’رجیم چینج‘ کو ایشو بنا کر گیانیش کمار کو بچایا جا رہا ہے

گزشتہ ہفتے لکھنؤ میں گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی کے کارکنان۔ تصویر:پی ٹی آئی

ووٹ چوری اصلی رجیم چینج پروف کام ہے۔ لڑائی تو اسی کی ہے کہ رائے دہندگی کا حق چھین لیا گیا، تاکہ انتخابات میں لوگ اپنے ووٹ سے انہیں شکست نہ دے سکیں۔ اپنے اوپر لگے الزامات کا جواب نہیں ہے تو اپوزیشن پر حملہ کیا جا رہا ہے کہ وہ رجیم چینج کرنا چاہتی ہے، گویا اس کے لیے اپوزیشن نے ووٹ چوری کی ہو۔

ایس آئی آر اور ووٹ چوری کے الزامات کا جواب نہیں دیا گیا۔ اتنے گمبھیرالزامات لگے۔ کئی دنوں تک چُپ رہنے کے بعد اسے گھس پیٹھ سے جوڑ ا گیا، جس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ راہل ایس آئی آر کی مخالفت اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ دراندازوں کو بچانا چاہتے ہیں۔ گزشتہ سال جون سے ایس آئی آر کا عمل جاری ہے۔ وزیر داخلہ یہاں بتا دیتے کہ ایس آئی آر کے ذریعے کتنے دراندازوں کی شناخت ہوئی ہے۔ الیکشن کمیشن ہی بتا دیتا۔

بہار میں ایس آئی آر کے دوران سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اگر کوئی نکلابھی تو اس کی جانچ کرنے کا مجاز ادارہ وزارت داخلہ ہے۔ وزیر داخلہ بتا سکتے ہیں کہ ایسے کتنے کیس ان کے سامنے آئے ہیں۔نہیں بتا رہے ہیں۔

اسی طرح آسام میں کئی دہائیوں تک دراندازی کا بھوت نچایا گیا۔ سپریم کورٹ سے بھی اس بھوت کو نچوایا گیا۔ عدالت نے این آر سی کاآرڈر دیا۔ ڈیڑھ ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم پھونک دی گئی۔ اس عمل کے دوران کتنے لوگ مر گئے۔ این آر سی کی لسٹ بنی تو لاکھوں کی تعداد میں ہندو بھی نکل گئے جن کی شہریت مشکوک تھی۔ نکلناہی تھا، کیونکہ کس کے پاس کاغذہوتا ہے؟


یہ بھی پڑھیں: امت شاہ کا راہل گاندھی پر ’دراندازوں‘ کو بچانے کا الزام، مگر ان کی اپنی وزارت کے پاس نہیں ہے اس کا کوئی ڈیٹا


ایس آئی آر میں بھی لوگ سابقہ ایس آئی آر کا ثبوت نہیں دے پائے۔ وہ سرٹیفکیٹ کے چکر میں پڑے۔ اگر اپوزیشن نے عدالت میں لڑ کر آدھار کو ووٹر لسٹ سے منسلک نہیں کروایا ہوتا تو آدھے ووٹر باہر ہو گئے ہوتے۔لوٹتے ہیں آسام کے این آر سی کی طرف ۔بی جے پی نے این آر سی کو فوراً پھینک دیا۔ این آر سی کے بعد آسام میں جو پہلا اسمبلی انتخاب ہوا، اس میں این آر سی کا نام تک لینا بند کر دیا گیا۔ پھر سے اسی بھوت کو ایس آئی آر کے نام سےنچایا جا رہا ہے کہ دراندازوں کو پکڑا جا رہا ہے۔

جنتر منتر کے بعد جب جین -زی کی تحریک کو ’دماغی نکسل‘کہاگیا۔ لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ پیپر لیک ہو ہی رہا تھا۔ این ٹی اے بے کار ایجنسی ثابت ہوئی۔ امتحانات کے نظام میں اصلاحات کے لیے نندن نیلیکنی کی سربراہی میں کمیٹی بنانی پڑی۔ پردھان کااستعفیٰ تو ہوا ہی۔ مسئلہ بھی یہی تھا اور  تحریک پوری طرح سے پرامن تھی۔ تشدد کے الزامات پولیس پر لگے، اور وزیر داخلہ جواب دینے پورے آخری دن کو چھوڑ کر مانسون اجلاس کے دوران ایوان میں  ہی نہیں آئے۔


یہ بھی پڑھیں: رجیم چینج کا مطالبہ جمہوریت کا حصہ ہے: آئیے جانتے ہیں کہ بی جے پی کے دلائل غلط کیوں ہیں


