خاص خبریں
اپوزیشن کے ارکان پارلیامنٹ نے جمعرات کو الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کے تیسرے دن تاریخی راج گھاٹ کی جانب مارچ کیا، جہاں 31 جنوری 1948 کو مہاتما گاندھی کی آخری رسومات ادا کی گئی تھیں۔ اس سے پہلے منگل کو دہلی پولیس نے انہیں جنتر منتر پر احتجاج کرنے سے روک دیا تھا۔
کرناٹک کے داونگیرے کے ضلع ڈپٹی کمشنر نے کہا ہے کہ ایس آئی آر کے عمل کے دوران ضلع کی سات اسمبلی سیٹوں میں مجموعی طور پر 2,325 فارم 7 درخواستیں نام ہٹانے کی درخواست کے لیے داخل کی گئی تھیں اور یہ تمام درخواستیں آن لائن دائر کی گئی تھیں۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ان درخواستوں میں سے 1,106 کو خارج کر دیا گیا۔
گراؤنڈ رپورٹ
دنیا
ویڈیو






مزید خبریں
بامبے ہائی کورٹ نے ایس آئی آر کے دوران ووٹروں کے نام ہٹائے جانے کے معاملے پر الیکشن کمیشن کو سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر شہریوں کو ہی باہر کر دیا جاتا ہے تو آپ کی ایس آئی آر کا ہم کیا کریں گے؟ اگر شہریوں کو فہرست سے ہٹایا جا رہا ہے، تو پھر اس پوری ایس آئی آر کارروائی کا مقصد ہی کیا ہے؟‘
سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس روہنٹن فلی نریمن نے ایس آئی آر کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ دینے کا حق شدیدخطرے میں ہے، ہم ایسے الیکشن کمیشن کو قبول نہیں کر سکتے جو ٹھیک سے کام نہ کرے۔
ملک کے کم از کم 15 جانے مانے سابق نوکرشاہوں اور کارکنوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو مواخذے کا خط سونپتے ہوئے ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ بیان پر دستخط کرنے والوں نے حالیہ سات ایسے واقعات کا ذکر کیا ہے جنہیں ’ثابت شدہ بدعنوانی یا نااہلی‘ماناجا سکتا ہے اور جن کی بنیاد پر آئین کے آرٹیکل 325(4) کے تحت چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
کیرالہ حکومت نے موجودہ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف 20 سال پرانے بدعنوانی کے الزامات کی ابتدائی جانچ کے حکم دیے ہیں۔ یہ معاملہ ایک سڑک کے منصوبے سے متعلق ہے۔ اس وقت کمار محکمہ تعمیرات عامہ کے سکریٹری تھے۔ پروجیکٹ کے چیف انجینئر لی سی بین نے 2006 میں خودکشی کر لی تھی۔ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ان کی موت کا تعلق اس پروجیکٹ اور اس میں موجود بدعنوانی سے تھا۔