خاص خبریں
جب ریاست گینگسٹرز کو پالیسی کا ہتھیار بنا لیتی ہے، جب جیلوں کے اندر اشونی نائک جیسے مجرموں کے ہاتھوں میں انتظامیہ کے سرکاری کاغذات آ جاتے ہیں اور جب لارنس بشنوئی کو قانون کے شکنجے سے بچانے کے لیے ریاستی احکامات جاری ہوتے ہیں، تو یہ انٹلی جنس اداروں کی فتح نہیں ہوتی۔ یہ قانون، اخلاق اور آئین کا وہ تاریخی دیوالیہ پن ہوتا ہے جس کے ملبے تلے بالآخر پوری ریاست دب جاتی ہے۔
سپریم کورٹ کے سابق جج سنجے کشن کول نے سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی میعاد پر کئی سوال اٹھائے ہیں۔ دی وائر کو دیے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ عدالتی تقرریوں کے معاملے میں جسٹس چندرچوڑ کو سرکار کے ساتھ زیادہ مضبوطی سے پیش آنا چاہیے تھا۔ اپنی کتاب میں انہوں نے کالجیم کی بیٹھک سے پہلے ہی سرکار کی منظوری لینے کا ذکر بھی کیا ہے۔
گراؤنڈ رپورٹ
دنیا
ویڈیو






مزید خبریں
مودی نے میڈیا اور پرسیپشن کو مکمل طور پر مینیج تو کر لیا، لیکن تاریخ کی عدالت میں یہ حقیقت ہمیشہ درج رہے گی کہ انہوں نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے چوتھے ستون کو اپنے ذاتی خوف، پراسراریت اور انا کی بھینٹ چڑھا کر گونگا کر کے دیگر ملکوں کے لیڈروں کو بھی راہ دکھائی۔
سی جے پی کے دو لیڈر سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کی عدالتی حراست ایک اسپیشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ نے دو دن کے لیے بڑھا دی ہے۔ انہیں 14 اکتوبر کو پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیجا گیا تھا۔ سی جے پی کی لیگل چیف رتنا سنگھ نے کہا کہ جمہوری آوازوں کو دبانے کے لیے کی جانے والی پوری کارروائی ایک تماشا بن کر رہ گئی ہے۔
دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، کرناٹک میں ایس آئی آرکے دوران کم از کم 37 لوگوں نے اپنے ہی نام ووٹر لسٹ سے ہٹانے کے لیے درخواست دی ہے، اور اس کی وجہ موت بتائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، 334 لوگوں کے جوڑوں نے ایک دوسرے کو مردہ بتایا ہے۔ یعنی، ’ایک شخص نے دوسرے کا نام ہٹانے کے لیے فارم 7 بھرا اور اس کی وجہ موت بتائی۔ اس کے بعد جس شخص کو مردہ بتایاگیا تھا، اس نے بھی اسی طرح کا فارم بھر کر پہلے شخص کو مردہ بتایا۔‘
انسٹاگرام پرتقریباً 9 لاکھ فالوور والے جئے پور کے انفلوئنسر جاوید علی خان کے گربا پروگراموں میں سیلیبرٹی گیسٹ کے طور پر دو مجوزہ پروگرام ہندوتوا تنظیموں کے اعتراض کے بعد رد کر دیے گئے۔ منتظمین کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر انہوں نے خان کے ساتھ پروگرام کیا تو وہاں توڑ پھوڑ کی جائے گی۔