خاص خبر

’تعلیم اور بے روزگاری پر بات ہو سکتی تھی‘: ایس آر سی سی میں ’دماغی نکسل‘ والابیان دہرانے پر اپوزیشن نے وزیر اعظم مودی کو نشانہ بنایا

وزیر اعظم نریندر مودی نے یوم اساتذہ کے موقع پر دہلی یونیورسٹی کے شری رام کالج آف کامرس کے ایک پروگرام میں اپنی ’دماغی نکسل‘ والی بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی ’دماغی نکسل‘ کی ہومیوپیتھک گولی دی، سارے ’دماغی نکسل‘ ایک ایک کرکے باہر آنے لگے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کو تعلیم، روزگار اور نوجوانوں کی فلاح  وبہبود جیسے اہم مسائل پر مرکوز کرنے کے بجائے سیاسی مہم میں تبدیل کر دیا گیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نئی دہلی میں شری رام کالج آف کامرس کی صد سالہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے سنیچر (5 ستمبر) کو دہلی یونیورسٹی کے شری رام کالج آف کامرس (ایس آر سی سی) کی صد سالہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یوم آزادی کی تقریر میں دی گئی ’دماغی نکسل‘ کی ’ہومیوپیتھک گولی‘ کے بعد ’دماغی نکسل ایک ایک کرکے باہر آنے لگے ہیں۔‘

پروگرام میں مودی نے کہا،’جیسے ہی میں نے ’دماغی نکسل‘ کی ہومیوپیتھک گولی دی، سارے ’دماغی نکسل‘ ایک ایک کرکے باہر آنے لگے۔ اور اب عوام بھی ان لوگوں کے اصلی رنگ دیکھ رہے ہیں، جو اس بیماری کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔‘

وزیر اعظم کے اس بیان پر مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نے اس موقع کو بھی اپنے سیاسی پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا۔

تعلیم اور بے روزگاری پر بات ہو سکتی تھی

کانگریس کے طلبہ امور کے انچارج کنہیا کمار نے کہا کہ طلبہ کو امید تھی کہ وزیر اعظم ان کے مسائل اور ملک کے تعلیمی نظام کے بارے میں بات کریں گے۔ اس کے بجائے انہوں نے اس پلیٹ فارم کو اپنی سیاسی مہم کے لیے استعمال کیا۔

دکن ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق، مودی کے 2013 میں ایس آر سی سی میں دی گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے-جس میں مودی نے کہا تھا کہ وہ آدھے بھرے پانی کے گلاس کو پورا بھرا ہوا دیکھتے ہیں، آدھا پانی سے اور آدھا ہوا سے-کمار نے کہا کہ اب انہیں سمجھ آیا کہ دوسرا آدھا حصہ ہوا نہیں بلکہ پی آر  تھا۔

وہیں، کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے وزیراعظم مودی کی تقریر کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نے جوابدہی سے بچنے کے لیے سیاسی لیبل کا استعمال کیا۔

راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے رہنما نے ایکس پر ایک پوسٹ میں الزام لگایا کہ اس پروگرام کو تعلیم، روزگار اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود جیسے اہم مسائل پر  مرکوز کرنے کے بجائے ایک سیاسی مہم میں تبدیل کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا،’نریندر مودی جی کل دہلی یونیورسٹی کے ایس آر سی سی گئے۔ یہ ملک کے نوجوانوں، تعلیم اور ان کے مستقبل پر مکالمے کا ایک موقع تھا۔ لیکن افسوس، نوجوانوں کے سوالوں کا سامنا کرنے کے بجائے تقریر ایک بار پھر سیاسی پروپیگنڈے میں تبدیل ہو گئی۔ ‘

انہوں نے کہا،’جمہوریت میں سوالوں کو دبانے کے لیے اپوزیشن کے لیے ہر سال ایک نئی اصطلاح گھڑ دو، تاکہ اپنی ناکامیوں کو چھپایا جا سکے‘!

