کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے اپنا قومی ایجنڈا ’کیا بولتی پبلک‘جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی اب ملک کے ہر حصے میں نوجوانوں سے براہ راست مکالمہ کرے گی اور شہریوں کی شمولیت سے’یوتھ ریفارم چارٹر‘ تیار کرے گی۔ یہ چار بنیادی ستون پر مبنی ہوگا-جامع تعلیمی اصلاحات، تعلیم اور روزگار کا انضمام، ادارہ جاتی جوابدہی اور اتحاد و اشتراک۔
مرکزی حکومت نے محکمہ مویشی پروری و ڈیری کے سکریٹری نریش پال گنگوار کو نیا ہائر ایجوکیشن سکریٹری مقرر کیا ہے۔ راجستھان کیڈر کے آئی اے ایس افسر کے خاندان کو ’کامرشیل فصلوں‘، خصوصی طور پر کھیرے کی کھیتی کوبڑھاوا دینے کے لیےنیشنل ہارٹیکلچر بورڈ کی ایک سرکاری اسکیم کے تحت 1.16 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرکاری سبسڈی ملی تھی۔
گزشتہ ایک ماہ سے جنتر منتر پر جاری نوجوانوں کے احتجاج کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو پہلی بار اس معاملے پر بیان دیا۔ تاہم، ان کے بیان میں نہ تو نوجوانوں کے احتجاج کا ذکر کیا گیا، نہ ہی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے یا طلبہ پر پولیس کے مبینہ تشدد کا۔ اس کے ساتھ ہی سخت کارروائی کا ان کا وعدہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔
سنسد مارچ کے بعد سی جے پی کی تحریک جاری ہے۔ مرکز نے دہلی میں سی آر پی ایف کی 20 اضافی کمپنیاں تعینات کی ہیں۔ حکومت نے نیٹ پیپر لیک پر پارلیامنٹ میں بحث کی بات کہی ہے، لیکن وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کو سیاسی قرار دیا ہے۔ اسی بیچ، سی جے پی کے ترجمان سوربھ داس نے اپناوہاٹس ایپ اکاؤنٹ بلاک کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔
وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے باہرمنگل کو دھرنے پر بیٹھے راہل گاندھی، دیگر کانگریس اراکین پارلیامنٹ اور پارٹی کارکنوں کو دہلی پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ہٹا دیا۔ کانگریس کی رکن پارلیامنٹ پرینکا گاندھی اور سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کو بھی حراست میں لیا گیا۔ وہیں، راہل گاندھی کے احتجاج کے بعد وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت نیٹ اور اس سے متعلق جاری احتجاج کے تمام معاملوں پر پارلیامنٹ میں بحث کے لیے تیار ہے۔
دارالحکومت دہلی میں جاری احتجاج کی طرز پر سوموار کو ملک کے کئی دوسرے شہروں میں بھی نوجوانوں کے شدید غصے کا مشاہدہ کیا گیا۔ اروناچل پردیش کی راجدھانی ایٹہ نگر سے لے کر بہار کی راجدھانی پٹنہ تک طلبہ، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کے لوگوں نے وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اور دہلی میں نوجوان مظاہرین پر ہوئے پولیس کریک ڈاؤن کی مذمت کی۔
جنتر منتر اور اس کے آس پاس نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور جنتر منتر کو خالی کرائے جانے کے بعد بھی وہاں احتجاج جاری ہے۔ وہیں، کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ انہوں نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے طلبہ پر ہوئی بربریت پر بحث کا مطالبہ کیا تھا، جس پر برلا نے کہا کہ اس کے لیے انہیں حکومت سے اجازت لینی ہوگی۔
سوموار کو سنسد مارچ کے دوران مظاہرین پر دہلی پولیس کی زیادتی سے متعلق خبریں موصول ہوئی ہیں۔ اس سلسلے میں دہلی ہائی کورٹ سے ایک درخواست کو شنوائی کے لیےلسٹ کرنے کی گزارش کی گئی تھی، جس پر چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا، ’عدالت کو ان سب میں مت گھسیٹو۔‘
