بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور مرکزی وزیر بنڈی سنجے کمار کے بیٹے سائی بھاگیرتھ کے خلاف ایک 17 سالہ لڑکی کے مبینہ جنسی استحصال کے الزام میں پاکسوقانون کےتحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ وزیرنے الزامات کو سیاسی مخالفین کی ’سازش‘قرار دیا ہے۔ تین سال قبل بھی بھاگیرتھ پر مہندرا یونیورسٹی کیمپس میں اپنے ایک بیچ میٹ کے ساتھ مارپیٹ کرنے کا الزام لگا تھا، جس کے پس پردہ دوست سے وابستہ خاتون کا پیچھا کرنا بتایا گیا تھا۔
سی بی آئی ڈائریکٹر کے انتخابی عمل پر اختلافی نوٹ دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کوئی ’ربڑ اسٹیمپ‘نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بار بار مطالبے کے باوجود انہیں سی بی آئی ڈائریکٹر کے عہدے کے امیدواروں کی 360 ڈگری رپورٹ فراہم نہیں کی گئی، اور اجلاس کے دوران ہی 69 امیدواروں کی تفصیلات دی گئیں۔
ہندوستان جیسے معاشی طور پر غیر مساوی معاشرے میں جب ایثار و قربانی یا ترک آسائش کی بات آتی ہے تو سب سے پہلے یہ سوال اٹھنا چاہیے کہ قربانی کون دے گا؟ وہ جو پہلے ہی راشن، کرایہ، فیس اور ای ایم آئی کے جال میں گرفتار ہے، یا وہ جو دولت کو کپڑے کی طرح زیب و تن کر سکتا ہے؟ یہاں سوال حسد کا نہیں، اخلاقی توازن کا ہے۔ اور یہ تعصب نہیں بلکہ عوامی انصاف کا سوال ہے۔
گَیس پیپر کے ذریعے سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے الزامات کے درمیان این ٹی اے نے نیٹ (یو جی) 2026 امتحان ردکر دیا ہے۔ راجستھان ایس او جی کی جانچ میں 410 سوال پر مشتمل ایک ’گَیس پیپر‘ میں 120 سے زیادہ سوال اصل امتحانی پرچے سے مماثل پائے گئے تھے۔ امتحان رد ہونے کے بعد طلبہ اب دوبارہ تیاری، غیر یقینی صورتحال اور ذہنی دباؤ کی بات کر رہے ہیں۔ دوسری جانب نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی کارکردگی اور صلاحیت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔
بہار کے کئی غریب خاندانوں کے لیے مڈ ڈے میل ایک ضروری سہارا ہے، لیکن سہرسہ میں اس کے مبینہ استعمال کے بعد 150 سے زیادہ بچوں کے بیمار پڑنے کے بعد والدین کا کہنا ہے کہ ان کا اس سے بھروسہ اٹھ گیا ہے۔ ایک گارجین نے بچوں کو اسکول نہ بھیجنے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ان پڑھ رہ جائیں تو بھی چلے گا، لیکن کم سےکم زندہ تو رہیں گے۔‘
انیس سو نوے بیچ کے ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر سبرت گپتا کو بنگال میں نئے وزیراعلیٰ کے حلف لینے کے فوراً بعد سی ایم کا صلاح کار بنایا گیا ہے۔ گپتا دسمبر 2025 میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے مغربی بنگال میں کرائے گئے متنازعہ ایس آئی آر عمل میں اسپیشل رول آبزرور کے طور پر تعینات تھے۔
تمل سنیما کے سپر اسٹار وجے کو سیاسی عروج اچانک حاصل نہیں ہوا۔ یہ کہانی برسوں سے انتہائی احتیاط کے ساتھ لکھی جا رہی تھی۔فلموں، علامتی اشاروں، عوامی رابطوں اور کئی بار معنی خیز خاموشیوں کے ذریعے۔ برسوں سے تشکیل دی جا رہی اس کہانی کا ایک مرحلہ 10 مئی کو وجے کے تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ کے عہدے کی حلف برداری کے ساتھ مکمل ہوا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا کی کشیدگی کے درمیان عوام سے سونا نہ خریدنے، بیرون ملک سفر کم کرنے، پیٹرول کا کم استعمال کرنے اور ’ورک فرام ہوم‘کی اپیل کی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کھانا پکانے کے تیل کی کم کھپت اور کھاد کے کم استعمال کی بھی اپیل کی ہے۔ اپوزیشن نے اس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ایم مودی کو انتخابات ختم ہوتے ہی بحران یاد آ گیا۔
سر ڈیوڈ ایٹن برو آج اپنی زندگی کے سو سال پورے کر رہے ہیں۔ یہ محض کسی نامور دستاویزی فلمساز یا براڈکاسٹر کی سالگرہ نہیں ہے؛ یہ اس شخصیت کے سو سال ہیں، جس نے کروڑوں لوگوں کو پہلی بار یہ احساس دلایا کہ زمین صرف انسانوں کی ملکیت نہیں بلکہ مشترکہ وراثت ہے۔
پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج اور آئینی اداروں پر جانبداری کے الزامات وغیرہ کے حوالے سے جے این یو کی پروفیسر زویا حسن اور سینئر صحافی سنگیتا بروآ پیشاروتی کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی تیواری۔
ایک آر ٹی آئی درخواست کے تحت آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کی سکیورٹی پر ہونے والے اخراجات کی جانکاری مانگی گئی تھی، لیکن وزارت داخلہ اور سی آئی ایس ایف نے جانکاری دینے سے انکار کر دیا ہے۔ وزارت نے سکیورٹی اور پرائیویسی کا حوالہ دیا، جبکہ سی آئی ایس ایف نے خود کو قانون سے مستثنیٰ ادارہ قرار دیتے ہوئے جانکاری دینے سے منع کر دیا۔
سہراب الدین شیخ کو 2005 میں مبینہ طور پر فرضی انکاؤنٹر میں مار دیا گیا تھا۔ 2018 میں ایک خصوصی عدالت نے گجرات اور راجستھان کے پولیس افسران سمیت 22 افراد کو اس مقدمے میں بری کر دیا تھا۔ سہراب الدین کے بھائیوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ بامبے ہائی کورٹ نے ان کی اپیل کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔
مجسمے صرف پتھر یا دھات کے ڈھانچے نہیں ہوتے۔ وہ اس بات کی علامت ہوتے ہیں کہ ایک معاشرہ کن نظریات، جدوجہد اور یادوں کو اپنی معاشرت میں جگہ دینا چاہتا ہے۔ جب سیاست حافظے اور یادداشت کے انہدام کی شکل اختیار کر لے، تو پھر کوئی بھی علامت محفوظ نہیں رہتی- نہ لینن، نہ گاندھی، نہ نہرو، نہ امبیڈکر۔
مغربی بنگال کی 294 نشستوں میں سے 150 نشستوں پر حذف کیے گئے رائے دہندگان کی تعداد جیت کے فرق سے زیادہ تھی۔ ان میں سے بی جے پی نے 99 سیٹوں پر جیت درج کی، جبکہ 2021 میں وہ ایسی صرف 19 نشستوں پر کامیاب ہوئی تھی۔
اے ڈی آر کی رپورٹ کے مطابق، مغربی بنگال اسمبلی میں نو منتخب 190 اراکین اسمبلی (65فیصد) نے اپنے خلاف فوجداری معاملے کی جانکاری دی ہے، جبکہ 2021 میں یہ تعداد 142 (49 فیصد) تھی۔ ان میں سے 170 اراکین اسمبلی (58 فیصد) سنگین فوجداری مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ پچھلی اسمبلی میں یہ تعداد 113 (39فیصد) تھی۔
جمہوری حق سے محروم رائے دہندگان کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے اہم نہیں تھے۔ یہ جمہوریت میں کسی کے ساتھ کی جانے والی سب سے بڑی ناانصافی تھی، مگر غیر بی جے پی سیاسی جماعتوں کے لیے یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا کہ وہ یہ اعلان کرتیں کہ جب تک ان لوگوں کو انتخابات میں حصہ لینے کا حق نہیں دیا جاتا، وہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی۔ اگر سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ رائے دہندگان ان کے ساتھ کھڑے ہوں، تو پہلے انہیں یہ دکھانا ہوگا کہ وہ ان کے ساتھ کھڑی ہیں۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے’آئی لو محمد‘تنازعہ سے جڑے ایک انسٹاگرام پوسٹ کے سبب گرفتار کیے گئے مظفرنگر کے ندیم کو ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پوسٹ میں کسی بھی ذات یا برادری کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ ریاستی حکومت نے ندیم کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ ان کا ویڈیو اشتعال انگیز تھا۔
کیا کشمیر میں ہندوستان اور پاکستان کی سرحدوں میں بٹے عوام یکجا نہیں ہوسکتے ۔کیا یہ خونی لکیرمٹ نہیں سکتی۔ جب برطانیہ اور آئر لینڈسات سو سالہ دشمنی دفن کرسکتے ہیں، تو ہندوستان اور پاکستان بنیادی مسائل پر توجہ مرکوز کرکے حل کی طرف گامزن ہوکر کیوں امن کی راہیں تلاش نہیں کرسکتے؟
گزشتہ ہفتے دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کے ایک ہیڈ کانسٹبل نے مبینہ طور پر بہاری پہچان کو لے کر 22 سالہ ڈیلیوری بوائے پانڈو کمار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ حالیہ دنوں میں ہندوستان میں مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر تشدد معمول بنتے جا رہے ہیں۔ اس میں علاقائی امتیاز پر مبنی تشدد کی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں اور بہاری مہاجرین دہائیوں سے اس طرح کے تشدد کا نشانہ بنتے آئے ہیں۔
بہار کے رہنے والے امام توصیف رضا کی لاش گزشتہ 27 اپریل کو یوپی کے بریلی کے قریب ایک گاؤں میں ریلوے ٹریک کے پاس ملی تھی۔ ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت سے پہلے کئی چوٹوں کا ذکر کیا گیا تھا۔ پولیس نے ایک بیان میں ان کی موت کو حادثہ بتایا تھا، جس کے بعد اب ان کی اہلیہ نے ٹرین میں توصیف کے ساتھ مارپیٹ کا الزام لگاتے ہوئے باضابطہ شکایت درج کروائی ہے۔
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 میں بی جے پی نے 15 سال پرانی ترنمول حکومت کو ہٹا کر اکثریت حاصل کر لی۔ ممتا بنرجی حکومت کے خلاف عدم اطمینان، بدعنوانی اور حکمرانی سے متعلق سوال، ہندو-مسلم پولرائزیشن اور ایس آئی آر کا تنازعہ اس بڑی سیاسی تبدیلی کے اہم اسباب بن کر سامنے آئے۔
مغربی بنگال میں اپوزیشن میں رہتے ہوئے بی جے پی نے مرکز میں اپنی حکومت اور الیکشن کمیشن کے اختیارات کے بے دریغ غلط استعمال کی معرفت جس طرح 293 نشستوں کے اسمبلی انتخابات میں زور آزمائی کی اور بے مثال جیت درج کی، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے اکھلیش یادو کی تشویش میں کئی گنا اضافہ ہو جانا چاہیے۔ خصوصی طور پر اس لیے کہ اتر پردیش اور مرکز دونوں میں برسر اقتدار ہونے کی وجہ سے اس ریاست میں بی جے پی کے لیے ایسا کرنے میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔
آسام اسمبلی انتخابات 2026 میں بی جے پی نے لگاتار تیسری بار اقتدار پر قبضہ کیا۔ اس جیت کے مرکز میں ہمنتا بسوا شرما کی قیادت، شناخت پر مبنی سیاست، 2023 کی حد بندی کا اثر اور کمزور اپوزیشن نے رول ادا کیا ۔ اس انتخاب میں کانگریس محدود ہو گئی، اے آئی یو ڈی ایف کمزور پڑی اور ریاست میں پولرائزیشن کا اثر واضح طور پر نظر آیا۔
