کولکاتہ: کالج کی مسلم وائس پرنسپل کو استعفیٰ کے لیے مجبور کیا گیا، پھر اے بی وی پی نے کیا دفتر کا ’شدھی کرن‘

کولکاتہ کے سریندر ناتھ کالج کی وائس پرنسپل محمدی ترنم نے اپنے ہی دفتر میں طلبہ کی جانب سے تقریباً 23 گھنٹے تک گھیر کر رکھے جانے کے بعد مبینہ استعفیٰ پر دستخط کر دیے۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبہ نے ان کے لیے استعفیٰ تیار کیا اور اس پر دستخط کرنے کو مجبور کیا۔ ان کے نکلنے کے بعد اے بی وی پی سے وابستہ طلبہ نے ان کے دفتر میں اگر بتیاں جلا کر گنگاجل چھڑکا۔

کولکاتہ: محمدی ترنم 25 سال سے ٹیچر کی حیثیت کام کر رہی ہیں اور ستمبر 2007 سے کولکاتہ کے سریندر ناتھ کالج میں وائس پرنسپل اور ٹیچر انچارج کے عہدے پر ہیں۔ 11 ستمبر کو انہوں نے استعفیٰ کے ایک خط پر دستخط کیے، جس سے پہلے طلبہ نے انہیں ان کے ہی دفتر میں تقریباً 23 گھنٹے تک گھیر کر رکھا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ طلبہ نے ان کے لیے استعفیٰ کا خط تیار کیا اور انہیں اس پر دستخط کرنے کو مجبور کیا۔
پولیس سکیورٹی میں ان کے وہاں سے جانے کے بعد اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کی قیادت میں طلبہ کے ایک گروپ نے ان کے چیمبر میں گھس کر اگر بتیاں جلائیں اور گنگاجل کا چھڑکاؤ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چیمبر کا ’شدھی کرن‘کر رہے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے ایسے پوسٹر لگائے، جن میں ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا تھا، جبکہ وہ پہلے ہی استعفیٰ کے خط پر دستخط کر چکی تھیں۔
ترنم نے دی وائر کو بتایا، ’طلبہ کی جانب سے ذات، مذہب اور سیاست کو لے کر اتنی گالیاں اور اتنی فحش باتیں سننی پڑیں کہ میں دو دن تک بیمار رہی۔ انہوں نے مجھے گالیاں دیں، میرا مذاق اڑایا اور ہر طرح کی قابل اعتراض باتیں کہیں۔ اتنی زیادہ ذہنی اذیت جھیلنے کے بعد بھی میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک وہ مجھے مار نہیں دیتے، میں استعفیٰ نہیں دوں گی۔‘
احتجاج میں شامل چوتھے سال کے طالبعلم رجت اگر نے اس الزام سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا، ’وائس پرنسپل جو دعویٰ کر رہی ہیں، وہ غلط ہے۔ ان پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا تھا۔‘
سال 1884 میں قائم اور انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما سریندر ناتھ بنرجی کے نام پر رکھے گئے اس کالج کے سابق طلبہ میں راجندر پرشاد اور خالدہ ضیاء شامل ہیں۔ کالج کی گورننگ باڈی کی صدارت اب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے موجودہ ایم ایل اے کر رہے ہیں۔

معاملہ یہاں تک کیسے پہنچا؟
تنازعہ حاضری کو لے کر ہے۔ قانون کے طلبہ کے لیے سیمسٹر اگزام میں بیٹھنے کے لیے 65 فیصد حاضری لازمی ہے۔ طلبہ کے ایک طبقے کی حاضری اس سے کم تھی۔ آٹھویں سیمسٹر کے امتحانات 29 ستمبر سے شروع ہونے ہیں۔ ترنم نے اپنے طلبہ سے کہا کہ حاضری سے متعلق اصول سختی سے لاگو کیا جائے گا۔
ترنم نے کہا، ’ایک گروپ طلبہ کو کلاس روم میں آنے سے روک رہا ہے اور ساتھ ہی طرح طرح کے مطالبات کر رہا ہے۔ میں سرکاری ملازم ہوں اور سرکاری ضابطوں کے مطابق کام کر رہی ہوں۔‘
تاہم، مبینہ شدھی کرن کی رسم یہ بتاتی ہے کہ کسی شخص کے یہاں ہونے سے یہ جگہ باقی کچھ کو اپنے لائق نہیں لگی۔ معلوم ہو کہ آرٹیکل 17 کسی بھی شکل میں چھوا چھوت کو ختم کرتا ہے اور شہری حقوق کے تحفظ کا ایکٹ 1955 اس کی وجہ سے ہونے والے امتیاز کو جرم قرار دیتا ہے، لیکن یہاں ان میں سے کوئی بھی لاگو نہیں ہوتا۔ دونوں ہی دفعات ذات کے تناظر میں ہیں۔
اگرچہ ترنم ایک مسلم خاتون ہیں اور کالج میں تیزی سے بڑھتی ہوئی بی جے پی اور دیگر ہندوتوا تنظیموں سے وابستہ طلبہ تنظیموں کی موجودگی کے درمیان وہ ان کے نشانے پر آ گئی ہیں۔
سریندر ناتھ کالج میں اے بی وی پی کی کوئی باضابطہ طور پر اعلانیہ اکائی نہیں ہے۔ پھر بھی، کالج احاطے کے اندر جھنڈا لگانے والی یہ واحد تنظیم ہے۔ اس کے کالج لیڈر سمبت داس نے دی وائر سے کہا، ’ہم ان کا چہرہ نہیں دیکھنا چاہتے۔ ہم ان کا استعفیٰ چاہتے ہیں۔ ہم اس مطالبے پر قائم ہیں۔‘