کھڑگے نے لکھا،’ناراض پھوپھا، دماغی نکسل، اربن نکسل، خان مارکیٹ گینگ، آندولن جیوی، پرجیوی…  اصطلاح بدلتی رہتی ہیں، لیکن مودی حکومت کی عوام مخالف پالیسیاں نہیں بدلتی۔ ‘

کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ نوجوانوں کے رپورٹ کارڈ میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، طویل عرصے سے زیر التوا سرکاری بھرتیاں، پیپر لیک، مہنگی تعلیم، اسکالرشپ کے کم ہوتے مواقع اور یونیورسٹیوں کی خودمختاری پر بڑھتا ہوا دباؤ شامل ہے۔

دریں اثنا، ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) نے بھی وزیر اعظم کی جانب سے ’دماغی نکسل‘ والی بات دہرائے جانے پر ان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

سی جے پی کے ترجمان سوربھ داس نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا،’واہ! ہندوستان کے ممتاز کالجوں میں سے ایک میں جا کر ایک بار پھر سوال پوچھنے والی نوجوان نسل کو ’دماغی نکسل‘ قرار دینا ان سب سے شرمناک کاموں میں سے ایک ہے، جو کوئی وزیر اعظم کر سکتا ہے۔ اور وہ بھی یومِ اساتذہ کے موقع پر۔‘

سی جے پی کے شریک کنوینر آشوتوش رانکا نے کہا کہ وزیر اعظم اس موقع کو ’تعلیم، روزگار، طلبہ کو درپیش موجودہ چیلنجز اور اگلے 20 برسوں کے لیے ہندوستان کو اپنی الگ شناخت دلانے کے لیے کی جانے والی کوششوں‘ پر بات کرنے کے لیے استعمال کر سکتے تھے۔

رانکا نے کہا،’اس کے بجائے انہوں نے ’دماغی نکسل‘ جیسی مضحکہ خیز باتیں کہیں۔ جب آپ کی ڈگری ’اینٹائر پولیٹکل ہسٹری‘ (مکمل سیاسی تاریخ) میں ہو، تو ایسا ہی ہوتا ہے۔‘

پالیسی محاذ پر بے عملی ‘، مگر جی ڈی پی میں 7.8 فیصد کی نمو

وزیر اعظم نے حال ہی میں جاری کیے گئے ان تخمینوں پر ہونے والی بحث کا بھی ذکر کیا جن میں ہندوستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 7.8 فیصد بتائی گئی ہے۔ اس اعداد و شمار پر ماہرین اقتصادیات کے ساتھ ساتھ وزارت خزانہ کے سابق افسران نے بھی سوال اٹھائے ہیں۔

مودی نے کہا،’7.8 فیصد کی شرح نمو نے ملک میں جوش و خروش پیدا کیا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مغربی ایشیا میں جنگ جاری ہے۔ یہ ہندوستان کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ لیکن جو لوگ ہندوستان کو ’فریجائل فائیو‘ (کمزور معیشتوں) میں دھکیلنے کے لیے جانے جاتے ہیں، وہ ان اعداد و شمار کو ہضم نہیں کر پا رہے ہیں۔‘

سال2013میں ملک کی صورتحال اور موجودہ حالات کا موازنہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا، ’شرح نمو زمین پر آ گئی تھی اور مہنگائی آسمان چھو رہی تھی۔ دنیا ہندوستان میں ’پالیسی پیرا لائسز‘ (پالیسی سازی کے تعطل) کی بات کرتی تھی اور اسے ’پانچ کمزور‘ معیشتوں میں شمار کیا جاتا تھا، لیکن اب دنیا اسے سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت کے طور پر دیکھتی ہے۔‘

کنہیا کمار نے مودی کے دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے صرف پی آر کی ایک مشق کی، جبکہ ملک میں بے روزگاری اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔

کانگریس رہنما نے یہ بھی الزام لگایا کہ طلبہ کو پروگرام میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی اور حاضرین کو منتخب انداز میں مدعو کیا گیا تھا۔