اجین: سنگھستھ کے لیے سڑک کی توسیع، شاہی مسجد کا تین فٹ حصہ ہٹانے پر رضامندی

مدھیہ پردیش کے اجین میں شاہی مسجد کا ٹوٹا ہوا حصہ۔ (تصویر: ارینجمنٹ)

تقریباً 635 سال پرانی بتائی جانے والی شاہی مسجد کا ایک حصہ سڑک کی توسیع کے منصوبے کی زد میں آ رہا ہے۔ شاہی مسجد کمیٹی کے رکن عمران نے بتایا کہ مسلم نمائندہ کمیٹی اور انتظامیہ کے درمیان بات چیت کے بعد سڑک کی زد میں آنے والے حصے کو خود ہٹانے کا فیصلہ لیا گیا۔

اجین، مدھیہ پردیش:اجین میں سنگھستھ 2028 کی تیاریوں کے لیے جاری سڑک کی توسیع اور ترقیاتی کاموں کے درمیان شاہی مسجد کا ایک حصہ ہٹائے جانے کو لے کر تنازعہ سامنے آیا۔ انتظامیہ اور مسلم نمائندوں کے درمیان بات چیت کے بعد مسجد کے سڑک کی زد میں آنے والے حصے کو خود ہٹانے پر اتفاق کیا گیا۔

تاہم کارروائی کے دوران کچھ دیر کے لیے صورتحال کشیدہ رہی اور پولیس کو آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا سہارا لینا پڑا۔ اس معاملے میں 28 ستمبر کو اندور ہائی کورٹ میں سماعت بھی ہوئی۔

پورا معاملہ کیا ہے؟

مدھیہ پردیش کے اجین میں سنگھستھ 2028 کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ اس کے لیے شہر میں سڑکوں کی توسیع اور دیگر ترقیاتی کام کیے جا رہے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق، یہ کام ماسٹر پلان کے تحت مقررہ چوڑائی کے مطابق کیے جانے ہیں۔ ان ترقیاتی کاموں کی زد میں شہر کے کچھ مذہبی مقامات بھی آ رہے ہیں۔

اجین کی مسلم نمائندہ کمیٹی کے مطابق، شہر میں تقریباً 15 مذہبی مقامات موجودہ ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ پورے شہر میں ماسٹر پلان کے تحت تقریباً 62 مذہبی مقامات کو ہٹایا جانا مجوزہ ہے۔ تاہم ان اعداد و شمار کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

تقریباً 635 سال پرانی بتائی جانے والی شاہی مسجد کا ایک حصہ بھی سڑک کی توسیع کی زد میں آ رہا ہے۔ اجین شہر کے قاضی عتیق الرحمٰن کی قیادت میں مسلم نمائندہ کمیٹی نے اس معاملے کو لے کر انتظامیہ سے بات چیت کی اور متبادل راستہ نکالنے کی بات کہی۔

اجین شہر کے قاضی عتیق الرحمٰن۔ (تصویر: ارینجمنٹ)

گزشتہ27 ستمبر کی دیر رات انتظامیہ اور پولیس فورس مسجد کے اس حصے کو ہٹانے پر متفق ہوئے اور  28 ستمبر کی صبح جب مسجد کا حصہ ہٹایا جا رہا تھا، اسی دوران ایک افواہ کے بعد چھتری چوک علاقے میں لوگوں کی بھیڑ جمع ہونے لگی۔ سوموار کو بھی بڑی تعداد میں لوگ وہاں موجود رہے۔

کچھ وقت کے لیے حالات کشیدہ رہے۔ پولیس افسران کے مطابق، کچھ لوگوں نے پتھراؤ کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کرکے بھیڑ کو قابو میں کیا۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ پردیپ کمار کے مطابق، صورتحال سے نمٹنے کے لیے تقریباً 2,500 پولیس جوانوں کوتعینات کیا گیا تھا۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ کچھ لوگوں کی شناخت کرکے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ ایس پی کے مطابق، سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر اشتعال انگیز بیان اور غلط مواد نشر کرنے والے پانچ اکاؤنٹ کو بھی نشان زد کیا گیا ہے اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

