزیرمملکت برائےداخلہ اجئے کمارمشرا‘ٹینی’نے کسانوں کی تحریک کو لےکر دھمکی دی تھی۔ان کے خلاف تین اکتوبر کو کسانوں نے ان کے آبائی گاؤں بن بیرپورمیں منعقد ایک پروگرام میں ڈپٹی سی ایم کیشو پرساد موریہ کے جانے کی مخالفت کی تھی۔الزام ہے کہ اس دوران ان کے بیٹے آشیش مشرا نے اپنی گاڑی سے کچل کر چار کسانوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ مرکزی وزیر کی مجرمانہ تاریخ رہی ہے۔

ویڈیوگریب۔

بی جے پی اور نرسنہانند سے وابستہ ہندوتوا لیڈر نے ایک مسلمان کو ٹرین میں پیٹا

معاملے کا ایک ویڈیو سامنے آیا ہے،جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شدت پسند ہندوتوا لیڈریتی نرسنہانند کی پیروکار مدھو شرما مسلمان شخص کا بال پکڑ کر کھینچ رہی ہیں اور انہیں تھپڑ مار رہی ہیں۔دھکا دینے کاالزام لگاتے ہوئے انہوں نے اس کو پاؤں چھونے کے لیے بھی مجبور کیا۔

رام اقبال سنگھ۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

لکھیم پور واقعہ کے ماسٹر مائنڈ ہیں اجئے کمار مشرا: بی جے پی  رہنما کا الزام

اتر پردیش بی جے پی ورکنگ کمیٹی کےممبر اورسابق ایم ایل اے رام اقبال سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی سے وزیرمملکت برائے داخلہ اجئے کمارمشرا کو فوراً برخاست کرنے کی مانگ کی ہے۔انہوں نے کہا کہ لکھیم پور کھیری میں پیش آئےتشدد کے کچھ دن پہلے وزیر کےدھمکی بھرے بیان نے ہی آگ میں گھی کا کام کیا ہے۔

بی جے پی رہنما اور اتر پردیش کے وزیرقانون برجیش ٹھاکر نے  بدھ کولکھیم پور کھیری تشدد میں مارے گئے وزیرمملکت برائے داخلہ اجئے کمارمشرا کے ڈرائیور ہری اوم مشرا کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ (فوٹو بہ شکریہ ٹوئٹر/@brajeshpathakup)

لکھیم پور کھیری تشدد: بی جے پی کے کسی سینئر لیڈر کا پہلا دورہ، متاثرہ کسانوں سے نہیں ملے

گزشتہ تین اکتوبر کولکھیم پور کھیری ضلع میں ہوئےتشدد کے 10دن بعد بی جے پی رہنما اور اتر پردیش سرکار میں وزیرقانون برجیش پاٹھک نے علاقے کا دورہ کرکےمہلوک بی جے پی کارکن شبھم مشرا اور وزیرمملکت برائے داخلہ اجئے کمارمشرا کے ڈرائیور ہری اوم مشرا کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ تشدد میں گاڑی سے کچلےجانے سے چار کسانوں کی موت ہو گئی تھی۔ وزیر قانون نے کہا ہے کہ حالات معمول پر آنےکے بعد وہ مہلوک کسانوں کے اہل خانہ کے ساتھ بات کریں گے۔

بچے کے ساتھ کھڑا یتی نرسنہانند سرسوتی۔ (فوٹو: اسکرین گریب)

غازی آباد: ڈاسنہ مندر میں ’غلطی‘ سے جانے والے دس سالہ مسلم بچے سے پولیس کی پوچھ تاچھ

ڈاسنہ مندر کے پجاری اوررائٹ ونگ کےشدت پسند رہنمایتی نرسنہانند سرسوتی نےالزام لگایا کہ بچے کو ان پر نظر رکھنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ بچہ اس علاقے سے واقف نہیں تھا اور انجانے میں مندر میں چلا گیا تھا۔ اس کے بیان کی سچائی جاننے کے بعد اسے چھوڑ دیا گیا۔

WhatsApp Image 2021-10-13 at 11.31.19 AM

کیا پرینکا گاندھی یوپی کی اگلی وزیر اعلیٰ ہوں گی؟

ویڈیو: لکھیم پورتشدد کے بعدگزشتہ دنوں کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیامانی حلقہ وارانسی گئی تھیں۔ یہاں پر کاشی وشوناتھ مندر اور ماں کشمانڈا کے ‘درشن’ کرنے کے بعد انہوں نے کسان نیائے ریلی کو خطاب کیا تھا۔ اس موضوع پرسینئر صحافی آشوتوش، شرت پردھان اور سمتا گپتا سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹرعارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

