تشدد سے متاثرہ منی پور میں اثر و رسوخ رکھنے والی تنظیم کُکی انپی نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں جاری ایس آئی آر کا عمل قابل قبول نہیں ہے۔ تنظیم کے مطابق، یہ عمل غیر جانبداری، سب کو ساتھ لے کر چلنے اور انتظامی ذمہ داری کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اندرونی طور پر بے گھر آبادی کے ایک بڑے اور کمزور طبقے کی شمولیت کو یقینی بنائے بغیر کسی بھی اہم انتخابی اور انتظامی عمل کو آگے بڑھانا جمہوری نمائندگی کے اصولوں کو کمزور کرتا ہے۔
پارلیامنٹ کا سرمائی اجلاس سوموار کو شروع ہوا ہے، جس میں اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر، دہلی بم بلاسٹ کے بعد قومی سلامتی، اور بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی جیسے مسائل پر بحث کا مطالبہ کیا۔ دریں اثنا، وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارلیامنٹ میں ڈراما نہیں ڈیلیوری ہونی چاہیے۔ نعروں کے لیے پورا ملک خالی پڑا ہے۔
ترنمول کانگریس کے ایک وفد نے جمعہ کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے ملاقات کی اور الزام لگایا کہ ان کے ‘ہاتھ خون سے سنے’ ہیں۔ انہوں نے انہیں کم از کم 40 افراد کی فہرست پیش کی جنہوں نے ایس آئی آر کے عمل کے دوران اپنی جانیں گنوائیں، لیکن الیکشن کمشنر نے کہا کہ یہ محض الزامات ہیں۔