upper-caste

رمیش رام۔ (فوٹو: اسپیشل ارینجمنٹ)

اتراکھنڈ: اشرافیہ کے ساتھ کھانا کھانے کے الزام میں دلت کی بے رحمی سے پٹائی، موت

یہ واقعہ 28 نومبر کو اتراکھنڈ کے چمپاوت ضلع میں پیش آیا۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ دلت رمیش رام کو اسپتال لے جانے سے قبل کئی گھنٹے تک جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، جس کے بعد 29 نومبر کو انہوں نے دم توڑ دیا۔ پولیس نے اس سلسلے میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے تاہم ابھی تک کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔

فوٹو: اے این آئی

اترپردیش: گھر سے الگ برتن لے کر آتے ہیں اشرافیہ کے بچے، مڈڈے میل ساتھ کھانے سے کرتے ہیں پرہیز

پرنسپل کا کہنا ہے کہ ، ہوسکتا ہے بچوں نے یہ سب گھر میں سیکھا ہو۔ ہم نے کئی بار ان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ سب برابر ہیں لیکن اشرافیہ کے بچے دلت کمیونٹی کے بچوں سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔

علامتی فوٹو: یوٹیوب

اسکولوں میں ذات کی بنیاد پر رسٹ بینڈ پہننے پر پابندی کو بی جے پی نے بتایا ہندو مخالف کارروائی

بی جے پی نے اسکولوں میں ذات سے متعلق رسٹ بینڈ پر پابندی لگانے والے سرکلر کو ہندو مخالف کارروائی قرار دیا ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے سرکلر واپس لینے کی مانگ کی ہےاور اسکول آف ایجوکیشن کے ڈائریکٹر سے یہ بھی پوچھا ہے کہ کیا انہوں نے دوسرے مذاہب کی علامتوں پر بھی پابندی عائد کرنے کی جرأت کی ہے۔

علامتی تصویر، رائٹرس

تمل ناڈو:  کئی اسکولوں میں بچوں کو ان کی ذات کے لحاظ سے رسٹ بینڈ پہنانے کا الزام

ایک رپورٹ کے مطابق تمل ناڈو کے کئی اسکولوں میں بچوں کی ذات بتانے کے لئے ان کے ہاتھ میں الگ الگ رنگوں کے بینڈ پہنائے جا رہے ہیں۔ڈائریکٹر آف اسکول ایجوکیشن نے ایسے اسکولوں کی پہچان کر کے ان کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔

فوٹو : ہندوستان ٹائمز

بہار: اشرافیہ طبقہ کیوں ہے بی جے پی سے ناراض؟

سیاسی گلیاروں میں ایک تذکرہ یہ بھی ہے کہ پہلے مرحلے کے رائے دہندگی کے بعد بی جے پی کے پاس حلقے سے جو خبریں پہنچیں اس سے پارٹی کو اشرافیہ کی ناراضگی کا احساس ہوا ہے۔ ایسے میں اب وہ اشرافیہ ا س کے رہنماؤں کو منانے میں جٹ گئی ہے۔

Media Bol Ep 66

میڈیا بول : بھارت بند، کسان مزدور ریلی اور ہم جنسی کے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ

میڈیا بول کے اس ایپی سوڈ میں سنیے ایس سی ایس ٹی قانون کے خلاف اشرافیہ تنظیموں کی طرف سے بلائے گئے بھارت بند ، گزشتہ ہفتہ کسان مزدوروں کی ریلی اور ہم جنسی کے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلہ پر سینئر صحافی سیلیش اور دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر رتن لال سے ارملیش کی بات چیت۔

Don`t copy text!