خاص خبریں
سابق الیکشن کمشنر ارون گوئل کے اچانک استعفیٰ کے بعد عام انتخابات کے پروگرام کا اعلان ہونے سے کچھ دن پہلے ہی مارچ 2024 میں گیانیش کمار کو الیکشن کمشنر بنایا گیا۔ مرکزی وزارت داخلہ اور منسٹری آف کوآپریشن میں کام کر چکے کمار مودی حکومت کے خاص پروجیکٹ اور منصوبوں میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
پورے ملک میں ’آشیرواد کا دیا‘ کے نام پر تقریباً 15 کروڑ دیے روشن کیے گئے۔ اس فضول خرچی کا ایک بنیادی تخمینہ لگایا جائے تو روح کانپ اٹھتی ہے۔ اگر یہ فرض کیا جائے کہ ہر دیے میں اوسطاً 20 ملی لیٹر تیل استعمال ہوا، تو اس ایک تقریب میں تقریباً 30 لاکھ لیٹر تیل چند گھنٹوں میں جلا دیا گیا۔
اتراکھنڈ میں ایس آئی آر کے دوران 95 ہزار سے زیادہ ووٹروں کو ’نااہل‘ قرار دیا گیا ہے۔ تقریباً 1.73 لاکھ فارم 7 کی درخواستوں میں یہ معاملے سامنے آئے ہیں۔ فارم 7 کا استعمال ووٹر لسٹ سے کسی شخص کا نام ہٹانے کی درخواست کے لیے کیا جاتا ہے۔ کانگریس نے نام ہٹانے کے طریقہ کار اور اس کے پیٹرن پر سوال اٹھائے ہیں۔ اگلے سال کی شروعات میں ریاست میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔
گراؤنڈ رپورٹ
دنیا
ویڈیو
مزید خبریں
سابق الیکشن کمشنر ارون گوئل کے اچانک استعفیٰ کے بعد عام انتخابات کے پروگرام کا اعلان ہونے سے کچھ دن پہلے ہی مارچ 2024 میں گیانیش کمار کو الیکشن کمشنر بنایا گیا۔ مرکزی وزارت داخلہ اور منسٹری آف کوآپریشن میں کام کر چکے کمار مودی حکومت کے خاص پروجیکٹ اور منصوبوں میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹانے کے مطالبے کو لے کر 25 ستمبر کو دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کر رہے کئی طلبہ اور شہریوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ ان میں دی وائر کے نامہ نگار محمد عرفان، آئسا کی صدر نہا، سی پی آئی (ایم ایل) کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ، سماجی کارکن یوگیندر یادو اور انجلی بھاردواج سمیت کئی دیگر مظاہرین شامل ہیں۔
انڈین ایکسپریس کی الیکشن کمیشن پر پڑتال کے بعد اپوزیشن چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مواخذہ کا نوٹس پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ کمار کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے پیش کیا جانے والا تیسرا اس طرح کا نوٹس ہوگا۔ اس سے پہلے مارچ اور اپریل میں نوٹس پیش کیے گئے تھے۔
الیکشن کمیشن میں الیکشن کمشنروں کے درمیان اختلافات کے انکشاف کو سابق الیکشن کمشنروں – ایس وائی قریشی، اشوک لواسا، او پی راوت اور دیگر نے ’انتہائی سنگین‘ اور ’افسوسناک‘ بتایا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر تین میں سے دو الیکشن کمشنر فیصلے میں شامل ہی نہیں تھے، تو ایسے فیصلوں کو منظوری کیسے دی جا سکتی تھی؟ انہوں نے ایس آئی آر کے فارم 6 میں تبدیلی کے حوالے سے بھی پوچھا کہ کس اختیار کے تحت قانونی فارم میں تبدیلی کی گئی۔
دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ ہندوستان کے انتخابی نظام کو کمزور کرنے کی سازش میں سرِفہرست ہیں۔