خاص خبریں
حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران دہلی پولیس کی کارروائی سے متعلق عرضیوں پر شنوائی کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے صحافیوں کو اپنا کام کرنے کے دوران تحفظ دینے کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ ’اگر ہر کوئی خود کو صحافی بتانے لگے گا تو اس سے مسائل پیدا ہوں گے۔‘
ایس آئی ار کے ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں ’منطقی تضادات‘ کے تحت نشان زد کیے گئے ووٹروں میں مسلمانوں کی حصہ داری 20.3 فیصد تھی۔ یعنی ہر ایک ہزار مسلمان ووٹروں میں سے 318 کو ’منطقی تضادات‘ کی بنیاد پر نشان زد کیا گیا۔ وہیں، غیر مسلم ووٹروں میں یہ تعداد ہر ایک ہزار میں 197 تھی۔
گراؤنڈ رپورٹ
دنیا
ویڈیو






مزید خبریں
دہلی کی ایک عدالت نے بدھ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے رہنماؤں آشو توش رانکا اور سوربھ داس کو جنتر منتر پر ’غیر مجاز داخلے‘ کے الزام میں پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ راہل گاندھی سمیت اپوزیشن کے کئی رہنماؤں نے اس پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا ہے کہ اپنے ہی ملک میں اپنا ہی جھنڈا لہرانا جرم کب سے ہو گیا؟
جون 2024 کے بعد سے بی جے پی کے اندر مودی کا سحر ٹوٹ چکا ہے۔ سنگھ کے اندر اب مودی کے بعد کے دور کی صف بندی کھل کر شروع ہو چکی ہے۔ دراصل، اقتدار کے پچیس سال تو پورے ہو گئے، مگر چھبیسویں سال کے آغاز پر ہندوستان کی سڑکوں پر گونجتی ’جین زی‘ کی آواز یہ نوحہ سنا رہی ہے کہ ہاتھی کے پاؤں تلے زمین اب ہمیشہ کے لیےکھسک چکی ہے۔
جب اختلاف رائے کے لیے مختص جگہیں بند کر دی جاتی ہیں، تو اختلاف ختم نہیں ہوتا۔ وہ نئی جگہیں تلاش کرتا ہے، نئی علامتیں تخلیق کرتا ہے اور جمہوری تخیل کا ایک نیا جغرافیہ تشکیل دیتا ہے۔ آپ جنتر منتر کو احتجاج کے مقام کی فہرست سے ہٹا سکتے ہیں، لیکن اختلاف رائے کو نہیں۔
سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ایس آئی آر کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے کام میں رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیے۔ اب فری اسپیچ کلیکٹو نے توہین عدالت کی عرضی دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود پولیس نے صحافیوں کو اپنا کام کرنے سے روکا۔