خاص خبریں
دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے جنتر منتر پر احتجاج سے متعلق معاملوں میں سی جے پی کے رہنماؤں سوربھ داس، آشوتوش رانکا اور اجنکیہ شندے کو پوچھ گچھ کے لیے سمن بھیجا ہے۔ داس اور رانکا کو عدالتی حراست سے رہائی کے اگلے ہی دن، جمعرات (22 اکتوبر) کو راجوری گارڈن واقع دفتر میں پیش ہونے کو کہا گیا ہے۔
مودی نے میڈیا اور پرسیپشن کو مکمل طور پر مینیج تو کر لیا، لیکن تاریخ کی عدالت میں یہ حقیقت ہمیشہ درج رہے گی کہ انہوں نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے چوتھے ستون کو اپنے ذاتی خوف، پراسراریت اور انا کی بھینٹ چڑھا کر گونگا کر کے دیگر ملکوں کے لیڈروں کو بھی راہ دکھائی۔
گراؤنڈ رپورٹ
دنیا
ویڈیو






مزید خبریں
انسٹاگرام پرتقریباً 9 لاکھ فالوور والے جئے پور کے انفلوئنسر جاوید علی خان کے گربا پروگراموں میں سیلیبرٹی گیسٹ کے طور پر دو مجوزہ پروگرام ہندوتوا تنظیموں کے اعتراض کے بعد رد کر دیے گئے۔ منتظمین کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر انہوں نے خان کے ساتھ پروگرام کیا تو وہاں توڑ پھوڑ کی جائے گی۔
فروری 2025 میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے عہدہ سنبھالنے کے بعد بیس مہینوں کے دوران تقریباً 20 چیف الیکٹورل افسران کے تبادلے کیے گئے ہیں۔ اس کے مقابلے ان کے پیش رو راجیو کمار کے 33 مہینوں میں 23 تبادلے ہوئے تھے، وہیں سابق سی ای سی سنیل اروڑہ اور سشیل چندرا کے 41 مہینوں کی مدت میں 29 تبادلے ہوئے تھے۔
ووٹ چوری اصلی رجیم چینج پروف کام ہے۔ لڑائی تو اسی کی ہے کہ رائے دہندگی کا حق چھین لیا گیا، تاکہ انتخابات میں لوگ اپنے ووٹ سے انہیں شکست نہ دے سکیں۔ اپنے اوپر لگے الزامات کا جواب نہیں ہے تو اپوزیشن پر حملہ کیا جا رہا ہے کہ وہ رجیم چینج کرنا چاہتی ہے، گویا اس کے لیے اپوزیشن نے ووٹ چوری کی ہو۔
اپوزیشن مودی کو اقتدار میں بنائے رکھنے کی پابند نہیں ہے۔ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو انہیں اقتدار سے ہٹانے کا ایک قانونی راستہ دکھائے۔ بی جے پی جمہوری طریقے سے اقتدار کی تبدیلی کی اس خواہش کو ہندوستان کے خلاف جرم قرار دے کر اس سے دامن نہیں بچا سکتی۔