وزیراعظم کی شبیہ بچانے کے لیے خود نریندر مودی، امت شاہ اور اب آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت الگ الگ کردار میں نظر آ رہے ہیں۔ بھاگوت کا اپنے آپ کو غیر جانبدار ظاہر کرنا بھی اسی پرانی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔
مکہ کا یہ مشترکہ دفاعی معاہدہ محض تین ممالک کے درمیان کاپیاں تبدیل کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ مشرقِ وسطیٰ، خلیج اور جنوبی ایشیا کی جیواسٹریٹجک سیاست میں ایک ایک نئی اور اہم فصل کا آغاز ہے۔تاہم، اس معاہدے کا حقیقی مستقبل اور تاریخ میں اس کا مقام اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا یہ تینوں ممالک اپنے سیاسی بیانات کو حتمی عملی صورت دے پاتے ہیں یا نہیں۔
حال ہی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 42 صفحات پر مشتمل ایک تحقیقاتی رپورٹ کی اشاعت کے بعد اس پر مہر لگ گئی کہ کس طرح بین الاقوامی انسانی ضابطوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ہندوستان نے اسرائیل کی جنگی دفاعی سپلائی چین میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔
سینسر بورڈ کے چیئرپرسن اور بی جے پی کے تمام دوسرے حمایتی اچانک ’صنفی بنیاد پر توہین آمیز گالیوں اور نازیبا الفاظ‘ کے موضوع پر حد درجہ حساس نظر آ رہے ہیں۔ اصل میں نوجوانوں کی ’فحش‘ زبان پر تنقید کے پس پردہ یہ نریندر مودی کی شبیہ کو بچانے کی کوشش ہے۔
اگر ہندوستان کو اپنے جمہوری ڈھانچے، آئینی اقدار اور انتظامی شفافیت کو بچانا ہے، تو اسے 2010 کے ترکیہ کی تاریخ سے سبق حاصل کرنا ہوگا۔ امتحانی نظام کی مکمل اور غیر جانبدارانہ شفافیت صرف ایک تعلیمی ضرورت نہیں، بلکہ یہ عوامی سلامتی اور جمہوریت کی بقا کا بنیادی شرط ہے۔
وزارت تعلیم کا موجودہ بحران صرف پیپر لیک، نیٹ تنازعہ یا این ٹی اے کی ساکھ پر اٹھنے والے سوالوں تک محدود نہیں ہے۔ موجودہ حکومت کے لیے اس کی اہمیت ان فوری مسائل سے کہیں زیادہ ہے۔
کیا لوگوں کو ہمیشہ بے وقوف بنایا جا سکتا ہے؟ کیا کروڑوں کی آبادی والے اس ملک کے لوگ ہمیشہ مردہ بنے رہیں گے؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔ کاکروچ ایک نئی شروعات کرتے ہوئے نکل پڑے ہیں۔
گزشتہ ایک ماہ سے جنتر منتر پر جاری نوجوانوں کے احتجاج کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو پہلی بار اس معاملے پر بیان دیا۔ تاہم، ان کے بیان میں نہ تو نوجوانوں کے احتجاج کا ذکر کیا گیا، نہ ہی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے یا طلبہ پر پولیس کے مبینہ تشدد کا۔ اس کے ساتھ ہی سخت کارروائی کا ان کا وعدہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔
انٹرویو:فلم ’ستلج‘ کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم سے ہٹائے جانے کے بعد پہلی بار بات کرتے ہوئے فلمساز ہنی تریہن نے کہا کہ ’ستلج‘ پر پابندی لگائی جا سکتی ہے، لیکن جسونت سنگھ کھالڑا کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تریہن کہتے ہیں کہ ’ستلج‘ پنجاب کے زخموں پر مرہم کی طرح ہے، لیکن اسے بین کیا گیا کیونکہ یہ پھوٹ ڈالو اورراج کرو کی سیاست کو بڑھاوا نہیں دیتی۔
