VHP

kunal-kamra-1200x600

گجرات: وزیر اعظم مودی کی تنقید کرنے والے اسٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرا کا شو رد

اس شو میں شریک ہونے کی کوشش کرنے والے ایک فرد نے کئی ٹوئٹ کرکے یہ کہا ہے کہ پروگرام میں رکاوٹ پیدا کرنے والے افراد ہندو تنظیم سے وابستہ تھے اور وہ کنال کامرا کو اینٹی نیشنل اور اینٹی ہندو کہہ رہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ لوگ اسلام مخالف نعرے بھی لگا رہے تھے۔

Photo : PTI

ایودھیا تنازعہ: وشو ہندو پریشد نے کہا، رام مندر عدالت کی ترجیحات میں نہیں

وشو ہندو پریشد نے اپنے خط میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ معاملہ عدلیہ کی ترجیحات میں نہیں ہے،اس لیے اس میں تاخیر ہو رہی ہے۔عدلیہ اپنی ذمہ داری سے منھ نہ موڑے،وہ اس معاملے میں جلد سے جلد شنوائی پوری کرے،جس سے معاملہ حل ہو سکے۔

Muzaffarnagar

نوجوان کے قتل کے 6سال بعد پانچ ملزم گرفتار،اسی قتل کے بعد ہوا تھا مظفر نگر فساد

اتر پردیش کے مظفر نگر میں 27اگست 2013 کو 6 لوگوں نے شاہنواز کو چاقو مارکر قتل کردیا تھا۔ شاہنواز کے قتل اور ایک دوسرے حادثے میں دو نوجوانوں کی موت کے بعد مظفر نگر اور آس پاس کے علاقے میں فرقہ وارانہ فساد ہوا تھا، جس میں 60لوگ مارے گئے تھے اور تقریباً40000 لوگ بے گھر ہوگئے تھے۔

گروگرام شہر اور دھمس پور گاؤں میں مسلم فیملی کے ساتھ  مارپیٹ (فوٹو : پی ٹی آئی / ٹوئٹر)

رویش کا بلاگ: گڑگاؤں کی سی حالت اب ہر شہر کی ہو گئی ہے

گڑگاؤں لگاتار نشانے پر ہے۔ انجان لوگوں سے بسا یہ شہر ہر کسی کو اجنبی سمجھنے کی فطرت پالے ہیں، اس لئے وہ مذہب کی بنیاد پر شک کئے جانے یا کسی کو پیٹ دئے جانے کو برا نہیں مانتا۔ ہندوستان کا یہ سب سے جدید شہر سسٹم سے لےکر ایک صحت مند سماج کے فیل ہونے کا شہر ہے۔ اس شہر میں دھول بھی سیمنٹ کی اڑتی ہے، مٹی کی نہیں۔

ہنومان گڑھی ایودھیا،فوٹو بشکریہ : فیس بک@HanumanGarhi.Ayodhya

کیوں رام جنم بھومی کی رٹ لگانے والی جماعتیں ایودھیا کی ہنومان گڑھی کا نام زبان پر نہیں لاتیں؟

ایودھیا کے تاریخی ہنمان گڑھی نے آزادی سے پہلے سے ہی اپنے سسٹم میں جمہوریت اور انتخاب کا ایسا انوکھا اور ملک کا غالباً پہلا تجربہ کر رکھا ہے، جس کا ذکر تک کرنا فرقہ وارانہ نفرت کی سیاست کرنے والوں کو راس نہیں آتا۔

کشمیریوں پر حملہ کرتے بھگوا دھاری لوگ (فوٹو : فیس بک)

اتر پردیش: وشو ہندو دل کے لوگوں نے کی کشمیری میوہ فروشوں سے مارپیٹ

سوشل میڈیا پر آئے ایک ویڈیو میں اتر پردیش کی راجدھانی میں وشو ہندو دل کے ممبر سڑک کنارے بیٹھنے والے کشمیری دکانداروں سے مارپیٹ کرتے دکھ رہے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے دکھے کہ ان کو کشمیری ہونے کی وجہ سے مار رہے ہیں۔

ہندوستانی فضائیہ کے ہوائی جہازوں کی تصویر (فوٹو : پی ٹی آئی)

پارلیامانی کمیٹی نے کہا : مارے گئے دہشت گردوں کی تعداد کو لے کر شکوک کو ختم کرے حکومت

غیرملکی معاملوں کی اسٹینڈنگ پارلیامانی کمیٹی کے ذرائع نے کہا کہ فارین سکریٹری نے 26 فروری کو بالاکوٹ میں ہوئے ایئر اسٹرائک میں جیش محمد کے دہشت گردوں کے کیمپ میں مارے گئے دہشت گردوں کی تعداد کے سوالوں کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔

(فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر / راہل گاندھی)

کیاپلواما دہشت گردانہ حملے کی جانکاری ہونے کے بعد بھی فوٹو شوٹ کرا رہے تھے وزیر اعظم مودی؟

کانگریس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اگر وزیر اعظم نریندر مودی کوپلواما دہشت گردانہ حملہ ہونے کی جانکاری تھی تو فوٹو شوٹ اور عوامی اجلاس کرکے انہوں نے غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیوں کیااور اگر دو گھنٹوں تک اتنے بڑے حملے کے بارے میں جانکاری نہیں تھی تو یہ ملک کی حفاظت سے جڑا ایک سنگین سوال ہے۔

NHRC_logon

کشمیریوں کے ساتھ بد سلوکی پر این ایچ آر سی نے مرکز اور مختلف ریاستوں کو نوٹس جاری کیا

