آن لائن جاب سرچ پورٹل ’انڈیڈ‘کی’فریشر ہائرنگ رپورٹ‘کا حوالہ دیتے ہوئے فنانشل ایکسپریس نے بتایا ہے کہ پانچ سال پہلے کے مقابلے اب فریشر کے لیے نوکری کی دنیا میں قدم رکھنا زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ سروے میں شامل 72 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ انٹری لیول نوکریوں کے لیے بھی تجربے کی شرط رکھی جاتی ہے، جبکہ 61 فیصد لوگوں کو درخواست دینے کے بعد شاید ہی کوئی جواب موصول ہوتا ہے۔
دہلی کے مالویہ نگر میں بدھ کی صبح فلورش بی اینڈ بی میں لگی آگ نے ہوٹل انتظامیہ اور قوانین کی خلاف ورزی اور حفاظتی لاپرواہی سے متعلق کئی سنگین سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ اول تو یہ عمارت ’ہوٹل‘ کے طور پر درج ہی نہیں تھی۔ وہیں عملے کی کمی کے باعث پاس کے فائر اسٹیشن سے مدد پہنچنے میں بھی تاخیر ہوئی۔
تشدد سے متاثرہ منی پور میں اثر و رسوخ رکھنے والی تنظیم کُکی انپی نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں جاری ایس آئی آر کا عمل قابل قبول نہیں ہے۔ تنظیم کے مطابق، یہ عمل غیر جانبداری، سب کو ساتھ لے کر چلنے اور انتظامی ذمہ داری کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اندرونی طور پر بے گھر آبادی کے ایک بڑے اور کمزور طبقے کی شمولیت کو یقینی بنائے بغیر کسی بھی اہم انتخابی اور انتظامی عمل کو آگے بڑھانا جمہوری نمائندگی کے اصولوں کو کمزور کرتا ہے۔
یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے حال ہی میں مسلم مذہبی رہنماؤں کی جانب سے گائے کو قومی جانور قرار دینے کے مطالبے کو ان کا ’دوہرا معیار‘قرار دیا تھا۔ وزیراعلیٰ کے تبصروں کو سینئر صحافی اور مصنف آکار پٹیل نے’ڈھونگ‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب مرکزی حکومت کے لیے یہ واضح کرنے کا صحیح وقت ہے کہ ہندوستان کا نظریہ سیکولر اصولوں پر مبنی ہے یا مذہبی افکار پر۔
ملک کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے سپریم کورٹ کے پانچ نئے ججوں کو حلف دلایا ہے۔ ان میں چار ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ایک سینئر ایڈوکیٹ شامل ہیں۔ ان تقرریوں کے ساتھ ہی ان کے بعض مشہور فیصلے سرخیوں میں ہیں، جن میں رام رحیم کو بری کرنا، وزیر اعظم نریندر مودی کی ڈگری اور ا ازدواجی تشدد سے متعلق معاملے شامل ہیں۔
ہند رجب فاؤنڈیشن نے ہندوستانی حکومت سے ہماچل پردیش میں چھٹی منا رہے اسرائیلی شہری ایتان گلبوع کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ گلبوع اسرائیلی فوج میں ایک ریزرو فوجی ہے اور فلسطین میں رہائشی عمارتوں پر بمباری اور بڑے پیمانے پرانہیں گرانے کے واقعات میں براہ راست ملوث رہا ہے۔ ان کے یہ افعال جنیوا کنونشن ایکٹ 1960 کے تحت ’جنگی جرائم‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔
دہلی میں منعقدہ پیپلز ٹریبونل میں ملک بھر میں عیسائیوں پر ہورہے حملے- عبادت گاہوں ، پادریوں پر حملے، سماجی اور معاشی بائیکاٹ، تدفین کے حق سے محروم کیے جانے اور گاؤں دیہات سے بے دخلی پر تشویش کا اظہار کیا ۔ مقررین کا یہ بھی ماننا تھا کہ حالیہ دہائیوں میں عدالتی اور قانون سازی کی پیش رفت کئی معاملوں میں کمزور اقلیتوں کو خاطر خواہ تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
