سابق مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل اور بی جے پی کے سینئر رہنما مرلی منوہر جوشی نے تعلیمی نظام کے حوالے سے مودی حکومت کی پالیسیوں پر بڑے سوال اٹھائے ہیں۔ ایک ہندی روزنامے کو دیے انٹرویو میں انہوں نے تعلیمی بجٹ میں کمی، سرکاری اسکولوں کے بند ہونے، نجکاری، پیپر لیک اور بدعنوانی کے معاملے میں حکومت کی ترجیحات کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس پرسنا ورالے نے ناسک ضلع کے شیرپور میں اپنے سابق اسکول کے دورے کے دوران کہا کہ ریاستی حکومت کمبھ میلے پر 32,000 کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے۔ اس کا صرف 0.1 فیصد، یعنی تقریباً 32 کروڑ روپے، تعلیم پر خرچ کیا جاتا تو 100 – 150 سے زائد مراٹھی میڈیم اسکولوں کو بند ہونے سے بچایا جا سکتا تھا۔
چھتیس گڑھ حکومت نے یوم تاسیس کی تشہیر پر تقریباً 6 کروڑ 90 لاکھ روپے خرچ کیے، جبکہ ریاست کے سوامی آتمانند اسکولوں کے لیے سالانہ فنڈنگ میں تقریباً 64 فیصد کی کمی کر دی گئی ہے۔ اسکولوں کے سامنے بجلی کے بلوں کی ادائیگی سمیت بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔
کانگریس صدر راہل گاندھی بدھ کو تمل ناڈو کی چنئی میں سٹیلا میرس کالج کی طالبات سے غیر رسمی بات چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اعلیٰ سطح پر خاطر خواہ تعداد میں خواتین نہیں دکھتیں۔ ہم پارلیامنٹ میں خاتون ریزرویشن بل منظور کرنے جا رہے ہیں اور ہم خواتین کے لئے 33فیصدسرکاری نوکریاں ریزرو کرنے جا رہے ہیں۔
دو ہزار کروڑ کے فنڈ کے ساتھ پچاس کروڑ لوگوں کو بیمہ دینے کی کرامت ہندوستان میں ہی ہو سکتی ہے۔ یہاں کے لوگ ٹھگے جانے میں ماہر ہیں۔ دو بجٹ پہلے ایک لاکھ بیمہ دینے کا اعلان ہوا تھا، آج تک اس کا پتا نہیں ہے۔