بنگال: السلام علیکم اور انشاء اللہ کہنے پر ہندو لیگل فنڈ کی شکایت کے بعد پولیس افسر کا تبادلہ

مغربی بنگال میں آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو کا ایک ویڈیو میں ’السلام علیکم‘ کہنے پر ہندو لیگل فنڈ کی شکایت کے بعد تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ تنظیم نے ایک سرکاری افسر کے طور پر مذہبی غیر جانبداری بنائے رکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔

آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو۔ (تصویر: ایکس)

 نئی دہلی: مغربی بنگال میں آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو کا کھڑگپور کی ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) کے عہدے سے تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ایک ہندو دائیں بازو کی تنظیم کی شکایت کے بعد کی گئی ہے، جس نے سول سروس کی تیاری کررہے طلبہ کے لیے بنائے گئے ایک ویڈیو میں بانوکے اسلامی آداب کے استعمال کیے جانے پر اعتراض کیا تھا۔

 بانو نے اتوار، 13 ستمبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کیا تھا، جس میں انہوں نے یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) کے امتحان کی تیاری کے دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی ریزیڈینشل کوچنگ اکیڈمی سے ملی مدد کے بارے میں بتایا تھا۔

 انہوں نے بتایا کہ پی ایچ ڈی مکمل کرنے اور سعودی عرب میں درس وتدریس کی ملازمت سے واپس آنے کے بعد انہوں نے یو پی ایس سی کی تیاری شروع کی تھی۔ ان کے مطابق، اکیڈمی میں دستیاب کتابیں، لائبریری کے مواد اورماک ٹیسٹ نے ان کی تیاری میں کافی مدد کی۔ بانو نے طلبہ سے اکیڈمی کی سہولیات سے فائدہ اٹھانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا،’مجھے امید ہے کہ زیادہ سے زیادہ طلبہ اکیڈمی میں داخلہ لیں گے اور اس پلیٹ فارم کا استعمال کریں گے، تاکہ میرے جیسے مزید لوگ آگے آ سکیں۔‘

 تاہم، ویڈیو کے شروع میں’السلام علیکم‘،’انشاء اللہ‘اور آخر میں’جزاک اللہ‘کہنے پر ہندو لیگل فنڈ (ایچ ایل ایف) نے اعتراض کیا۔ یہ تنظیم خود کو ہندو نیٹ ورک فاؤنڈیشن کی ایک اکائی بتاتی ہے۔

 ایچ ایل ایف نے اس سلسلے میں بنگال کے ہوم سکریٹری سے شکایت کی اور کہا کہ ایک سرکاری افسر کو عوامی بات چیت  میں’وندے ماترم‘یا’جئے ہند‘جیسے قومی آداب کا  استعمال کرنا چاہیےتھا۔

 تنظیم نے ایکس پر لکھا،’انہوں نے السلام علیکم سے شروعات کی، انشاء اللہ کا استعمال کیا اور جزاک اللہ کہہ کر اختتام کیا-اور وندے ماترم یا جئے ہند کا استعمال نہیں کیا۔ہندوستانی ریاست کی نمائندگی کرنے والے افسر کو غیر جانبداری بنائے رکھنی چاہیے اور عوامی بات چیت میں قومی آداب کا استعمال کرنا چاہیے۔‘

 اس کے بعد بانو کا تبادلہ کر دیا گیا۔

 تاہم، ایکس پر کئی لوگوں نے اس کارروائی اور شکایت پر سوال اٹھائے۔ کچھ صارفین نے کہا کہ کسی افسر کی جانب سے اپنے مذہبی سلام کا استعمال اس کے ذاتی عقیدے کا حصہ ہو سکتا ہے اور اسے سرکاری غیر جانبداری کی خلاف ورزی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

 سابق سول سرونٹ آشیش جوشی نے بانو کی حمایت میں لکھا کہ ہندوستان کی طاقت اس کےتنوع میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانو نے دو مرتبہ یو پی ایس سی کا امتحان پاس کیا، سعودی عرب کی نوکری چھوڑی اور اب ملک کی خدمت کر رہی ہیں۔

 ان کے مطابق، کسی مخصوص سلام کا استعمال افسر کے ذاتی عقیدے کی عکاسی کرتا ہے، نہ کہ ملک کے ساتھ اس کی وفاداری پر سوال اٹھاتا ہے۔ جوشی نے کہا کہ ہندوستان جیسے متنوع ملک میں مختلف مذہبی روایات کا بقائے باہمی کمزوری نہیں بلکہ اس کی طاقت ہے۔

 ایک اور ایکس صارف نے مذہبی غیر جانبداری کے مختلف پیمانوں پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے’جے ایس آر‘کا استعمال قابل قبول ہے، لیکن ایک مسلمان آئی پی ایس افسر کے’السلام علیکم‘کہنے پر اعتراض کیوں کیا جا رہا ہے۔

 صارف نے سوال کیا،’اگر جمہوریت میں غیر جانبداری اصول ہے تو اسے سب پر یکساں طور پر کیوں لاگو نہیں کیا جاتا؟‘

 بانو کا تبادلہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سرکاری افسران اور عوامی اداروں میں مذہبی شناخت اور اظہار خیال کو لے کر تنازعات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ اس معاملے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ سرکاری ملازمین کی’مذہبی غیر جانبداری‘سے کیا مراد ہے؟ کیا اس کا مطلب ان کے ذاتی مذہبی اظہار پر بھی پابندی عائد کرنا ہے؟