الیکشن کمیشن کے حلف نامے سے ایس آئی آر پر شکوک و شبہات مزید گہرے

علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی
الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ کمیشن کے اندر تمام فیصلے اتفاق رائے سے ہوئے ہیں۔ تاہم، الیکشن کمیشن نے انڈین ایکسپریس کی رپورٹ – جس میں ایس آئی آر کا عمل شروع ہونے کے بعد دس مہینے کے اندر دو الیکشن کمشنروں نے 14 بار اعتراضات درج کرائے تھے – میں سامنے آئے کسی بھی نتیجے کی تردید نہیں کی۔
نئی دہلی: ایس آئی آرکو لاگو کرنے کے طریقے کو لے کر الیکشن کمیشن کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ایسے میں الیکشن کمیشن نے سوموار(26اکتوبر)کو سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ کمیشن کے اندر تمام فیصلے اتفاق رائے سے ہوئے ہیں۔
یہ حلف نامہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب گزشتہ مہینے دی انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ایس آئی آر کا عمل شروع ہونے کے بعدمحض دس مہینوں کے اندر دونوں الیکشن کمشنروں- وویک جوشی اور سکھبیر سنگھ سندھو- نے فیصلے لیے جانے کے بعد 14 بار اعتراضات درج کرائے تھے۔
حلف نامے کو غور سے پڑھنے پر پتہ چلتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے دراصل دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں سامنے آنے والے کسی بھی نتیجے کی تردید نہیں کی ہے۔
کمیشن نے یہ ضرور کہا ہے کہ قانون کی نظر میں کسی اخبار کی رپورٹ کو ثبوت نہیں مانا جا سکتا، لیکن اس کے بعد اس نے رپورٹ میں سامنے آنے والے حقائق کو چیلنج نہیں کیا۔ اس کے بجائے کمیشن نے کہا کہ اس نے کسی بھی خبر رساں ادارے کو کوئی داخلی نوٹ یا فائل نہ تو جاری کی ہے اور نہ ہی جاری کرنے کی اجازت دی ہے۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ دونوں الیکشن کمشنروں نے آن لائن فارم-6 میں کی گئی تبدیلیوں پر اعتراض کیا تھا۔ سندھو نے ان تبدیلیوں کو ’غیر قانونی‘قرار دیا تھا۔ حلف نامے میں الیکشن کمیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ فارم-6 میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، لیکن یہ تسلیم کیا ہے کہ اعلامیہ فارم کے ’آن لائن پیج پر درج‘کیا گیا تھا۔
اسی طرح، دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ گوا میں 97اہل ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے باہر رہ گئے تھے، کیونکہ مرکزی سطح پر کنٹرول کیے جانے والے ای سی آئی نیٹ سافٹ ویئر نے ریاست میں انتخابی حکام کو ان ناموں کو دوبارہ شامل کرنے سے روک دیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے حلف نامے میں بھی اس حقیقت کی تردید نہیں کی گئی۔ اس کے بجائے کمیشن نے صرف اتنا کہا کہ ان 97 ووٹروں میں سے 88نے نام شامل کرانے کے لیے فارم-6 کے ذریعے دوبارہ درخواست دے دی ہے۔
مغربی بنگال کے معاملے میں رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ عدالتی افسران کی جانب سے ووٹر لسٹ میں شامل کیے جانے کے اہل قرار دیے گئے ووٹروں کے خلاف ریاستی انتخابی حکام نے اپیلیں دائر کی تھیں۔ الیکشن کمیشن نے اس حقیقت کی بھی تردید نہیں کی۔ اس کے بجائے حلف نامے میں کہا گیا کہ یہ معاملے ’کمیشن کے علم میں نہیں لائے گئے تھے‘۔
دو الیکشن کمشنروں کے اعتراضات اور چیف الیکشن کمشنر کے یکطرفہ فیصلے
الیکشن کمیشن کے تینوں ارکان سے امیدکی جاتی ہے کہ اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں اکثریت کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں۔آر ٹی آئی کے تحت دستیاب کرائے گئے فائل نوٹنگ میں کابینہ سکریٹریٹ نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی۔
اس کے باوجود انڈین ایکسپریس نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایس آئی آر کے عمل کے سلسلے میں دونوں الیکشن کمشنروں نے دس مہینوں میں 14بار اعتراضات درج کرائے تھے۔ ان میں سرکاری ریکارڈ اور فائل نوٹنگ میں درج ایسے اعتراضات بھی شامل تھے، جن میں کہا گیا تھا کہ بعض فیصلے ان کی جانکاری کے بغیر کیے گئے۔
