خاص خبریں
راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور آئیسا کی صدر نہا بورا کی قیادت میں ہزاروں مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کارروائی اور ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ ایس آئی آرمیں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے میں سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی گئی ہے۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس، رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر سمیت دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے دہلی میں احتجاجی مظاہروں کے دوران صحافیوں کو حراست میں لیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیموں نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے ناطے ہندوستان کی خصوصی ذمہ داری ہے کہ وہ پریس کی آزادی کو بنائے رکھے اور صحافیوں کے آئینی حق کا تحفظ کرے۔
گراؤنڈ رپورٹ
دنیا
ویڈیو






مزید خبریں
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مظاہروں کے بارے میں ممتاز فکشن نویس گیتانجلی شری لکھتی ہیں،’جمہوریت کی حفاظت صرف ان لوگوں کی ذمہ داری نہیں ہے، جو غلط کے خلاف احتجاج کرنے نکلے ہیں۔ جمہوریت کی حفاظت ان سکیورٹی اہلکاروں اور افسران کی ذمہ داری بھی ہے، جنہیں بہادر اور محب وطن مظاہرین کی آواز دبانے کے احکامات صادر کیے گئے۔ کیا ان سکیورٹی اہلکاروں اور افسران کے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں؟ کیا ان کا عقل وشعور ان سے کچھ نہیں کہتا؟‘
نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ایس آئی آر کے خلاف احتجاج کے بیچ سرکار کو نشانہ بناتے ہوئے کانگریس کے رکن پارلیامنٹ راہل گاندھی نے کہا کہ ان لوگوں کی سب سے بڑی پہچان ہے- بزدلی۔ نریندر مودی، امت شاہ، موہن بھاگوت، گیانیش کمار اور اجیت ڈوبھال – اس کہانی کے ولن – اب دھیرے دھیرے گھرتے جا رہے ہیں … اور ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔
جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کے درمیان بڑے پیمانے پر لوگوں کو حراست میں لینے کی کارروائی جاری ہے۔ احتجاج میں شامل ہونے جا رہی آئیسا کی صدر نہا بورا اور دیگر مظاہرین کو صفدرجنگ ایئرپورٹ فلائی اوور پر روک کر حراست میں لے لیا گیا ہے۔ نہا دیگر مظاہرین کے ساتھ گرین پارک سے جنتر منتر کے لیے مارچ کر رہی تھیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے حراست کی ایسی کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔
دہلی پولیس نے کارکن شرجیل امام کی عبوری ضمانت رد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی کی ایک عدالت میں عرضی دی ہے۔ پولیس نے الزام لگایا ہے کہ امام نے میڈیا اہلکاروں سے بات چیت کرکے ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کی۔ اس سلسلے میں پولیس نے سوشل میڈیا پر نشر ہونے والے ایک ویڈیو کا حوالہ دیا ہے، جس میں مبینہ طور پر امام کو ضمانت کی مدت کے دوران صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