میڈیا ریگولیٹری ادارے این بی ڈی ایس اے نے سدھیر چودھری کے سابق پروگرام ’بلیک اینڈ وہائٹ‘ میں تاج محل کو ہندو مندر بتائے جانے سے متعلق دعوے کے حوالے سے غیر جانبداری کے مسئلے پر سوال اٹھایا ہے۔ ادارے نے کہا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے نتائج کو نظر انداز کیا گیا۔ ادارے نے آج تک کو پروگرام میں ترمیم کرنے کی ہدایت دی ہے۔
مہاراشٹر ایف ڈی اے نے گمراہ کن اشتہارات اور ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں 73.24 لاکھ روپے کی دوائیں ضبط کی ہیں۔ ان میں 51.41 لاکھ روپے کی دوائیں پتنجلی سے منسلک دیویہ فارمیسی کی بتائی گئی ہیں۔ یہ کارروائی ریاست بھر میں چلائی گئی ایک خصوصی مہم کے تحت انجام دی گئی۔
سپریم کورٹ نے گزشتہ سال جون میں بہار میں ایس آئی آر کرانے سے متعلق الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر عمل کے قانونی جواز کی توثیق کر دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور منصفانہ انتخابات کے لیے ضروری ہے۔
ایک مضمون میں آر ایس ایس کے ماؤتھ پیس نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو ’سیاسی طور پر اسپانسرڈ مہم‘ قرار دیا ہے۔ مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ مبینہ طور پر بائیں بازو کے رجحان رکھنے والے نیٹ ورک یا نظریے سے وابستہ ایک وسیع تر نظام کا حصہ ہے، جو سیاسی ڈسکورس کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دہلی اور شمالی ہندوستان کے کئی حصوں میں سی این جی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ 11 دنوں میں چوتھی مرتبہ دام بڑھنے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات، روزمرہ کی اشیا کی قیمتوں اور گھریلو بجٹ پر اضافی دباؤ بڑھنے کا اندیشہ ہے۔
مغربی بنگال کی نومنتخب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت نے تمام ضلع مجسٹریٹ کو ’مشتبہ غیر قانونی غیر ملکیوں‘ کے لیے ہولڈنگ سینٹر قائم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس میں خصوصی طور پر بنگلہ دیشی شہریوں اور روہنگیا کا ذکر کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ قدم وزارت داخلہ کی ہدایات کے تحت اٹھایا جا رہا ہے۔
گزشتہ 10 دنوں میں چوتھی بار پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ سوموار (25 مئی) کو پیٹرول 2.61 روپے اور ڈیزل 2.71 روپے مہنگا ہو ا، جس کے بعد دہلی میں پیٹرول کی قیمت 100 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔ مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث مال برداری اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی لاگت بڑھنے کا خدشہ ہے۔
دہلی کی بی جے پی حکومت نے بقرعید کے لیے رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔ عوامی نظم و نسق اور صفائی کو یقینی بنانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کھلے عام جانور ذبح کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ قربانی صرف قانونی اور مجاز مقامات پر ہی کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بقرعید پر گائے، بچھڑا، اونٹ اور دیگر ممنوعہ جانوروں کی قربانی کرنے پر سخت کارروائی کی بات کہی گئی ہے۔
مغربی ایشیا کی کشیدگی کے درمیان ایک طرف پیٹرولیم کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری دعویٰ کر رہے ہیں کہ ملک میں توانائی کی کوئی کمی نہیں ہے، جبکہ دوسری طرف وزیر اعظم متبادل توانائی کے ذرائع پر تیزی سے کام کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ کیا یہ محض احتیاطی تدبیر ہے یا پھر ہندوستان کے بڑھتے ہوئے توانائی انحصار اور مستقبل کے ممکنہ بحران کی ایک واضح علامت؟
