مغربی ایشیا کے تنازعات اس بات کے شاہد ہیں کہ فوری عسکری فتح کا تصور اکثر طویل مدتی عدم استحکام میں بدل جاتا ہے۔ جب کسی معاشرے کی شناخت، اس کا عقیدہ اور اس کی تاریخی یادداشت داؤ پر ہو، تو جدوجہد صرف مادی نہیں رہتی؛ بلکہ ایک نظریاتی اور اخلاقی پہلو اختیار کر لیتی ہے۔ ایسے میں’فتح‘ اور ’ شکست ‘کے روایتی پیمانے غیر متعلق ہو جاتے ہیں ۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت اس وقت اسرائیل کے ساتھ نظریاتی ہم آہنگی اورمغربی ایشیاء میں اپنی قومی و انرجی سلامتی کے تحفظ کے بھنور کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔
زاویہ الہندیہ وہ مقام ہے جہاں برصغیر کے مسلمانوں کی روحانی تاریخ اور فلسطین ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوتے ہیں۔ ایسے میں مودی کا زاویہ الہندیہ کو نظر انداز کر کے کنیسٹ کو اولیت دینا کسی ایسے رہنما کا اشارہ نہیں تھا جو پائیدار امن، فلسطینی وقار یا گلوبل ساوتھ کی لیڈرشپ کے لیے کوشاں ہو۔ اس کے علاوہ مودی ان گنے چنے چند سربراہانِ مملکت میں بھی شامل ہیں جنہوں نے گزشتہ دو سالوں کے دوران اسرائیل کا سفر کیا ہے، جب اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی مسلسل نسل کشی میں مصروف رہا ہے۔
دہلی کے کمانی آڈیٹوریم میں ملک کی نامور ادیبہ ارندھتی رائے نے اپنی کتاب ’مدر میری کمز ٹو می‘ پر منعقد مذاکرے کے بعد ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بارے میں کئی اہم باتیں کہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے دوران ہندوستانی حکومت کی خاموشی پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ جو ہو رہا ہے وہ غزہ میں امریکی-اسرائیلی نسل کشی کا ہی تسلسل ہے، لیکن ایران غزہ نہیں ہے۔
اگر تہران جل سکتا ہے تو انقرہ اور استنبول دوحہ، بغداد، بیروت اور مغربی ایشیا کے دیگر شہر کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ عام لوگ محسوس کرتے ہیں کہ جغرافیہ اب حفاظت کی ضمانت نہیں۔ درست نشانے والے میزائل اور ڈرون فاصلے سکیڑ دیتے ہیں۔ نقشہ ممکنہ اہداف کے جال میں بدل چکا ہے۔
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مودی کو اس پر ’کھل کر بولنا چاہیے‘ کہ کیا وہ عالمی نظام کو تشکیل دینے کے طریقے کے طور پر کسی سربراہ مملکت کے قتل کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس موضوع پر خاموشی دنیا میں ہندوستان کی ساکھ کو کمزور کرتی ہے۔
سابق کانگریس صدر اور راجیہ سبھا ایم پی سونیا گاندھی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ہدفی قتل پر مودی حکومت کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب کسی غیر ملکی رہنما کی ٹارگٹڈ ہلاکت پر ہندوستان خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کا واضح دفاع نہیں کرتا، تو یہ خارجہ پالیسی کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں خاموشی غیر جانبداری نہیں ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ میں اترنے کے اپنے انتظامیہ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس سے امریکہ اور بیرون ملک تعینات ہماری افواج کے لیے واضح اور بڑا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کی ہندوستان کی اپوزیشن جماعتوں نے سخت مذمت کی ہے۔ اپوزیشن نے مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دیرینہ ’دوست‘ رہے ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے بارے میں حکومت کا ردعمل ہندوستان کی اقدار، اصولوں اور مفادات کے ساتھ ’غداری‘ کے مترادف ہے۔
امریکہ–اسرائیل کے مشترکہ حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کی تصدیق کے بعد کشمیر، خصوصی طور پر سری نگر میں وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ لال چوک پر ہزاروں افراد اکٹھا ہوئے، کالے جھنڈے لہرائے گئے اور بند کی اپیل کی گئی۔ یہ ردعمل ایران اور کشمیر کے گہرے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت پر ہندوستان نے اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ وہیں، متحدہ عرب امارات پر ایران کے میزائل حملوں کی مذمت کرنے کے فوراً بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو سے بات چیت کی اور جلد از جلد دشمنی ختم کرنے کی اپیل کی۔
اس نایاب انٹرویو میں ایران کے اس وقت کے صدر علی خامنہ ای نے ہندوستانی مسلمانوں کے خدشات، مغربی میڈیا کے رویے، ایران کی خارجہ پالیسی، کردوں کے مطالبات اور فرانس جیسے ممالک کے کردار پر کھل کر بات کی ہے۔ یہ بات چیت اسلامی انقلاب کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے ایک کمیاب دستاویز ہے۔
محمد بن سلمان نے یہ بھانپ لیا ہے کہ ٹرمپ کے لیے ’اصول‘ نہیں بلکہ ’نتائج‘ اہم ہیں۔ ایران پر حملے کے لیے ٹرمپ کو قائل کرنا دراصل امریکہ کو مشرق وسطیٰ کی اس مسلکی جنگ میں ایک ’ہٹ مین‘ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش ہے جس کی جڑیں سنی-شیعہ عصبیت میں پیوست ہیں۔ سلمان کی لابنگ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ عالمی سیاست میں ’اخلاقیات‘ کا جنازہ کب کا نکل چکا ہے۔ جب ایک طاقتور اسلامی ملک دوسرے اسلامی ملک کے خلاف حملے کی وکالت کرے، تو ’او آئی سی‘ اور ’اسلامی بلاک‘ جیسے نعرے محض سیاسی فریب نظر آتے ہیں۔
اسرائیل اور امریکہ نے سنیچر کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا تھا۔ جوابی کارروائی میں ایران نے اسرائیل اور چار خلیجی عرب ممالک — بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات — جہاں امریکہ کے فوجی اڈے ہیں، پر میزائلوں اور ڈرون سے حملے کیے۔
سفارتی احسان فراموشی کی اس سے بدتر مثال کیا ہوسکتی ہے، جب ایران نے نازک وقت میں ہندوستان کو عالمی رسوائی سے بچایا اور بدلے میں نئی دہلی نے اس کو بے یار و مدد گار چھوڑ کر مغربی طاقتوں اور اسرائیل کا دامن پکڑا۔
دنیا جب اس بحران کو بڑھتے ہوئےدیکھ رہی ہے، تو بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک نئے عالمی تنازعہ کے آغاز کا مشاہدہ کر رہے ہیں؟ ایران، جو پانچ ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی تہذیب والا ملک ہے، اس طرح کی جارحیت کے سامنے خاموش رہنے والا نظر نہیں آتا۔
اسرائیل نے ایران پر یہ کہتے ہوئے حملہ کیا کہ یہ اس کے وجود کے لیے خطرہ ہے۔ ایک ملک جس کے پاس ایٹم بم ہے، ایک پڑوسی ملک پر یہ کہہ کر حملہ کرتا ہے کہ وہ ایٹم بم بنانے کے قریب ہے۔
اسرائیل نے یہ کیسے معلوم کیا کہ اعلیٰ ایرانی حکام کے گھر کہاں ہیں اور وہ کہاں سو رہے تھے؟ اس کا سہرا مخبروں کے اس وسیع نیٹ ورک کو جاتا ہے، جو اسرائیل نے ایران کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے اندر بنا رکھا ہے۔