خاص خبریں
سوال یہ ہے کہ کیا اکیسویں صدی میں ترک گیس اور وسطی ایشیا کی تجارتی شاہراہیں ایسی ہی تبدیلی پیدا کریں گی، جو عرب تیل پیدا نہیں کرسکا؟ اگر ایسا ہوا بھی، تو کیا اس تبدیلی کے حقیقی ثمرات ترک دنیا کے عام شہریوں تک پہنچیں گے، یا دولت اور طاقت ایک مرتبہ پھر چند دارالحکومتوں اور حکمران اشرافیہ تک محدود رہیں گی؟
گیانیش کمار حکومت کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سبب بن گئے ہیں۔ تاہم، انہیں عہدے سے ہٹائے جانے کی صورت میں ان کی نگرانی میں ہوئے انتخابات کے حوالے سےبھی کئی ایسے سوال اٹھ سکتے ہیں، جن کا سامنا کرنا حکومت کے لیے سہل نہیں ہوگا۔
گراؤنڈ رپورٹ
دنیا
ویڈیو






مزید خبریں
سوال یہ ہے کہ کیا اکیسویں صدی میں ترک گیس اور وسطی ایشیا کی تجارتی شاہراہیں ایسی ہی تبدیلی پیدا کریں گی، جو عرب تیل پیدا نہیں کرسکا؟ اگر ایسا ہوا بھی، تو کیا اس تبدیلی کے حقیقی ثمرات ترک دنیا کے عام شہریوں تک پہنچیں گے، یا دولت اور طاقت ایک مرتبہ پھر چند دارالحکومتوں اور حکمران اشرافیہ تک محدود رہیں گی؟
دہلی کے رام لیلا میدان میں ’انڈیا‘ اتحاد کی ریلی میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر’ووٹ چوری‘ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ گیانیش کمار کو چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد اپوزیشن بی جے پی کے دو رہنماؤں – نریندر مودی اور امت شاہ کا سامنا کرے گی۔
آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کے امریکہ پہنچنے کے دو دن بعد ’آر ایس ایس فرینڈز‘ نام کے ایک گروپ نے امریکی محکمہ انصاف میں آر ایس ایس کو غیر ملکی ایجنٹ کے طور پر رجسٹر کرایا۔ دستاویز کے مطابق، یہ گروپ تعلقات عامہ، تعلیم اور اطلاعات سے متعلق سرگرمیاں انجام دے گا۔ آر ایس ایس نے ہندوستان میں رجسٹریشن نہیں کرایا ہے، جبکہ اس کے کئی غیر ملکی معاونین نے ایسا کیا ہے۔
ہندوستان ٹائمز نے ان 26 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف الیکٹورل افسران سے رابطہ کیا، جہاں ایس آئی آر کا عمل مکمل ہو چکا تھا یا ووٹر لسٹوں کا مسودہ شائع کیا جا چکا تھا۔ صرف چھ نے مشتبہ غیر ملکی شہریوں کی تعداد بتائی، جہاں ووٹروں کی مجموعی تعداد تقریباً 9.86 کروڑ ہے، اور صرف 1600 لوگوں کے نام ہی غیر ملکی شہریوں کے طور پر نشان زد کیے گئے ہیں۔
مشرقی دہلی کے ترلوک پوری کے چار پولنگ بوتھ پر گھر گھر جا کر کیے گئے آڈٹ میں پایا گیا کہ ایس آئی آر کا عمل شروع ہونے سے پہلے بھی ووٹر لسٹ سے نام ہٹائے جانے کے واقعات میں زبردست اضافہ ہوا تھا۔ جنوری سے مئی 2026 تک کی ماہانہ فہرستوں میں 5,816 ووٹروں کے نام ہٹائے گئے، جبکہ پورے 2025 میں یہ تعداد 1,385 تھی۔