دہلی فسادات سے متعلق کیس میں گزشتہ پانچ سال سے جیل میں بند اسکالر اور ایکٹوسٹ عمر خالد کو ہائی کورٹ نے تین دن کے لیے عبوری ضمانت دی ہے۔ انہیں 1جون سے 3 جون تک کی راحت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنی بیمار والدہ کی 2 جون کو ہونے والی میڈیکل سرجری کے دوران ان کی دیکھ بھال کر سکیں۔ اس سے قبل ٹرائل کورٹ نے 19 مئی کو خالد کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
میر واعظ عمر فاروق نے الزام لگایا ہے کہ انہیں اپنے والد کی برسی کے موقع پر خراج عقیدت پیش کرنے سے پہلے نظر بند کر دیا گیا۔ اس سے قبل جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد لون نے بھی ایسا ہی الزام عائد کیا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے اسے جابرانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے لوگوں کے جذبات اور تاریخ کو مٹایا نہیں جا سکتا۔
طنزیہ اور تنقیدی سوشل میڈیا مہم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا ایکس اکاؤنٹ ہندوستان میں بلاک کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب چند ہی دنوں میں اس نے سوشل میڈیا پر زبردست مقبولیت حاصل کر لی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے اکاؤنٹ پر پابندی کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا، ’جیسا کہ امید تھی، کاکروچ جنتا پارٹی کا اکاؤنٹ ہندوستان میں بلاک کر دیا گیا ہے۔‘
پی ایم مودی سے میڈیا کی آزادی پر سوال پوچھنے کے بعد نارویجین صحافی ہیلی لیونگ سوشل میڈیا پر حملوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہیں ’اینٹی انڈیا‘ اور ’سیاسی ایجنٹ‘ کہا جا رہا ہے۔ تنقید اب پیشہ ورانہ اختلاف سے آگے بڑھ کر ذاتی زندگی پر حملے اور کردار کشی کی مہم تک پہنچ گئی ہے۔ یہاں تک کہ صحافت کے پیشے سے وابستہ بعض اینکر بھی ان کےسوال پوچھنے سے ناراض ہیں۔
خبروں کے مطابق، لاہور کے محلوں کے نام تقسیم ہند سے قبل کے ناموں پر رکھنے کی اس پہل کا مقصد شہر کی تاریخی شناخت کو بحال کرنا اور اس کے کثیرثقافتی ماضی کو تسلیم کرنا ہے ۔
ہندو یوا واہنی کے سابق عہدیدار سشیل پرجاپتی پر غازی آباد میں ایل ایل بی کی ایک طالبہ کے ساتھ ریپ کرنے کا الزام ہے۔ اسے آٹھ ماہ بعد 17 مئی کو ضمانت پر رہا کیا گیا، جس کے بعد اس کے حامیوں نے اس کی گل پوشی کی، کندھوں پر اٹھایا اور نعرے لگاتے ہوئے جلوس نکالا۔ این سی آر بی کے مطابق، 2023 میں اتر پردیش میں خواتین کے خلاف جرائم سے متعلق سب سے زیادہ 66,381 مقدمات درج کیے گئے تھے۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے سوموار کو وارانسی میں گنگا ندی کے بیچ کشتی پر ’افطار‘ کرنے اور مبینہ طور پر ہڈیاں ندی میں پھینکنے کے باقی چھ ملزمین کو بھی ضمانت دے دی۔ اس سے پہلے 15 مئی کو عدالت نے چودہ میں سے آٹھ ملزمین کو ضمانت دی تھی۔
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے نماز کے مسئلے کو انتظامی زبان میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ’سڑکیں لوگوں کے لیے ہیں‘ اور ’قانون کی حکمرانی‘ جیسے لفظ استعمال کیے۔ لیکن بار بار صرف نماز ہی کا ذکر کیا گیا۔ کسی اور عوامی تجاوزات یا مذہبی اجتماعات – مثلاً کانوڑ یاترا – کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، حالانکہ ان کا وسیع دائرہ اور فرقہ وارانہ رجحان بارہا خبروں کی سرخیوں میں رہا ہے۔