الیکشن کمیشن کے حلف نامے میں الیکشن باڈی کے کام کاج کو کنٹرول کرنے والے قوانین اور ضابطوں کی تفصیلات دی گئی ہیں، لیکن اہم بات یہ ہے کہ دونوں الیکشن کمشنروں کی جانب سے کیے گئے اعتراضات سے انکار نہیں کیا گیا ہے۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، اعتراضات میں سندھو اور جوشی نے مغربی بنگال میں ان 16.1 لاکھ ووٹروں کے خلاف دائر اپیلوں پر سوال اٹھایا تھا، جنہیں عدالتی افسران نے ووٹر لسٹ میں شامل کیا تھا۔ اس کے علاوہ، الیکشن کمیشن کے نام پر ضروری منظوری کے بغیر بھیجے گئے پیغامات پر بھی اعتراض کیا گیا تھا۔
اگرچہ حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ فیصلہ لینے کے عمل میں سب کی رضامندی ضروری ہے، لیکن دونوں الیکشن کمشنروں کے اعتراضات نے یکطرفہ فیصلے کیے جانے کے حوالے سے بڑے سوال کھڑے کیے ہیں۔
حلف نامے کی ابتدا اس طرح سے ہوتی ہے کہ اسے ’الیکشن کمیشن کے تینوں ارکان کے متفقہ فیصلے‘سے ’منظوری‘دی گئی ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایس آئی آر سے متعلق تینوں احکامات-بہار میں شروع کیے گئے تجرباتی عمل کا حکم اور اس کے بعد اکتوبر 2025اور مئی 2026میں جاری کیے گئے دو دیگر مراحل کے احکامات—’اتفاق رائے سے لیے گئے تھے‘۔
حلف نامے میں کہا گیا ہے، ’اس کے برعکس کیے گئے تمام دعوے غلط ہیں اور ان کی تردید کی جاتی ہے۔ الیکشن کمیشن پر الزام لگانے کی کوشش افسوسناک ہے۔‘
یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ فیصلے قانون کے مطابق ہی کیے گئے تھے، حلف نامے میں کہا گیا ہے، ’کسی بھی فیصلہ سازی کے عمل میں، حکم جاری کرنے کے مجاز افسر تک معاملہ پہنچنے سے پہلے انتظامی سلسلے میں شامل کسی بھی افسر کی تجاویز، تبصرے، مختلف آرا یا سوال پر غور کیا جاتا ہے۔‘
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمشنروں کی جانب سے دوسرے الیکشن کمشنروں، چیف الیکشن کمشنر یا کسی افسر کو دی گئی کوئی ’تجویز، تبصرہ یا سوال‘بذات خود الیکشن کمیشن کا فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
فارم-6 میں ’غیر قانونی‘تبدیلی کا معاملہ
الیکشن کمیشن نے اپنے جوابی حلف نامے میں فارم-6 میں کسی بھی ترمیم سے انکار کیا ہے۔ نئے ووٹروں کو فہرست میں شامل کرنے کے لیے استعمال ہونے والا یہ قانونی فارم ہے، جس میں تبدیلی صرف پارلیامنٹ کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔
تاہم، کمیشن نے یہ تسلیم کیا ہے کہ سابقہ ایس آئی آر کے عمل سے اپنا تعلق ثابت کرنے کی شرط پر مشتمل اعلامیے کو ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی)یا ای-سائن تیار کرنے کے لیے فارم کے آن لائن پیج پر درج کیا گیا تھا۔
اس سے، اصل میں الیکشن کمیشن یہ تسلیم کرتا دکھائی دیتا ہے کہ متنازعہ اعلامیے کو فارم کا حصہ بنا کر آن لائن فارم-6 میں تبدیلی کی گئی تھی۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، الیکشن کمشنروں سندھو اور جوشی نے فارم-6 میں اس تبدیلی پر اعتراض کیا تھا۔ سندھو نے اسے ’غیر مجاز‘اور ’غیر قانونی‘قرار دیا تھا۔
حلف نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آن لائن اعلامیے کو جس طریقے سے پیش کیا گیا، اس سے ایسا تاثر پیدا ہو سکتا تھا کہ گویا فارم-6 میں ترمیم کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ، فارم-6 کے ساتھ منسلک اعلامیے کے معاملے میں کمیشن کے حلف نامے میں تضاد بھی نظر آتا ہے۔ گزشتہ ماہ جاری کردہ اپنی پریس ریلیز میں الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ فارم-6 کے ساتھ منسلک اعلامیے کو سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ہے۔
لیکن اب جوابی حلف نامے میں کمیشن نے کہا ہے کہ یہ اعلامیہ فارم-6 کا حصہ نہیں ہے، بلکہ ایک ’الگ اور آزاد دستاویز‘ہے۔ کمیشن کے مطابق، یہ ان دستاویزوں میں سے ایک ہے، جنہیں کسی بھی درخواست گزار یا ووٹر کے لیے فارم-6 کے ساتھ جمع کرانا ضروری ہے۔
