خاص خبریں
دہلی کی ایک عدالت نے بدھ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے رہنماؤں آشو توش رانکا اور سوربھ داس کو جنتر منتر پر ’غیر مجاز داخلے‘ کے الزام میں پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ راہل گاندھی سمیت اپوزیشن کے کئی رہنماؤں نے اس پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا ہے کہ اپنے ہی ملک میں اپنا ہی جھنڈا لہرانا جرم کب سے ہو گیا؟
جون 2024 کے بعد سے بی جے پی کے اندر مودی کا سحر ٹوٹ چکا ہے۔ سنگھ کے اندر اب مودی کے بعد کے دور کی صف بندی کھل کر شروع ہو چکی ہے۔ دراصل، اقتدار کے پچیس سال تو پورے ہو گئے، مگر چھبیسویں سال کے آغاز پر ہندوستان کی سڑکوں پر گونجتی ’جین زی‘ کی آواز یہ نوحہ سنا رہی ہے کہ ہاتھی کے پاؤں تلے زمین اب ہمیشہ کے لیےکھسک چکی ہے۔
گراؤنڈ رپورٹ
دنیا
ویڈیو






مزید خبریں
دسمبر 2024 میں مودی حکومت نے الیکشن کمیشن کے مطالبہ پر سی سی ٹی وی فوٹیج اور انتخابات سے متعلق ویڈیو ریکارڈ تک عوام کی رسائی محدود کرنے کے لیے قواعد میں تبدیلی کی تھی۔ کمیشن کا کہنا تھا کہ انتظامی بوجھ زیادہ ہے،وہیں ایک افسر نے کہا تھا کہ فوٹیج کی مانگ بڑھ رہی تھی۔ اب ایسی درخواستوں کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار مانگنے پر کمیشن نے کہا ہے کہ یہ ریکارڈ اس کے پاس نہیں ہے۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبہ پر ہوئے احتجاجی مظاہروں کے دوران دہلی پولیس کناٹ پلیس اور جنتر منتر سے حراست میں لیے گئے کم از کم 50 لوگوں، جن میں نابالغ بھی شامل تھے، کو سینٹرل دہلی سے تقریباً 40 کلومیٹر دور پنڈوالان خورد کے ایک کمیونٹی سینٹر لے گئی۔ حراست میں لیے گئے لوگوں کا الزام ہے کہ پولیس اہلکاروں نے ان کی پٹائی کی، پرائیویٹ پارٹس پر چوٹ پہنچائی، کئی لوگوں کے فون چھینے اور اس سے احتجاج کی تصویریں اور ویڈیو ڈیلیٹ کر دیے۔
راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور آئیسا کی صدر نہا بورا کی قیادت میں ہزاروں مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کارروائی اور ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ ایس آئی آرمیں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے میں سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی گئی ہے۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس، رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر سمیت دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے دہلی میں احتجاجی مظاہروں کے دوران صحافیوں کو حراست میں لیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیموں نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے ناطے ہندوستان کی خصوصی ذمہ داری ہے کہ وہ پریس کی آزادی کو بنائے رکھے اور صحافیوں کے آئینی حق کا تحفظ کرے۔