انقرہ کے بیش تپہ صدارتی محل میں منعقدہ یہ ناٹو سربراہی اجلاس صرف ایک فوجی اتحاد کی معمول کی سالانہ بیٹھک یا رسمی مصافحوں کا مروجہ میلہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس تیزی سے بدلتی ہوئی کثیر القطبی دنیا کا ایک واضح اور مجسم عکاس تھا جہاں اب طاقت، اثر و رسوخ اور ٹیکنالوجی کے روایتی مراکز مغرب سے مشرق اور شمال سے جنوب کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں۔
مصاحبہ: فلمساز، مصنف اور پوڈکاسٹر آشیش ساہنی اردو کی نامور ادیبہ عصمت چغتائی کے نواسے ہیں۔ کچھ سال پہلے آشیش نے ٹرانس جینڈر اور سس جینڈر خواتین فلمسازوں کی حوصلہ افزائی اور معاونت کے لیے عصمت چغتائی ایوارڈ شروع کیا تھا۔ پیش ہے ان کی نئی فلم، عصمت آپا پر ان کی کتاب اور ہندوستان کی ہمعصر کوئیر سیاست پر ان سے بات چیت۔
خالد جاوید کا ادب اردو ادب میں بالکل نئے بیانیے، نئے زاویے اور نئی طرزِ تحریر کا موجد ہے۔ وہ اپنے ادبی سفر کے آغاز سے ہی ایک شہر آشوب لکھ رہے ہیں، اردو ادب میں ڈسٹوپیا کی حکایت نا تمام لکھ رہے ہیں۔
ایران آخر اس مقام تک کیوں پہنچا؟اس کا جواب صرف موجودہ جنگ میں نہیں بلکہ گزشتہ دو دہائیوں کی عالمی سیاست میں پوشیدہ ہے۔امریکہ نے ایران پر معاشی پابندیاں عائد کیں، اس کی تیل کی برآمدات محدود کیں، بینکاری نظام تک رسائی ختم کی اور اسے عالمی مالیاتی نظام سے بڑی حد تک الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی۔ امریکہ برسوں سے پابندیوں، ڈالر، بینکاری نظام اور ٹکنالوجی پر اپنی گرفت کو خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا آیا ہے۔ ایران نے شاید اسی منطق کو الٹ دیا ہے۔
ای-20 ایندھن پر مودی حکومت کی پریس کانفرنس کے باوجود کئی اہم سوالوں کے جواب اب بھی ندارد ہیں۔ پرانی گاڑیوں کے تحفظ، کم مائلیج کے باوجود یکساں قیمت،ایگریکلچر سبسڈی اور گراؤنڈ واٹر کی لاگت، ذخیرہ اندوزی سے متعلق خطرات، نیتی آیوگ کی ہٹائی گئی رپورٹ اور صارفین کو معاوضے جیسے امور پر حکومت نے واضح جواب نہیں دیا ہے۔
ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوے کی مبینہ چوری کا معاملہ اب صرف ایک مجرمانہ جانچ تک محدود نہیں رہ گیا ہے۔ یہ بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی سیاسی ساکھ، رام مندر سے متعلق ان کا کردار، ٹرسٹ کی جوابدہی اور ہندوتوا کی سیاست پر بھی بڑے سوال کھڑے کر رہا ہے۔
خالد جاوید کے ہاں مسئلہ یہ نہیں کہ وہ موت پر لکھ رہے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہر بار ایک ہی طرح کی موت اور ایک ہی طرح کے ’تعفن‘ پر لکھ رہے ہیں۔
ہندوستان کی جیلوں میں جان گنوانے والے قیدیوں کی موت کو اکثر ’فطری موت‘ کے زمرے میں درج کیا جاتا ہے، جبکہ ممکن ہے کہ بروقت اور مناسب علاج نہ ملنے کی وجہ سے یہ موتیں ہوئی ہوں، جو فطری نہیں ہیں۔ جب تک حراست میں ہونے والی موتوں کی روٹین طریقے سےجانچ نہیں ہوگی اور انہیں سخت اور آزاد عدالتی جائزہ کے عمل سے نہیں گزرنا پڑے گا، تب تک لمبی بیماری میں مناسب علاج کے منتظر قیدی اپنی جان گنواتے رہیں گے۔
خالد جاوید موت کے راگ کے موسیقار ہیں، جو ہر بار موت کا نیا راگ لے کر آتے ہیں۔ان کے ناولوں میں زندگی اور موت ایک ہی سکے کے دو پہلے ہیں۔ زندگی وہ ہے جس پر روشنی پڑ رہی ہے، اور موت وہ ہے جو اندھیرے میں گم ہے، جس کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔
کم و بیش ایک دہائی پہلے تک سرکاری خدمات سب کے لیے یکساں طور پر دستیاب تھیں اور کسی کی شہریت پر سوال نہیں اٹھتا تھا۔ لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ ہندوستانی شہریوں کو من مانےڈھنگ سے حق رائے دہی، سرکاری فلاحی اسکیموں کے فائدےحتیٰ کہ ڈومیسائل سے متعلق حقوق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔
جسٹس مرلی دھر نے اسرائیل کے خلاف ایک ایسی واٹر ٹائٹ چارج شیٹ دنیا کی عدالت میں پیش کر دی ہے، جس پر تاریخ کے منصف جب بھی قلم اٹھائیں گے، صہیونی ریاست کو مجرموں کے کٹہرے میں ہی کھڑا پائیں گے۔
اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں کئی ایسے دہشت گردانہ حملے ہوئے جن میں مسلمانوں کے مذہبی یا ثقافتی اجتماعات یا عام شہریوں کو نشانہ بنا کر دھماکے کیے گئے۔ پولیس نے شروع میں مسلمانوں پر الزام لگائےاور انہیں جیل رسید کیا، لیکن وقت کے ساتھ -کبھی کبھی تو دہائیوں بعد – انہیں بری اور رہا کیا گیا۔ اس کے بعد نئی جانچ شروع ہوئی، جس میں ’ہندوتوا‘ تنظیموں کے ممبران کے خلاف الزامات دائر کیے گئے۔
تل ابیب کے سامنے صرف ایک ہی راستہ بچتا ہے؛ کیا وہ اس تزویراتی شکست سے سبق سیکھ کر دوبارہ پرانے امن فریم ورکس کی طرف لوٹے گا اور فلسطینیوں کو ان کا جائز سیاسی و معاشی حق دے کر خطے میں حقیقی بقائے باہمی کا راستہ چنے گا؟ یا پھر وہ اپنی اس تنہائی کے غصے میں پورے خطے کو کسی نئے اور زیادہ ہولناک لاوے کی طرف دھکیل دے گا؟
اگر ہم نے پہاڑوں کے ماحولیاتی نظام کو میدانی علاقوں کے مفادات سے ہم آہنگ نہ کیا، تو پگھلتے ہوئے گلیشیربہت جلد ہندوستان اور پاکستان کے سیاسی غرور، ان کی معیشتوں اور ان کی نام نہاد سرحدوں کو اپنے سیلابوں میں بہا کر لے جائیں گے۔
جوئی سیکو کی کتاب ’دی ونس اینڈ فیوچر رائٹ‘ پہلے فرانسیسی میں شائع ہو چکی ہے، اور ہندوستان میں امید کی جا رہی تھی کہ اس کا ہندوستانی ایڈیشن – انگریزی میں، جلد ہی قارئین کے ہاتھوں میں ہوگا۔ تاہم، اب ایک طرح سے یہ طے ہوگیا ہے کہ اس کے ہندوستانی ایڈیشن سے قارئین محروم رہ جائیں گے۔
رام مندر چڑھاواتنازعہ کے حوالے سے ایودھیا میں عام طور پر لوگ ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں- یہ کہ جو کچھ کہا، سنا یا کیا جا رہا ہے، اس میں نیا کیا ہے؟ اس کی شروعات تو 22-23 دسمبر 1949 کو بابری مسجد میں مورتی رکھے جانے کے فوراً بعد ہی اس وقت ہو گئی تھی، جب وہاں چڑھاوے کی صورت میں بے تحاشہ دولت آنا شروع ہو گئی تھی۔
’جموں و کشمیر: آگے کا راستہ‘کے موضوع پر منعقد ایک ویبینار میں شرکاء کے درمیان ترجیحات اور حکمتِ عملی پر اختلافات تھے، لیکن اکثریت اس بات پر متفق تھی کہ تصادم کے بجائے صرف اور صرف مکالمہ ہی کشمیر اور مجموعی طور پر جنوبی ایشیا کے محفوظ مستقبل کا واحد حقیقت پسندانہ راستہ ہے۔
پاکستانی زیر انتظام کشمیر اگر واقعی اپنے آپ کو کشمیریوں کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے اپنے دروازے تنگ کرنے کے بجائے کشادہ کرنے ہوں گے۔لاکھوں مہاجر کشمیریوں کو سیاسی نظام سے باہر دھکیلنا نہ تو مسئلے کا حل ہے اور نہ ہی اس سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے عوام کے حقیقی مسائل حل ہوں گے۔
مالویہ نگر میں لگی آگ کے بعد قوانین کی خلاف ورزی پر ہوٹل مالک نے کہا کہ ’دہلی میں سب چلتا ہے!‘ غور کریں کہ ایسا صرف دہلی میں نہیں بلکہ دوسری جگہوں پر بھی چل رہا ہے، اس لیے لاپروائیوں کا یہ سلسلہ لامتناہی ہے۔ ’چلتا ہے‘ کے باعث صورتحال یہ ہے کہ کسی کو پتہ نہیں ہوتا کہ اچانک کوئی رہائشی علاقہ تجارتی علاقے میں کیسے تبدیل ہو گیا؟ کیسے کسی نامی اسپتال کے کھلنے کے بعد ہر گھر میں ہوٹل، ریستوراں یا پیتھو لیب کھل گئے؟
فیکٹ چیک: مرکزی وزیر کرن رجیجو نے مودی حکومت کے 12 سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقد ایک پروگرام میں ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں پر ہونے والے جبر کو اپوزیشن کی جانب سے پھیلایا گیا ’پروپیگنڈہ‘ قرار دے کر مسترد کر دیا۔ تاہم، بی جے پی کے گزشتہ ایک دہائی کے دور حکومت میں ہندوستان کی اقلیتوں، خصوصی طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندوتوا انتہاپسندوں کے حملوں کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑا ہے۔
مولانا محمد برکت اللہ بھوپالی ہندوستان کی تحریک آزادی کے ان سرکردہ اور صف اول کے انقلابی رہنماؤں میں تھے، جنہوں نے بیرون ملک برطانوی حکومت کے خلاف مہم چلائی۔ اب ان کے نام سے منسوب برکت اللہ یونیورسٹی کا نام بدل کر’ماں واگ دیوی بھوجپال یونیورسٹی‘ کیے جانے کا عمل شروع ہو چکا ہے، جس پر مقامی لوگوں میں ناراضگی دیکھی جا رہی ہے۔
منریگا صرف کاغذ پر لکھا ہواقانون نہیں تھا، بلکہ ہر گاؤں میں جمہوریت کا زندہ نمونہ بن گیا تھا۔ نئی اسکیم (وی بی-گرام جی یوجنا) میں کام صرف اس گاؤں اور دیہات میں دستیاب ہوگا، جن کا انتخاب مرکزی حکومت کرےگی۔ اس طرح بااختیار اور حقوق یافتہ شہری کو محتاج بنا دیا گیا ہے۔ لاکھوں مزدوروں کے لیے جو پہلے ایک قانونی حق تھا، وہ اب نوکرشاہی کے رحم و کرم پر منحصر ہو گیا ہے۔
ملک کے نوجوانوں میں نہ صرف وزیراعظم کے خلاف غصہ ہے بلکہ وہ عدلیہ کے ذریعہ حکومت کی کھلی طرفداری سے بھی مایوس ہیں۔ اور اب بات صرف کاکروچ پارٹی کا ساتھ دینے یا نہ دینے کی نہیں ہے۔ بات ملک کے مستقبل کی ہے جس سے مسلمانوں کا مفاد بھی اتنا ہی جڑا ہوا ہے جتنا دیگر برادران وطن کا۔ فیصلہ مشکل ہے لیکن زندہ قومیں مشکل وقت میں مشکل فیصلے لینے سے بھی نہیں گھبراتیں۔
غازی انتیپ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی سب سے مؤثر غذائی سفارت کاری کبھی بھی عدم تحفظ کے احساس سے شروع نہیں ہوتی، بلکہ یہ بانٹنے اور یکجا ہونے کی خوشی سے جنم لیتی ہے ۔ ترکیہ دنیا کو یہ بتا رہا ہے کہ اس کے روایتی کھانے مختلف ثقافتوں کے درمیان ایک پل ہیں، عثمانیہ سلطنت اور ہجرتوں کی ایک یادگار ہیں، اور اخبارات کی سرخیوں سے پرے اس ملک کی اصل روح کو سمجھنے کی ایک کھلی دعوت ہیں۔
حکومت نے عوام کو سمجھانے کا کمال کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ اب اگر پیٹرول مہنگا ہو تو سمجھ لیجیے کہ خارجہ پالیسی مضبوط ہو رہی ہے۔ ڈیزل اور مہنگا ہو جائے تو مان لیجیے کہ ہندوستان وشوگرو بننے کی سمت میں فیصلہ کن قدم اٹھا چکا ہے۔
سال 2014 کے بعد سے ہندوستان نے 89 امتحانات میں پیپر لیک کا مشاہدہ کیا ہے۔ نواسی بار کسی نے بند لفافہ توڑا، نواسی بار کسی طالبعلم کی برسوں کی محنت ایک ہی رات میں خاک ہو گئی۔ نواسی بار اسٹیٹ نے آنکھیں بند کر لیں – یا اس سے بھی بدتر، جان بوجھ کر دوسری طرف دیکھا، یا اسے ہونے دیا۔
میڈیا کا کام حکومت کی طے شدہ باتوں کو من وعن دہرانا نہیں، بلکہ سوال پوچھنا ہے۔ حکومت کی باتوں کا پروپیگنڈہ کرنا اس کے ترجمانوں کا کام ہے۔ اس معاملے میں ہیلی لیونگ حق بجانب ہیں کہ، ’صحافت بعض اوقات تصادم پر مبنی ہوتی ہے۔‘ اگر شہریوں کو بھیڑوں میں تبدیل نہیں ہونے دینا ہے یا ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کرنا ہے، تو سوال ضروری ہیں۔
یہ نمائش محض ہتھیاروں کے بارے میں نہیں تھی، بلکہ یہ ترکیہ کے اندر ابھرنے والے ایک نئے جیو پولیٹیکل تخیل کی عکاس تھی۔ ایک ایسا ملک جو نیٹو کے حاشیے پر کھڑے ایک دفاعی درآمد کنندہ سے ارتقا پا کر ایک ایسی تکنیکی عسکری قوت بن رہا ہے جو اب یورپ سے جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ سے افریقہ تک کے سکیورٹی توازن پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اب سفارت کاری کا دائرہ صرف ممالک تک محدود نہیں رہا تھا ، اس میں ’ساکھ کے تحفظ‘ کا ایک نیا پہلو بھی شامل ہو چکا تھا۔ خارجہ پالیسی کو غیر رسمی طور پر دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ پہلا، دنیا کے ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے رکھنا۔ دوسرا، دنیا کو یہ یقین دلاتے رہنا کہ کوئی پریشان کن سوال دراصل پریشان کن تھا ہی نہیں۔
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے نماز کے مسئلے کو انتظامی زبان میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ’سڑکیں لوگوں کے لیے ہیں‘ اور ’قانون کی حکمرانی‘ جیسے لفظ استعمال کیے۔ لیکن بار بار صرف نماز ہی کا ذکر کیا گیا۔ کسی اور عوامی تجاوزات یا مذہبی اجتماعات – مثلاً کانوڑ یاترا – کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، حالانکہ ان کا وسیع دائرہ اور فرقہ وارانہ رجحان بارہا خبروں کی سرخیوں میں رہا ہے۔
خلیل زاہد کی کتاب سجدوں سے محروم مسجدیں ہماری عبادت گاہوں سے متعلق تاریخ، سیاست اور تنازعات کو سمجھنے کے لیے ایک اہم دستاویزی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