ناروے کے دورے کے دوران وزیراعظم نریندر مودی سے وہاں کی ایک صحافی نے میڈیا کے سوال لینے سے متعلق سوال کیا، لیکن وہ بغیر جواب دیے آگے بڑھ گئے۔ بعد میں ہندوستانی سفارت خانے کی پریس بریفنگ میں بھی انسانی حقوق اور پریس کی آزادی سے متعلق سوال پوچھے گئے۔
سپریم کورٹ نے اسی سال جنوری میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی عرضیاں مسترد کر دی تھیں۔ یہ دونوں دہلی فسادات سے متعلق ایک مقدمے میں گزشتہ پانچ سالوں سے جیل میں ہیں۔ سوموارکو جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اجول بھوئیاں کی بنچ نے اس سلسلے میں اپنےاعتراضات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضمانت اصول ہے اور جیل استثنیٰ۔ عدالت نے مزید کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ’بے گناہی کے تصور‘پر استوار ہوتی ہے۔
سی جے آئی سوریہ کانت نے جمعہ کو سینئر وکیل کا درجہ دیے جانے کے مطالبے سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کے دوران کہا کہ معاشرے میں کچھ پیراسائٹ ہیں، جو سسٹم پر حملہ کرتے ہیں۔ انہیں روزگار نہیں ملتا اور پیشہ ورانہ زندگی میں کوئی جگہ نہیں ملتی۔ ان میں سے کچھ میڈیا اہلکار بن جاتے ہیں، کچھ سوشل میڈیا پر سرگرم ہو جاتے ہیں، کچھ آر ٹی آئی کارکن بن جاتے ہیں اور پھر ہر کسی پر حملہ شروع کر دیتے ہیں۔
تین مئی کو منعقد نیٹ-یو جی 2026 کا امتحان پیپر لیک کے دعووں کے بعد رد کر دیا گیا تھا، جس کے بعد اب یہ امتحان دوبارہ 21 جون کو ہوگا۔ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے بتایا کہ ’گیس پیپر‘کے نام پر اصل سوال لیک ہوئے تھے اور اگلے سال سے یہ امتحان آن لائن لیا جائے گا۔
مغربی بنگال کی نو منتخب بی جے پی حکومت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب عوامی مقامات پر جانوروں کو ذبح کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ جانوروں کو صرف میونسپلٹی کی جانب سے مقرر کردہ یا مجاز سلاٹر ہاوس میں ہی ذبح کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ لازمی سرٹیفکیٹ کے بغیر کسی بھی گائے یا بھینس کو ذبح کرنا پوری طرح سے ممنوع ہوگا۔
کرناٹک حکومت کے 13 مئی کو جاری نئے فیصلے میں طلبہ کو یونیفارم کے ساتھ ’محدود روایتی اور رسم و رواج سے متعلق علامتیں‘ پہننے کی اجازت دی گئی ہے- جن میں حجاب، جنیئو، رودراکش وغیرہ شامل ہیں۔ فروری 2022 میں مسلم طالبات کو حجاب پہننے سے روکنے والے تعلیمی اداروں کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اس وقت کی بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت نے حجاب پر پابندی عائد کر دی تھی۔
سی بی آئی ڈائریکٹر کے انتخابی عمل پر اختلافی نوٹ دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کوئی ’ربڑ اسٹیمپ‘نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بار بار مطالبے کے باوجود انہیں سی بی آئی ڈائریکٹر کے عہدے کے امیدواروں کی 360 ڈگری رپورٹ فراہم نہیں کی گئی، اور اجلاس کے دوران ہی 69 امیدواروں کی تفصیلات دی گئیں۔
مغربی بنگال حکومت نے اسمبلی انتخابات کے دوران ریاست کے چیف الیکٹورل افسر رہے منوج کمار اگروال کو ریاست کا چیف سکریٹری بنایا ہے۔ اس سے پہلے ایس آئی آر مہم کے لیے الیکشن کمیشن کے اسپیشل آبزرور رہے سبرت گپتا کو بھی نو منتخب وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری کا صلاح کار بنایا گیا تھا۔ اپوزیشن نے ان تقرریوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے کفایت شعاری کی اپیل کے بعد ان کے کئی شہروں کے دوروں پرسوال اٹھ رہے ہیں۔ جس اتوار کو وزیر اعظم نے شہریوں سے’بحران کے وقت‘ میں’اجتماعی قربانی‘ کی بات کہی، اسی دن انہوں نے تین ریاستوں کے چار شہروں میں عظیم الشان اہتمام اور انتظامات والے پروگراموں میں شرکت کی، اور یہ دورے آج بھی جاری ہیں۔
انیس سو نوے بیچ کے ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر سبرت گپتا کو بنگال میں نئے وزیراعلیٰ کے حلف لینے کے فوراً بعد سی ایم کا صلاح کار بنایا گیا ہے۔ گپتا دسمبر 2025 میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے مغربی بنگال میں کرائے گئے متنازعہ ایس آئی آر عمل میں اسپیشل رول آبزرور کے طور پر تعینات تھے۔
تمل سنیما کے سپر اسٹار وجے کو سیاسی عروج اچانک حاصل نہیں ہوا۔ یہ کہانی برسوں سے انتہائی احتیاط کے ساتھ لکھی جا رہی تھی۔فلموں، علامتی اشاروں، عوامی رابطوں اور کئی بار معنی خیز خاموشیوں کے ذریعے۔ برسوں سے تشکیل دی جا رہی اس کہانی کا ایک مرحلہ 10 مئی کو وجے کے تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ کے عہدے کی حلف برداری کے ساتھ مکمل ہوا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا کی کشیدگی کے درمیان عوام سے سونا نہ خریدنے، بیرون ملک سفر کم کرنے، پیٹرول کا کم استعمال کرنے اور ’ورک فرام ہوم‘کی اپیل کی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کھانا پکانے کے تیل کی کم کھپت اور کھاد کے کم استعمال کی بھی اپیل کی ہے۔ اپوزیشن نے اس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ایم مودی کو انتخابات ختم ہوتے ہی بحران یاد آ گیا۔
سہراب الدین شیخ کو 2005 میں مبینہ طور پر فرضی انکاؤنٹر میں مار دیا گیا تھا۔ 2018 میں ایک خصوصی عدالت نے گجرات اور راجستھان کے پولیس افسران سمیت 22 افراد کو اس مقدمے میں بری کر دیا تھا۔ سہراب الدین کے بھائیوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ بامبے ہائی کورٹ نے ان کی اپیل کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔
اے ڈی آر کی رپورٹ کے مطابق، مغربی بنگال اسمبلی میں نو منتخب 190 اراکین اسمبلی (65فیصد) نے اپنے خلاف فوجداری معاملے کی جانکاری دی ہے، جبکہ 2021 میں یہ تعداد 142 (49 فیصد) تھی۔ ان میں سے 170 اراکین اسمبلی (58 فیصد) سنگین فوجداری مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ پچھلی اسمبلی میں یہ تعداد 113 (39فیصد) تھی۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے’آئی لو محمد‘تنازعہ سے جڑے ایک انسٹاگرام پوسٹ کے سبب گرفتار کیے گئے مظفرنگر کے ندیم کو ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پوسٹ میں کسی بھی ذات یا برادری کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ ریاستی حکومت نے ندیم کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ ان کا ویڈیو اشتعال انگیز تھا۔
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 میں بی جے پی نے 15 سال پرانی ترنمول حکومت کو ہٹا کر اکثریت حاصل کر لی۔ ممتا بنرجی حکومت کے خلاف عدم اطمینان، بدعنوانی اور حکمرانی سے متعلق سوال، ہندو-مسلم پولرائزیشن اور ایس آئی آر کا تنازعہ اس بڑی سیاسی تبدیلی کے اہم اسباب بن کر سامنے آئے۔