ایران بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے کہ سوال صرف جنگ بندی کا نہیں ، جنگ کبھی نہ ہو، اس کا ہے۔ اس کی ضمانت کون دے گا؟ دنیا میں ایسی کوئی اخلاقی قوت موجود نہیں جو مستقل امن کے لیے پہل کرنے کی ہمت رکھتی ہو۔ کبھی پوری دنیا میں اپنی اخلاقی آواز کی وجہ سے سنے جانے والے ہندوستان کی بولتی بند ہے۔
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے درمیان ملک کی سب سے بڑی نجی شعبے کی آئل ریفائننگ کمپنی ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ نے اپنے پیٹرول پمپوں پر ایندھن کی فروخت پر حد طے کر دی ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق، اب صارفین کو ایک بار میں 1,000 روپے تک ہی پیٹرول یا ڈیزل دیا جا رہا ہے۔ تاہم، کمپنی نے اس بارے میں کوئی باضابطہ فیصلہ جاری نہیں کیا ہے۔
مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ سے تقریباً 91 لاکھ ووٹروں کے نام ایس آئی آر کے بعد ہٹا دیے گئے ہیں۔ اس بیچ ریاست کے کئی افسران کے تبادلوں کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ ایسے میں ٹی ایم سی کا ایک وفد بدھ کے روز چیف الیکشن کمشنر سے ملا تھا، جس کے بعد انہوں نے کمیشن پر ان کی بات نہ سننے کے الزام لگائے ہیں۔ وہیں، ٹی ایم سی کو نشانہ بناتے ہوئے الیکشن کمیشن کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر بھی تنقیدکی جا رہی ہے۔
ہندوستان 2028 میں ہونے والے 33 ویں سالانہ کلائمیٹ کانفرنس (سی او پی 33) کی میزبانی سے دستبردار ہو گیا ہے۔ ماہرین نے اس فیصلے کو ’اسٹریٹجک موقع گنوانے‘ سے تعبیر کرتے ہوئے عالمی کوششوں کے لیے بڑا ’دھچکا‘ بتایا ہے۔
آسام بتائے گا کہ شناخت کی سیاست کتنی طاقتور ہو سکتی ہے۔ بنگال یہ دکھائے گا کہ مزاحمت کب تک قائم رہ سکتی ہے۔ تامل ناڈو اور کیرالہ یہ ثابت کریں گے کہ ترقی کا ایک متبادل راستہ بھی ممکن ہے۔ مجموعی طور پر یہ انتخابات طے کریں گے کہ ہندوستان ایک یکساں سیاسی سمت میں آگے بڑھے گا یا اپنی وفاقی اور کثیر جہتی شناخت کو برقرار رکھے گا۔
اسرائیلی اور ہندوستانی فلمساز، صحافی، ماہرین تعلیم اور کارکنوں نے ایک خط میں ہندوستان کے سینٹرل فلم سرٹیفیکیشن بورڈ کی جانب سے فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ پر پابندی کو جائز ٹھہرانے کے لیے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات کا حوالہ دینے کی سخت مذمت کی ہے۔ خط میں ہندوستان اور اسرائیل میں تکثیریت، جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی کو بنائے رکھنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کی تحریک پر پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں کے 193 اراکین نے دستخط کیے تھے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں نے سوموار کو اس تحریک کو مسترد کر دیا۔ تاہم، اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔
فاشسٹ یا نیم فاشسٹ سیاست سے لڑنے کا پہلا قاعدہ یہ ہے کہ آپ اپنے حقیقی اور ثانوی حریف کے درمیان فرق بنائیں رکھیں۔ کیرالہ میں ایل ڈی ایف کو شکست دینے کی بے چینی سمجھ میں آتی ہے؛ مگر راہل گاندھی کی زبان اسٹریٹجک ہوشمندی کا اشارہ نہیں دے رہی۔ ایل ڈی ایف کو آر ایس ایس کے مساوی قرار دینا سیاسی شعور کا مظاہرہ نہیں بلکہ ایک نوع کی ناسمجھی اور بے صبری کا اظہارہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری ہیں۔ ٹرمپ نے نئے سرے سے وارننگ دی ہے، جبکہ تہران نے صاف کر دیا ہے کہ مستقبل میں حملے نہ ہونے کی ضمانت کے بغیر وہ جنگ ختم نہیں کرے گا۔ خطے میں کشیدگی اور بے یقینی بدستور قائم ہے۔
سپریم کورٹ نے اروناچل پردیش کے سی ایم اور بی جے پی لیڈر پیما کھانڈو کے خاندان سے وابستہ کمپنیوں کو ملے سرکاری ٹھیکوں کی تحقیقات کے لیے سی بی آئی کو حکم دیا ہے۔ سی ایم کھانڈو پر بدعنوانی اور اقربا پروری کے الزامات ہیں۔ شنوائی کے دوران عدالت نے کہا کہ یہ ایک قابل ذکر ’اتفاق‘ہے کہ ورک آرڈر اور ٹینڈر کھانڈو خاندان کے ارکان کو ہی ملے۔
