VHP

فائل فوٹو: رائٹرس

ہمیں واجپائی کے بنا ’مکھوٹے‘ والے اصلی چہرے کو نہیں بھولنا چاہیے

1984کے راجیو گاندھی اور 1993 کے نرسمہا راؤ کی طرح واجپائی تاریخ میں ایک ایسے وزیر اعظم کے طور پر بھی یاد کیے جائیں گے ،جنہوں نے سبق کو رواداری کا پڑھایا ،مگر بے گناہ شہریوں کے قتل عام کی طرف سے آنکھیں موند لیں ۔

فوٹو : ویکی پدیا/رائٹرس

رام جنم بھومی اور بابری مسجد کے سچ کو پیش کرتی ایک غیر معمولی کتاب

بک ریویو: شیتلا سنگھ کی یہ کتاب ایودھیا تنازعے کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہے ، فرقہ پرستی کے عروج اور اس کے عروج میں کانگریس کے کردار کو اجاگر کرتی ہے اور6دسمبر1992 کو بابری مسجد کی شہادت کی مکمل تفصیلات اور اڈوانی ، اومابھارتی اینڈ کمپنی کے ہر ’قصور‘ کو ہم تک پہنچادیتی ہے… یہ کتاب پڑھنی چاہئے ، سب کو پڑھنی چاہئے تاکہ وہ رام جنم بھومی بابری مسجد کا ’سچ‘ جان سکیں…

فوٹو: رائٹرس

وشو ہندو پریشد کو امید، ایودھیا میں رام جنم بھومی ٹرسٹ کے ڈیزائن کے مطابق ہوگی مندر کی تعمیر

ایودھیا معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کاشی اور متھرا کے مذہبی مقامات کو لے کر وشوہندو پریشد کے آئندےمنصوبے کے بارے میں پوچھے جانے پروشو ہندو پریشد کے انٹرنیشنل صدر وشنو سداشیو کوکجے نے کہا کہ باقی موضوعات پر سماج کے رخ کو رام مندر کی تعمیر کے بعد دیکھا جائےگا۔ اس سے پہلے فیصلے پر اپنے ردعمل میں سنگھ چیف موہن بھاگوت نے کہا تھا کہ سنگھ آندولن نہیں کرتا۔

Iqbal 2

سڑکوں پر نام پتہ پوچھنے والا ’جئے شری رام‘ کا نعرہ اب اسکولوں میں اپنے پاؤں پسار رہا ہے

رام کو امامِ ہند کہنے والے اقبال نے کیا نہیں لکھا،لیکن اب ملک کی سیاست زیادہ شدت سے پہچان کی سیاست کے گرد ناچ رہی ہے۔ زبان و ادب یا کوئی بھی ایسی چیز جو ان دو ملکوں کو جوڑ سکتی ہے اس پرحملہ تیز ہو گیا ہے اتفاق سے ہندوستان میں ایسی تمام چیزیں کسی نہ کسی طور پرمسلمانوں سے جوڑ دی گئی ہیں اس لئے مسلمان اس حملے کی زد میں ہے۔

فوٹو بہ شکریہ، بہترین ڈاٹ پی کے

یہ اقبال کی نظم پر نہیں بلکہ ہندو سماج کی تنگ ہوتی ذہنیت پر اظہار افسوس کا وقت ہے

وشو ہندو پریشد نے پیلی بھیت کے ایک پرائمری اسکول کے ہیڈ ماسٹر پر قومی ترانے کی جگہ اقبال کی دعا پڑھوانے کا الزام لگایا ۔ ان سے شکایت نہیں لیکن ضلع مجسٹریٹ سے ہے ۔ انہوں نے جس دعا کے لیے ہیڈ ماسٹر کو سزا دی ، کیا اس کے بارے میں ان کو کچھ معلوم نہیں ؟ کیا ب ہم ایسی انتظامیہ کی مہربای پر ہیں جو وشو ہندو پریشد کا حکم بجانے کے علاوہ اپنے دل اور دماغ کا استعمال بھول چکے ہیں ؟

علامتی تصویر: پی ٹی آئی

اترپردیش: اسکول اسمبلی میں علامہ اقبال کی نظم پڑھوانے کا الزام، ہیڈ ماسٹر معطل

ہیڈ ماسٹر پر الزام تھا کہ صبح کی اسمبلی میں بچوں سے علامہ اقبال کی نظم لب پہ آتی ہے دعا…پڑھائی جاتی تھی۔وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل جیسی تنظیموں کا کہنا تھا کہ یہ مذہبی نظم ہے اور مدرسوں میں گائی جاتی ہے۔

فوٹو: اے این آئی

کانگریسی رہنما بولے-مغربی بنگال میں لاء اینڈ آرڈر کی حالت خراب، مرکز چاہے تو نافذ کرے صدر راج

لوک سبھا میں کانگریس کے رہنما ادھیر رنجن چودھری نے کہا ریاست کے بی جے پی رہنما مغربی بنگال میں صدر راج کے نفاذ کی دلیل دے رہے ہیں ،اگر ایسی حالت ہے تو یقینی طورپر صدر راج کا نفاذ ہونا چاہیے ، لیکن ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا بی جے پی کے رہنما اس مدعے کو لے کر اتنے ہی سنجیدہ ہیں جتنا وہ باہر سے دکھا ئی دیتے ہیں۔

kunal-kamra-1200x600

گجرات: وزیر اعظم مودی کی تنقید کرنے والے اسٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرا کا شو رد

اس شو میں شریک ہونے کی کوشش کرنے والے ایک فرد نے کئی ٹوئٹ کرکے یہ کہا ہے کہ پروگرام میں رکاوٹ پیدا کرنے والے افراد ہندو تنظیم سے وابستہ تھے اور وہ کنال کامرا کو اینٹی نیشنل اور اینٹی ہندو کہہ رہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ لوگ اسلام مخالف نعرے بھی لگا رہے تھے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

ایودھیا تنازعہ: وشو ہندو پریشد نے کہا، رام مندر عدالت کی ترجیحات میں نہیں

وشو ہندو پریشد نے اپنے خط میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ معاملہ عدلیہ کی ترجیحات میں نہیں ہے،اس لیے اس میں تاخیر ہو رہی ہے۔عدلیہ اپنی ذمہ داری سے منھ نہ موڑے،وہ اس معاملے میں جلد سے جلد شنوائی پوری کرے،جس سے معاملہ حل ہو سکے۔

Muzaffarnagar

نوجوان کے قتل کے 6سال بعد پانچ ملزم گرفتار،اسی قتل کے بعد ہوا تھا مظفر نگر فساد

اتر پردیش کے مظفر نگر میں 27اگست 2013 کو 6 لوگوں نے شاہنواز کو چاقو مارکر قتل کردیا تھا۔ شاہنواز کے قتل اور ایک دوسرے حادثے میں دو نوجوانوں کی موت کے بعد مظفر نگر اور آس پاس کے علاقے میں فرقہ وارانہ فساد ہوا تھا، جس میں 60لوگ مارے گئے تھے اور تقریباً40000 لوگ بے گھر ہوگئے تھے۔

گروگرام شہر اور دھمس پور گاؤں میں مسلم فیملی کے ساتھ  مارپیٹ (فوٹو : پی ٹی آئی / ٹوئٹر)

رویش کا بلاگ: گڑگاؤں کی سی حالت اب ہر شہر کی ہو گئی ہے

گڑگاؤں لگاتار نشانے پر ہے۔ انجان لوگوں سے بسا یہ شہر ہر کسی کو اجنبی سمجھنے کی فطرت پالے ہیں، اس لئے وہ مذہب کی بنیاد پر شک کئے جانے یا کسی کو پیٹ دئے جانے کو برا نہیں مانتا۔ ہندوستان کا یہ سب سے جدید شہر سسٹم سے لےکر ایک صحت مند سماج کے فیل ہونے کا شہر ہے۔ اس شہر میں دھول بھی سیمنٹ کی اڑتی ہے، مٹی کی نہیں۔

ہنومان گڑھی ایودھیا،فوٹو بشکریہ : فیس بک@HanumanGarhi.Ayodhya

کیوں رام جنم بھومی کی رٹ لگانے والی جماعتیں ایودھیا کی ہنومان گڑھی کا نام زبان پر نہیں لاتیں؟

ایودھیا کے تاریخی ہنمان گڑھی نے آزادی سے پہلے سے ہی اپنے سسٹم میں جمہوریت اور انتخاب کا ایسا انوکھا اور ملک کا غالباً پہلا تجربہ کر رکھا ہے، جس کا ذکر تک کرنا فرقہ وارانہ نفرت کی سیاست کرنے والوں کو راس نہیں آتا۔

کشمیریوں پر حملہ کرتے بھگوا دھاری لوگ (فوٹو : فیس بک)

اتر پردیش: وشو ہندو دل کے لوگوں نے کی کشمیری میوہ فروشوں سے مارپیٹ

سوشل میڈیا پر آئے ایک ویڈیو میں اتر پردیش کی راجدھانی میں وشو ہندو دل کے ممبر سڑک کنارے بیٹھنے والے کشمیری دکانداروں سے مارپیٹ کرتے دکھ رہے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے دکھے کہ ان کو کشمیری ہونے کی وجہ سے مار رہے ہیں۔

ہندوستانی فضائیہ کے ہوائی جہازوں کی تصویر (فوٹو : پی ٹی آئی)

پارلیامانی کمیٹی نے کہا : مارے گئے دہشت گردوں کی تعداد کو لے کر شکوک کو ختم کرے حکومت