مغربی بنگال میں ووٹروں کے خلاف اپیلیں
دونوں الیکشن کمشنروں نے مغربی بنگال میں ان ووٹروں کے خلاف اپیلیں دائر کیے جانے کے معاملے پر الیکشن کمیشن کے افسران کو خط لکھا تھا، جنہیں عدالتی افسران نے ووٹر لسٹ میں شامل کیے جانے کا اہل قرار دیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے افسران کی جانب سے دائر ان اپیلوں میں متعلقہ ووٹروں کے نام فہرست سے خارج کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
الیکشن کمیشن کا حلف نامہ یہ واضح نہیں کرتا کہ ان اپیلوں کو دائر کرنے کی اجازت کس مجاز افسر نے دی تھی۔ اس کے بجائے کمیشن نے کہا ہے کہ متعلقہ ووٹروں کے نام پہلے ہی ووٹر لسٹ میں شامل ہیں۔
حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کو مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل افسر (سی ای او)کی جانب سے ایک خط موصول ہوا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ اپیلیں سی ای او کے دفتر کے افسران نے دائر کی تھیں، جنہیں سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت ایسا کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ کمیشن کے مطابق، یہ معاملے ’کمیشن کے علم میں نہیں لائے گئے تھے‘۔
حلف نامے میں ووٹروں کے نام ہٹانے کے مطالبے پر مشتمل ان اپیلوں کو درست ثابت کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے 1 اپریل اور 6 اپریل کے احکامات کا حوالہ دیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 1 اپریل کے حکم میں درج ہے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ ٹریبونل ووٹر لسٹ میں نام شامل کیے جانے کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیلوں کی سماعت کریں گے۔
تاہم، اس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ 5اپریل کی شام چند ہی منٹوں کے اندر اتنی بڑی تعداد میں اپیلیں کس بنیاد پر دائر کی گئیں۔ دی وائر کی اپرنا بھٹاچاریہ نے اپنی رپورٹ میں اس واقعہ کا ذکر کیا تھا۔
گوا میں ووٹر لسٹ سے باہر رہ گئے نام
انڈین ایکسپریس نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ گوا میں 98ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے باہر رہ گئے تھے۔ مقامی انتخابی افسران نے ان ناموں کو دوبارہ شامل کرنے کی کوشش کی، لیکن مرکزی سطح پر کنٹرول کیے جانے والے سافٹ ویئر نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔
اس معاملے میں الیکشن کمیشن کے حلف نامے میں صرف اتنا کہا گیا ہے کہ ان میں سے 88ووٹروں نے نام شامل کرانے کے لیے فارم-6 کے ذریعے درخواست دی، جس کے بعد ان کے نام دوبارہ شامل کر لیے گئے۔
لیکن حلف نامے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ گوا کے الیکٹورل رجسٹریشن افسر(ای آر او) سات دنوں کے اندر آٹھ بار درخواست کرنے کے باوجود ان ووٹروں کے نام دوبارہ فہرست میں کیوں شامل نہیں کر سکے، حالاں کہ اخبار کی رپورٹ میں اس حقیقت کا ذکر کیا گیا تھا۔
سینٹرلائزڈ سافٹ ویئر پر سوال
گوا کا یہ معاملہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے دونوں شریک کار- سندھو اور جوشی- کی جانب سے ای سی آئی نیٹ کے بارے میں اٹھائے گئے ایک اور اہم اعتراض کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ ای سی آئی نیٹ وہ سسٹم ہے جس میں ووٹر لسٹ کا پورا ڈیٹا بیس موجود ہے۔
فائلوں میں درج اعتراضات کے مطابق، الیکشن کمیشن کے انفارمیشن ٹکنالوجی (آئی ٹی)سیکٹر نے ایسے ماڈیول تیار کیے تھے جن کے بارے میں کمیشن کو جانکاری نہیں دی گئی تھی۔ دونوں الیکشن کمشنروں کو ان ماڈیول کے بارے میں میڈیا کے ذریعے پتہ چلا۔
سندھو نے فائل پر درج اپنے تبصرے میں لکھا تھا کہ علاقائی سطح پر کام کرنے والے افسران نے بتایا ہے کہ وہ اس سافٹ ویئر تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے تھے۔
حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ کسی انتخابی حلقہ کی ووٹر لسٹ کی ذمہ داری الیکٹورل رجسٹریشن افسر(ای آر او)کے پاس ہی رہتی ہے، کیونکہ وہی قانونی طور پر مجاز افسر ہوتا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ای سی آئی نیٹ ایک ایسا میڈیم ہے جس کے ذریعے ای آر او اپنا کام کرتے ہیں اور ای آر او کے حکم کے بغیر ووٹر لسٹ میں نہ کوئی نام شامل کیا جاتا ہے، نہ خارج کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی تبدیلی کی جاتی ہے۔
حلف نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئی آئی ٹی ممبئی، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس (آئی آئی ایس سی)، بنگلورو کے ماہرین اور سینئر انتخابی افسران پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ نئے ماڈیولز کو الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کرنے سے پہلے اس کمیٹی میں ان پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
انڈین ایکسپریس نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ جوشی نے الیکشن کمیشن کے سافٹ ویئر کے استعمال کی نگرانی کے لیے بیرونی ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کی تھی۔ انہوں نے سافٹ ویئر کے مرکزی سطح پر ارتکاز کو ایک مسئلہ قرار دیتے ہوئے یہ تجویز پیش کی تھی۔
تاہم، حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ اب ایسی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، لیکن اس میں دونوں الیکشن کمشنروں کےخدشات کا ذکر نہیں ہے۔ اس میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دونوں کمشنر پہلے ہی دے چکے تھے یا انتخابی حلقوں کے افسران سافٹ ویئر تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر تھے۔
کابینہ سکریٹری کو خط
دونوں الیکشن کمشنروں نے کابینہ سکریٹری ٹی وی سومناتھن کو بھی خط لکھ کر ایک افسر کی جانب سے کام کی تقسیم میں کی گئی تبدیلیوں پر شکایت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تبدیلیوں سے نگرانی کا ایک اہم سسٹم ختم ہو گیا تھا، حالاں کہ وہ پہلے ہی ان تبدیلیوں کے خلاف مشورہ دے چکے تھے۔
حلف نامے میں ان خط و کتابت کی بنیاد پر لگائے گئے الزامات کو ’غلط فہمی پر مبنی‘قرار دیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ کام کی تقسیم پہلے کے دفتری حکم کے مطابق ہی برقرار رہی اور متعلقہ افسر کی جانب سے جاری کردہ کام کی تقسیم سے متعلق ہدایت، دونوں الیکشن کمشنروں کے مشترکہ حکم سے منسوخ کیے جانے کے بعد ’کبھی نافذ ہی نہیں کی گئی‘۔
آر ٹی آئی کے تحت ملی جانکاری سے پتہ چلا ہے کہ دونوں الیکشن کمشنروں نے ڈپٹی الیکشن کمشنر (ڈی ای سی)منیش گرگ کے سلسلے میں کابینہ سکریٹری کو خط لکھا تھا۔ گرگ نے رابطہ افسر اور ڈی ای سی (ایڈمنسٹریشن ) کا عہدہ سنبھالنے کے ’چند ہی گھنٹوں کے اندر‘سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنروں، ڈپٹی الیکشن کمشنروں اور ہم منصب افسران کے درمیان کام کی تقسیم سے متعلق ایک حکم جاری کر دیا تھا۔ یہ حکم دونوں الیکشن کمشنروں یا الیکشن کمیشن سے ’بات چیت کیے بغیر یا انہیں اطلاع دیے بغیر‘جاری کیا گیا تھا۔
حلف نامے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کام کی تقسیم سے متعلق یہ حکم ’کبھی نافذ نہیں کیا گیا‘، لیکن اس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ متعلقہ افسر نے عہدہ سنبھالتے ہی اور کمیشن کو اطلاع دیے بغیر ایسا حکم کیوں جاری کیا تھا۔
حلف نامے میں اس سوال کا جواب بھی نہیں دیا گیا ہے کہ جوشی نے کابینہ سکریٹری کو لکھے اپنے خط میں جس بات کا ذکر کیا تھا، اس کے مطابق کام کی تقسیم سے متعلق فائل الیکشن کمشنروں کو کیوں دستیاب نہیں کرائی گئی، حالاں کہ انہوں نے واضح طور پر اس کی درخواست کی تھی۔
(انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔)