گزشتہ ایک ماہ سے جنتر منتر پر جاری نوجوانوں کے احتجاج کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو پہلی بار اس معاملے پر بیان دیا۔ تاہم، ان کے بیان میں نہ تو نوجوانوں کے احتجاج کا ذکر کیا گیا، نہ ہی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے یا طلبہ پر پولیس کے مبینہ تشدد کا۔ اس کے ساتھ ہی سخت کارروائی کا ان کا وعدہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔
سال 2024 کے بعد کے واقعات اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ کیا امت شاہ صرف دوسرے نمبر کے لیڈر ہیں، جنہیں نریندر مودی اپنی سیاست مضبوط کرنے کے لیے آگے کر رہے ہیں یا پھر 2029 پر نظر جمائے بی جے پی-جو 2024 جیسی صورتحال دوبارہ نہیں چاہتی— جانشینی کے کسی منصوبے پر کام کر رہی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کی تحریک پر پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں کے 193 اراکین نے دستخط کیے تھے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں نے سوموار کو اس تحریک کو مسترد کر دیا۔ تاہم، اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے سلسلے میں منعقد آل پارٹی میٹنگ کے دوران جب اپوزیشن نے ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد کے بیک چینل ثالث کے طور پر ابھرنے پر سوال اٹھایا، تو حکومت نے جواب دیا کہ ہندوستان پاکستان کی طرح’دلال ملک‘ نہیں ہے۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت نے اجلاس میں تمام سوالوں کے جواب دے دیے ہیں اور اپوزیشن نے اپنی حمایت ظاہر کی ہے، تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کو’غیر تسلی بخش‘ قرار دیا۔
اپوزیشن نے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیامنٹ میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کی اور الزام لگایا کہ اسپیکر کے طور پر برلا نے جانبدارانہ انداز میں کام کیا۔ ان الزامات میں دسمبر 2023 میں 100 اراکین پارلیامنٹ کی معطلی بھی شامل ہے۔
پارلیامنٹ میں جاری بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے دوران اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کی تحریک لانے کی تیاری میں ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کو سپریم کورٹ کے جسٹس کی طرح پارلیامانی مواخذے کے عمل کے ذریعے عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔
مغربی ایشیا میں کشیدگی میں اضافہ اور آبنائے ہرمز (سمندری راستہ) میں غیر یقینی صورتحال کے بیچ توانائی سلامتی کے حوالے سے ہندوستان کے خدشات گہرے ہو گئے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور درآمدی انحصار کے درمیان پیٹرولیم وزیر کی خاموشی کئی سوال کھڑے کر رہی ہے۔ اسی کے ساتھ، حکومت کی تیاریوں اور متبادل پر بحث تیز ہو گئی ہے۔
دی وائر نے حکومت کے اب تک منظر عام پر نہیں لائے گئے ’سہیوگ‘ پورٹل (آئی ٹی انٹرمیڈیئری) کے یوزر مینوئل کا تجزیہ کیا ہے، جس میں مرکزی حکومت کے آن لائن مواد ہٹانے سے متعلق مکمل طریقہ کار کو بیان کیا گیا ہے۔ مینوئل بتاتا ہے کہ آن لائن مواد ہٹانے کے احکامات یکطرفہ ہوتے ہیں، جہاں اسٹیک ہولڈرز میں حکومت اور سوشل میڈیا کمپنیوں کے درمیان گفت وشنید ہوتی ہے، جبکہ اصل مواد لکھنے یا بنانے والا ندارد ہوتا ہے۔
حکومت کی کل آمدنی میں انکم ٹیکس (شخصی ٹیکس) کی حصہ داری 21 فیصد ہے، جو کارپوریٹ ٹیکس (18فیصد) سے زیادہ ہے۔ دستاویز کے مطابق، 2026-27 کے لیے کارپوریٹ ٹیکس کا بجٹ تخمینہ 1231,000 کروڑ روپے ہے، جبکہ انکم ٹیکس کی آمدنی کا تخمینہ 1466,000 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔
لوک سبھا میں منگل کو انتخابی اصلاحات پر بحث شروع ہوئی۔ اس دوران اپوزیشن نے 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جاری ایس آئی کارروائی آر کی خامیوں کو اجاگر کیا۔ بحث کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن پر غیر جانبداری کے فقدان کا الزام لگایا اور بیلٹ پیپر سے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔
پارلیامنٹ کا سرمائی اجلاس سوموار کو شروع ہوا ہے، جس میں اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر، دہلی بم بلاسٹ کے بعد قومی سلامتی، اور بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی جیسے مسائل پر بحث کا مطالبہ کیا۔ دریں اثنا، وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارلیامنٹ میں ڈراما نہیں ڈیلیوری ہونی چاہیے۔ نعروں کے لیے پورا ملک خالی پڑا ہے۔
الیکشن کمیشن نے بہار میں متنازعہ ایس آئی آرکے بعد انتخابی فہرستوں میں شامل غیر ملکی افراد کی تعداد کے بارے میں کوئی ڈیٹا دستیاب نہیں کرایا ہے، لیکن ان مبینہ ‘غیر قانونی تارکین وطن’ کی موجودگی بھارتیہ جنتا پارٹی کی بہار انتخابی مہم میں ایک بڑا ایشو بن کر ابھری ہے۔
الیکشن کمیشن نےبتایا ہے کہ اب گوا، پڈوچیری، چھتیس گڑھ، گجرات، کیرالہ، مدھیہ پردیش، اتر پردیش، راجستھان، مغربی بنگال، تمل ناڈو، انڈمان اور نکوبار جزائر اور لکشدیپ میں ایس آئی آر کرایا جائے گا۔ آسام کو اس عمل سے باہر رکھا گیا ہے۔ بنگال، تمل ناڈو اور کیرالہ کے ساتھ ساتھ آسام میں بھی اگلے سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے بہار میں ‘اسپیشل انٹینسو ریویژن’ مکمل کرتے ہوئے حتمی ووٹر لسٹ جاری کر دی ہے۔ 47 لاکھ رائے دہندگان کے نام خارج کر دیے گئے ہیں۔کمیشن نے نام ہٹائے جانے کی واضح وجوہات کی جانکاری نہیں دی ہے۔ دستاویزوں کی کمی کی وجہ سے ہٹائے گئے نام، نئے ووٹروں کی تعداد اور غیر قانونی غیر ملکی تارکین وطن کی تعداد جیسی اہم جانکاری بھی نہیں دی گئی ہے۔
دی وائر کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت میں اویسی نے حد بندی ایکٹ کے اطلاق، وقف بائی یوزر، املاک وقف کرنے کے لیےکم از کم پانچ برس تک ’پریکٹسنگ مسلمان‘ کی شرط پر ’مکمل روک‘ نہیں لگائے جانے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔
الیکشن کمیشن نے حق اطلاعات قانون کے تحت پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں 2003 کے بہار ایس آئی آر کی کاپی فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ اس کے بجائے، اس نے انتخابی ریاست میں جاری موجودہ عمل کے لیے جون 2025 کے آرڈر کا لنک دے دیا ہے۔
دلی ہائی کورٹ نے ڈی پی ڈی پی ایکٹ، 2023 کا حوالہ دیتے ہوئے سینٹرل انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) کے 2016 کے اس آرڈر کو خارج کر دیا، جس میں دلی یونیورسٹی کو وزیر اعظم نریندر مودی کی ڈگری عام کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، اس قانون کو ابھی تک مطلع نہیں کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے بہار میں ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کے تنازعہ اور ‘ووٹ چوری’ کے الزامات کی وضاحت پیش کی، لیکن اہم سوالوں کا جواب نہیں دیا۔ راہل گاندھی سے حلف نامہ طلب کیا گیا، جبکہ بی جے پی ایم پی انوراگ ٹھاکر پر خاموشی اختیار کی گئی۔ غیر ملکی تارکین وطن، دستاویزوں اور ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیوں پر کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔
بہار کے بھوجپور ضلع کے آرہ اسمبلی حلقہ کے 41 سالہ منٹو پاسوان کو الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر مہم کے تحت جاری کی گئی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں مردہ قرار دے دیا تھا۔ 12 اگست کو پاسوان سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔
سوموار کو اپوزیشن لیڈروں نے بہار ایس آئی آر کے خلاف پارلیامنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ نکالا تھا۔ اس دوران راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں قائدحزب اختلاف ملیکارجن کھڑگےاور راہل گاندھی سمیت اپوزیشن کے ارکان پارلیامنٹ کو دہلی پولیس نے حراست میں لیا۔
کانگریس کے رکن پارلیامنٹ اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے انتخابات کے دوران ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے اپنے الزامات کا اعادہ کرتے ہوئے ایک ریلی میں کہا کہ الیکشن کمیشن کو اپوزیشن لیڈروں کو دھمکی دینے کے بجائے مشین ریڈ ایبل فارمیٹ ووٹر لسٹ دستیاب کرانی چاہیے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کوضائع نہیں کرنا چاہیے۔
بہار میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں غریب، مسلم اکثریتی اور روزی روٹی کے لیے دوسری ریاستوں میں جانے والے اضلاع سے بڑی تعداد میں ناموں کو حذف کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غربت، ہجرت اور ناموں کے ہٹائے جانے کے درمیان براہ راست تعلق ہے۔
ملک کی سرکردہ دلت تنظیموں کی ایک آرگنائزیشن نیشنل کنفیڈریشن آف دلت اینڈ آدی واسی آرگنائزیشن کی جانب سے کرائے گئے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریاست کے 71فیصد سے زیادہ دلت رائے دہندگان کواسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) کے عمل کی وجہ سے اپنے ووٹ کے حق سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔
مرکزی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 15 سال بعد مردم شماری اکتوبر 2026 سے دو مرحلوں میں شروع ہو گی۔ اس کے ساتھ ذات پر مبنی اعداد و شماربھی جمع کیے جائیں گے۔ اپوزیشن نے تاخیر پر سوال اٹھائے ہیں اور الزام لگایا ہے کہ بی جے پی حد بندی کے ذریعے جنوبی ریاستوں کی سیٹیں گھٹانا چاہتی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے علی پور دوار میں ایک ریلی میں مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات کے لیے انتخابی بگل بجاتے ہوئے آپریشن سیندور کو درگا پوجا کے دوران ہونے والے ‘سیندور کھیلا’ سے جوڑا تھا۔ اس پر سی ایم ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ آپریشن کے نام کےساتھ ‘سیاسی ہولی’ کھیل رہے ہیں۔
حال کے مہینوں میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے کانگریس کے رکن پارلیامنٹ گورو گگوئی کی اہلیہ کے خلاف پاکستان کی آئی ایس آئی کے ساتھ روابط رکھنے کا الزام لگایا ہے۔ گگوئی نے کہا کہ ان کے خاندان کے خلاف یہ ہتک عزت کی مہم شرما کی جانب سے اپنے خاندان کی غیر قانونی سرگرمیوں کو چھپانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔
بہار انتخابات سے پہلے مرکزی حکومت کا یہ فیصلہ 2024 کی انتخابی مہم میں بی جے پی کے اس موقف کے بالکل برعکس ہے، جب اس نے ذات پر مبنی مردم شماری کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک ایسا قدم قرار دیا تھا جس سے سماج تقسیم ہو گا۔ تاہم، حکومت نے مردم شماری یا متعلقہ ذات پر مبنی مردم شماری کے لیے کوئی ٹائم لائن نہیں دی ہے۔
مرکزی حکومت نے 24 اپریل کو بلائی گئی آل پارٹی میٹنگ میں کہا ہے کہ حالیہ برسوں میں کاروبار کی ترقی اور سیاحت کی واپسی سمیت سب کچھ ٹھیک ہونے کے باوجود پہلگام دہشت گردانہ حملہ ایک ‘چوک’ تھی۔ اپوزیشن پارٹیوں نے میٹنگ میں پی ایم مودی کی غیر حاضری اور حملے کے بعد میڈیا اور سوشل میڈیا پر شروع کی گئی نفرت انگیز مہم پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے مدنظرمنظور کی گئی ایک قرارداد میں پاکستان کو ‘جان بوجھ کر ہندوؤں کو نشانہ بناتے ہوئےمنصوبہ بند دہشت گردانہ کارروائی’ کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا۔ پارٹی نے بی جے پی پراس سانحہ کے بہانے پولرائزیشن اور تفرقہ کو بڑھاوا دینے کا الزام بھی لگایا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے صدر جمہوریہ کو ریاستوں کے گورنروں کی طرف سے بھیجے گئے بلوں پر فیصلہ لینے کے لیے ٹائم لائن دینے کے چند دنوں بعد نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے سپریم کورٹ پر تنقید کرتے ہوئے آرٹیکل 142- جو سپریم کورٹ کو اختیارات دیتا ہے – کو ‘جمہوری قوتوں کے خلاف جوہری میزائل’ قرار دیا۔