WhatsApp Image 2021-10-10 at 9.25.12 AM (1)

لکھیم پور کھیری تشدد: آشیش مشرا اور وزیر اعظم مودی کا لکھنؤ دورہ

ویڈیو: لکھیم پورکھیری میں کسانوں کے مظاہرےکے دوران ہوئےتشدد کے بعد سے اتر پردیش ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔دی وائر کےشو لکھنؤ سینٹرل میں شرت پردھان اتر پردیش کےاہم مدعوں کے بارے میں جانکاری دے رہے ہیں۔

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

یوپی: نوئیڈا میں دلت خاتون سے گینگ ریپ، سنت کبیر نگر میں مدرسہ ٹیچر نے بچی سے کیا ریپ

اتر پردیش کے گوتم بدھ نگر ضلع کےزیور علاقے میں یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب 55سالہ دلت خاتون گھاس کاٹنے کھیت میں گئی تھی۔ پولیس نے اس معاملے میں ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے ۔ کلیدی ملزم ابھی بھی فرار ہے۔ صوبے کے سنت کبیرنگر ضلع میں سات سالہ بچی سے ریپ کےملزم مدرسہ ٹیچر کو بھی پولیس تلاش کر رہی ہے۔

لکھیم پور کھیری کےتکونیہ علاقے میں3 اکتوبر کو پیش آئےتشدد کے بعد کچھ گاڑیوں میں آگ لگا دی گئی تھی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

لکھیم پور کھیری تشدد: جینے مرنے کے سوالوں پر نہیں تو کب کی جانی چاہیے سیاست

جو لوگ اپوزیشن پر سیاست کرنے کی تہمت لگارہے ہیں، وہ بھی ایک خاص طرح کی سیاست ہی کر رہے ہیں۔ جب وہ کسی بھی طرح ناپسندیدہ سوالوں کو ٹالنے کی حالت میں نہیں ہوتے تو چاہتے ہیں کہ وہ پوچھے ہی نہ جائیں!

فون میں شبھم مشرا کی تصویر دکھاتے ان کےوالد۔ (تمام فوٹو: عصمت آرا/دی وائر)

لکھیم پور: مہلوک بی جے پی کارکن کے والد نے کہا-بیٹے کو قربانی کا بکرا بنایا گیا

لکھیم پور کھیری تشدد میں مارے گئے آٹھ لوگوں میں شامل بی جے پی کارکن شبھم مشرا کے اہل خانہ نے کہا کہ میڈیا اور رہنما صرف متاثرہ کسانوں کے گھر جا رہے ہیں اور انہی کی تکلیف دکھا رہے ہیں۔ اہل خانہ نے کانگریس رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو اپنے یہاں مدعوکیا ہے۔

لوپریت سنگھ کی ماں۔ (فوٹو: عصمت آرا)

لکھیم پور کھیری تشدد کے ملزم آشیش مشرا کے بارے میں متاثرہ فیملی  نے کہا-وہ غنڈہ ہے

وزیرمملکت برائے داخلہ اجئے کمارمشراکے ذریعےکسانوں کو دی گئی وارننگ کا ایک مبینہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد گزشتہ تین اکتوبر کو لکھیم پور کھیری ضلع میں مظاہرہ کر رہے کسانوں پر مبینہ طور پر ان کے بیٹے آشیش مشراکے گاڑی چڑھا دینے سے چار کسانوں سمیت آٹھ لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔

0610 YAQUT MUKUL.00_44_25_02.Still005

لکھیم پور کھیری تشدد: ’میرے بیٹے کو وقت سے اسپتال بھجوا دیتے تو اس کی جان بچ سکتی تھی‘

ویڈیو:لکھیم پور کھیری تشدد معاملے میں کسانوں اور بی جے پی کارکنوں کے علاوہ صحافی رمن کشیپ کی بھی جان چلی گئی تھی۔ رمن لکھیم پور کھیری میں ایک مقامی میڈیاادارےسے وابستہ تھے۔ ان کے اہل خانہ نے انتظامیہ پر لاپرواہی کا الزام لگایا ہے۔ دی وائر کے یاقوت علی اور مکل سنگھ چوہان کی رپورٹ۔

WhatsApp Image 2021-10-05 at 10.33.40 PM

کیا لکھیم پور تشدد کا اثر یوگی آدتیہ ناتھ کے انتخابی امکانات پر پڑے گا؟

ویڈیو: اتر پردیش کے ہاتھرس میں دلت خاتون کے گینگ ریپ اور موت کے بعد کسی اور واقعہ نے اتنی توجہ مبذول نہیں کرائی،جتنی حال ہی میں لکھیم پورکھیری میں کسانوں کو بے رحمی سے کچل دینے کے واقعہ نے۔ دوسری جانب ٹھوس کارروائی کرنے میں اتر پردیش سرکار کی کوتاہی نے کسانوں کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے اور بڑھا دیا ہے۔

