ashwini vaishnaw

دی وائس آف ہند رجب: فلمسازوں اور کارکنوں کے ساتھ اسرائیلی اور ہندوستانی شہریوں نے ’غیر قانونی‘ پابندی کی مذمت کی

اسرائیلی اور ہندوستانی فلمساز، صحافی، ماہرین تعلیم اور کارکنوں نے ایک خط میں ہندوستان کے سینٹرل فلم سرٹیفیکیشن بورڈ کی جانب سے فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ پر پابندی کو جائز ٹھہرانے کے لیے ہندوستان اور اسرائیل  کے تعلقات کا حوالہ دینے کی سخت مذمت کی ہے۔ خط میں ہندوستان اور اسرائیل میں تکثیریت، جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی کو بنائے رکھنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔

فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ پر عائد زبانی پابندی کے حوالے سے ارکان پارلیامنٹ نے مرکزی وزیر کو خط لکھا

سی بی ایف سی کی جانب سے فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘پر مبینہ زبانی روک لگائے جانے کے معاملے پر اپوزیشن کے ارکان پارلیامنٹ نے اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو کو خط لکھ کر اس پابندی پر سوال اٹھائے ہیں۔ یہ فلم ایک حقیقی واقعہ پر مبنی ہے، جس میں غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملے کے دوران ایک کار میں پھنسی پانچ سالہ فلسطینی بچی کی موت ہو گئی تھی۔

نیو انڈیا میں ہی ’اسکولی طالبعلم‘ کے روبوٹ بنانے کا دعویٰ قومی سلامتی کے ’خطرے‘ میں تبدیل ہو سکتا ہے

جس طرح نئے آئی ٹی قوانین کا قہر ’محبوب لیڈر‘ کے خلاف پوسٹ کیے جانے والے لطیفوں پر نازل ہو رہا ہے، اس سے واضح ہے کہ یہ مودی حکومت کے سنسرشپ راج کے شروعاتی دن ہیں … آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔

ڈی جی پب نے دی وائر کی ویب سائٹ کو بلاک کرنے پر تنقید کی، سی پی آئی لیڈر نے اشونی ویشنو کو لکھا

سی پی آئی لیڈر ڈی راجہ نے وزیر اطلاعات و نشریات کو لکھے خط میں کہا ہے کہ دی وائر جیسی ذمہ دار ویب سائٹ کو بلاک کرنا غلط ہے۔ ڈیجیٹل نیوز آرگنائزیشنز  کی تنظیم ڈی جی پب نے بھی اس قدم کی مذمت کی ہے۔