بی جے پی نے کانگریس پرنیشنل ہیرالڈ اخبار کو دی گئی پبلک پراپرٹی کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اس پر کانگریس نے سوال کیا کہ کیا آر ایس ایس کے ترجمان پانچ جنیہ اور آرگنائزرمفت میں کام کرتے ہیں۔
گزشتہ فروری میں منی پور کے سی ایم این بیرین سنگھ کے استعفیٰ کے بعد صدر راج نافذ کیا گیا تھا۔ آرٹیکل 356 کے مطابق، صدر راج کے نفاذ کے دو ماہ کے اندر اسے پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرنا ضروری ہے۔ بدھ کی رات دیر گئے لوک سبھا میں 40 منٹ کی بحث کے بعد اسے منظور کیا گیا۔
وقف بل پر طویل بحث کے بعد آدھی رات کے بعد ایوان میں ووٹنگ کروائی گئی، جہاں اس کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔ ایوان میں بحث کے دوران متحدہ اپوزیشن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا۔
ملک میں رہنماؤں کی ہیٹ اسپیچ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بارے میں پوچھے جانے پر مرکزی حکومت نے پارلیامنٹ میں کہا کہ پولیس اور پبلک آرڈر ریاست کا موضوع ہیں۔ انڈیا ہیٹ لیب کی جانب سے فروری میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 2024 میں ہندوستان میں سیاست دانوں کی ہیٹ اسپیچ کے 462 معاملے رپورٹ ہوئے، جن میں سے 452 کے لیے بی جے پی لیڈر ذمہ دار تھے۔
دیہی ترقی کے وزیر مملکت چندر شیکھر پیمسانی نے لوک سبھا میں کہا کہ سات کروڑ کی آبادی کے باوجود تمل ناڈو کو یوپی کے مقابلے زیادہ منریگا فنڈ ملتا ہے۔ تاہم، منریگا کی ویب سائٹ کے مطابق، اس مالی سال میں تمل ناڈو کو یوپی کے مقابلے میں 2348 کروڑ روپے کم ملے ہیں۔
کرناٹک حکومت کی جانب سے سرکاری ٹھیکوں میں مسلمانوں کے لیے 4 فیصد ریزرویشن دینے والے بل پر پارلیامنٹ میں ہنگامہ ہوا۔ بی جے پی نے ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار پر مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینے کے لیے آئین کو تبدیل کرنے کا الزام لگایا، وہیں کانگریس نے کہا کہ وہ جھوٹے بیان سے ایوان کو گمراہ کر رہے ہیں۔
کامن ویلتھ ہیومن رائٹس انیشیٹو کی 2024 کے لوک سبھا اور چار اسمبلی انتخابات میں 22 سیاسی پارٹیوں کی طرف سے اکٹھا کیے گئے اور خرچ کیے گئے فنڈ کے بارے میں رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ ملک کی 22 جماعتوں نے مہم پر مجموعی طور پر 3861.57 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ اس کا 45 فیصد سے زیادہ بی جے پی نے خرچ کیا۔
تشدد متاثرہ منی پور میں صدر راج نافذ ہے، جس کے باعث مرکزی حکومت نے ریاستی بجٹ پارلیامنٹ میں پیش کیا ہے۔ بجٹ پر بحث کے دوران اپوزیشن نے کہا کہ یہ زمینی حقیقت سے بالاتر ہے۔ منی پور کے دونوں ممبران پارلیامنٹ نے بھی کہا کہ تشدد متاثرہ ریاست کے لوگوں کے لیے بجٹ میں کچھ نہیں ہے۔
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے اگلے چیف الیکشن کمشنر کے انتخاب کے لیے کمیٹی کی میٹنگ میں اختلاف ظاہر کیا اور کمیٹی کی تشکیل کو ہی غیر متوازن قرار دیا۔ دریں اثنا، وزارت قانون نے گیانیش کمار کو نیا چیف الیکشن کمشنر بنانے کا اعلان کیا ہے۔
بہادرگڑھ سیٹ سے کانگریس کے باغی راجیش جون نے آزاد امیدوار کے طور پر کامیابی حاصل کی، جبکہ 11 دیگر سیٹوں پر جہاں بی جے پی نے جیت درج کی، وہاں کانگریس کے باغی آزاد امیدوار دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