Urdu News

(علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی)

جھارکھنڈ: ایک مسلمان کو مبینہ طور پر تھوک چاٹنے اور ’جئے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کے لیے مجبور کیا گیا

پنجاب میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سکیورٹی میں کوتاہی کےخلاف دھنباد میں احتجاج کر رہےبی جے پی کے کارکنوں نے مبینہ طور پر وزیر اعظم اور بی جے پی کے جھارکھنڈ ریاستی صدر کو نا زیبا کلمات کہنےکے الزام میں ذہنی طور پر معذور ایک مسلمان کی پٹائی کی تھی۔ وزیراعلیٰ نے اس معاملے میں قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی)

جھارکھنڈ: ماب لنچنگ قانون آنے کے بعد بھیڑ نے گاؤں والے کی پیٹ پیٹ کر جان لی، لاش کو آگ کےحوالے کیا

پولیس کے مطابق گاؤں والوں کا الزام تھا کہ 32 سالہ سنجو پردھان جنگل سے لکڑیاں اسمگل کرتا تھا۔ اس سے ناراض گاؤں والوں نے پتھروں اور لاٹھیوں سے پیٹ پیٹ کراس کو مارنے کے بعد لاش کو آگ کے حوالے کردیا۔

علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی

حد بندی کمیشن: کشمیر کے سیاسی تابوت میں آخری کیل

کمیشن نے اسمبلی حلقوں کی نئی حد بندی میں آبادی کے بجائے رقبہ کو معیار بنایا ہے۔ اس کا استدلال ہے کہ چونکہ جموں کا رقبہ26293مربع کلومیٹر، کشمیر کے رقبہ 15940مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے، اس لیے اس کی سیٹیں بڑھائی گئیں ہیں۔ اگر یہ معیار واقعی افادیت اور معتبریت رکھتا ہے، تو اس کو پورے ہندوستان میں بھی نافذ کردینا چاہیے۔

ہیمنت سورین، فوٹو: پی ٹی آئی

جھارکھنڈ: بی جے پی کے ہنگامے کے بیچ ماب لنچنگ  کے خلاف بل منظور، قصوروار پائے جانے پر ہوگی عمر قید

جھارکھنڈ میں ماب وائلنس اور ماب لنچنگ بل،2021 کے قانون بننے پر ماب لنچنگ کے قصوروار  پائے جانے والوں کے لیے جرمانے اور جائیدادکی قرقی کے علاوہ تین سال سے لے کرعمر قید تک کی سزا کا اہتمام کیا گیاہے۔مغربی بنگال اور راجستھان کے بعد اس طرح کے […]

Screenshot 2021-12-16 at 7.11.55 AM

جامعہ میں پولیس تشدد کے دو سال: ’مظاہرین وکٹم نہیں، فائٹر تھے‘

ویڈیو: 15 دسمبر 2019 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی کے طلبہ پر پولیس نے تشدد کیا تھا۔ یونیورسٹی کے طلبہ کی طرف سے سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت کی جا رہی تھی۔ لائبریری میں طلبہ کو پیٹا گیا اور لائبریری میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی تھی۔ اس تشدد کے دو سال مکمل ہونے پر پریس کلب آف انڈیا میں اس دن کو اظہاررائے، تحریک اور جمہوریت پر حملے کے طور پر یاد کیا گیا۔

گزشتہ13 دسمبر کو ہوئے بند کے دوران ایک چوک پر سناٹا۔ (فوٹو اسپیشل: ارینجمنٹ)

لداخ کے لوگ مودی حکومت سے ناراض کیوں ہیں؟

اگست 2019 میں جموں و کشمیر سے الگ کرکے مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ بنائے جانے کے بعد سے اس کو مکمل ریاست کا درجہ دینے اوریہاں کے باشندوں کو زمین اور ملازمت کے تحفظ کی ضمانت دینے کا مطالبہ آئے دن ہوتا رہتا ہے۔عام طور پر لداخ کےمسلم اکثریتی کارگل اور بودھ اکثریتی لیہہ کے علاقے ایک دوسرے سے بنٹے رہتے ہیں، لیکن اس بار لوگوں نے متحد ہو کر خطے کی آئینی سلامتی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

رام مندر کی تحریک آزادی کی جدوجہد سے بڑی تھی: وشو ہندو پریشد

وی ایچ پی کے جوائنٹ جنرل سکریٹری سریندر جین نے کہا کہ ملک کو سیاسی آزادی1947میں ملی لیکن مذہبی اور ثقافتی آزادی رام مندر کی تحریک کے ذریعے حاصل ہوئی۔ جین نے یہ بھی کہا کہ چندے کی مہم نے پورے ملک کو ساتھ لاکر بتایا کہ صرف رام ہی ملک کو متحد کر سکتے ہیں۔ سیکولر سیاست نے صرف ملک کو تقسیم ہی کیا ہے۔

(علامتی تصویر،فوٹو: پی ٹی آئی)

ہندو راشٹر ہو یا نہ ہو ہم یقینی طور پر ایک غنڈہ راج میں تبدیل ہو چکے ہیں

پچھلےسات سالوں میں باربارمسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف تشدد کے اشارے کیےگئے ہیں اور بڑے پیمانے پر ان کےحق میں دلائل دیے گئے ہیں۔ جب آپ آبادی کنٹرول کے نام پر قانون بناتے ہیں، اپنی بیٹیوں کی دوسرے مذاہب میں شادی کو روکنے کے نام پر، مسلم خواتین کو ان کے مردوں سے بچانے کے نام پر، آپ ان کے خلاف تشدد کے لیے زمین تیار کرتے ہیں۔

(فوٹوبہ شکریہ: انصاف)

ہندوستان میں انسانی حقوق کے کارکنوں پر حملوں کے خلاف انٹرنیشنل گروپ نے کہا-آواز اٹھانا نہیں اس کو دبانا اینٹی نیشنل

دنیا بھر کے 15 سےزیادہ ممالک کے ہندوستانی تارکین وطن اور 30 بین الاقوامی انسانی حقوق کے گروپوں نے ہندوستان میں انسانی حقوق پر ہو رہےحملوں کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے اُن قوانین کو رد کرنے کی وکالت کی بھی ہےجو انسانی حقوق کےتحفظ کو جرم قرار دے رہے ہیں اورانسانی حقو ق کے کارکنوں کو جیل میں ڈال رہے ہیں۔

ہریانہ کے وزیر اعلیٰ  منوہرلال کھٹر۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کھلے میں نماز پڑھنے کی روایت کو ’برداشت‘ نہیں کیا جائے گا: وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر

ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے یہ بھی کہا کہ ضلع انتظامیہ کا کھلی جگہوں پر نماز کے لیے کچھ جگہوں کو محفوظ رکھنے کاقبل کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے اور ریاستی حکومت اب اس مسئلے کا پرامن حل تلاش کرے گی۔ گڑگاؤں میں پچھلے کچھ مہینوں میں، کچھ ہندو تنظیموں کے ارکان ان جگہوں پر جمع ہوتے ہیں اور ‘بھارت ماتا کی جئے’ اور ‘جے شری رام’کے نعرے لگاتے ہیں جہاں مسلمان نماز ادا کرتے ہیں۔

جیل سے رہا ہونے کے بعد سدھا بھاردواج۔ (فوٹو بہ شکریہ ٹوئٹر/@IJaising)

ایلگار پریشد معاملے میں ملزم سدھا بھاردواج تین سال بعد جیل سے رہا

بامبے ہائی کورٹ نے 60سالہ وکیل اور کارکن سدھا بھاردواج کو گزشتہ یکم دسمبر کو ضمانت دے دی تھی۔ بھاردواج کو اگست 2018 میں پونے پولیس نے یو اے پی اے کے تحت جنوری 2018 کے بھیما کورےگاؤں تشدد اور ماؤنوازوں کے ساتھ مبینہ روابط کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

 (فوٹو: پی ٹی آئی)

نماز میں رائٹ ونگ گروپوں کے رکاوٹ ڈالنے کی مذمت ہونی چاہیے: گڑگاؤں مسلم کاؤنسل

گڑگاؤں مسلم کاؤنسل نے کہا کہ دو دہائیوں سے زیادہ سے کھلی جگہوں پر جمعہ کی نماز ادا کی جا رہی ہے، کیونکہ مسلمانوں کے پاس مطلوبہ تعدادمیں مسجد نہیں ہے۔ مئی 2018 کے بعد شہر میں پہلی بار نمازمیں خلل کی اطلاع ملی تھی، جس کے بعد سے مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی کئی کوششیں ہوئی ہیں۔

3011 Gondi.00_01_30_22.Still009

سدھا بھاردواج کو ضمانت: کیا سب سے بڑی جمہوریت میں سیاسی قیدیوں کے حقوق محفوظ ہیں؟

ویڈیو: بھیماکورےگاؤں -ایلگار پریشد معاملے میں ساڑھے تین سال سے جیل میں بند وکیل سدھا بھاردواج کو گزشتہ دنوں بامبے ہائی کورٹ نے ڈفالٹ ضمانت دے دی ہے۔ حالانکہ عدالت نے دیگر آٹھ ملزمین کی ضمانت عرضی ایک بار پھر خارج کر دی ہے۔

بہ شکریہ: پرائم ویڈیو

کیا ہندی فلموں کو جنوبی ہند کی علاقائی فلموں سے سیکھنے کی ضرورت ہے؟

کچھ عرصہ سے ہندو انتہاپسندوں کی مربی تنظیم آر ایس ایس کو یہ خیال ستا رہا ہے دلیپ کمار عرف یوسف خان سے شروع ہو کر شاہ رخ خان تک اداکاروں کی ایک بڑی کھیپ، سوسائٹی کے لیے رول ماڈل کا کام کرتے ہیں۔ اسی لیے پچھلے کئی برسوں سے بالی ووڈ ان کے نشانے پر ہے۔

سریندر گاڈلنگ (فائل فوٹو:  پی ٹی آئی)

ایلگار پریشد: سریندر گاڈلنگ نے جیل حکام پر دوائیوں کی سپلائی روکنے کا الزام لگایا  

ایلگارپریشدمعاملےمیں ملزم وکیل سریندرگاڈلنگ نےتلوجہ سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ پر ان کی دوائیوں کی سپلائی روکنے کاالزام لگایا ہے۔ بتایا گیا کہ ان دوائیوں کےلیےان کےاہل خانہ نے نچلی عدالت سے اجازت لی تھی،لیکن اب عدالتی احکامات کی بھی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

سدھا بھاردواج، فوٹو: دی وائر

این آئی اے کورٹ نے سدھا بھاردواج کو جیل سے رہا کرنے کی اجازت دی

این آئی اے کی خصوصی عدالت نےوکیل اور کارکن سدھا بھاردواج کو 50 ہزار روپے کے مچلکے پر رہائی دیتے ہوئے کہا کہ انہیں عدالت کے دائرہ اختیار میں رہنا ہوگا اور عدالت کی اجازت کے بغیر ممبئی نہیں چھوڑیں گی۔اس کے ساتھ ہی ان کے میڈیا کے ساتھ بات چیت پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

بابری مسجد-رام جنم بھومی تنازعے کا قانونی تصفیہ اس کا انجام نہیں محض آغاز تھا …

ایودھیاتنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعدجن کو لگتا تھا کہ اس کے نام پرفرقہ وارانہ تعصب کی بلا اب ان کےسر سے ہمیشہ کے لیے ٹل جائےگی،اور سیاسی طور پراس کا غلط استعمال بند ہو جائےگا، ملک کی سیاسی قیادت ان کی معصوم امیدوں پر پانی پھیرنے کو تیار ہے۔

 (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

گڑگاؤں: نماز جمعہ میں پھر سےخلل ڈالنے کی کوشش، مظاہرین  نے کھڑے کیے ٹرک

سنیکت ہندوسنگھرش سمیتی نےانتظامیہ کو ایک الٹی میٹم جاری کرکے کہا کہ وہ اگلے ہفتے سےشہر میں کسی بھی عوامی جگہ پر نماز کی اجازت نہیں دیں گے۔جمعہ کو گڑگاؤں کے سیکٹر37 میں مظاہرین کی طرف سے مسلسل نعرےبازی اور امن وامان میں خلل پڑنے کے اندیشہ کو دیکھتے ہوئے پولیس نے 10 لوگوں کو حراست میں لیا اور بعد میں ایک کو گرفتار بھی کیا۔

