Urdu

(تصویر: پی ٹی آئی)

حجاب تنازعہ: دو مسلم طالبات نے کالج سے این او سی تو ایک نے ٹی سی لی

کرناٹک کے منگلورو واقع کالج میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج کرنے والی دو مسلم طالبات کو دوسرے کالج میں داخلہ لینے کے لیے این او سی دیا گیا ہے، جبکہ ایک کو ٹرانسفر سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا ہے۔ تین میں سے دو طالبات نے پریس کانفرنس کی تھی اور یونیورسٹی کیمپس میں یکساں اصول کو سختی سے لاگو کرنے کے فیصلے پر سوال اٹھایا تھا۔

(علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی)

کرناٹک: کالج میں ٹوپی پہننے پر مسلم طالبعلم کی پٹائی، پرنسپل اور چھ پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ

کرناٹک کے باگل کوٹ ضلع کے ٹیراڈل واقع گورنمنٹ ڈگری کالج کا معاملہ۔ یہ واقعہ اسی سال 18 فروری کو پیش آیا تھا۔ 19 سالہ طالبعلم نوید حسن صاب تھرتھاری نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ ٹوپی پہن کر کالج گئے تھے، لیکن پرنسپل نے انہیں کالج میں داخل ہونے سے روک دیا۔ پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ مار پیٹ کی اور ان کے عقیدے کی توہین کی۔ مقامی عدالت کی ہدایت پر اس معاملے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

(تصویر: پی ٹی آئی)

کرناٹک: حجاب معاملے کو عدالت تک لے جانے والی دو لڑکیاں امتحان دیے بغیر گھر لوٹ گئیں

دونوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ انہیں حجاب پہن کر امتحان دینے کی اجازت دی جانی چاہیے، لیکن کالج انتظامیہ نے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں امتحان ہال میں داخل ہونے سے منع کردیا۔ اس کے بعد دونوں لڑکیاں گھر واپس آگئیں۔

(تصویر: پی ٹی آئی)

کرناٹک: حجاب میں ملبوس طالبات کو دسویں بورڈ کے امتحانات میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی

گزشتہ 15 مارچ کو کرناٹک ہائی کورٹ نے حجاب تنازعہ سے متعلق ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ حجاب پہننا اسلام میں ضروری مذہبی روایت کا حصہ نہیں ہے اور ریاست میں تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو برقرار رکھا تھا۔ اس کے بعد کرناٹک حکومت نے واضح کیا تھا کہ سب کو ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنا ہو گا، ورنہ امتحان دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

(تصویر: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

آئینی اداروں سے مسلم مخالف تشدد روکنے کی اپیل، صحافیوں نے کہا – خاموشی کوئی آپشن نہیں

ملک کے 28 سینئر صحافیوں اور میڈیا پرسن نے صدر جمہوریہ، سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس کے ججوں، الیکشن کمیشن آف انڈیا اور دیگر قانونی اداروں سے ملک کی مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر ہورہےحملوں کو روکنے کی اپیل کی ہے۔

فوٹو بہ شکریہ: Twitter/@masood_manna)

کرناٹک: حجاب تنازعہ کے بیچ امتحان نہ دے پانے والی طالبات کے لیےنہیں ہوگا دوبارہ امتحان

اس معاملے میں کرناٹک ہائی کورٹ کےحتمی فیصلے کے انتظار میں متعدد طالبات نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ نہ تو کلاس جائیں گی اور نہ ہی پریکٹیکل امتحانات دیں گی۔ اب اس معاملے پر وزیر تعلیم بی سی ناگیش کا کہنا ہے کہ وہ غیر حاضر طالبات کے لیے دوبارہ امتحان نہیں لیں گے، طالبات اگر چاہیں تو سپلیمنٹری امتحانات میں شامل ہو سکتی ہیں۔

Photo : rajasthantoursindia.com

آج رنگ ہے…

کوئی بھی جشن اور تہوار مذہب سے زیادہ انسان کےعشق و محبت کے جذبے کو بیدار کرتا ہے۔ہولی بھی ایک تہوار سے زیادہ کچھ ہے اس لئے ہندومسلمان میں فرق کرنا مشکل ہوتا ہے۔

امت شاہ کے ساتھ بی جے پی لیڈر یشپال سوورنا (دائیں)۔ (تصویر بہ شکریہ: ٹوئٹر/@YashpalBJP)

حجاب تنازعہ: بی جے پی لیڈر بولے – اس معاملے میں عدالت کا رخ کرنے والی لڑکیاں دہشت گرد تنظیم کی ممبر ہیں

بی جے پی او بی سی مورچہ کے قومی جنرل سکریٹری اور اُڈپی گورنمنٹ پی یو کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی کے نائب صدر یشپال سورنا نے کہا کہ لڑکیوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ طالبعلم نہیں بلکہ دہشت گرد تنظیم کی ممبر ہیں۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف بیان دے کر وہ ججوں کی توہین کر رہی ہیں۔

(تصویر: پی ٹی آئی)

کرناٹک: حجاب پر پابندی برقرار، ہائی کورٹ نے کہا- حجاب اسلام کا حصہ نہیں

کرناٹک ہائی کورٹ کی تین ججوں کی بنچ نے اُڈپی کے ‘گورنمنٹ پری یونیورسٹی گرلز کالج’ کی مسلم طالبات کی ان عرضیوں کو خارج کر دیا ہے جن میں حجاب پہننے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔عدالت نے کہا کہ یونیفارم کا اصول ایک معقول پابندی ہے اور آئینی طور پر قابل قبول ہے۔ جس پر لڑکیاں اعتراض نہیں کر سکتیں۔

(علامتی تصویر،فوٹو: پی ٹی آئی)

ہم نے اپنا بھارتیہ کرن کیا!

ہمیں خیال آیا ‘اقبال’ عربی کا لفظ ہے۔ ہندوستان میں رہتے ہوئے عربی نام رکھنا کہاں کی حب الوطنی ہے۔ ہم نے اپنا نام ‘کنگال چند’ رکھ لیا۔ یہ نام ویسے بھی ہماری مالی حالت کی غمازی کرتا تھا۔ نہ صرف ہماری بلکہ ملک کی حالت کی بھی!

نروتم مشرا (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

مدھیہ پردیش: پولیس کارروائی میں مستعمل اُردو اور فارسی لفظوں کو ہندی لفظوں سے بدلنے کا عمل شروع

مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے گزشتہ ماہ پولیس کارروائی میں مستعمل دوسری زبانوں کے الفاظ کو ہندی کےرائج لفظوں سے بدلنے کا اعلان کیا تھا۔ مختلف اضلاع کے سینئر پولیس افسروں سے کہا گیا ہے کہ وہ سات دنوں کے اندرطے شدہ پروفارما میں غیر ہندی الفاظ کو بدلنے سے متعلق تجاویز پیش کریں۔

ڈی ڈی اردو السٹریشن: دی وائر

ملازمین کا دعویٰ؛ اُردو نیوز بلیٹن کی تعداد کم کرنے کے معاملے میں پرسار بھارتی کی ’تردید‘ گمراہ کن  

دی وائر نے مرکزی ڈی ڈی اُردو چینل پر بلیٹن کے گھٹائے جانے کے بارے میں ویڈیو اسٹوری کی تھی، اس پر جواب دیتے ہوئے پرسار بھارتی نے اُردو بلیٹن سے متعلق ایک ایسی فہرست پیش کی ہے جو نیٹ ورک کے دوسرے چینلوں پر نشر ہو رہے ہیں۔

1301 Mukul Mono.00_09_08_20.Still006

کیا پرسار بھارتی اُردو  کو نظر انداز کر رہی ہے؟

ویڈیو: کووڈ-19 سے پہلے ڈی ڈی نیوز اورآل انڈیا ریڈیو، دونوں سے اردو کے دس بلیٹن نشر ہو رہے تھے۔ 2020 میں مہاماری کی پہلی لہر کے دوران کووڈ پروٹوکول کی وجہ سے ہندی، انگریزی، اردو ڈیسک پر بلیٹن کی تعداد کم کردی گئی تھی۔ بعد میں تمام زبانوں میں پروگرام بحال کر دیے گئے، لیکن ڈی ڈی نیوز پر اردو کے صرف دو اور آل انڈیا ریڈیو پر تین بلیٹن شروع کیے گئے۔

لیہہ (فوٹوبہ شکریہ: وکی میڈیا کامنس)

لداخ: محکمہ ریونیو کی نوکریوں سے اردو جاننے کی لازمی اہلیت کو ختم کرنے کے فیصلے پر تنازعہ

لداخ کے محکمہ ریونیو میں نوکریوں کے لیے اردو زبان کی اہلیت کو ختم کرنے کے فیصلے پر مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ ضلع لیہہ اور مسلم اکثریتی کارگل کے بیچ نظریاتی اختلافات پیدا کرنے کے مقصد سےاٹھایاگیافرقہ وارانہ قدم ہے، لیکن اس سے سیاسی فائدہ نہیں ہوگا، بس ایڈمنسٹریشن کی سطح پرمسائل پیدا ہوں گے۔

فوٹو بہ شکریہ: Twitter/@masood_manna)

کرناٹک: حجاب کی وجہ سے سرکاری کالج کی طالبات کو کلاس روم میں داخل ہونے کی اجازت نہیں

معاملہ اُڈپی کےگورنمنٹ ویمنس پی یو کالج کا ہے۔ چھ مسلم طالبات نے الزام لگایا ہےکہ پرنسپل انہیں کلاس میں حجاب پہننے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں اُردو، عربی اور بیری زبان میں بات کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ پرنسپل کا کہنا ہے کہ طالبات کیمپس میں حجاب پہن سکتی ہیں،لیکن کلاس روم میں اس کی اجازت نہیں ہے۔

NavalKishorePress

’اگر نول کشور نہ ہوتے تو ہم  تخیلاتی ادب کے عظیم ترین کارناموں سے محروم رہ جاتے‘

’یہ کہنا شاید صحیح نہیں کہ ہمیں اپنے اسلاف کے کارناموں کا علم نہیں ‘ لیکن کیا کیجیے کہ ہم اپنے کلچر ہیرو کو کہانیوں میں تلاش کرتے پھرتے ہیں۔منشی نولکشورکو میں کلچر ہیرو کے طور پر جانتا ہوں کہ انہوں نے کتابوں کی صورت آب حیات کے چشمے جاری کیے۔‘

Usne kaha tha

بک ریویو: اس نے کہا تھا-ہمارے تعصب کی دبیز پرتوں کو تہہ در تہہ اور بڑے صبر وضبط کے ساتھ کھولتا ہے

ہم جنس پرستوں کے تئیں سماج کا تعصب بیش از بیش اس کا جنسی پہلو ہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ جنس یا شہوت انسانی زندگی کا ایک لمحاتی حصہ ہے، بہت ہی محدود وقت کا کھیل ہے اصل چیز دو پیار کرنے والوں، خواہ وہ جنس مخالف ہوں یا ہم جنس ، کی ایک دوسرے سے محبت ہے ، قربت کی چاہ ہے نہ کہ جنس کا کھیل۔

Firaq-Gorakhpuri-The-Wire-Hindi-21

آدمی بنا ہی اِس لیے ہے کہ پیار کرے: فراق گورکھپوری

آج اُردوکے مایہ ناز شاعر فراق گورکھپوری کی سالگرہ ہے۔ دی وائر اُردو کے قارئین کے لیے ایکسپریس نیوز کے شکریے کے ساتھ فراق صاحب کا انٹرویو پیش کیا جارہا ہے ۔یہ انٹرویوان کے انتقال سے چند روز قبل ان کی رہائش گاہ پر کیا گیا تھا۔

رالف رسل، فوٹو بہ شکریہ: ارجمند آرا

رالف رسل کی یاد میں

رالف نے انگریزی دانوں کے درمیان اردو اور اپنے پسندیدہ شاعر غالب کو مقبول و معروف کرانے کاکام بھی اسی سنجیدگی سے عبادت کی طرح کیا۔ اردو کے ترویج کی ان کی کوششیں عملی ہیں— بحیثیت استاد بھی اور بہ حیثیت تنظیم کار بھی۔ غالب سے عشق ان متعدد کتابوں کی صورت میں ظاہر ہوا ہے جو انھوں نے وقتاً فوقتاً آکسفرڈ یونیورسٹی پریس اور دوسرے اشاعت گھروں سے شائع کرائی ہیں۔

فوٹو بہ شکریہ خدا بخش لائبریری فیس بک پیج

خدا بخش لائبری کی بلڈنگ خطرے میں؛ کیا آپ اس کے ماضی و حال سے واقف ہیں؟

حقانی القاسمی لکھتے ہیں؛اس لائبریری میں اتنا قیمتی ذخیرہ ہے کہ برٹش میوزیم نے اس کے عوض غیرمعمولی رقم کی پیش کش کی مگر خدا بخش کے جذبے نے اس پیشکش کو یکسر مسترد کردیا۔ انہوں نے صاف کہا کہ ؛مجھ غریب آدمی کو یہ شاہی پیش کش منظور نہیں۔

ڈاکٹر رشید امجد

ڈاکٹر رشید امجد: اُردو افسانے کا ایک عہد رخصت ہوا

ڈاکٹر رشید امجد حقیقی معنوں میں ’سیلف میڈ‘ انسان تھے۔ اپنی تعلیمی استعداد کو بڑھانے اور ایک عطا کرنے والے استاد کی حیثیت سے احترام پانے کا معاملہ ہو یا ایک تخلیق کار کی حیثیت سے اپنی راہ خود تراش کر نمایاں ترین ہوجانا، اس کے پیچھے ایک طویل جدوجہد اور ’فنافی الادب‘ کاسا جنون صاف دیکھا جا سکتا ہے۔

