ندیاں لبالب، مگر کھیت پیاسے: ایک ساتھ سیلاب اور خشک سالی سے دو چار ہے بہار

بہار کے متعدد اضلاع اس وقت سیلاب کی زد میں ہیں، جن میں بھاگلپور بھی شامل ہے۔ لیکن اسی ضلع کا ایک حصہ خشک سالی کا سامنا کر رہا ہے۔ ریاست میں کئی جگہوں پر یہی صورتحال ہے، جہاں 15 اضلاع شدید سیلاب کی زد میں ہیں، وہیں 16 اضلاع میں اوسط سےتیس فیصد کم بارش ہوئی ہے۔

بھاگلپور ضلع میں اس سال سیلاب کا قہر سب سے زیادہ رہا ہے۔ تاہم، جہاں سیلاب کا پانی نہیں پہنچا، وہاں کسان خشک سالی کی سنگین صورتحال سے دوچار ہیں۔ (تصویر: اتھرو شنکر)

پٹنہ: بھاگلپور ضلع سے متصل سبور بلاک کی اکثر گرام پنچایت ان دنوں سیلاب کی زد میں ہیں۔ اس کے گھوسپور اور انگلش فرکا جیسے گاؤں میں کسانوں کی مکئی کی فصل سیلاب کےپانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔

مگر انگلش فرکا سے بہ مشکل پانچ کلومیٹر دور گوراڈیہہ بلاک کے گاؤں اور دیہات میں کسان پانی کے لیے ترس رہے ہیں۔ وہاں خشک سالی کی صورتحال ہے۔ کئی کسانوں کے دھان کے کھیتوں میں دراڑیں پڑنے لگی ہیں۔ گھوسپور کے کسان سنجے یادو کہتے ہیں، ’کاش ہمارے یہاں ایسا کوئی انتظام ہوتا کہ ہم اپنا پانی ان کے پاس بھیج سکتے۔ پھر ہم لوگوں کو بھی سیلاب سے نجات ملتی اور وہاں بھی سینچائی ہو پاتی۔‘

بھاگلپور ضلع میں اس سال سیلاب کا قہر سب سے زیادہ رہا ہے۔ وہاں 23 اگست سے ہی سیلاب کا بحران شروع ہو گیا تھا، جب راگھوپور میں پشتے ٹوٹ گئے اور سیلاب آ گیا۔ بعد کے دنوں میں جب گنگا ندی  میں سیلاب آیا تو بھاگلپور شہر سمیت ضلع کے زیادہ تر بلاک سیلاب میں ڈوب گئے۔ صرف گوراڈیہہ اور کترنی چاول کے لیے مشہور جگدیش پور جیسے بلاک بچے، جہاں سیلاب کا پانی نہیں پہنچا تھا۔ جہاں سیلاب کا پانی نہیں پہنچا، وہاں کسان خشک سالی کی سنگین صورتحال سے دوچار ہیں، کیونکہ اس سال بھاگلپور ضلع میں اب تک اوسط سے 48 فیصد کم بارش ہوئی ہے۔

کئی اضلاع متاثر

دراصل ایسی صورتحال صرف بھاگلپور کی نہیں ہے، پورا بہار اسی صورتحال سے دوچار ہے۔ ریاست کے 15 اضلاع جہاں شدید سیلاب کی زد میں ہیں، وہیں 16 اضلاع ایسے ہیں جہاں 14 ستمبر تک اوسط سے 30 فیصد کم بارش ہوئی ہے۔

بہار اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ سے ملی جانکاری کے مطابق 14 ستمبر 2026 کی شام 5:30 بجے تک ریاست کے 15 اضلاع میں تقریباً 50 لاکھ (49.67 لاکھ) سیلاب سے متاثر تھے۔ ان میں ریاست کے 88 بلاک کی 575 گرام پنچایت سیلاب سے متاثر تھی۔

بیگوسرائے کے بچھواڑہ بلاک کا سیلاب سے متاثرہ علاقہ۔ (تصویر بہ شکریہ: منوج جھا)

بہار میں گرام پنچایتوں کی مجموعی تعداد 8,053 ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ریاست کی سات فیصد سے کچھ زیادہ گرام پنچایتیں سیلاب سے متاثر ہیں۔ ان علاقوں میں ریاستی حکومت ریلیف کیمپوں اور کمیونٹی کچن کے ذریعے امداد پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم ریلیف کیمپوں کی تعداد بہت کم ہے، صرف 13 ریلیف کیمپ چل رہے ہیں۔ مگر ان کے ساتھ 1,248 کمیونٹی کچن چل رہے ہیں۔ یعنی تقریباً ہر متاثرہ گرام پنچایت میں دو سے زیادہ کمیونٹی کچن ۔

اس سال کے سیلاب سے 100 سے زیادہ سڑکیں متاثر ہوئی ہیں اور 15 سے زیادہ جگہوں پر پشتے ٹوٹے ہیں۔ 600 سے زیادہ دیہی سڑکوں کے پانی میں ڈوبے رہنے کا اندازہ ہے۔ مگر سب سے زیادہ نقصان زراعت کو پہنچا ہے۔ محکمہ زراعت کی جانب سے 8 ستمبر تک کیے گئے ابتدائی تخمینے کے مطابق سیلاب سے ریاست میں تقریباً ایک لاکھ ہیکٹر رقبے پر لگی دھان، مکئی، کیلے اور سبزیوں کی فصل کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ یقیناً ایک بڑا نقصان ہے۔

ریاستی حکومت نقصان کا تخمینہ لگا کر سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں کسانوں کو ان پٹ سبسڈی دے گی۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ جن علاقوں میں سیلاب نہیں آیا، وہاں کے کسان جس قدرتی آفت کا سامنا کر رہے ہیں، اس پر کسی کی توجہ نہیں ہے۔

کم بارش، زیادہ نقصان

ریاست کے محکمہ آبی وسائل سے موصولہ اعداد و شمار کے مطابق، بہار میں 14 ستمبر 2026 تک اوسط سے 35 فیصد کم بارش ہوئی ہے۔ ان میں 30 اضلاع ایسے ہیں جہاں اوسط سے 30 فیصد کم بارش ہوئی ہے، جبکہ 16 اضلاع کی صورتحال بہت خراب ہے۔ وہاں تو اوسط سے 40 فیصد کم بارش ہوئی ہے۔

ان میں سیتامڑھی اور شیوہر جیسے اضلاع بھی شامل ہیں، جو ہر سال آنے والے شدید سیلاب کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ اس سال وہاں بالترتیب اوسط سے 58 اور 62 فیصد کم بارش ہوئی ہے۔ ان میں جہان آباد جیسے اضلاع بھی شامل ہیں، جہاں 14 ستمبر تک بہ مشکل 311 ملی میٹر بارش ہوئی ہے، جبکہ بارش کا موسم ختم ہونے والا ہے۔ وہاں اوسط سے 58 فیصد کم بارش ہوئی ہے۔

پٹنہ کے راگھو پوردیارا میں سیلاب سے متاثر ایک خاندان۔ (تصویر بہ شکریہ: فیس بک/راجیش رنجن)

ڈیزاسٹر مینجمنٹ سےملی جانکاری کے مطابق، ریاست کے پٹنہ، بھوجپور، سارن، ویشالی، بھاگلپور، بیگوسرائے، بکسر، سمستی پور، مونگیر، کٹیہار، لکھی سرائے، کھگڑیا، پورنیہ، مدھے پورہ اور ارول سیلاب سے متاثرہ اضلاع ہیں۔ لیکن ان میں سے صرف لکھی سرائے، بکسر اور کھگڑیا میں ٹھیک ٹھاک بارش ہوئی ہے۔ باقی اضلاع میں اوسط سے 30 فیصد کم بارش ہوئی ہے۔ جبکہ پٹنہ، بھوجپور، سارن، ویشالی، بھاگلپور، سمستی پور اور پورنیہ جیسے اضلاع ایسے ہیں جہاں اوسط سے 40 فیصد سے بھی کم بارش ہوئی ہے۔

یعنی سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں بھی 12 اضلاع ایسے ہیں، جو بھاگلپور کی طرح سیلاب اور خشک سالی کا ایک ساتھ سامنا کر رہے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اگرچہ بہار کا ایک بڑا حصہ سیلاب کی زد میں ہے، مگر ساتھ ہی ریاست کا آدھے سے زیادہ حصہ شدید خشک سالی کا بھی سامنا کر رہا ہے۔ یہ ایک دوہری آفت ہے جس کا سامنا اس بار بہار کر رہا ہے۔

دراصل اس کی وجہ یہ ہے کہ بہار میں اس سال سیلاب ریاست میں ہونے والی بارش کی وجہ سے نہیں بلکہ نیپال، اتر پردیش اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں ہونے والی بارش کی وجہ سے آیا ہے۔ ان علاقوں کی ندیوں کا پانی بہار آکر باڑھ کی تباہی لا رہا ہے۔

بہار میں سیلاب اور خشک سالی کی آفت کی تاریخ پر کام کرنے والے اور ریاست کی ندیوں کے ماہر ڈاکٹر دنیش کمار مشرا کہتے ہیں، ‘بہار میں سیلاب اور خشک سالی کا ایک ساتھ آنا غیر معمولی نہیں ہے، کیونکہ پہلے بھی شمالی بہار میں سیلاب آتا تھا اور جنوبی بہار میں خشک سالی رہتی تھی۔ لیکن اس بار کی صورتحال غیر معمولی ہے۔ اس بار جن اضلاع میں سیلاب آیا ہے، وہی خشک سالی کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ پڑوسی گاؤں میں پانی ہے اور اپنے کھیت سوکھے ہوئے ہیں۔ آزادی کے بعد سے میں ریاست میں سیلاب اور خشک سالی کی تاریخ پر نظر رکھ رہا ہوں۔ مجھے پہلے کبھی ایسا نہیں دکھا تھا۔ یہ ایک الگ طرح کی آفت ہے۔’

وہیں ریاست کے محکمہ آبی وسائل کے سابق جوائنٹ سکریٹری اور ندیوں کے ماہر گجانن مشرا کہتے ہیں، ‘میں 1950 سے ریاست میں بارش کے اعداد و شمار پر نظر رکھ رہا ہوں۔ 1990 کے بعد سے ریاست میں بارش کا ٹرینڈ تیزی سے بدل رہا ہے۔ اب ایک دہائی میں کم از کم سات سال ایسے ضرور ہوتے ہیں جب اوسط سے 30 فیصد کم بارش ہوتی ہے۔ حالیہ برسوں میں دوسری تبدیلی یہ ہے کہ مئی میں پری-مانسون تقریباً بند ہو گئی ہے اور جولائی میں دھان کی روپائی کے وقت نہ ہونے کے برابر بارش ہوتی ہے۔ اسی طرح دھان کاٹنے سے پہلے ہتھیا نکشتر کی بارش بھی گڑبڑا گئی ہے۔ پہلے سال میں اوسطاً 40 دن بارش کے ہوتے تھے، وہ بھی گھٹ کر اب 30 سے 35 دن رہ گئے ہیں۔ اور سب سے خراب تبدیلی یہ ہے کہ کئی بار سال میں ایک یا دو دن ایسے آتے ہیں جن میں پورے سال کی آدھی بارش ایک ساتھ ہو جاتی ہے۔ یہ تبدیلی اچھی نہیں ہے۔ لیکن اس سال تو بالکل الگ طرح کا موسم ہے۔ ایسا پہلے نہیں دیکھا۔’

پٹنہ کے پن پن علاقہ میں سیلاب میں ڈوبا ہوا ایک مکان۔ (تصویر بہ شکریہ: ارینجمنٹ)

کھیتوں میں کیوں نہیں پہنچا نہروں کا پانی ؟

اس کے ساتھ ہی دونوں ماہرین ریاست کے آبپاشی کے نظام پر بھی سوال کھڑے کرتے ہیں۔ ڈاکٹر دنیش مشرا کہتے ہیں، ‘یہ سوال ریاست کے محکمہ آبی وسائل سے پوچھا جانا چاہیے کہ اگر وہ کہتا ہے کہ اس نے پوری ریاست میں نہروں کا جال بچھا دیا ہے تو پھر ندیوں کا پانی کھیتوں تک کیوں نہیں پہنچ رہا؟’

ریاست کے محکمہ آبی وسائل کے اعداد و شمار کے مطابق بہار کی 38.13 لاکھ ہیکٹر زمین پر بہار حکومت نے بڑی اور درمیانی آبپاشی پروجیکٹوں کے ذریعے آبپاشی کی سہولت فراہم کر دی ہے۔ مگر محکمہ کے اعداد و شمار کے مطابق وہ نہروں کے ذریعے صرف 17.30 لاکھ ہیکٹر زمین تک ہی آبپاشی کے لیے پانی فراہم کر پایا ہے، جو کہ محض 44 فیصد ہے۔ ندیوں میں اتنا پانی ہونے کے باوجود حکومت لوگوں کو آبپاشی کی سہولت فراہم کرنے سے قاصر ہے۔

گجانن مشرا کہتے ہیں، ‘یہ ہمارے واٹر مینجمنٹ کی سب سے بڑی خامی ہے۔ ندیوں میں بند کے درمیان ڈھیر سارا پانی ہے اور آس پاس کے گاؤں سوکھے ہیں۔ ایسے میں ہمیں واٹر مینجمنٹ کے اپنے طور طریقوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ دراصل ہماری پالیسی  ہے،پانی بھگاؤ ہے۔ ہم مانسون کے اضافی پانی کو کیسے محفوظ کریں، اس پر کیوں غور نہیں کر رہے؟ بند بننے سے پہلے بڑی ندیوں کا پانی چھوٹی ندیوں، چوروں اور تالابوں تک جاتا تھا۔ اب وہ سلسلہ رک گیا ہے۔ نہروں سے پانی پہنچ نہیں پا رہا ہے۔’

تاہم اس دوران ریاست کے محکمہ زراعت نے 17 اگست 2026 سے کسانوں کو آبپاشی کے لیے ڈیزل گرانٹ دینے کی اسکیم شروع کی ہے۔ اس کے تحت کسانوں کو 75 روپے فی لیٹر کی شرح سے فی ایکڑ، فی آبپاشی 750 روپے کی گرانٹ دی جائے گی اور یہ زیادہ سے زیادہ تین آبپاشی کے لیے دی جائے گی۔

پشیہ متر آزاد صحافی ہیں۔