ایس آئی آر سے اس وقت بھی توجہ نہیں ہٹی تو جنتر منتر کو ہٹانے اور دارالحکومت کو مفلوج کرنے کے معاملے میں الجھا دیا گیا۔ ساری  بحث مزاحمت کے حق کی طرف چلی گئی۔ ایسا ہونا ہی تھا۔ اس کے باوجود جب گیانیش کمار کا معاملہ پیچھے نہیں گیا تو رجیم چینج لے آئے۔ یہ بھی نہیں چلے گا تو حد بندی ہے ہی۔ اسے ہندوستان کے تمام مسائل کا علاج بتایا جائے گا۔ اسی لیے تو پارلیامنٹ کے اجلاس کو ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

ادھر الیکشن کمیشن عدالت جانے سے پہلے ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے میں لگا ہوا ہے۔ اب کسی بھی طرح نام جوڑے جا رہے ہیں۔ ایس آئی آر میں نام شامل کر دینے سے جواب پورا ہوگا نہیں۔ بہار اور بنگال میں نام کاٹ کر  ووٹ دینے سے روکا گیا۔ یہ غیر قانونی کام تھا۔ اس کی تلافی نہیں کی جا سکتی۔ یہ جرم سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کی ناک کے نیچے ہوا ہے۔ جس طرح ست لوگوں کے ڈرسے نام شامل کیے جا رہے ہیں، اسی طرح پہلے بھی نام شامل کیے جا سکتے تھے۔ جواب ہوگا نہیں، اسی لیے تو چُپ ہیں۔

جب عوام کے درمیان ووٹ چوری پکڑی گئی تو بنچ کے نیچے کاپی رکھ کر جلدی جلدی ہوم ورک کی کاپی بھری جا رہی ہے، تاکہ عوام کے الیکشن کمیشن تک پہنچنے سے پہلے یہ دکھایا جا سکے کہ کسی کا نام نہیں کاٹا گیا ہے۔فارم 6 میں جو غیر قانونی تھا، اسے تو ختم کر دیا گیا۔ فارم 7بھی ایک شخص دس سے زیادہ نہیں بھر سکتا۔ پہلے تو  سینکڑوں بھر رہا تھا، تب کہاں تھے؟ 27لاکھ لوگوں سے ووٹ دینے کا حق چھین لیا گیا۔ تب کہاں تھے؟

اخبار میں خبر چھپی کہ جین زی کے لوگوں کے نام ووٹر لسٹ میں شامل نہ کیے جانے کے سبب ایس آئی آر کے نام پر ایس ایس آر بند ہے۔ اس پر فوراً دہلی میں اعلان کر دیا گیا اور اب پورے ملک میں بھی ایسا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد جو ووٹر لسٹ آئے گی، اس کی مشین سے پڑھی جا سکنے والی کاپی دی جائے گی۔پہلی ووٹر لسٹ تو اب ختم ہو چکی، اس کی کاپی الیکشن کمیشن نے نہیں دی۔ پاک صاف ہوتا تو ووٹررول کی مشین سے پڑھی جا سکنے والی کاپی دی جا سکتی تھی۔ راہل گاندھی اور دوسرے رہنما مانگتے رہے۔ نہیں دیا تو نہیں دیا۔

اسی لیے ’رجیم چینج‘کا ایشو اٹھایا گیا ہے۔ اس کے جواب میں باتیں کہی جا رہی ہیں۔ گیانیش کمار کے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔ معاملہ عوام کے درمیان پہنچ گیا۔ اب رجیم چینج کے ایشو کی آڑ میں گیانیش کمار کو بچایا جا رہا ہے۔الیکشن کمشنر سامنے آ کر جواب نہیں دے سکتے۔ جواب ہوتا تو پریس کانفرنس ہو جاتی۔ 23ستمبر سے 18 اکتوبر کے درمیان دہلی میں روز پریس کانفرنس ہوئی۔ صرف الیکشن کمیشن کی پریس کانفرنس نہیں ہوئی۔

تصویر: پی ٹی آئی

ووٹ چوری ہی اصلی رجیم چینج پروف کام ہے۔ لڑائی تو اسی کی ہے کہ ووٹ دینے کا حق چھین لیا گیا، تاکہ انتخابات میں عوام اپنے ووٹ کے ذریعے انہیں شکست نہ دے سکیں۔ اپنے اوپر لگے الزامات کا جواب نہیں ہے تو اپوزیشن کی طرف سے آئے ایک دو بیان کے بیان کے ذریعے اپوزیشن پر حملہ کیا جا رہا ہے کہ وہ رجیم چینج کرنا چاہتی ہے، گویا اس کے لیے اپوزیشن نے ووٹ چوری کی ہو۔

ہر لیڈر نے آئینی طریقے سے احتجاج  کی بات کی، تو آپ نے جنتر منتر کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔ تو ڈراما سے ایک حقیقی مسئلے کا کاؤنٹرتیارہوا، لیکن اس سے الیکشن کمیشن کی ساکھ بحال نہیں ہوگی۔ووٹ چوری جمہوریت کا قتل ہے۔ یہ جمہوریت کی روح پر حملہ ہے۔ اب اسی روح کو ’بھوت- بھوت‘کہا جا رہا ہے، تاکہ لوگ بھاگ جائیں۔

(ہندی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔)