UP STF

ڈاکٹر کفیل خان۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

ڈاکٹر کفیل خان کی این ایس اے کی مدت تین مہینے کے لیے بڑھائی گئی

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پچھلے سال دسمبر میں مبینہ طور پر متنازعہ بیانات دینے کے معاملے میں 29 جنوری کو ڈاکٹر کفیل خان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ 10 فروری کو الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد رہا کرنے کے بجائے ان پر این ایس اے لگا دیا گیا تھا۔

اسد الدین اویسی، فوٹو : پی ٹی آئی

ڈاکٹر کفیل معاملے پر اویسی نے کہا-ایک ڈاکٹر نہیں، ’ٹھوک دیں گے‘ جیسا بیان دینے والے ہیں نیشنل سکیورٹی کے لیے خطرہ

اتر پردیش کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شہریت قانون (سی اےاے) کےخلاف بیان دینے کے الزام میں متھرا جیل میں بند ڈاکٹر کفیل خان پر این ایس اے لگایا گیا ہے۔

ڈاکٹر کفیل خان، فوٹو: دی وائر

ڈاکٹر کفیل خان کو مبینہ طور پر متنازعہ بیان دینے کے معاملے میں ضمانت، لیکن رہائی کے بجائے این ایس اے کے تحت کارروائی

ڈاکٹر کفیل خان کو 29 جنوری کو ممبئی ہوائی اڈے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ متھرا جیل میں بند خان کو ضمانت مل گئی تھی۔ علی گڑھ کے ایس ایس پی آکاش کلہری نے بتایا کہ ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف این ایس اے کے تحت کارروائی کی گئی ہے اور وہ جیل میں ہی رہیں گے۔

ڈاکٹر کفیل خان، فوٹو: ٹوئٹر

شہریت قانون: ڈاکٹر کفیل خان نے عدالت سے کہا-یوپی پولیس ان کا ’انکاؤنٹر‘ کر سکتی ہے

عدالت کے باہر خان کے وکیل نے صحافیوں کو بتایا کہ خان کو انکاؤنٹرکا ڈر ہے ‘‘کیونکہ ان کے پاس پوری جانکاری ہے کہ بچوں کی موت (اتر پردیش کے ایک میڈیکل کالج میں) کا ذمہ دار کون ہے۔’’

 ڈاکٹر کفیل خان(فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

شہریت قانون: اے ایم یو میں مبینہ طور پر متنازعہ بیان دینے کے معاملے میں ڈاکٹر کفیل ممبئی ہوائی اڈے سے گرفتار

اتر پردیش پولیس نے ڈاکٹر کفیل خان پر آر ایس ایس اورمرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے لیےغیر مہذب تبصرہ کرنے، طلبا کو مرکزی حکومت کے شہریت قانون کے خلاف لڑنے اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کی کوشش کاالزام لگایا ہے۔

Don`t copy text!