نیشنل پیپلزپارٹی(این پی پی)ایم پی  اگاتھا سنگما۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

بی جے پی کی اتحادی  نیشنل پیپلز پارٹی نے زرعی قوانین کی طرح سی اے اے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا

پارلیامنٹ کےسرمائی اجلاس سے پہلے بی جے پی کی اتحادی نیشنل پیپلز پارٹی(این پی پی)نےشہریت قانون کو منسوخ کرنے کامطالبہ کیا ہے۔ میگھالیہ کے تورا لوک سبھا حلقہ سے ایم پی اگاتھا سنگما نے سرکار سے اپیل کی ہے کہ جس طرح اس نے لوگوں کےجذبات مدنظر زرعی قانون منسوخ کیے ہیں، اسی طرح نارتھ ایسٹ کے لوگوں کے جذبات کے مدنظرسی اے اے کوبھی منسوخ کیا جانا چاہیے۔

ذکیہ جعفری۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

ذکیہ جعفری نے سپریم کورٹ میں کہا-گجرات فسادات میں ’منصوبہ بند‘ طریقے سے تشدد کو انجام دیا گیا تھا

گجرات فسادات کے دوران ہلاک ہوئے کانگریس کے سابق رکن پارلیامنٹ احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ جعفری نے 2002 کے فسادات کے دوران گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی سمیت 64 لوگوں کو ایس آئی ٹی کی کلین چٹ کو چیلنج کیاہے۔انہوں نے کہا کہ گجرات فسادات میں تشدد کو ‘سوچ سمجھ کر’ انجام دیا گیا تھا۔

2018 میں کاس گنج میں ہوئےتشدد میں مارے گئے چندن گپتا۔ (فوٹو بہ شکریہ: سوشل میڈیا)

کیا چندن گپتا ہندوتوا قوم پرستی کا شکار ہوا؟

کاس گنج میں سال 2018 میں مارے گئے چندن گپتا کے والدکہہ رہے ہیں کہ نوجوانوں کو اس راستےپر نہیں جانا چاہیے جس پر ہندوتوایاقوم پرستی کے جوش وجنون میں ان کا بیٹا چل پڑا تھا۔ کیا ان کی ناراضگی کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس موت کے بعد یا اس کے بدلے جو چاہتے تھے، وہ نہیں ملا؟ یا وہ اس کے خطرے کو سمجھ پائے ہیں؟

گڑگاؤں میں نمازادا کرتے لوگ۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

گڑگاؤں: رائٹ ونگ گروپوں کی مخالفت کے بیچ نماز کے لیے اپنی جگہ دے گی گوردوارہ کمیٹی

گڑگاؤں میں پچھلے کچھ مہینوں سے رائٹ ونگ گروپ کھلے میں نمازکی مخالفت کر رہے ہیں۔گوردوارہ کمیٹی ساتھ ہی اکشے یادو نام کے ایک دکان مالک نے بھی نماز کے لیے اپنی خالی جگہ دینے کی پیش کش کی ہے۔

(فوٹو بہ شکریہ: rupixen/Unsplash)

نوٹ بندی کے پانچ سال بعد مودی حکومت کے پاس اس کی کامیابی کو بتانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے

نوٹ بندی کے غیرمتوقع فیصلے کے ذریعے بات چاہے کالے دھن پر روک لگانے کی ہو، معاشی نظام سے سے نقد کو کم کرنے یا ٹیکس جی ڈی پی تناسب بڑھانے کی،اعدادوشمار مودی حکومت کے حق میں نہیں جاتے۔

فرانس میں داسو ایویشن کی فیکٹری میں رافیل ہوائی جہاز (فوٹو : رائٹرس)

رافیل سودے سے متعلق ان پانچ بڑے سوالوں کا جواب مودی حکومت  کو ضرور دینا چاہیے

مودی حکومت کے پاس داسو ایوی ایشن کے ساتھ سودے پر سوال اٹھانے کے لیےخاطرخواہ ثبوت تھے۔ ایسے میں یہ سودا کیوں ہوا؟ اگر پچھلی یو پی اےحکومت میں رشوت ملی تھی، تو داسو کو بلیک لسٹ میں کیوں نہیں ڈالا گیا؟

0511 Sumedha Pal Interview.00_14_36_09.Still001

اگر گڑگاؤں میں نماز ہوئی تو میں وہاں تلوار لےکر دکھائی دوں گا: ہندوتوا لیڈر

ویڈیو: گزشتہ پانچ نومبر کو بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے کارکنوں نے گڑگاؤں کے سیکٹر12اے میں اس جگہ پر گئووردھن پوجا کااہتمام کیا تھا، جہاں ہر جمعہ کو نماز ادا کی جاتی تھی۔ یہ کارکن پچھلے کچھ وقتوں سےیہاں نماز کی مخالفت کر رہے تھے۔ دی وائر نے دنیش بھارتی سے بات کی، جو گڑگاؤں میں نماز کو روکنے کےالزام میں کئی بار جیل جا چکے ہیں۔ دنیش بھارت ماتا واہنی کے رکن ہیں اور وشو ہندو پریشد سے بھی وابستہ ہیں۔

نرسنہانند اور کپل مشرا۔

گڑگاؤں: نماز کی جگہ  پر پوجا کے لیے ہندوتوا گروپ نے کپل مشرا اور نرسنہا نند کو مدعو کیا

گڑگاؤں میں پچھلے کچھ مہینوں سےہندوتوا گروپ کھلے میں نماز کی مخالفت کر رہے ہیں۔انتطامیہ نے گزشتہ تین نومبرکو 37طے شدہ مقامات میں سے آٹھ پر نماز ادا کرنے کی منظوری کو منسوخ کر دیا ہے ۔ اس بیچ سنیکت ہندو سنگھرش سمیتی نے سیکٹر12اے میں اس مقام پرگئووردھن پوجا کا اہتمام کیا ہے، جہاں پچھلے کچھ دنوں سے نماز کی مخالفت کی جا رہی ہے۔

1410 Mukul.00_01_51_23.Still002

جے این یو کے طالبعلم نجیب احمد کے لاپتہ ہونے کے پانچ سال، انصاف کا مطالبہ

ویڈیو: جواہر لال نہرو یونیورسٹی(جے این یو)کےطالبعلم نجیب احمد کو لاپتہ ہوئے پانچ سال ہو چکے ہیں۔ نجیب کہاں اور کس حالت میں ہیں، اس سوال کا جواب نہ تو جے این یوانتظامیہ کے پاس ہے اور نہ ہی کسی جانچ ایجنسی کےپاس۔گزشتہ دنوں طلبہ تنظیموں نے اس معاملے کی پھر سے جانچ کی مانگ کو لےکر یونیورسٹی کیمپس میں مارچ نکالا تھا۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

ہنگر انڈیکس: اپوزیشن نے مرکز کو نشانہ بنایا، سرکار نے کہا-استعمال کیا گیا طریقہ غیر سائنسی

سال 2021 کے گلوبل ہنگر انڈیکس میں ہندوستان کے 101 ویں پائیدان پرپہنچنے کےلیےاپوزیشن پارٹیوں نے مرکز کی پالیسیوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ حکمرانوں کی کارکردگی پر سیدھا سوال ہے۔ وہیں سرکار نے اس گراوٹ پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے رینکنگ کے لیے استعمال کیے گئے طریقہ کو ‘غیر سائنسی’ بتایا ہے۔

فوٹو : رائٹرس

گلوبل ہنگر انڈیکس: ہندوستان 116ممالک میں 101 ویں نمبر پر، پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال سے پیچھے

سال 2021 کے گلوبل ہنگر انڈیکس میں ہندوستان پچھلے سال کے 94 ویں نمبر سے پھسل کر 101 ویں پائیدان پر پہنچ گیا ہے۔آئرلینڈ کی ایجنسی کنسرن ورلڈوائیڈ اور جرمنی کے ادارے ویلٹ ہنگر ہلفے کے ذریعےمشترکہ طور پر تیار کی گئی رپورٹ میں ہندوستان میں بھوک کی سطح کو ‘تشویشناک’بتایا گیا ہے۔

جسٹس روہنٹن نریمن۔ (السٹریشن: دی وائر)

لوگ آزادی سے سانس لے سکیں، اس لیے یو اے پی اے اور سیڈیشن قانون کو رد کرنا چاہیے: جسٹس نریمن

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس روہنٹن نریمن نے کہا کہ شاید یہی وجہ ہے کہ ان جابرانہ قوانین کی وجہ سےبولنے کی آزادی پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔اگرآپ ان قوانین کے تحت صحافیوں سمیت تمام لوگوں کو گرفتار کر رہے ہیں، تو لوگ اپنے دل کی بات نہیں کہہ پائیں گے۔

(فوٹو بہ شکریہ: پی ٹی آئی)

بدعنوانی کی جڑ: الیکشن میں ہوشربا اخراجات

سینٹر فار میڈیا اسٹڈیز کی ایک رپورٹ کے مطابق 2019کے انتخابات میں ہندوستان میں سیاسی پارٹیوں اور الیکشن کمیشن نے کل ملا کر 600بلین روپے خرچ کیے۔ جس میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی نے 270بلین روپے خرچ کیے۔ یعنی فی ووٹر 700روپے خرچ کیے گئے ہیں اور ایک پارلیامانی حلقہ میں 100کروڑ یعنی ایک بلین روپے خرچ کیے گئے۔ تقریباً200بلین روپے ووٹروں میں بانٹے گئے، 250بلین روپے پبلسٹی پر خرچ کیے گئے اور 50بلین روپے لاجسکٹکس وغیرہ پر خرچ کیے گئے۔

(فوٹو : رائٹرس)

سال 2019 میں ہندوستان میں ہوئے وہاٹس ایپ-این ایس او ہیک کا وقت پیگاسس پروجیکٹ کے ڈیٹابیس سے میل کھاتا ہے

پیگاسس پروجیکٹ کےتحت ملے دستاویز دکھاتے ہیں کہ 2019 میں جن ہندوستانی نمبروں کو وہاٹس ایپ نے ہیکنگ کی وارننگ دی تھی، وہ اسی مدت میں میں چنے گئے تھے جب وہاٹس ایپ کے مطابق پیگاسس اسپائی ویئر نے اس میسیجنگ ایپ کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے صارفین کو نشانہ بنایا تھا۔

ایم جے اکبر۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

ایم جے اکبر کو ہٹانے کے لیے 150 سے زیادہ صحافیوں  نے وی آن نیوز کو خط لکھا

گزشتہ دنوں سابق مرکزی وزیر ایم جےاکبر زی میڈیا کے انگریزی چینل‘وی آن’سےجڑے ہیں۔ اب ان کی برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے صحافیوں کے ایک گروپ نے اس ادارے سے کہا ہے کہ کام کرنے کی جگہ پر جنسی ہراسانی اور جنسی ہراساں کرنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کےا سٹالن۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

تمل ناڈو اسمبلی نے سی اے اے رد کیے جانے کی قرارداد منظور کی

اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے سے پہلےتمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے کہا کہ مرکز کو این پی آر اور این سی آرکی تیاری سے متعلق اپنی پہل کو بھی پوری طرح سے روک دینا چاہیے۔شہریت قانون کےخلاف قرارداد پاس کرنے والا تمل ناڈو ملک کا آٹھواں صوبہ بن گیا ہے۔

'

بی جے پی کے رہنماؤں اور وزیروں کے مہنگائی پر عجیب و غریب بیان

ویڈیو: ہندوستان کی عوام مہنگائی کی مارجھیل رہی ہے۔ پٹرول، ڈیزل،رسوئی گیس کی قیمت لگاتار بڑھتی جا رہی ہے۔اس سال جنوری سےستمبر تک رسوئی گیس کے دام 190روپے تک بڑھ گئے، وہیں پٹرول کے دام 100 کے پار بھی گئے۔اس بیچ بی جے پی کے رہنماؤں اوروزیروں کے عجب و غریب بیان آتے رہے۔سرکار میں آنے سے پہلے اور بعد میں بی جے پی وزیروں اوررہنماؤں کے بیانات کو سنا جانا چاہیے۔

Don`t copy text!