اجین کے ضلع کلکٹر روشن کمار سنگھ نے کہا کہ شہر میں امن و امان قائم ہے اور سنگھستھ 2028 کے لیے ترقیاتی کام تیزی سے چل رہے ہیں۔ ان کے مطابق، سڑک کی توسیع ماسٹر پلان میں مقررہ چوڑائی کے مطابق کی جا رہی ہے اور اس میں مختلف برادریوں کے لوگ تعاون کر رہے ہیں۔

شاہی مسجد کے قریب تعینات پولیس۔ (تصویر: ارینجمنٹ)

شاہی مسجد کا ذکر کرتے ہوئے کلکٹر نے کہا کہ سڑک کی زد میں آنے والے حصے کو سماج کے لوگ خود ہٹانے کا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور کہا کہ سوشل میڈیا پر گمراہ کن مواد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ صبح پیدا ہونے والی ناخوشگوار صورتحال کو پولیس نے بروقت قابو میں کر لیا۔

مسجد کمیٹی نے کیا کہا؟

شاہی مسجد کمیٹی کے رکن عمران نے بتایا کہ مسلم نمائندہ کمیٹی اور انتظامیہ کے درمیان بات چیت کے بعد سڑک کی زد میں آنے والے حصے کو خود ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔

ان کے مطابق، مسجد کے رضاکار صبح سے ہی اس حصے کو ہٹانے کا کام کر رہے تھے۔ عمران نے کہا کہ افواہوں کی وجہ سے کچھ وقت کے لیے ماحول خراب ہوا، لیکن بعد میں صورتحال کو سنبھال لیا گیا۔

تصویر: ارینجمنٹ

انہوں نے اجین کی سماجی اور ثقافتی پہچان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی گنگا-جمنی تہذیب کو خراب نہیں ہونے دیا جا سکتا اور مسلم سماج سنگھستھ 2028 کی تیاریوں میں تعاون کرتا رہے گا۔

اجین شہر کے قاضی عتیق الرحمٰن نے کہا کہ سنگھستھ 2028 کی تیاریوں میں شہر کا ہر طبقہ تعاون کر رہا ہے اور مسلم معاشرہ بھی اس میں پیچھے نہیں رہے گا۔

انہوں نے 2016 کے سنگھستھ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران قدرتی آفت کے وقت مسلم سماج نے اپنی مساجد سنگھستھ میں آنے والے لوگوں کے لیے کھول دی تھیں اور اپنی استطاعت کے مطابق تعاون کیا تھا۔

ان کے مطابق، سنگھستھ صرف کسی ایک برادری کانہیں ہے اور اجین کی مشترکہ ثقافت کو برقرار رکھنے کے لیے تمام برادریوں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔

عدالت میں کیا ہوا؟

شاہی مسجد کے حصے کو ہٹائے جانے کے خلاف مسجد کمیٹی کی جانب سے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی گئی تھی، جس کی سماعت 28 ستمبر 2026 کو اندور ہائی کورٹ میں ہوئی۔ وکیل اشرف وارثی کے مطابق، عدالت نے اپیل کو اس شرط کے ساتھ نمٹا دیا کہ مذہبی مقام کا صرف تین فٹ حصہ ہٹایا جائے گا۔

وکیل اشرف وارثی کے مطابق، اس سے پہلے اجین میونسپل کارپوریشن اور مذہبی مقام کی کمیٹی کے درمیان سمجھوتہ ہو چکا تھا۔ اس سمجھوتے کے تحت ہٹائے جانے والے حصے کے بدلے ایف اے آر (فلور ایریا ریشیو) دیے جانے کی بات کہی گئی ہے۔

اس طرح عدالت کی سماعت اور انتظامیہ و مسجد کمیٹی کے درمیان ہوئی بات چیت کے بعد فی الحال تنازع کو باہمی رضامندی کی بنیاد پر حل کرنے کی کوشش نظر آ رہی ہے۔ تاہم اس سمجھوتے کی شرائط اور ایف اے آر سے متعلق تفصیلات کو سرکاری دستاویزوں کی بنیاد پر دیکھنا ضروری ہوگا۔

قاسم برکاتی آزاد صحافی ہیں۔