ترنم نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ اس منظم حملے کے پیچھے کون ہے۔ انہوں نے کہا، ’لیکن میں کسی کا نام نہیں لوں گی۔ میں پولیس میں شکایت بھی درج نہیں کراؤں گی۔ وہ میرے اپنے بچوں جیسے ہیں۔‘
ترنم نے اس واقعہ کے فوراً بعد ہی حکومت کو ای میل بھیج کر بتایا تھا کہ انہوں نے دباؤ میں آ کر استعفیٰ کے خط پر دستخط کیے تھے۔ 12 ستمبر کو انہوں نے عوامی طور پر اس خط کو مسترد کر دیا۔
تاہم، جس اتھارٹی کو یہ خط موصول ہوا ہے، اس نے اپنا موقف واضح نہیں کیا ہے۔ گورننگ باڈی، جس کے صدر بی جے پی کے ایم ایل اے کاستوو باگچی ہیں، نے یہ نہیں کہا ہے کہ استعفیٰ کا خط غلط ہے۔ نہ ہی اعلیٰ تعلیم کے محکمہ نے ایسا کوئی بیان جاری کیا ہے۔
باگچی کا کہنا ہے کہ انہوں نے طلبہ کی جانب سے ترنم کے خلاف کی گئی شکایات اعلیٰ تعلیم کے محکمہ کو بھیج دی ہیں۔ تقریباً ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود سرکاری طور پر یہ واضح نہیں ہے کہ کالج میں وائس پرنسپل ہیں یا نہیں۔
باگچی نے دعویٰ کیا، ’یہ یقینی بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں کہ تمام طلبہ امتحان میں بیٹھ سکیں۔ طلبہ نے اس پروفیسر کے خلاف کئی شکایات دی ہیں۔ میں نے ان معاملوں کو اعلیٰ تعلیم کے محکمہ کو بھیج دیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اب ایک اچھا ماحول واپس آئے گا۔‘
سریندر ناتھ کالج ایک ہی عمارت سے دن اور شام دونوں وقت کالج چلاتاہے۔ طلبہ کے مطابق، کالج کے تقریباً ہر کمرے پر سیاسی طور پر با اثر شام کے کالج کے گروپ کا قبضہ ہے۔ 916 طلبہ والے لا ڈپارٹمنٹ کا اپنا کوئی دفتر تک نہیں ہے۔
دوسرے سال کے طالبعلم انوراگ رائے نے دی وائر سے کہا، ’کالج میں کلاسز نہیں ہوتیں کیونکہ اساتذہ نہیں آتے۔ دور دراز سے آنے والے طلبہ کو بغیر کوئی کلاس اٹینڈ کیے واپس لوٹنا پڑتا ہے۔ فطری طور پر کالج آنے کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے۔‘
مغربی بنگال کالج اینڈ یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کے سکریٹری نیلےکمار ساہا نے کہا کہ مجموعی طور پر صورتحال تشویشناک ہے۔ ساہا نے کہا، ’کووڈ کے بعد کے دور میں پورے صوبے کے کالجوں میں یہ رجحان بڑھا ہے کہ طلبہ داخلہ لینے کے بعد کلاس میں آنے کے بجائے پیسے کمانے کے لیے دوسرے کام کرنے لگتے ہیں۔ ساتھ ہی، پچھلی حکومت نے طلبہ کی اس حاضری کو لے کر بالکل مداخلت نہیں کی تھی۔‘
اب اساتذہ اتوار کو بھی کلاسز چلا رہے ہیں تاکہ طلبہ 29 ستمبر سے پہلے 65 فیصد حاضری مکمل کر سکیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ترنم خود کلکتہ یونیورسٹی کے ساتھ تال میل کر کے ان کلاسز کا انتظام کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’میں نہیں چاہتی کہ انہیں نقصان اٹھاناپڑے۔‘
(انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔)