اجیت سنگھ سندھو اور میجر اوتار سنگھ کی داستانیں یہ یاد دلاتی رہیں گیں کہ جب دنیا کی عدالتیں اور حکومتیں اپنے خونی کارندوں کو بچانے کے لیے ڈھال بن جاتی ہیں، تو قدرت خود مدعی بن کر میدان میں اترتی ہے۔
انٹرویو:فلم ’ستلج‘ کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم سے ہٹائے جانے کے بعد پہلی بار بات کرتے ہوئے فلمساز ہنی تریہن نے کہا کہ ’ستلج‘ پر پابندی لگائی جا سکتی ہے، لیکن جسونت سنگھ کھالڑا کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تریہن کہتے ہیں کہ ’ستلج‘ پنجاب کے زخموں پر مرہم کی طرح ہے، لیکن اسے بین کیا گیا کیونکہ یہ پھوٹ ڈالو اورراج کرو کی سیاست کو بڑھاوا نہیں دیتی۔
مصاحبہ: فلمساز، مصنف اور پوڈکاسٹر آشیش ساہنی اردو کی نامور ادیبہ عصمت چغتائی کے نواسے ہیں۔ کچھ سال پہلے آشیش نے ٹرانس جینڈر اور سس جینڈر خواتین فلمسازوں کی حوصلہ افزائی اور معاونت کے لیے عصمت چغتائی ایوارڈ شروع کیا تھا۔ پیش ہے ان کی نئی فلم، عصمت آپا پر ان کی کتاب اور ہندوستان کی ہمعصر کوئیر سیاست پر ان سے بات چیت۔
خالد جاوید کا ادب اردو ادب میں بالکل نئے بیانیے، نئے زاویے اور نئی طرزِ تحریر کا موجد ہے۔ وہ اپنے ادبی سفر کے آغاز سے ہی ایک شہر آشوب لکھ رہے ہیں، اردو ادب میں ڈسٹوپیا کی حکایت نا تمام لکھ رہے ہیں۔
خالد جاوید کے ہاں مسئلہ یہ نہیں کہ وہ موت پر لکھ رہے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہر بار ایک ہی طرح کی موت اور ایک ہی طرح کے ’تعفن‘ پر لکھ رہے ہیں۔
اجئے دیوگن کی نئی فلم ’چوہان‘کے ٹریلر میں پیلٹ گن کومحدود نقصان پہنچانے والا بتایا گیا ہے، جس کے بعد اس کی تنقید کی جا رہی ہے۔ کشمیر میں پیلٹ گن متاثرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ریاستی تشدد برداشت کیا ہے اور اب بالی وڈ ان کے درد کا مذاق اڑا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2010 سے 2016 کے درمیان جموں و کشمیر میں تقریباً 10,000 افراد پیلٹ گن سے زخمی ہوئے،متعدد معذور ہوگئےجبکہ کئی لوگوں کی آنکھوں کی روشنی بھی چلی گئی۔
خالد جاوید موت کے راگ کے موسیقار ہیں، جو ہر بار موت کا نیا راگ لے کر آتے ہیں۔ان کے ناولوں میں زندگی اور موت ایک ہی سکے کے دو پہلے ہیں۔ زندگی وہ ہے جس پر روشنی پڑ رہی ہے، اور موت وہ ہے جو اندھیرے میں گم ہے، جس کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔
معید رشیدی کے اس شعری آئینے میں ان کے شاعرانہ وفور کے انعکاس کے ساتھ ساتھ ان کے وفورِ محبت کا عکس بھی جھلملا اٹھا ہے ۔نناوے صفحے کی اس کتاب میں لفظ ِ محبت کا استعمال31 مرتبہ ہوا ہے اور عشق کا لفظ 28 بار آیا ہے۔ کسی تحریر میں کوئی لفظ بار بار یوں ہی نہیں آتا۔اس لفظ کا معنوی دباؤ اتنا شدید ہوتا ہے کہ وہ لفظ نوک ِ خامہ سے بار بار ٹپک پڑتا ہے۔
بشیر بدر کی شاعری کی دنیا محبت سے شروع ہوتی ہے، مگر محبت پر ختم نہیں ہوتی۔ اس میں گھر ہے، شہر ہے، فاصلہ ہے، تنہائی ہے، تشدد ہے، سماجی تضاد ہے اور انسان کی ٹوٹتی ہوئی عزت نفس ہے۔
ناول کی کامیابی یہ ہے کہ یہ پنڈتوں کو یکطرفہ طور پر ولن یا وہیرو بنا کر پیش نہیں کرتا۔ یہ انہیں زخمی انسانوں کے روپ میں پیش کرتا ہے۔ یہ قاری کو 1990 میں ایک پنڈت خاندان کے خوف کو محسوس کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن بعد میں یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اس خاندان کی یادداشت ادھوری ہے۔عمیر احمد خان نے دراصل نہ صرف جلاوطنی کا بلکہ واپسی کا ناول لکھا ہے۔
رگھو رائے صرف ایک نام نہیں تھے۔ وہ ایک بصیرت تھے۔ ایک احساس تھے۔ ایک دبستان تھے۔ ایک ایسی آنکھ تھے جس نے ہندوستان کو صرف دیکھا نہیں، بلکہ اسے خود سے ملوایا ۔ اس رات ان کا جسم چلاگیا، لیکن ان کی نظرابھی بھی اس ملک کی صبحوں میں گھوم رہی ہے۔ کیمروں کے سرد سیاہ بدن میں، پرانی کانٹیکٹ شیٹس میں، نمائش کی دیواروں پر، اور ہم جیسے شاگردوں کی لرزتی انگلیوں میں۔
ہندوستانی موسیقی کی لیجنڈری گلوکارہ آشا بھوسلے کا اتوار کو ممبئی کے ایک اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ وہ 92 برس کی تھیں۔ کم عمری میں گانے کا آغاز کرنے والی آشا جی اپنی تجرباتی صلاحیت اور شوخ آواز کی بدولت کئی دہائیوں تک سننے والوں کے درمیان مقبول رہیں۔ وہ بھلے ہی جسمانی طور پر ہماری دنیا میں نہیں رہیں، لیکن ان کے گیت ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
اشعر نجمی کی کتاب چھوٹے چھوٹے سبق کی طرح جمہوریت کے مکمل نصاب کا احاطہ کرتی ہے اور انتخابی آمریت کے قوی ہیکل دیو کے حشر کی کہانی بھی کہتی ہے۔
اسرائیلی اور ہندوستانی فلمساز، صحافی، ماہرین تعلیم اور کارکنوں نے ایک خط میں ہندوستان کے سینٹرل فلم سرٹیفیکیشن بورڈ کی جانب سے فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ پر پابندی کو جائز ٹھہرانے کے لیے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات کا حوالہ دینے کی سخت مذمت کی ہے۔ خط میں ہندوستان اور اسرائیل میں تکثیریت، جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی کو بنائے رکھنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
ردعمل:نعمان شوق کی آشو بیدہ غزلیں خاموشی کے خلاف احتجاج ہیں۔ ان غزلوں میں ایک ہمہ گیر اضطراب، کرب اور تہذیبی شکست و ریخت کا احساس گامزن ہے۔ یہ شاعری محض جذباتی رد عمل نہیں بلکہ اپنے عہد کی سیاسی ، سماجی اور اخلاقی صورتحال کا گہرا اور کربناک مشاہدہ ہے۔