ہندوستان-بنگلہ دیش سرحد پر دراندازی کوروکنے کے لیے بی ایس ایف کو ندی والے علاقوں میں سانپ اور مگرمچھ جیسے رینگنے والے جانوروں کی تعیناتی کے امکان پر غور کرنے کو کہا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کی ہدایات کے بعد یہ تجویز سامنے آئی ہے، تاہم، اس کے عملی اور انسانی اثرات کے حوالے سے سنگین سوال اٹھ رہے ہیں۔
وزارت تعلیم کی ہدایات پر یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کی جانب سے تمام جامعات کے وائس چانسلر کو لکھے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی چاہتے ہیں کہ جامعات مختلف سرکاری سروے میں حصہ لیں اور اپنے صحافت کے نصاب کا جائزہ لیں تاکہ انہیں ’مزید مؤثر‘بنایا جا سکے۔
کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کی اہلیہ رنیکی بھوئیاں کے پاس تین ممالک کے پاسپورٹ ہیں اور دوسرے ملکوں میں ان کے نام پر جائیداد درج ہیں، جس کا انکشاف وزیر اعلیٰ نے اپنے حلف نامے میں نہیں کیا ہے۔ کانگریس نے ان کی ’گرفتاری‘کا مطالبہ کیا ہے۔ شرما نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپوزیشن کے خلاف ہتک عزت کے مقدمے دائر کرنے کی بات کہی ہے۔
فوٹوگرافر جولیا برولیوا کے ’گلابی ہاتھی‘ فوٹو شوٹ سے متعلق معاملہ اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ معاشرے میں جانوروں کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں معمول تصور کی جاتی ہیں، اور ہمارا غم و غصہ کچھ خاص واقعات پر ہی نکلتا ہے۔ گھنٹوں تک اونٹ یا ہاتھی کی سواری، پنجرے میں قید پرندے، شادی کی تقریبات میں لگام سے بندھے لنگڑاتے اور بعض اوقات زخمی گھوڑوں کو بھی ہمدردی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔
بارہ جون 2025 کو احمد آباد سے لندن جا رہی ایئر انڈیا کی پرواز ٹیک آف کے چند ہی سیکنڈ بعد حادثے کا شکار ہو گئی تھی، جس کے بعد طیارے میں سوار 242 میں سے 241 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اب متاثرہ خاندانوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر کاک پٹ وائس ریکارڈر (سی وی آر) اور بلیک باکس ڈیٹا جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ اس حادثے کے پیچھے کی حقیقت سامنے آ سکے۔
امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ 38 ویں دن مزید پرتشدد ہو گئی ہے۔ تہران اور بیروت میں حملوں سے شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ٹرمپ کی نئی دھمکیوں نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس جنگ کے باعث ہندوستان میں ایل پی جی کی سپلائی اور قیمتوں کے حوالے سے عام لوگوں کی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
ردعمل:نعمان شوق کی آشو بیدہ غزلیں خاموشی کے خلاف احتجاج ہیں۔ ان غزلوں میں ایک ہمہ گیر اضطراب، کرب اور تہذیبی شکست و ریخت کا احساس گامزن ہے۔ یہ شاعری محض جذباتی رد عمل نہیں بلکہ اپنے عہد کی سیاسی ، سماجی اور اخلاقی صورتحال کا گہرا اور کربناک مشاہدہ ہے۔
مغربی ایشیا میں جاری جنگ سے پیدا ہونے والا توانائی بحران کئی شہروں کو متاثر کر رہا ہے۔ انہی میں ایک الہ آباد بھی ہے، جہاں مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ رسوئی گیس کی قلت اور مہنگائی سے جوجھ رہے ہیں۔ خوراک جیسی بنیادی ضرورت بھی بحران کی زد میں ہے، جس کے باعث ان کی پڑھائی، ذہنی حالت اور مستقبل پر شدیداثر پڑ رہا ہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے 36ویں دن دو امریکی فوجی طیارے مار گرائے گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایک فوجی کو بچا لیا گیا ہے جبکہ دوسرا لاپتہ ہے۔ اس دوران 365 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں اور خلیجی ممالک تک ان حملوں کے اثرات نظر آنے لگے ہیں۔
گجرات کی سینٹرل یونیورسٹی نے ایک نوٹس میں گیس سپلائی کی کمی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے میس کا نظام متاثر ہوا ہے اور مینو میں کمی کی گئی ہے۔ یہ صورتحال مرکزی حکومت کے اس دعوے کے برعکس ہے، جس میں ملک میں ایل پی جی کی وافر دستیابی کی بات کہی گئی تھی۔