منو بھائی ، فوٹو بہ شکریہ محمد حمید شاہد

منو بھائی

منو بھائی کی تیسری برسی پرخصوصی تحریر:یہ ماں سے محبت ہی تھی کہ وہ لکنت کا شکار ہو گئے۔ اِس لکنت کا سبب ماں کے گال پر پڑنے والا وہ تھپڑ تھاجو طیش میں آکر منو بھائی کے والد نے جڑ دیا تھا۔ یہ منو بھائی کے بچپن کا واقعہ ہے مگر ان کا کہنا تھا کہ وہ چیزوں کو بہت سمجھنے لگے تھے۔ ماں کو یوں پٹتا دیکھ کر وہ چارپائی کے نیچے چھپ گئے اور جب وہ وہاں سے نکلے تو لکنت کا شکار ہو چکے تھے۔

فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹڑ

قصہ 1899 کے ایک مشرقی کتب خانہ کا

تقسیم کے بعد بہت سے لوگ پاکستان چلے گئے۔ جو ہندوستان میں رہے وہ فکر مند ہونے لگے کہ کتب خانے کا مستقبل کیا ہو۔ 1960 میں 16 بیل گاڑیوں میں کتب خانے کی 7914 جلدیں لادی جانے کے بعد وہ پٹنہ کے خدا بخش لائبریری لائی گئیں جہاں وہ آج بھی محفوظ ہیں۔

علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی

راجندر سنگھ بیدی کا یادگار افسانہ: کوارنٹین

بحیثیت ایک ڈاکٹر کے میری رائے نہایت مستند ہے اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ جتنی اموات شہر میں کوارنٹین سے ہوئیں، اتنی پلیگ سے نہ ہوئیں، حالاں کہ کوارنٹین کوئی بیماری نہیں، بلکہ وہ اس وسیع رقبہ کا نام ہے جس میں متعدی وبا کے ایام میں بیمار لوگوں کو تندرست انسانوں سے ازروئے قانون علیحدہ کر کے لا ڈالتے ہیں تاکہ بیماری بڑھنے نہ پائے۔

0503 Faiyaz Interview Master.00_44_40_17.Still003

’شرمشٹھا صرف سنگل مدر کی جدوجہد نہیں خوددار عورت کی کہانی بھی ہے‘

ویڈیو: نوجوان فکشن نویس اور شاعرہ انوشکتی سنگھ کا پہلا ناول‘شرمشٹھا’گزشتہ دنوں منظر عام پرآیا ہے۔ اس ناول کے تناظرمیں ان سے اسطوری اور دیومالائی کرداروں میں عورت کی موجودگی، سنگل مدر کی جدوجہد، عورت مرد کی مبینہ جائز اور ناجائزمحبت اور اس کے بعض دوسرے مندرجات پر فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت۔

فوٹو : عشق اردو

کیا حکومت این سی پی یو ایل کے بہانے اردو کو مسلمانوں کی زبان قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے؟

ذرائع نے بتایا کہ اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے کونسل کی منتقلی کے لئے گزشتہ سال پی ایم او کو خط لکھا تھا ، جس میں یہ دلیل دی گئی تھی کہ کونسل اقلیتوں سے متعلق کام کررہی ہے اس لیے اس کو ان کی وزارت (اقلیتی امور)کے تحت لایا جانا چاہیے۔اس کے بعد کئی دانشور وں نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ، اردو کو صرف مسلمانوں سے جوڑنا غلط ہےاور ہم اس طرح کی کسی بھی تبدیلی کی پرزور مخالفت کرتے ہیں۔

2511 Faiyaz Interview.00_39_12_22.Still004

’کرشن چندر آج لکھ رہے ہو تے تو تہاڑ جیل میں ہو تے‘

ویڈیو: گزشتہ دنوں آئی سی ایس ای نے معروف فکشن نویس کرشن چندر کی کہانی’جامن کا پیڑ‘کو دسویں جماعت کے نصاب سے ہٹا دیا تھا۔ ان کی فکشن نویسی اور ان کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں ان کے بھتیجے پون چوپڑہ سے فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت۔

un-campement-de-refugies-afghans

فرانس میں کیوں اردو بر صغیر کے پناہ گزینوں کی مشترکہ زبان بن رہی ہے؟

کیمپوں میں ایک ساتھ رہنے سے افغانی، پاکستانی اور بنگلہ دیشی کے لئے اردو خود بخود مُشترکہ زبان بَن گئی ہے۔ دراصل جِن کی مادری زبان اردو نہیں ہے، وہ سب کسی نہ کسی طرح اردو یا ہندی سےوابستہ ہیں۔ شمالی پاکستان اور پنجاب کے علاقوں میں اردو اگر ٹی وی چینلوں یا ریڈیو یا درسگاہوں میں غالب ہے تو افغانستان اور بنگلہ دیش میں بالی ووڈکی ہندی فلمیں یا انڈین ڈرامے کافی مقبول ہیں۔

Don`t copy text!