جمعرات کو ایک فاسٹ ٹریک عدالت نے دادری لنچنگ کیس میں اخلاق کے خاندان کی جانب سے دائر اعتراض کو قبول کر لیا، جس میں اتر پردیش حکومت کے الزامات واپس لینےکے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ خاندان نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی کو لاٹھیوں سے پیٹ پیٹ کرقتل کرنا کم سنگین جرم ماناجا سکتا ہے اور اس دعوے کو چیلنج کیا کہ مقدمہ واپس لینے سے ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا۔
دہلی کے قریب بساہڑا گاؤں میں دس سال پہلے محمد اخلاق کو پیٹ-پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اخلاق کے چھوٹے بیٹے دانش بھی شدید زخمی ہو گئے تھے۔ لیکن ایک دہائی بعد بھی یہاں کے لوگوں کو قتل کے اس واقعہ پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ اگر کچھ ہے، تو صرف ملزمین کے لیے ہمدردی اور یوگی آدتیہ ناتھ کے لیے شکریہ کے کلمات۔
گوتم بدھ نگر کے دادری علاقے کے بساہڑا گاؤں کے رہنے والے 52 سالہ محمد اخلاق کو 28 ستمبر 2015 کو بھیڑ نے مبینہ طور پراس شبہ میں پیٹ-پیٹ کر ہلاک کر دیا تھا کہ انہوں نے اپنے گھر میں گائے کا گوشت رکھا ہواہے۔ اب اتر پردیش حکومت نے ان کی لنچنگ کے ملزمین کے خلاف قتل سمیت تمام الزامات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اپریل 2019 میں بشو ناتھ ضلع کے 48 سالہ شوکت علی کو بھیڑ نے ان کی دکان پر پکا ہوا گائے کا گوشت بیچنے کے الزام میں پیٹا تھا اور خنزیر کا گوشت کھلایا تھا۔ این ایچ آر سی نے آسام سرکار کو علی کےانسانی حقوق کی خلاف ورزی کے لیے ایک لاکھ روپے معاوضہ دینے کی ہدایت دی ہے۔
گھر میں گائے کا گوشت رکھنے کے الزام میں دادری کے بساہڑا گاؤں میں ستمبر، 2015 میں محمد اخلاق کوپیٹ پیٹکر مار دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں تمام 18 ملزم ضمانت پر ہیں۔ ان میں سے ایک ہری اوم لوٹ پاٹ اور غازی آباد میں چرائی ہوئی جائیداد بے ایمانی سے حاصل کرنے کے کم سے کم چار معاملوں میں مطلوب تھا۔
گڑگاؤں پولیس کے پی آر او سبھاش بوکن نے کہا کہ متاثرین کو ہاسپٹل میں داخل کرایا گیا ہے۔ ہاسپٹل سے چھوٹنے کے بعد دونوں کو گرفتار کر لیا جائےگا۔ بر آمد کئے گئے میٹ کو ٹیسٹ کے لئے لیب میں بھیج دیا گیا ہے۔
بھیڑ کے ذریعے پیٹ پیٹکر محمد اخلاق کو مار دئے جانے کے تقریباً 4 سال بعد دادری کے بساہڑا گاؤں میں کوئی پچھتاوا نہیں دکھتا۔ یہاں کے مسلمانوں نے خود کو مقدر کے حوالے کر دیا ہے۔
ویڈیو: آسام میں مبینہ طور پر گائے کا گوشت بیچنے کے شک میں بھیڑ کے ذریعے ایک مسلم بزرگ کے ساتھ مار پیٹ کیے جانے کے معاملے پر عارفہ خانم شیروانی کا نظریہ۔
ریلی میں وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ کون نہیں جانتا بسہڑا میں کیا ہوا؟ سب کو پتا ہے۔ کتنی شرم کی بات ہے کہ سماجوادی حکومت نے تب عوامی جذبات کو دبانے کی کوشش کی اور میں کہہ سکتا ہوں کہ ہماری حکومت بنتے ہی ہم نے غیر قانونی بوچڑ خانوں کو بند کرایا۔
اس معاملے میں تمام دوسرے ملزمین کو ہائی کورٹ اور نچلی عدالت سے ضمانت مل چکی ہے۔
گزشتہ سال جھارکھنڈ کے رام گڑھ میں مبینہ طور پر گائے کے گوشت رکھنے کے شک میں بھیڑ کے ذریعے پیٹ پیٹکر قتل کر دیے گئے علیم الدین انصاری کے بعد اسی علاقے میں ایک اور آدمی کی مشتبہ حالات میں ہوئی موت سے کئی سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔
اخلاق کے بھائی جان محمد نے الزام لگایا ہے کہ بساہڑاگاؤں کے کئی لوگ کئی بار ملزموں کی طرف سے میرے گھر آئے اور معاملہ واپس لینے کی بات کر چکے ہیں لیکن یہ پہلی دفعہ تھا کہ ملزموں نے سیدھے رابطہ کر معاملہ واپس لینے کی دھمکی دی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشن جج وائی ایس راٹھورنے کہا ہے کہ ایڈیشنل ایدووکیٹ جنرل نوین کوشک کلیدی ملزم نریش کمار کے وکیل کی مدد کر رہے ہیں ۔ نئی دہلی :جنید خان قتل معاملے کی شنوائی کر رہے ٹرائل کورٹ جج نے یہ کہا ہے کہ سینئر سرکاری وکیل […]