طلبہ پر لاٹھی چلانے سے کوئی حل نہیں نکلے گا، ان کی بات سنیے: مرلی منوہر جوشی

تصویر بہ شکریہ: فیس بک
بی جے پی کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر مرلی منوہر جوشی نے طلبہ کے خلاف طاقت کے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خدشات کو سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے۔ انہوں نے جمہوریت کے لیے منصفانہ انتخابات، جوابدہ حکومت اور شفاف انتظامیہ کو ضروری قرار دیا اور آئینی خلاف ورزیوں کے معاملے میں سپریم کورٹ کے رول کا ذکر کیا۔
نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر مرلی منوہر جوشی نے جمعرات (8 اکتوبر) کو کہا کہ طلبہ کی شکایتوں اور خدشات کو صبر وتحمل کے ساتھ سنا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے جائز مطالبات اٹھانے والے طلبہ کو اپنی بات رکھنے کا موقع ملنا چاہیے۔
دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق، دہلی میں فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (فکی) کے 21ویں اعلیٰ تعلیمی کانفرنس کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جوشی نے کہا، ’طلبہ ہمارے بچے ہیں…ان کے خدشات سنیے، ان پر لاٹھیاں مت چلائیے۔ نوجوانوں کے خلاف طاقت کے استعمال سے کوئی حل نہیں نکل سکتا۔‘
ایس آئی آر کے معاملے پر اپوزیشن کے موقف کے بارے میں پوچھے جانے پر جوشی نے کہا کہ جمہوریت کا نظام منصفانہ انتخابات، جوابدہ حکومت اور شفاف انتظامی ڈھانچے پر منحصر کرتاہے۔
انہوں نے کہا،’لنکن نے تقریباً 200 سال پہلے کہا تھا کہ عوام کی، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے بنی حکومت کا زمین سے کبھی خاتمہ نہیں ہوگا۔ میں آج یہ کہتا ہوں کہ عوام کی، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے بنی حکومت اسی وقت تک قائم رہ سکتی ہے، جب تک انتخابات منصفانہ ہوں، حکومتیں جوابدہ ہوں اور نوکر شاہی شفاف ہو۔‘
اس سے پہلے دی ہندو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جوشی نے ملک بھر میں جاری ایس آئی آر کو اقتدار میں بنے رہنے کی کوشش قرار دیا تھا۔ ایس آئی آر کے بارے میں ان کی رائے پوچھے جانے پر جوشی نے کہا تھا، ’یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہر حکومت اقتدار میں بنے رہنا چاہتی ہے۔‘
’اگر آئین کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو… ‘
بی جے پی رہنما نے جمہوریت میں اپوزیشن کے رول کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے متبادل پروگرام پیش کرنا چاہیے اور عوام کے تئیں جوابدہ بنے رہنا چاہیے۔
جوشی نے کہا،’اگر آئین کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو سپریم کورٹ کو اس پر توجہ دینی چاہیے۔ جمہوریت کو اسی اصول پر چلنا چاہیے۔‘
اس سے قبل بھی جوشی نے نیٹ امتحان کے حوالے سے ہونے والے طلبہ کے احتجاج کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ طلبہ کے خدشات جائز ہیں اور انہیں حساسیت کے ساتھ دور کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے طلبہ کے احتجاج کو محض امن و قانون کا مسئلہ قرار دینے پر بھی سوال اٹھایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے احتجاج کرنے والے طلبہ، بالخصوص خواتین مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر تنقید کی تھی۔
اگست 2026 میں امر اجالا کو دیے گئے اس انٹرویو میں جوشی نے مودی حکومت کی تعلیمی پالیسی اور اس کی ترجیحات پر سوال اٹھائے تھے۔ انہوں نے تعلیمی بجٹ میں کمی، سرکاری اسکولوں کے بندہونے، تعلیم کی بڑھتی ہوئی نجکاری، پیپر لیک اور بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے معاملے میں حکومت اور سسٹم کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
جوشی نے پیپر لیک کے مسئلے کو صرف امتحانات کے نظام کی خامی تسلیم کرنے کے بجائے اسے معاشرے اور اقتدار میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی سے جوڑا تھا۔ انہوں نے کہا تھاکہ جب لوگوں کو ہر جگہ پیسہ اور بدعنوانی کا بول بالا نظر آتا ہے، تو وہ بھی غلط راستہ اختیار کرنے لگتے ہیں، اور اس کے لیے بنیادی طور پر حکومت اور اس کے سسٹم کو ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