گجرات کے شہر وڈودرا میں واقع ایک یونیورسٹی میں’مودی تتو‘کے نام سے ایک نیا کورس شروع کیا گیا ہے، جس میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کو ایک تصور اور نظریہ کے طور پر پڑھایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ’سودیشی تعلیمی نظام‘، ہندو مذہب کا مطالعہ اور قوم پرستی کے ساتھ آر ایس ایس کو بھی نصاب میں نمایاں طور پر شامل کیا گیا ہے۔
نوئیڈا مزدور تحریک سے متعلق معاملے میں کئی افراد کی گرفتاری کے بعد پولیس کی کارروائی پر سنگین سوال اٹھ رہے ہیں۔ اہل خانہ اور وکیل الزام لگا رہے ہیں کہ انہیں مناسب قانونی عمل کے بغیر حراست میں لیا گیا۔ پولیس اسے سازش قرار دے رہی ہے۔ یہ معاملہ اب مزدوروں کے حقوق سے آگے بڑھ کر شہری آزادیوں کی بحث بن گیا ہے۔
ملک کی اپوزیشن جماعتوں نے پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے فوراً بعد کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے پر مرکز کی نریندر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ساتھ ہی حکومت سے بڑھی ہوئی قیمتوں کو فوراً واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
سال 2024 کے بعد کے واقعات اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ کیا امت شاہ صرف دوسرے نمبر کے لیڈر ہیں، جنہیں نریندر مودی اپنی سیاست مضبوط کرنے کے لیے آگے کر رہے ہیں یا پھر 2029 پر نظر جمائے بی جے پی-جو 2024 جیسی صورتحال دوبارہ نہیں چاہتی— جانشینی کے کسی منصوبے پر کام کر رہی ہے۔
بنگال اسمبلی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے اپنے تمام وسائل بی جے پی کے لیے استعمال کیے۔ سپریم کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کو مکمل آزادی دے کر بالواسطہ طور پر بی جے پی کا ساتھ دیا۔ اگر عوام نے اس ماڈل کو قبول کر لیا تو ہندوستان میں انتخابات اسٹالن کے روس میں ہونے والے انتخابات جیسے ہو جائیں گے، جہاں نتیجہ ووٹنگ سے پہلے ہی سب کو معلوم ہوگا۔
سپریم کورٹ نے یہ تبصرہ ان عرضیوں کے ایک گروپ پر فیصلہ سناتے ہوئے کیا، جن میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے رہنما اصول جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ یہ دلیل کہ ہیٹ اسپیچ کا دائرہ قانون سازی کے لحاظ سے خالی ہے، گمراہ کن ہے۔ موجودہ فوجداری قانون کا ڈھانچہ، جس میں تعزیرات ہند اور دیگر متعلقہ قوانین کی دفعات شامل ہیں، ان سرگرمیوں سے مؤثر طور پر نمٹتا ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی نو رکنی آئینی بنچ نے سبریمالا معاملے کی سماعت کے دوران ایک اہم ریمارک دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مذہبی برادری کوپوجا -پاٹھ کرنے کے طریقوں میں خودمختاری حاصل ہے اور عدالت اس کے مذہبی معاملوں میں فیصلہ نہیں سنا سکتی ہے، لیکن اگر اس کا اثر کسی سیکولر سرگرمی پر پڑتا ہے تو حکومت اپنے اختیارات کے تحت مداخلت کر سکتی ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن ایسے معاملوں میں، جہاں مسلمانوں پر حملے ہوتے ہیں اور کئی بار ان کی لنچنگ تک ہو جاتی ہے، اور جہاں ملزمان کے خلاف کیس درج نہیں ہوتے یا ٹھیک سے جانچ نہیں ہوتی-ان معاملوں میں از خود نوٹس لینے کے بجائے اُن معاملوں میں مداخلت کرتا نظر آ رہا ہے جو اس کے دائرۂ اختیار سے باہر ہیں۔