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے 35 ویں دن بھی ایران میں کشیدگی برقرار ہے۔ نوروز کے اختتامی جشن کے دوران ایک امریکی حملے میں 8 افراد ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوئے۔ دوسری جانب لبنان میں اسرائیلی حملے جاری ہیں۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد مغربی ایشیا میں پیدا ہونے والے بحران کے اثرات ہندوستان میں بھی نظر آنے لگے ہیں۔ یہ بحران صرف خام تیل کی قلت یا ایل پی جی گیس کی سپلائی تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے اثرات ہندوستان کی کئی صنعتوں جیسے ہینڈلوم، سیاحت اور ہاسپیٹیلٹی پر بھی صاف نظر آنے لگے ہیں۔
بامبے ہائی کورٹ نے انل امبانی کی جانب سے ان کے مالی لین دین سے متعلق خبروں پر ری-پبلک ٹی وی اور اس کے مدیر ارنب گوسوامی کے خلاف دائر ہتک عزت مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے نیوز چینل کو ’توہین آمیز تنقید‘ سے گریز کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے گوسوامی کے شو میں کیے گئے تبصروں کو ’نامناسب‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ چینل کو بعض لفظوں کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے اور’اعتدال‘ سے کام لینا چاہیے۔
گزشتہ مہینے بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے ایک لیڈر کی شکایت پر گنگا میں افطار کرنے کے معاملے میں گرفتار 14 مسلم نوجوانوں کو وارانسی کی ایک سیشن کورٹ نے ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ سیشن جج نے کہا کہ نوجوانوں کی جانب سے اس واقعے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ عمل سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرنے کے مقصد سے انجام دیا گیا تھا۔
ایران پر امریکہ-اسرائیل حملوں کے 34ویں دن ٹرمپ نے حملے تیز کرنے کی بات کہی اور جنگ کو’سرمایہ کاری‘قرار دیا۔ ان کے جنگ بندی کے دعوے کو ایران نے مسترد کر دیا ہے۔ وہیں، آبنائے ہرمز اب بھی بند پڑی ہے، جس سے عالمی تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر اثر پڑ رہا ہے۔
مغربی ایشیا کے تنازعات اس بات کے شاہد ہیں کہ فوری عسکری فتح کا تصور اکثر طویل مدتی عدم استحکام میں بدل جاتا ہے۔ جب کسی معاشرے کی شناخت، اس کا عقیدہ اور اس کی تاریخی یادداشت داؤ پر ہو، تو جدوجہد صرف مادی نہیں رہتی؛ بلکہ ایک نظریاتی اور اخلاقی پہلو اختیار کر لیتی ہے۔ ایسے میں’فتح‘ اور ’ شکست ‘کے روایتی پیمانے غیر متعلق ہو جاتے ہیں ۔
اعداد و شمار کے مطابق، جنوبی ایشیا میں باہمی تجارت دنیا کے دیگر خطوں کےمقابلے انتہائی کم ہے۔ یورپی یونین اور آسیان نے جغرافیائی قربت کومعاشی طاقت میں تبدیل کیا، مگر یہاں ایسی کوئی صورتحال نظر نہیں آتی۔
ایل پی جی بحران کے باعث دہلی کے بھلسوا کے وہ خاندان، جو گزشتہ چند برسوں میں چولہا جلانا چھوڑ کر ایل پی جی پر شفٹ ہوئے تھے، اب ان میں ایک طرح کا غصہ ہے۔ کچھ نے واپس اپنے گاؤں کا رخ کر لیا ہے، جو لوگ ٹھیلہ اور ریڑھی لگا کر روزی کماتے تھے، ان کے لیے روزمرہ کا کام چلانا مشکل ہو گیا ہے۔ جو ابھی بھی یہیں ہیں، ان کے لیے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمت پہلے سے غیر مستحکم حالات میں ایک اور بوجھ بن گئی ہے۔
اب عالمی منظر نامے پر صورتحال یہ ہے کہ حملہ آوروں کا لگ بھگ ہر مفروضہ، ہر تخمینہ، ہر ٹرگر اور ہر حساب وکتاب بری طرح ناکامی سے دوچار ہو چکا ہے۔ تہران کی دیواریں گرنے کے بجائے بیرونی حملے کے نتیجے میں مزید آہنی دکھائی دے رہی ہیں۔
مغربی ایشیا میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو ریا ہے، جہاں ٹرمپ کے ایران سے بات چیت کے دعوے کو تہران نے خارج کر دیا ہے۔ وہیں،اسرائیل کی لبنان میں فوجی کارروائی، امریکہ کی دھمکیاں اور سفارتی عدم اعتماد نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اِکیس ایک سو بائیس کو لکھنے کے دوران میں نے ہر اس شے کو محسوس کیا جو انسان سے متعلق تھی اور میں نے ان تمام قدیم متون اور اشیا کو ایسے یاد کیا جیسے کوئی اپنے پُرکھوں کو یاد کرتا ہے، جب پُرکھے بے چین ہو کر اسے یاد کرتے ہیں اور تب واضح طور پر مجھے اجتماعی لاشعور اور آرکی ٹائپس یا نسلی کھائیوں کی پُراسرار موجودگی کا شدت سے احساس ہوا۔
صحافی رویش کمار بتا رہے ہیں کہ ملک کے نام چٹھی میں ہندوستانی روپیہ کہتا ہے کہ ’کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک ڈالر کے سامنے میری قدر 95 تک پہنچ جائے گی۔ مجھے کمزور کہا جائے گا۔ میری کمزوری کے نام پر ایک مضبوط حکومت آئی، جو ہر دن مضبوط ہوتی چلی گئی اور میں کمزور ہوتا گیا۔ ایسا نہیں ہے کہ میں کسی کام کا نہیں ہوں۔ اس کمزوری میں بھی میں ووٹر کے کھاتے میں پہنچ کر نتیجہ نکال دیتا ہوں۔ مجھے بانٹ کر ووٹ مل جاتا ہے۔‘
ایئرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن آف انڈیا نے شہری ہوا بازی کی وزارت کے سکریٹری اور ڈی جی سی اے کو لکھے گئے خط میں مسافروں، فضائی عملے اور طیاروں کی حفاظت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی فعال جنگی علاقے کے اندر یا اس کے بہت قریب پروازیں چلانا انسانی جانوں کو جان بوجھ کر خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
ایران پر امریکہ–اسرائیل حملوں کے 31 ویں دن تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ خلیجی ممالک تک حملے پھیلنے کے درمیان کویت میں ایک ہندوستانی شہری کی موت ہو گئی ہے۔ ٹرمپ کے تیل پر قبضے والے بیان سے تنازعہ بڑھ گیا ہے، جبکہ جنگ کا اثر ہندوستان میں ایندھن کے بحران کی صورت میں واضح طور پرنظر آنے لگا ہے، جہاں گھریلو ضروریات کے لیے مٹی کے تیل کی عارضی واپسی ہوئی ہے۔
انل امبانی نے ری-پبلک ٹی وی اور ارنب گوسوامی کے خلاف بامبے ہائی کورٹ میں ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ چینل نے ای ڈی کی تحقیقات سے متعلق رپورٹنگ میں انہیں غلط طریقے سے ذاتی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا، جس سے ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔
امریکہ میں ’نو کنگز‘ تحریک کے تحت ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ 50 ریاستوں میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر اترے۔ مینیسوٹا میں کلیدی پروگرام منعقد ہوا، جہاں پولیس کارروائی میں ہلاک ہونے والے شہریوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ مظاہرین نے جمہوریت اور حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
سی بی ایف سی کی جانب سے فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘پر مبینہ زبانی روک لگائے جانے کے معاملے پر اپوزیشن کے ارکان پارلیامنٹ نے اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو کو خط لکھ کر اس پابندی پر سوال اٹھائے ہیں۔ یہ فلم ایک حقیقی واقعہ پر مبنی ہے، جس میں غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملے کے دوران ایک کار میں پھنسی پانچ سالہ فلسطینی بچی کی موت ہو گئی تھی۔
مغربی ایشیا کے بحران کے باعث ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان انڈین ایئر لائنز 29 مارچ سے شروع ہونے والے موسم گرما کے سیزن میں گزشتہ سال کے مقابلے تقریباً 12 فیصد کم پروازیں چلائے گی۔ شہری ہوا بازی کی وزارت نے اب تک اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ مغربی ایشیا کی صورتحال کے پیش نظر آنے والے وقت میں پروازوں کی تعداد میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا 29واں دن جاری ہے۔ جوہری ٹھکانوں پر حملوں کے بعد ایران نے’بھاری قیمت‘چکانے کی وارننگ دی ہے۔ وہیں، ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک پروگرام میں نیٹو کو’کاغذی شیر‘قرار دیتے ہوئے اس کے رخ پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد فارماسیوٹیکل سپلائی چین بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں صرف پندرہ دنوں میں خام مال کی قیمتیں 200 سے 300 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔ دوا ساز کمپنیاں ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی وارننگ دے رہی ہیں، اور اگر حالات ایسے ہی رہے تو سپلائی میں کمی کا بھی عندیہ دے رہی ہیں۔