جموں و کشمیر کے پلواما میں دہشت گردانہ حملے کے بعد کشمیریوں کے ساتھ بد سلوکی کی خبروں پر این ایچ آر سی نے مرکزی وزارت داخلہ ،ایم ایچ آر ڈی اورمغربی بنگال ،اتراکھنڈ ،اتر پردیش کی ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کیا ہے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

پلواما حملہ: کشمیریوں کی حفاظت کو لے کر داخل عرضی پر سپریم کورٹ سماعت کے لیے تیار، جمعہ کو ہوگی شنوائی

عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ پلواما دہشت گردانہ حملے کے بعد کشمیری طلبا پر ملک بھر کے مختلف تعلیمی اداروں میں حملہ کیا جارہا ہے اور متعلقہ اتھارٹی کو اس طرح کے حملے کے خلاف قدم اٹھانا چاہیے۔

گروگرام کا گوبند سنگھ ٹرائی سینٹنری یونیورسٹی، جس نے پلواما حملے کو لےکر سوشل میڈیا پر قابل اعتراض پوسٹ کرنے کے الزام میں ایک کشمیری طالبہ کو برخاست کیا ہے۔ 
 (https://sgtuniversity.ac.inفوٹو بہ شکریہ:)

پلواما حملہ: کالج نے طالبہ کو کیابرخاست، ہوٹل نے لکھا-کشمیریوں  کا داخلہ نہیں

گروگرام کی ایس جی ٹی یونیورسٹی میں پلواما حملے میں شہید ہوئے جوانوں کو لےکر مبینہ طور پر قابل اعتراض پوسٹ پر ایک کشمیری طالبہ کو برخاست کر دیا گیا ہے۔ وہیں، نوئیڈا کے ایک ہوٹل میں کشمیریوں کی مخالفت میں ایک بورڈ لگایا گیا تھا۔

فوٹو: فیس بک پروفائل

پلواما حملہ: ہندوتوادی تنظیموں کے دباؤ میں دہرادون کالج نے کشمیری ڈین کو برخاست کیا

جموں و کشمیر کے پلواما میں سی آر پی ایف جوانوں پر حملے بعد دہرادون میں اے بی وی پی ، بجرنگ ال اور وشو ہندو پریشد جیسی ہندتوادی تنظیموں کے مطالبے پر دو کالجوں نے آئندہ سیشن میں کشمیریوں کو داخلہ نہ دینے کی بات کہی ہے۔

فوٹو: فیس بک

پلواما حملہ: دہرادون کے دو تعلیمی اداروں نے کہا، اگلے سیشن سے کشمیریوں کو داخلہ نہیں دیں گے

دہرادون واقع بابا فرید انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی اور الپائن کالج آف مینجمنٹ اینڈ ٹکنالوجی نےخط جاری کر کے کہا ہے کہ وہ آئندہ سیشن سے کسی بھی کشمیری طلبا کو داخلہ نہیں دیں گے۔

دہلی میں 9 دسمبر 2018 کو رام مندر کے لئے وشو ہندو پریشد کی دھرم سبھا میں کارکنان (فوٹو : رائٹرس)

وی ایچ پی کے لوک سبھا انتخاب تک رام مندر تحریک کو روکنے کی وجہ عقیدہ نہیں سیاست ہے

وشو ہندو پریشد کو اپنی رام مندر تحریک کی تاریخ میں پہلی بار ایسا لگ رہا ہے کہ اس کی مہم سے بی جے پی کو سیاسی فائدے کے بجائے نقصان ہو سکتا ہے۔ اس کو لےکر کسی بھی طرح کی شدت پسندی مودی حکومت کے خلاف جائے‌گی، اس لئے اس نے مدافعتی رویہ اختیار کرتے ہوئے کچھوے کی طرح اپنے ہاتھ پاؤں سمیٹ لئے ہیں۔

Central-Jail-Srinagar_KashmirGazette

کشمیر میں ترقی کے نام پر فنڈ فراہم کرنا مطلب کسی جیل کا بجٹ بنانا ہے

آئندہ عام انتخابات میں فتح حاصل کرنے کے لیے وزیرا عظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ نے تین ایشوز پر مشتمل ایک روڑ میپ ترتیب دیا ہوا ہے۔اس میں اترپردیش کے شہر ایودھیامیں بابری مسجد کی جگہ ایک عالیشان رام مندر کی تعمیر کا ہوا کھڑا کرنا ہے۔

دہلی کے رام لیلا میدان میں وشو ہندو پریشد کی ریلی میں بولتے ہوئے آر ایس ایس کے سینئر رہنما بھیاجی جوشی (فوٹو : پی ٹی آئی)

مندر بنانے کے لئے حکومت سے بھیک نہیں مانگ رہے ہیں، ملک رام راجیہ  چاہتا ہے : سنگھ  رہنما بھیاجی جوشی

دہلی کے رام لیلا میدان میں وشو ہندو پرشد کی ریلی میں اتوار کو ہزاروں لوگ ایودھیا میں رام مندر بنانے کی مانگ کے ساتھ جمع ہوئے تھے۔ اس دوران آر ایس ایس کے سینئر رہنما بھیاجی جوشی نے کہا کہ جو لوگ اقتدار میں ہیں، ان کو مندر بنوانا چاہیے۔

فوٹو: ٹوئٹر

میرٹھ: ’لو جہاد‘کے نام پر لڑکی سے مارپیٹ کرنے والے پولیس والوں کا وی آئی پی ضلع میں تبادلہ

میرٹھ میں گزشتہ دنوں لو جہاد کے نام پر ایک لڑکی سے مار پیٹ اور بد سلوکی کرنے والے 4 میں سے 3 پولیس والوں کو وی آئی پی ضلع میں تبادلہ ہو گیا ہے۔ اس معاملے میں مقدمہ درج ہونے کے بعد بھی اب تک کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