خاص خبریں
مودی نے میڈیا اور پرسیپشن کو مکمل طور پر مینیج تو کر لیا، لیکن تاریخ کی عدالت میں یہ حقیقت ہمیشہ درج رہے گی کہ انہوں نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے چوتھے ستون کو اپنے ذاتی خوف، پراسراریت اور انا کی بھینٹ چڑھا کر گونگا کر کے دیگر ملکوں کے لیڈروں کو بھی راہ دکھائی۔
سی جے پی کے دو لیڈر سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کی عدالتی حراست ایک اسپیشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ نے دو دن کے لیے بڑھا دی ہے۔ انہیں 14 اکتوبر کو پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیجا گیا تھا۔ سی جے پی کی لیگل چیف رتنا سنگھ نے کہا کہ جمہوری آوازوں کو دبانے کے لیے کی جانے والی پوری کارروائی ایک تماشا بن کر رہ گئی ہے۔
گراؤنڈ رپورٹ
دنیا
ویڈیو






مزید خبریں
فروری 2025 میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے عہدہ سنبھالنے کے بعد بیس مہینوں کے دوران تقریباً 20 چیف الیکٹورل افسران کے تبادلے کیے گئے ہیں۔ اس کے مقابلے ان کے پیش رو راجیو کمار کے 33 مہینوں میں 23 تبادلے ہوئے تھے، وہیں سابق سی ای سی سنیل اروڑہ اور سشیل چندرا کے 41 مہینوں کی مدت میں 29 تبادلے ہوئے تھے۔
ووٹ چوری اصلی رجیم چینج پروف کام ہے۔ لڑائی تو اسی کی ہے کہ رائے دہندگی کا حق چھین لیا گیا، تاکہ انتخابات میں لوگ اپنے ووٹ سے انہیں شکست نہ دے سکیں۔ اپنے اوپر لگے الزامات کا جواب نہیں ہے تو اپوزیشن پر حملہ کیا جا رہا ہے کہ وہ رجیم چینج کرنا چاہتی ہے، گویا اس کے لیے اپوزیشن نے ووٹ چوری کی ہو۔
اپوزیشن مودی کو اقتدار میں بنائے رکھنے کی پابند نہیں ہے۔ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو انہیں اقتدار سے ہٹانے کا ایک قانونی راستہ دکھائے۔ بی جے پی جمہوری طریقے سے اقتدار کی تبدیلی کی اس خواہش کو ہندوستان کے خلاف جرم قرار دے کر اس سے دامن نہیں بچا سکتی۔
دھرو راٹھی کے خلاف 2018 کے ایک کیس میں یہ ضمانتی وارنٹ اس وقت جاری کیا گیا ہے، جب وہ ملک کے مختلف حصوں میں ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں کی حمایت کر چکے ہیں۔