خاص خبریں
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک بار پھر راہل گاندھی پر ایس آئی آر کے ذریعے ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے ’دراندازوں‘ کو بچانے کا الزام لگایا ۔ تاہم، شاہ کے دعوے کے برعکس، نہ تو الیکشن کمیشن کے پاس ایسے لوگوں کا الگ سے کوئی ڈیٹا ہے اور نہ ہی وزارت داخلہ کے پاس ملک میں پہچانے گئے غیر قانونی غیر ملکی شہریوں کا کوئی ریکارڈ مرکزی سطح پردستیاب ہے۔
مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے تہواروں کے دوران ملاوٹی اور ناقص اشیائے خوردنی کے خلاف مہم چلاتے ہوئے 114 ٹھکانوں سے 3.53 لاکھ کلوگرام اشیائے خوردنی ضبط کی۔ تکارام منڈھے کی قیادت میں چلائی گئی اس مہم کے دوران محکمہ نے پتنجلی کا 20.20 لاکھ روپے کا گائے کا گھی بھی ضبط کیا۔ اس کے علاوہ 19 کاروباریوں کے لائسنس معطل کیے۔
گراؤنڈ رپورٹ
دنیا
ویڈیو






مزید خبریں
ہندوستان ٹائمز نے ان 26 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف الیکٹورل افسران سے رابطہ کیا، جہاں ایس آئی آر کا عمل مکمل ہو چکا تھا یا ووٹر لسٹوں کا مسودہ شائع کیا جا چکا تھا۔ صرف چھ نے مشتبہ غیر ملکی شہریوں کی تعداد بتائی، جہاں ووٹروں کی مجموعی تعداد تقریباً 9.86 کروڑ ہے، اور صرف 1600 لوگوں کے نام ہی غیر ملکی شہریوں کے طور پر نشان زد کیے گئے ہیں۔
مشرقی دہلی کے ترلوک پوری کے چار پولنگ بوتھ پر گھر گھر جا کر کیے گئے آڈٹ میں پایا گیا کہ ایس آئی آر کا عمل شروع ہونے سے پہلے بھی ووٹر لسٹ سے نام ہٹائے جانے کے واقعات میں زبردست اضافہ ہوا تھا۔ جنوری سے مئی 2026 تک کی ماہانہ فہرستوں میں 5,816 ووٹروں کے نام ہٹائے گئے، جبکہ پورے 2025 میں یہ تعداد 1,385 تھی۔
سربیا میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد سرکاری ٹی وی چینل ریڈیو ٹیلی ویژن ووجوودینا نے یکطرفہ خبریں دکھانے اور حکومت سے ضروری سوال نہیں پوچھنے کے لیے ناظرین سے معافی مانگی ہے۔ صدر الیگزینڈر ووسک کی پارٹی کو انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ طلبہ کی قیادت میں چلنے والی بدعنوانی مخالف تحریک سے ابھرنے والی ’اسٹوڈنٹ لسٹ‘ نے جیت درج کی ہے۔
الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ کمیشن کے اندر تمام فیصلے اتفاق رائے سے ہوئے ہیں۔ تاہم، الیکشن کمیشن نے انڈین ایکسپریس کی رپورٹ – جس میں ایس آئی آر کا عمل شروع ہونے کے بعد دس مہینے کے اندر دو الیکشن کمشنروں نے 14 بار اعتراضات درج کرائے تھے – میں سامنے آئے کسی بھی نتیجے کی تردید نہیں کی۔