youtube

علامتی تصویر(فوٹو: رائٹرس)

مسلمانوں اور خواتین کو نشانہ بنانے کے لیے ہندونیشنلسٹ گروپ یوٹیوب کا غلط استعمال کر رہے ہیں: رپورٹ

نیویارک یونیورسٹی کے اسٹرن سینٹر فار بزنس اینڈ ہیومن رائٹس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی اور دیگر دائیں بازو کے ہندو قوم پرست گروپس کے حامیوں کی طرف سے ‘مسلمانوں کو نشانہ بنانا’ ملک میں ‘یو ٹیوب کا سب سے پریشان کن استعمال’ ہے۔

(فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

اتر پردیش: شام کو شائع ہونے والے ہندی روزنامہ ’ 4 پی ایم‘ کا یوٹیوب چینل بند، ایڈیٹر نے حکومت پر لگایا الزام

اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ سے شائع ہونے والے اخبار ‘4 پی ایم’کے ایڈیٹر نے کہا ہےکہ انہوں نے اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کرانے کے ساتھ صدر رام ناتھ کووند کومعاملے کا نوٹس لینے کے لیے خط لکھا ہے۔ اس کے علاوہ اخبار کا ایک نیا یوٹیوب چینل بھی شروع کیا گیا ہے۔

یوٹیوب کے ذریعے بلاک  کیے گئے ویڈیو کا اسکرین گریب جس کو ملت ٹائمس نے فیس بک پرشیئر کیا تھا۔

لاک ڈاؤن کے خلاف مزدوروں کے احتجاج سے متعلق ویڈیو رپورٹ پر یوٹیوب نے ’ملت ٹائمز‘ کو بلاک کیا

نیوز ویب سائٹ ‘ملت ٹائمز’نے9 اپریل کو مہاراشٹر میں کووڈ 19 لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج پر ایک ویڈیو رپورٹ شائع کی تھی۔ اس کے چیف ایڈیٹر نے بتایا کہ اکثر مظاہرین یومیہ مزدور تھے۔ وہ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے پاس احتجاج کر رہے تھے اور ان مسائل کے بارے میں بول رہے تھے، جن کا سامنا وہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کریں گے۔

فوٹو: دی وائر

سوشل میڈیا کے غلط استعمال نے خطرناک صورت اختیار کر لی ہے، حکومت کو مداخلت کرنی چاہیے: سپریم کورٹ

سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو آدھار سے منسلک کرنے کی اپیل پر شنوائی کے دوران سپریم کورٹ نے کہامرکزی حکومت سے کہا کہ ہم صرف یہ کہہ کر نہیں بچ سکتے ہیں کہ آن لائن جرم کہاں سے شروع ہوا اس کا پتہ لگانے کی تکنیک ہمارے پاس نہیں ہے۔

Social-Media-Pixabay

سپریم کورٹ پہنچا سوشل میڈیا پروفائل کو آدھار سے جوڑنے کی مانگ کا معاملہ

سپریم کورٹ فیس بک کی اس عرضی پر سماعت کے لئے راضی ہو گیا ہے جس میں صارفین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو آدھار نمبر سے جوڑنے کی مانگ کرنے والے معاملوں کو مدراس، ممبئی اور مدھیہ پردیش کے ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ منتقل کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔

 (فوٹو : دی وائر)

الیکشن کمیشن کا نمو ٹی وی کو سیاسی اشتہار بتانا مودی اور شاہ کے خلاف کارروائی کا راستہ کھولتا ہے

الیکشن کمیشن نمو ٹی وی کے مواد کے تصدیق کیے جانے کی بات تو کر رہا ہے، لیکن عوامی نمائندگی قانون کی خلاف ورزی کے لئے اس کے مالکوں/فائدہ اٹھانے والوں کے خلاف اب تک کوئی مجرمانہ معاملہ درج نہیں ہوا ہے۔

(فوٹو : دی وائر)

نمو ٹی وی: یہ تھیٹر، اسٹیج سے زیادہ، بیک اسٹیج ہو رہا ہے

پبلک ڈومین میں موجود تمام جانکاریاں ، یہ اشارہ کرتی ہیں کہ وزیر اعظم کے تشہیری نظام کا حصہ نمو ٹی وی،اپنے سگنل اپ لنک اور ڈاؤن لنک کرنے کے لئے این ایس ایس-6 سیٹیلائٹ کا استعمال کر رہا ہے، جبکہ اس کے پاس اس کا لائسنس نہیں ہے۔

NaMoTV_BJPTwitter-1024x538

نمو ٹی وی پر الیکشن کمیشن نے مانگا جواب ، وزار ت اطلاعات و نشریات نے کہا- یہ اشتہار کا پلیٹ فارم ہے

لوک سبھا الیکشن سے پہلے نمو ٹی وی کے لانچ ہونے پر اپوزیشن پارٹیوں نے الیکشن کمیشن کوخط لکھ کر ضابطہ اخلاق کے خلاف ورزی کی شکایت کی تھی۔ اس پر الیکشن کمیشن نے وزارت اطلاعات و نشریات سے جواب مانگا تھا۔

Don`t copy text!