اِکیس ایک سو بائیس کو لکھنے کے دوران میں نے ہر اس شے کو محسوس کیا جو انسان سے متعلق تھی اور میں نے ان تمام قدیم متون اور اشیا کو ایسے یاد کیا جیسے کوئی اپنے پُرکھوں کو یاد کرتا ہے، جب پُرکھے بے چین ہو کر اسے یاد کرتے ہیں اور تب واضح طور پر مجھے اجتماعی لاشعور اور آرکی ٹائپس یا نسلی کھائیوں کی پُراسرار موجودگی کا شدت سے احساس ہوا۔
سی بی ایف سی کی جانب سے فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘پر مبینہ زبانی روک لگائے جانے کے معاملے پر اپوزیشن کے ارکان پارلیامنٹ نے اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو کو خط لکھ کر اس پابندی پر سوال اٹھائے ہیں۔ یہ فلم ایک حقیقی واقعہ پر مبنی ہے، جس میں غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملے کے دوران ایک کار میں پھنسی پانچ سالہ فلسطینی بچی کی موت ہو گئی تھی۔
جنگ، قتل عام، سیاسی جبر، ماب لنچنگ وغیرہ شاعری کے موضوعات کی فہرست سے خارج ہو گئے ہیں، لیکن میرے لیے ان موضوعات کو دانستہ نظر انداز کرنا گناہِ کبیرہ سے کم نہیں۔
انقلابی شاعر پاش کو 23 مارچ 1988 کو خالصتانی دہشت گردوں نے محض 37 سال کی عمر میں قتل کر دیا۔ عجب اتفاق ہے کہ ان کی شہادت ان کے نظریاتی ہیرو شہید بھگت سنگھ کی برسی کے دن ہوئی۔
ساہتیہ اکادمی نے ہندی میں ممتا کالیا، انگریزی میں نوتیج سرنا، اردو میں پرتپال سنگھ بیتاب اور پنجابی میں جیندرسمیت مجموعی طور پر 24 ہندوستانی زبانوں کے مصنفین کو ساہتیہ اکادمی ایوارڈ دینے کا اعلان کیا۔ اس باوقار انعام کے لیے اس بار آٹھ شعری مجموعوں، چار ناولوں، دو افسانوی مجموعوں، ایک ادبی تنقید، ایک خودنوشت اور دو یادداشتوں کے مجموعے کا انتخاب کیا گیا ہے۔
راجیہ سبھا ایم پی منوج کمار جھا نے راہی معصوم رضا کی برسی کے موقع پر انہیں یاد کرتے ہوئے یہ جذبات سے لبریز خط لکھا ہے۔ اس میں رضا کی ادبی وراثت، ان کی انسانی بصیرت اور آج کے زمانے میں ان کے الفاظ کی معنویت پر اپنائیت سے غور کیا گیا ہے۔
وہ اونچائی، جہاں سے اسے دھکیلا گیا تھا، اتنی زیادہ تھی کہ گرتے وقت اسے چیخنے کا موقع بھی نہیں ملا۔ جب پولیس والے اسے بازو سے پکڑ کر باہر لے جانے لگے، تو اس نے مڑ کر جج کے پیچھے لگی ہوئی اس ترازو کی تصویر کو دیکھا۔ اسے لگا کہ ترازو کے دونوں پلڑے برابر نہیں ہیں، بلکہ ایک پلڑے میں ریاست کا پورا بوجھ ہے اور دوسرے میں ایک نوجوان لاش، جو ابھی سانس لے رہی ہے۔
آج اگر فیض کی قرٲت ہورہی ہے توکچھ توہے جوکلامِ فیض کو تعصبات سے پرے قبولیت عطاکررہی ہے۔
”جاﺅ….چلے جاﺅ….ہمارا ہندو مذہب بہت برا ہے….تم مسلمان بہت اچھے ہو۔”شاردا کے لہجے میں نفرت تھی۔ وہ دوسرے کمرے میں چلی گئی اور دروازہ بند کردیا۔ مختار اپنا اسلام سینے میں دبائے وہاں سے چلا گیا۔
بھوپال میں ایک ادبی تقریب میں بابر پر آئی نئی کتاب پر ہونے والے مذاکرہ کو پولیس نے دائیں بازو کے گروپوں کی ممکنہ احتجاج کی دھمکی کے بعد رد کر دیا۔ کتاب کے مصنف کا کہنا ہے کہ انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ صوبے کے وزیر ثقافت نے کتاب کا ایک ورق بھی پڑھے بغیر سرعام اس کی مذمت کر دی۔
انوشہ رضوی کی فلم ‘دی گریٹ شمس الدین فیملی’ کے کرداروں کے نام بھلے مسلم ہیں، مگر ان کی اداکاری میں ہندو راشٹر کے کرداروں کی پرچھائی تیر رہی ہے۔ نعروں کی آواز سنائی دے رہی ہے۔ فلم کے پردے پر ان میں سے کوئی براہ راست نظر نہیں آتا، پھر بھی ان کی موجودگی کا احساس گامزن ہے۔ یہی اس فلم کا کمال ہے۔
لاسلو کراسناہورکائی کے تخلیقی عمل کا ایک حوالہ اگر ان کے ناول ہیں تو دوسرا سینما ہے۔ دراصل لاسلو اور بیلاٹار کی فلمیں تخلیقی طور پر کسی فلمساز اور ناول نگار کی ہم آہنگی اور باہمی تعاون کی بہترین مثال ہیں۔
ان دنوں غیر اعلانیہ ایمر جنسی نے ہمارے معاشرے میں فرقہ واریت، منافرت اور عدم رواداری کا زہر اس طرح گھول دیا ہے کہ ملک کی صدیوں پرانی گنگا جمنی تہذیب اور قدریں پامال ہو رہی ہیں۔ ملک کے ادیب و شاعر اور دانشوران بھی سراسیمگی کے عالم میں جی رہے ہیں۔ میں اور میرے عہد کی تخلیقی سرگزشت کی اس قسط میں پڑھیے معروف فکشن نویس اور ممتاز صحافی سید احمد قادری کو۔
چند بڑی طاقتیں احساس دلانا چاہتی ہیں کہ عام انسانوں کی محنت اور کوشش انہی کی طرح حقیر ہیں۔ انہیں اندیشہ لگا رہتا ہے کہ اگر پیاسے انسان کو آبیاژوں سے بہلایا نہ گیا تو پیاس کی شدت صبرو تحمل کا بند توڑ سکتی ہے اور اگر بند ٹوٹا تو ان کے پاؤں کے نیچے سے پانی کھسک سکتا ہے۔ میں اور میرے عہد کی تخلیقی سرگزشت کی اس قسط میں پڑھیے شاعر،ناقد اورمعروف فکشن نویس غضنفر کو۔
مذہب، رنگ ونسل اور خون کے سوداگر زندگی کو کس سمت لے جا رہے ہیں؟ اس نئے نظام میں اُن تہذیبی قدروں کے لیے جگہ نہیں ہے، جن کے سائے میں امن وعافیت کے خواب پلتے تھے، جن کی روشنی میں آرزو اور جستجو کے معرکے سَر ہوتے تھے۔ میں اور میرے عہد کی تخلیقی سرگزشت کی اس قسط میں پڑھیے ممتاز شاعرہ ملکہ نسیم کو۔
سیاست کی پیدا کی گئی خلیج ایک بھیانک مستقبل کا اشارہ ہے۔ اس صورتحال کا سبب ہندوتوا کی سیاست ہے۔ افسوس ہے کہ مجھے آج کے ہندوستان میں جرمنی کا ماضی نظر آتا ہے۔ میں اور میرے عہد کی تخلیقی سرگزشت کی اس قسط میں پڑھیےمعروف فکشن نویس رحمٰن عباس کو۔
میں اپنے عہد کے مسائل سے آنکھیں ملاکر بات کرتا ہوں۔ ان مسائل میں محبت بھی ہے اور نفرت بھی۔ مجھے یقین ہے کہ نفرت کا انجام محبت ہوگا۔ ہاں، موجودہ سیاست میں سچ بولنے والوں کے لیے جگہ نہیں ہے۔ مذہب کے نام پر مثبت سروکاروں کو رسوا کیا جارہا ہے۔ بھیڑ کسی کو بھی اپنا نوالہ بنالیتی ہے۔ اقلیت ہونا جیسے گالی ہو۔ میں اور میرے عہد کی تخلیقی سرگزشت کی اس قسط میں پڑھیے نئی نسل کے شاعر اور تخلیق کار معید رشیدی کو۔
اشعر نجمی کا ناول ‘کانگریس ہاؤس’ ایک بڑے سیاسی کھیل کو موضوع بناتے ہوئے جمہوریت کی ہوشیاری، ہوسناکی اور اس کی آمریت کے سارے بھید کھول دیتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ ناول ہماری مٹی کا ہمزاد ہے، ہمارا ہمزاد ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ہمارے دکھوں کا اور ہمارے نفسی وجود کا ہمزاد ہے۔
ادب میرے لیے محض لفظوں کا ہنر نہیں، ایک اخلاقی ذمہ داری ہے — وقت سے آنکھیں ملانے اور خاموشی کو آواز دینے کی۔ ایسے قلم کا کیا کرنا جو دیکھے سب کچھ ، مگر لکھے کچھ نہیں۔ میرے نزدیک، ایسا قلم مردہ ہے — اور میں اسے اٹھانے کا روادار نہیں۔میں اور میرے عہد کی تخلیقی سرگزشت کی پہلی قسط میں پڑھیے معروف فکشن نویس شبیر احمد کو۔
ہماری بد نصیبی کہ ہم عظیم روحوں سے نصیحت لینے کے بجائے ان کو ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی میں بانٹ لیتے ہیں۔
ٹام صاحب نے آسامی، بنگلہ، مراٹھی، ملیالم، ہندی، انگریزی، کنڑ اور اردو جیسی زبانوں میں سینکڑوں فلموں، ڈراموں اور ٹی وی سیریل میں کام کیا۔ لیکن اردو کے لیے ان کے دل میں ایک خاص جگہ تھی۔ وہ اردو بولنے، پڑھنے اور لکھنے میں بہت حساس تھے اور اردو کو اردو رسم الخط میں ہی پڑھنے اور لکھنے کے قائل تھے۔
بکر انعام کی بدولت سہی، بانو مشتاق پڑھی جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی کم یا زیادہ تنقید کا نشانہ بھی بن رہی ہیں۔میرے خیال میں اردو (مسلم؟) سوشل میڈیا پر جو لعن طعن ہو رہی ہے اس میں نہ صرف پدر شاہی طرزِ فکر کا عکس جھلکتا ہے بلکہ مذہبی عصیبت کا وہ پہلو بھی نمایاں ہے جو عورتوں کو ان مسائل پر بات کرنے سے روکنا چاہتا ہے جن کا تعلق مذہب کے ادارے سے ہے۔
کنڑادیبہ بانو مشتاق کی کہانیوں کے مجموعہ ‘ہارٹ لیمپ’ کو بین الاقوامی بکر پرائز سے نوازا گیاہے۔ 12 کہانیوں کے اس مجموعہ کا کنڑ سے انگریزی میں ترجمہ دیپا بھاستی نے کیا ہے۔
ہندوستان میں سینسر بورڈ نے عالمی شہرت یافتہ فلمساز سندھیا سوری کی فلم ‘سنتوش’ کی ریلیز کو روک دیا کیونکہ اسے لگا کہ یہ پولیس کی منفی امیج کی عکاسی کرتی ہے۔ فلم میں مرکزی کردار اداکارہ شہانا گوسوامی نے ادا کیا ہے، جن کے کام کو خوب پذیرائی ملی ہے۔ ان سے انکت راج کی بات چیت۔
فرانسیسی نقاد پیترک ابراہم کا تبصرہ: خالد جاوید کا ناول ’موت کی کتاب‘ اپنی گہری تاریکی اور معنوی تہہ داری کے باعث ایک عظیم تخلیقی شہ پارہ ہے۔ یہ ہمیں ہماری اپنی داخلی تاریکیوں سے روشناس کراتا ہے اور ہمیں اس بات کے لیے مجبور کرتا ہے کہ اس کا مطالعہ بار بار کیا جائے۔