لکھیم پور کھیری کےتکونیہ علاقے میں تین اکتوبر کو ہوئےتشدد میں تبا ہ ہوئی ایک گاڑی  کا معائنہ کرتی پولیس۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

لکھیم پور کھیری تشدد سے متعلق نیا ویڈیو وائرل، ایک ایس یو وی میں سابق ایم پی کے بھتیجے بھی تھے

عینی شاہدین نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ایس یووی گاڑی میں کانگریس سےسابق راجیہ سبھا ایم پی اکھلیش داس کے بھتیجے انکت داس بھی تھے۔داس کا لکھنؤ میں بزنس ہے اور انہیں وزیرمملکت برائے داخلہ اجئے کمارمشرا کا قریبی مانا جاتا ہے۔اجئے کمارمشرا کے ذریعے کسانوں کو دی گئی وارننگ کا ایک مبینہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد گزشتہ تین اکتوبر کو لکھیم پور کھیری میں مظاہرہ کر رہے کسانوں پرمبینہ طور پر ان کے بیٹےکے گاڑی چڑھا دینے سے چار کسانوں سمیت آٹھ لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔

صحافی  رمن کشیپ کی تصویر دکھاتیں ان کی بیوی ارادھنا۔ (تمام فوٹو: عصمت آرا/دی وائر)

لکھیم پور کھیری: مہلوک صحافی کے اہل خانہ نے کہا-کسانوں کو کچلنے کا ویڈیو لینے کی وجہ سے ’گولی‘ ماری

اتر پردیش کےلکھیم پور کھیری میں کسانوں کےمظاہرہ کےدوران ہوئےتشددمیں مارے گئے آٹھ لوگوں میں35سالہ صحافی رمن کشیپ بھی شامل ہیں۔اہل خانہ کا الزام ہے کہ ابتدائی طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سےصحافی کی موت ہوئی ہے۔انہوں نے 50 لاکھ روپےمعاوضے اور ایک فردکو سرکاری نوکری دینے کی مانگ کی ہے۔

راہل گاندھی (فوٹو : ٹوئٹر / @INCIndia)

کسانوں کو کچلنے والے شخص کو حراست میں نہ لینے کا مطلب آئین خطرے میں ہے: راہل گاندھی

اتر پردیش کےلکھیم پور کھیری ضلع میں گزشتہ تین اکتوبر کو ڈپٹی سی ایم کیشو پرسادموریہ کے ذریعے وزیرمملکت برائےداخلہ اجئے کمارمشرا کے آبائی گاؤں کےدورے کی مخالفت کو لےکر گاڑی چڑھا دینے سے چار کسانوں سمیت آٹھ لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔اس معاملے میں مرکزی وزیرمشرا […]

maxresdefault

لکھیم پور کھیری تشدد: پرینکا گاندھی اور اکھلیش یادو نے یوگی سرکار کے خلاف کھولا مورچہ

ویڈیو: اترپردیش سرکار نے الہ آباد ہائی کورٹ کے سبکدوش جج سےلکھیم پورکھیری تشدد کی جانچ کرانے کو کہا ہے۔ساتھ ہی معاملے میں جن کسانوں کی موت ہوئی، ان کے اہل خانہ کو 45-45 لاکھ روپے کی مالی مدد اور ایک فرد کوسرکاری نوکری دینے کااعلان کیا گیا ہے۔زخمی کسانوں کو 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

وزیرمملکت برائے داخلہ اجئے کمار مشرا اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی/چندرانی بنرجی)

لکھیم پور: بی جے پی وزیر کی ’دو منٹ میں سدھار دینے کی وارننگ‘ کے بعد بڑھی تھی کسانوں میں ناراضگی

وزیرمملکت برائے داخلہ اجئے کمارمشراکےذریعےکچھ دنوں پہلےکسانوں کو دیے گئےوارننگ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے،جس میں انہیں یہ کہتے سنا جا سکتا ہےکہ ‘سامنا کرو آکر، ہم آپ کو سدھار دیں گے،دو منٹ لگےگا کیول۔’اسی کےبعدلکھیم پورکھیری ضلع میں گزشتہ تین اکتوبر کو مظاہرہ کر رہے کسانوں پر مبینہ طور پروزیرمملکت برائے داخلہ کے بیٹےکے گاڑی چڑھا دینے سے چار کسانوں سمیت آٹھ لوگوں کی موت ہوئی ہے۔

Don`t copy text!