غیرملکی معاملوں کی اسٹینڈنگ پارلیامانی کمیٹی کے ذرائع نے کہا کہ فارین سکریٹری نے 26 فروری کو بالاکوٹ میں ہوئے ایئر اسٹرائک میں جیش محمد کے دہشت گردوں کے کیمپ میں مارے گئے دہشت گردوں کی تعداد کے سوالوں کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔

(فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر / راہل گاندھی)

کیاپلواما دہشت گردانہ حملے کی جانکاری ہونے کے بعد بھی فوٹو شوٹ کرا رہے تھے وزیر اعظم مودی؟

کانگریس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اگر وزیر اعظم نریندر مودی کوپلواما دہشت گردانہ حملہ ہونے کی جانکاری تھی تو فوٹو شوٹ اور عوامی اجلاس کرکے انہوں نے غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیوں کیااور اگر دو گھنٹوں تک اتنے بڑے حملے کے بارے میں جانکاری نہیں تھی تو یہ ملک کی حفاظت سے جڑا ایک سنگین سوال ہے۔

NHRC_logon

کشمیریوں کے ساتھ بد سلوکی پر این ایچ آر سی نے مرکز اور مختلف ریاستوں کو نوٹس جاری کیا

جموں و کشمیر کے پلواما میں دہشت گردانہ حملے کے بعد کشمیریوں کے ساتھ بد سلوکی کی خبروں پر این ایچ آر سی نے مرکزی وزارت داخلہ ،ایم ایچ آر ڈی اورمغربی بنگال ،اتراکھنڈ ،اتر پردیش کی ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کیا ہے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

پلواما حملہ: کشمیریوں کی حفاظت کو لے کر داخل عرضی پر سپریم کورٹ سماعت کے لیے تیار، جمعہ کو ہوگی شنوائی

عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ پلواما دہشت گردانہ حملے کے بعد کشمیری طلبا پر ملک بھر کے مختلف تعلیمی اداروں میں حملہ کیا جارہا ہے اور متعلقہ اتھارٹی کو اس طرح کے حملے کے خلاف قدم اٹھانا چاہیے۔

گروگرام کا گوبند سنگھ ٹرائی سینٹنری یونیورسٹی، جس نے پلواما حملے کو لےکر سوشل میڈیا پر قابل اعتراض پوسٹ کرنے کے الزام میں ایک کشمیری طالبہ کو برخاست کیا ہے۔ 
 (https://sgtuniversity.ac.inفوٹو بہ شکریہ:)

پلواما حملہ: کالج نے طالبہ کو کیابرخاست، ہوٹل نے لکھا-کشمیریوں  کا داخلہ نہیں

گروگرام کی ایس جی ٹی یونیورسٹی میں پلواما حملے میں شہید ہوئے جوانوں کو لےکر مبینہ طور پر قابل اعتراض پوسٹ پر ایک کشمیری طالبہ کو برخاست کر دیا گیا ہے۔ وہیں، نوئیڈا کے ایک ہوٹل میں کشمیریوں کی مخالفت میں ایک بورڈ لگایا گیا تھا۔

فوٹو: فیس بک پروفائل

پلواما حملہ: ہندوتوادی تنظیموں کے دباؤ میں دہرادون کالج نے کشمیری ڈین کو برخاست کیا

جموں و کشمیر کے پلواما میں سی آر پی ایف جوانوں پر حملے بعد دہرادون میں اے بی وی پی ، بجرنگ ال اور وشو ہندو پریشد جیسی ہندتوادی تنظیموں کے مطالبے پر دو کالجوں نے آئندہ سیشن میں کشمیریوں کو داخلہ نہ دینے کی بات کہی ہے۔

فوٹو: فیس بک

پلواما حملہ: دہرادون کے دو تعلیمی اداروں نے کہا، اگلے سیشن سے کشمیریوں کو داخلہ نہیں دیں گے

دہرادون واقع بابا فرید انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی اور الپائن کالج آف مینجمنٹ اینڈ ٹکنالوجی نےخط جاری کر کے کہا ہے کہ وہ آئندہ سیشن سے کسی بھی کشمیری طلبا کو داخلہ نہیں دیں گے۔

علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس

وی ایچ پی کے لوک سبھا انتخاب تک رام مندر تحریک کو روکنے کی وجہ عقیدہ نہیں سیاست ہے

وشو ہندو پریشد کو اپنی رام مندر تحریک کی تاریخ میں پہلی بار ایسا لگ رہا ہے کہ اس کی مہم سے بی جے پی کو سیاسی فائدے کے بجائے نقصان ہو سکتا ہے۔ اس کو لےکر کسی بھی طرح کی شدت پسندی مودی حکومت کے خلاف جائے‌گی، اس لئے اس نے مدافعتی رویہ اختیار کرتے ہوئے کچھوے کی طرح اپنے ہاتھ پاؤں سمیٹ لئے ہیں۔

Don`t copy text!