حکومت نے پارلیامنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن ’کاکروچ جنتا پارٹی‘کے’سنسد چلو‘مارچ کی وجہ سے جزوی طور پر انٹرنیٹ بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ صبح 10 بجے ہی موبائل انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم، حکومت نے اب تک ان احکامات کی کوئی کاپی پبلک نہیں کی ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق، ٹیلی کام خدمات معطل کرنے سے متعلق ہر آرڈر شائع کیا جانا چاہیے۔
گراؤنڈ رپورٹ: دہلی پولیس، ریپڈ ایکشن فورس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بھاری نفری کی تعیناتی کے بیچ پارلیامنٹ مارچ میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوئے۔ ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو تعلیمی نظام کی حالیہ ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔ وزیر تعلیم کا استعفیٰ بھلے ہی کوئی بہت بڑی تبدیلی نہ لائے، لیکن کم از کم جوابدہی تو طے ہوگی۔ ہم نوجوان یہی چاہتے ہیں۔
نئی دہلی کے جنتر منتر اور آس پاس کے علاقوں میں سی جے پی کی قیادت میں طلبہ کے پُرامن احتجاج کے دوران دہلی پولیس کے لاٹھی چارج سے کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ وہیں، سی جے پی نے مرکزی وزیر جے پی نڈا سے سونم وانگچک کی فوری رہائی، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور خودکشی کرنے والے نیٹ امیدواروں کے اہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
سی جے پی کی جانب سے پارلیامنٹ مارچ کی اپیل کے درمیان جنتر منتر پر ہزاروں مظاہرین جمع ہو گئے ہیں۔ دہلی پولیس نے دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کر دیے ہیں، کئی میٹرو اسٹیشن بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ دریں اثنا، جنتر منتر پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے آئیسا کے طلبہ اسٹوڈنٹ لیڈرنے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔ وہیں، مانسون اجلاس کی شروعات کرتے ہوئےوزیر اعظم نریندر مودی نے اس احتجاجی مظاہرے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔
سیاسی تجزیہ کار یوگیندر یادو نے دی وائر سے کہا، ’سونم نے اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کی ہے۔ وہ اس وقت اسپتال میں ہیں اور وہاں سے جنتر منتر واپس جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پولیس کچھ کہنے کو تیار نہیں ہے۔ لیکن سونم نے سی جے پی کو بتایا ہے کہ جیسے ہی انہیں اسپتال سے نکلنے دیا جاتا ہے، وہ سیدھے جنتر منتر پہنچیں گے۔‘
سونم وانگچک کو سنیچر کی صبح پولیس کے ذریعے زبردستی اسپتال لے جانے پر اپوزیشن کے کئی رہنماؤں نے مرکز کی بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سونم وانگچک، آئیسا کے طلبہ کارکنوں کے ساتھ گزشتہ 21 دنوں سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔
وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگچک کو ہڑتال کے 21ویں دن دہلی پولیس نے حراست میں لے کر زبردستی اسپتال میں بھرتی کر دیا ہے۔ تاہم، بھوک ہڑتال پر بیٹھےآئیسا کے تین ممبر اپنی ہڑتال جاری رکھیں گے۔ وہیں سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک، وزارت تعلیم کی بار بار کی ناکامیوں اور لداخ کے آئینی تحفظات کے مطالبات کو حکومت کی جانب سے نظرانداز کیے جانے کے خلاف غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔دریں اثنا، کئی ماہرین تعلیم، مصنفین، فنکاروں اور فلمسازوں نے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔
ایک مضمون میں آر ایس ایس کے ماؤتھ پیس نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو ’سیاسی طور پر اسپانسرڈ مہم‘ قرار دیا ہے۔ مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ مبینہ طور پر بائیں بازو کے رجحان رکھنے والے نیٹ ورک یا نظریے سے وابستہ ایک وسیع تر نظام کا حصہ ہے، جو سیاسی ڈسکورس کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