آج کل ملک میں کم وبیش ہر سروس کے لیے آدھار کارڈ مانگا جاتا ہے، لیکن حکومت اور یو آئی ڈی اے آئی بار بار یہ واضح کرتے رہے ہیں کہ یہ تاریخ پیدائش، شہریت یا کئی معاملوں میں پتے کا حتمی ثبوت نہیں ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر آدھار کی قانونی اور عملی حیثیت کیا ہے؟
غزہ آج بھی وہاں کھڑا ہے جہاں کل تھا تنہا، زخمی اور سسکتا ہوا صرف اس فرق کے ساتھ کہ اب اس کی تکلیف عالمی سرخیوں میں نہیں، بلکہ صرف تاریخ کے خونی صفحات میں لکھی جا رہی ہے۔
بہار حکومت کے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری ایک آرڈر میں کہا گیا ہے کہ تمام تعلیمی اداروں کے پروگراموں کی شروعات ’وندے ماترم‘کے گانے سے ہوگی اور اس کے بعد قومی ترانہ گایا جائے گا۔ پروگرام کا اختتام بہار کے ریاستی گیت-’میرے بھارت کے کنٹھ ہار‘گا کر کیا جائے گا۔
کانگریس کے رکن پارلیامان راہل گاندھی کی مبینہ دوہری شہریت کو لے کر عدالت جانے والے وگنیش ششیر کا نام کرناٹک میں کروڑوں روپے کے فراڈ کے کم از کم دو بڑے معاملوں سے جڑا ہے۔ خود کو بی جے پی کا رکن بتانے والے ششیر پر غبن اور زمین سے متعلق فراڈ کے الزامات ہیں۔
کامیابی کا یہ نشہ، جو اس وقت اپنے عروج پر ہے، پچھلے بیس برسوں میں ماؤ نوازوں اور خصوصاً پولیس فورسز کے ہاتھوں ہونے والی ہزاروں ہلاکتوں کے باوجود، کسی کو بھی جوابدہ ٹھہرانے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ سلوا جڈوم کی وجہ سے خواتین کے ساتھ زیادتیاں ہوئیں، سو سے زائد گاؤں جلا دیے گئے اور بستر میں ہزاروں لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا۔ لیکن ’کامیابی‘ کے شور میں ان واقعات پر اٹھنے والے اہم سوالات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
رگھو رائے صرف ایک نام نہیں تھے۔ وہ ایک بصیرت تھے۔ ایک احساس تھے۔ ایک دبستان تھے۔ ایک ایسی آنکھ تھے جس نے ہندوستان کو صرف دیکھا نہیں، بلکہ اسے خود سے ملوایا ۔ اس رات ان کا جسم چلاگیا، لیکن ان کی نظرابھی بھی اس ملک کی صبحوں میں گھوم رہی ہے۔ کیمروں کے سرد سیاہ بدن میں، پرانی کانٹیکٹ شیٹس میں، نمائش کی دیواروں پر، اور ہم جیسے شاگردوں کی لرزتی انگلیوں میں۔
سینٹرل انفارمیشن کمیشن نے روس سےہندوستان کو ہونے والی خام تیل کی درآمدات کی کمپنی وار تفصیلات عام کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ کمیشن نے وزارت پیٹرولیم کے تحت کام کرنے والے پیٹرولیم پلاننگ اینڈ اینالیسس سیل (پی پی اے سی)کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اسے ’تجارتی طور پر خفیہ‘بتایا۔
الکٹرانکس اور آئی ٹی کی وزارت کی جانب سے جاری کیے جانے والے آن لائن مواد کو بلاک کرنے کے احکامات کی تعداد ایک سال میں دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ 2023 میں اوسطاً 6,000 احکامات تھے جو بڑھ کر 2025 میں 24,300 تک پہنچ گئے۔ ان میں سے نصف سے زیادہ احکامات وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے۔
گزشتہ 23 اپریل کو مہاراشٹر کے ضلع یوتمل میں ایلون اور ان کے ساتھی محمد نداف نثار قریشی کیرالہ کے پلکڑ ضلع کے پٹامبی قصبے سے پھلوں سے لدا ٹرک لے کر مدھیہ پردیش جا رہے تھے، جب راستے میں ہتھیاروں سے لیس افراد کے ایک گروہ نے ان کی گاڑی کو روک کر حملہ کر دیا۔ قریشی شدید زخمی ہیں اور آئی سی یو میں بھرتی ہیں۔ اس کے باوجود پولیس نے ’روڈ ریج‘کا کیس درج کر کےہلکی دفعات ہی لگائی ہیں۔