ایودھیا کے رام مندر کو ملے چڑھاوے کی چوری اور غبن کے الزامات کی سی بی آئی جانچ کی مانگ والی عرضیوں پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت، اتر پردیش حکومت اور شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے ایس آئی ٹی کو اب تک کی جانچ سے متعلق اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔
سپریم کورٹ سوموار (13 جولائی) کو رام مندر چڑھاوا چوری سے متعلق آزادانہ جانچ کی مانگ والی تین عرضیوں پر شنوائی کرے گا۔ ان عرضیوں میں بنیادی طور پر عدالت کی نگرانی میں سی بی آئی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی، رام مندر کا مینجمنٹ سنبھالنے والے رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ کے مالی معاملوں کا کیگ سے آڈٹ کرانے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
رام جنم بھومی ٹرسٹ میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور چڑھاوے کی رقم کے حوالے سے اٹھے سوالوں کے درمیان نرموہی اکھاڑے کے چیف مہنت دینندر داس نے کہا کہ چڑھاوے کی رقم کو خفیہ رکھنے کے بجائے اس کی رسید دینا اور عوام کے سامنے اس کا حساب رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رام للا کے نام پر آنے والی رقم کے معاملے میں شفافیت بنی رہنی چاہیے، اگر کسی نے غلطی کی ہے تو اسے قانون کے دائرے میں لایا جانا چاہیے۔
وشو ہندو پریشد نے اتر پردیش پولیس اورایس آئی ٹی کو خط لکھ کر رام مندر میں چڑھاوا کی رقم میں مبینہ غبن کی جانچ میں سماجوادی پارٹی کے جنرل سکریٹری اور ایم پی رام گوپال یادو، عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال، ایم پی سنجے سنگھ، اور کانگریس رہنما اور لوک سبھا ایم پی پرینکا گاندھی واڈرا کے بیان درج کرنے کی اپیل کی ہے۔
ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوے کی مبینہ چوری کا معاملہ اب صرف ایک مجرمانہ جانچ تک محدود نہیں رہ گیا ہے۔ یہ بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی سیاسی ساکھ، رام مندر سے متعلق ان کا کردار، ٹرسٹ کی جوابدہی اور ہندوتوا کی سیاست پر بھی بڑے سوال کھڑے کر رہا ہے۔
ایودھیا پولیس نے رام مندر میں چڑھاوے کے پیسے اور قیمتی سامان کی چوری، ہیرا پھیری اور غبن کے معاملے میں آٹھ ملزمین کو گرفتار کرکے عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ دریں اثنا، شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے اور ٹرسٹی انل مشرا نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وشو ہندو پریشد، جس کے چمپت رائے بین الاقوامی نائب صدر ہیں، نے کہا ہے کہ اسے استعفیٰ کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے۔
بابری مسجد انہدام معاملے میں سینئر بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما لال کرشن اڈوانی کے ساتھ شریک ملزم رہے دھرم سینا بھارت کے سربراہ اور سابق کارسیوک سنتوش دوبے نے مندر ٹرسٹ کے اراکین کے خلاف 200 کروڑ روپے کے فنڈ غبن کرنے کا الزام لگاتے ہوئے شکایت درج کرائی ہے۔ دوبے نے اپنی شکایت میں ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے بنسل اور دیگر افراد کے نام شامل کیے ہیں۔
رام مندر چڑھاواتنازعہ کے حوالے سے ایودھیا میں عام طور پر لوگ ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں- یہ کہ جو کچھ کہا، سنا یا کیا جا رہا ہے، اس میں نیا کیا ہے؟ اس کی شروعات تو 22-23 دسمبر 1949 کو بابری مسجد میں مورتی رکھے جانے کے فوراً بعد ہی اس وقت ہو گئی تھی، جب وہاں چڑھاوے کی صورت میں بے تحاشہ دولت آنا شروع ہو گئی تھی۔