نیپال کی حالیہ قدرتی آفت خطے کے لیے ایک کڑا انتباہ ہے؛ ایسے میں ’نیچر‘ گروپ کے جریدے میں شائع ہونے والی تازہ ترین سائنسی تحقیق، جو جموں و کشمیر کے پہاڑی سلسلوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے سنگین خطرات کو اجاگر کرتی ہے، ہندوستان اور پاکستان کے پالیسی سازوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہونی چاہیے۔
نیپال-تبت بارڈر پر بدھ کو اچانک آئے شدید سیلاب اور اس کے بعد لینڈ سلائیڈنگ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 616 ہو گئی ہے، جبکہ تقریباً 2,000 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ نیپال میں 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں اور اب تک 84 افراد کو حفاظت کے ساتھ بچا لیا گیا ہے۔ اس دوران سیلاب کے بعد تبت میں ایک جھیل بن گئی ہے۔ چین کو خدشہ ہے کہ اگر یہ جھیل اچانک ٹوٹ گئی تو دوبارہ بڑے پیمانے پر سیلاب آ سکتا ہے۔
نیپال-تبت بارڈر کے قریب اچانک آنے والے شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ میں کم از کم 98 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ کیلاش مان سروور یاترا پر گئے 133 ہندوستانی شہریوں سمیت سینکڑوں افراد لاپتہ ہیں۔ نیپال نے بچاؤ اور راحت کے کاموں کے لیے ہندوستان اور چین سے مدد مانگی ہے۔
ویڈیو: آسام سیلاب سے بری طرح متاثر ہے۔ تبت سے ہوتے ہوئے آسام پہنچنے والی برہم پترا ندی میں ہر سال آنے والے سیلاب سے ریاست کی ایک بڑی آبادی متاثر ہوتی ہے۔ اس سال سیلاب کی وجہ سے اب تک 139 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ آسام کے لوگوں کو ہر سال اس تباہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دی وائر کی رپورٹ۔
آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بتایا کہ ریاست کے 3376 گاؤں پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور 127647.25 ہیکٹیئر فصل برباد ہو گئی ہے۔ ریاست کے 23 اضلاع میں بنے 629 راحت کیمپ میں 36320 لوگ پناہ لیے ہوئے ہیں۔
سیلاب سے 6 ضلع میں ساڑھے 4 لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں اور اب تک 23 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ نئی دہلی: آسام میں سیلاب کی وجہ سے حالات اور خراب ہو گئے ہیں۔ اس سےآسام کے 6 ضلع میں ساڑھے 4 لاکھ سے […]
نارتھ ایسٹ میں عام زندگی متاثر ،گزشتہ 48گھنٹوں میں 6 لوگوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ۔ریاستی حکومت نے مرکز سے مانگی مدد۔