جنتر منتر احتجاج: سی جے پی اور لیفٹ کے رہنماؤں، صحافیوں سمیت ہزاروں لوگ حراست میں لیے گئے

تصویر: پی ٹی آئی
جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج سے پہلے دہلی پولیس نے مشہور یوٹیوبر اور یوتھ آئیکون دھرو راٹھی، کاکروچ جنتا پارٹیکے ابھیجیت دیپکے، سوربھ داس اور آشوتوش رانکا، لیفٹ کے رہنماؤں سمیت بعض آزاد صحافیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ دیپکے، داس اور رانکا سنیچر کو ہی ممبئی سے دہلی پہنچے تھے، جہاں انہیں فلائٹ کے اندر سے ہی حراست میں لے لیا گیا۔
نئی دہلی:مشہور یوٹیوبر اور یوتھ آئیکون دھرو راٹھی، کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ابھیجیت دیپکے، سوربھ داس اور آشوتوش رانکا، ساتھ ہی پارٹی کی لیگل ٹیم کی چیف رتنا سنگھ کو سنیچر (10 اکتوبر) کو جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج سے پہلے حراست میں لے لیا گیا۔
دیپکے، داس اور رانکا کو سنیچر کی صبح ممبئی سے دہلی کی فلائٹ کے اندر سے ہی حراست میں لے لیا گیا۔
سی پی آئی (ایم) کی رہنما اور سابق رکن پارلیامنٹ برندا کرات اورکیرالہ حکومت کی سابق وزیر کے کے شیلجا سمیت لیفٹ کے رہنماؤں کو جنتر منتر کے لیے روانہ ہونے سے پہلے حراست میں لے کر بس میں بٹھا دیا گیا۔
برندا کرات نے دی وائر کی جہانوی سین سے کہا،’مودی اور اس حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ ہندوستان کے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور وہ انہیں روک نہیں سکتے۔ دہلی کا دل یہاں کے تمام لوگوں کا ہے۔‘
کیرالہ کے سابق وزیر اعلیٰ پنارائی وجین، رکن پارلیامنٹ جان برٹاس اور کیرالہ کے سابق وزیر خزانہ کے این بالگوپال نے جنتر منتر پر لگائے گئے بیریکیڈز تک مارچ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 163 کی خلاف ورزی نہیں کر رہے ہیں، کیونکہ وہ صرف تین لوگ ہیں۔ اس کے بعد انہیں ایک جیپ میں حراست میں لے لیا گیا۔
دی ہندو کے صحافی ایشیتا مشرا اور سوربھ ترویدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرکے بتایا کہ رات بھر چلی پولیس کارروائی کے دوران دہلی میں تقریباً 4,800 لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سنیچر کی صبح جنتر منتر کے علاقے سے 70 اور لوگوں کو حراست میں لیا گیا۔
معلوم ہو کہ یہ احتجاج چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ایس آئی آر کے خلاف بلایا گیا ہے۔ مجوزہ احتجاج سے پہلے دہلی پولیس نے انٹرنیٹ اور میٹرو خدمات بند کر دی ہیں، سینکڑوں ٹرینیں رد کر دی گئی ہیں، طلبہ اور نوجوان رہنماؤں کو حراست میں لیا ہے، لوگوں کے گھروں پر جا کر پوچھ گچھ کی ہے اور سڑکیں بند کر دی ہیں۔
اسکرول کے صحافی آیوش تیواری کوحراست میں لیا گیا
آیوش تیواری کو نئی دہلی کے آئی ٹی او واقع ایچ کے ایس بھون کے باہر سے حراست میں لیا گیا۔ وہ آج کے احتجاج کی رپورٹنگ کر رہے تھے۔
آیوش نے دی وائر کو بتایا کہ انہوں نے پورے وقت اپنا پریس کارڈ پہن رکھا تھا اور اس وقت وہ پولیس کی بس میں موجود ہیں۔ انہیں بتایا گیا کہ انہیں سرائے روہلا پولیس اسٹیشن لے جایا جا رہا ہے۔
نیوز لانڈری کے تین صحافیوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
اسی طرح دی وائر کی دو صحافیوں- جہانوی سین اور انترا بروآ کو بھی پولیس نے حراست میں لینے کی کوشش کی۔ دی وائر کی نامہ نگار شراوستی داس گپتا، جو ان کے ساتھ موجود تھیں، نے بتایا کہ پریس کارڈ پہنے ہونے کے باوجود پولیس صحافیوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ بتانے کے باوجودکہ وہ صحافی ہیں،انہیں بھی حراست میں لینے کی کوشش کی گئی۔
Why’s Delhi Police picking up journalists with prominent PRESS ID card displayed on them?My colleagues @jahnavi_sen @antarabaruah__ & I almost got detained despite saying again&again we’re journalists
Only when large number of other journalists arrived,they let us go
@thewire_in— Sravasti Dasgupta (@SravastiDasgup2) October 10, 2026
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، 10 اکتوبر سے ایک رات پہلے راجدھانی میں کم از کم 1,000 لوگوں کو حراست میں لیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنیچر کی دوپہر تقریباً 12:30 بجے تک حراست میں لیے گئے لوگوں میں سے کم از کم 250 کا تعلق دہلی کے جنوب مشرقی ضلع سے تھا۔ ان میں خصوصی طور پر شاہین باغ اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے لوگ شامل تھے۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے دہلی پولیس کے حوالے سے بتایا کہ الگ الگ جگہوں سے گروپوں میں دہلی پہنچ رہے تقریباً 500 لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
اے این آئی کی ایکس پوسٹ کے مطابق، پولیس نے کہا، ’ماحول میں کسی بھی طرح کی مداخلت کو روکنے کے لیے مجرمانہ پس منظر رکھنے والے تقریباً 50 لوگوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔‘
پولیس نے یہ بھی بتایا کہ نئی دہلی کو 20 زون میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر زون کے لیے ایک ڈٹینشن سینٹر بنایا گیا ہے۔ دہلی کے تمام اسٹیڈیم میں یہ سینٹر قائم کیے گئے ہیں۔
دوسری ریاستوں میں بھی مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے اور انہیں احتجاجی مظاہرہ کے لیے نئی دہلی پہنچنے سے روکنے کے لیے سینکڑوں میل، ایکسپریس اور پسنجر ٹرینیں رد کر دی گئی ہیں۔
دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی وزارت داخلہ نے 9 اکتوبر کو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں سے کہا کہ وہ دہلی پولیس کے ساتھ مل کر کام کریں اور مظاہرین کو قومی راجدھانی کی جانب بڑھنے سے روکنے کے لیے ’احتیاطی اقدامات‘ کریں۔