فلاحی اسکیموں کو ووٹر آئی ڈی سے جوڑنے کے خلاف سی پی آئی (ایم)، کہا – غریبوں کو محروم کیے جانے کا خدشہ

علامتی تصویر: پی ٹی آئی
مرکزی وزیر راجیو رنجن سنگھ نے کہا ہے کہ فلاحی اسکیموں کے مستفیدین کی پہچان کے لیے اب آدھار بھروسے مند نہیں رہ گیا ہے۔ مستفیدین کو اپنی پہچان ثابت کرنے اورادائیگی کے لیے ووٹر آئی ڈی نمبر کے ساتھ بایومیٹرک تصدیق بھی کرانی ہوگی۔ اس تجویز کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے سی پی آئی (ایم) نے کہا کہ آدھار کارڈ کو پوری طرح محفوظ بتانے کے بعد اب حکومت خود ہی اسے ہٹا رہی ہے۔
نئی دہلی: کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) یعنی سی پی آئی (ایم) نے بدھ (4 نومبر) کو مرکزی حکومت کی اس تجویز کو تنقید کا نشانہ بنایا، جس میں فلاحی اسکیموں کا فائدہ اٹھانے کے لیے ووٹر آئی ڈی اور بایومیٹرک تصدیق کو لازمی بنانے کی بات کہی گئی ہے۔
پارٹی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس سے گاؤں میں رہنے والےغریبوں کے لیے سرکاری اسکیموں کا فائدہ حاصل کرنا اور دشوار ہو جائے گا۔ ساتھ ہی ایس آئی آر کے دوران نام کاٹے جانے سے پیدا ہونے والی دشواریوں میں بھی اضافہ ہوگا۔
بیان میں پارٹی کی پولت بیورو نے کہا کہ مرکزی وزیر راجیو رنجن سنگھ کی جانب سے مستفیدین کو ادائیگی کے لیے آدھار پر مبنی شناختی نظام کو ہٹانےکے اعلان سے سرکاری فلاحی اسکیموں کا فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے لوگوں کے لیے نئی پریشانیاں پیدا ہوں گی۔
پارٹی نے ایسی کئی مثالوں کا حوالہ دیا، جن میں بایومیٹرک مشینوں کے آنکھوں کی پتلی (آئرس) کی شناخت نہ کر پانے کے باعث بزرگ خواتین زرعی مزدوروں کو سرکاری اسکیموں کے فائدے سے محروم ہونا پڑا۔ اسی طرح جسمانی محنت کرنے والے مزدوروں کو بھی تصدیق کے عمل میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ ان کی انگلیوں کے نشان (فنگر پرنٹ) گھس جانے کے باعث مشینوں سے میل نہیں کھا سکے۔
سی پی آئی (ایم) نے یہ بھی کہا کہ الکٹرانک کے وائی سی (ای-کے وائی سی) کے عمل میں اسمارٹ فون کی لازمی شرط دیہی خاندانوں کے لیے پریشانی کا باعث بنتی ہے، کیونکہ ان کے پاس ایسے آلات دستیاب نہیں ہوتے۔
پارٹی نے کہا کہ ووٹروں کے فوٹو شناختی کارڈ (ای پی آئی سی) نمبروں کے مجوزہ استعمال کے حوالے ہماری تشویش ہے، کیونکہ اس وقت ملک میں ایس آئی آر کا عمل جاری ہے۔ پارٹی نے ایس آئی آر کو ’بڑے پیمانے پر لوگوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کی ایک مہم‘ قرار دیا۔
سی پی آئی (ایم) کا دعویٰ ہے کہ 13.4 کروڑ سے زیادہ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کر دیے گئے ہیں۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ اس کا سب سے زیادہ اثر حاشیے پر رہنے والے طبقات، مسلمانوں، خواتین اور معاشی طور پر کمزور لوگوں پر پڑا ہے۔
پارٹی نے کہا، ’اب فلاحی اسکیموں کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے ووٹر آئی ڈی طلب کرنے سے یہ اسکیمیں اور بھی محدود ہو جائیں گی، جس کے نتیجے میں بہت سے لوگ ان کے فائدے سے محروم رہ جائیں گے۔‘
پارٹی نے مزید الزام لگایا کہ کچھ ریاستی حکومتیں ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونے کی بنیاد پر لوگوں کو راشن اور دیگر سرکاری سہولیات فراہم کرنے سے انکار کر رہی ہیں۔ سی پی آئی (ایم) نے کہا کہ ووٹر لسٹ سے کسی کا نام خارج کیے جانے کو سماجی فلاحی اسکیموں کے فائدے سے محروم کرنے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔
پارٹی نے آدھار کے معاملے پر مرکزی حکومت کے سابقہ موقف پر بھی سوال اٹھائے۔ اس نے الزام لگایا کہ حکومت نے پہلے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ آدھار لازمی نہیں ہوگا، لیکن بعد میں خاموشی سے اسے تمام فلاحی اسکیموں پر مسلط کر دیا۔
سی پی آئی (ایم) نے کہا، ’آدھار کو پوری طرح محفوظ (فول پروف) قرار دینے کے بعد اب حکومت خود ہی اسے ہٹا رہی ہے۔‘
پارٹی نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مجوزہ تبدیلی کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔
مرکزی وزیر راجیو رنجن سنگھ نے کہا ہے کہ مستفیدین کو اپنی شناخت ثابت کرنے اور ادائیگی حاصل کرنے کے لیے اپنے ای پی آئی سی نمبر کے ساتھ بایومیٹرک تصدیق بھی کرانی ہوگی۔
وزیر کا استدلال ہے کہ مستفیدین کی شناخت کے لیے اب آدھار کارڈ بھروسے مند نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ اندراج کی سہولیات ہر جگہ دستیاب ہیں اور آدھار کارڈ چند ہی منٹوں میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’آدھار کارڈ اب آدھار نہیں رہا۔ جو بھی مستفیدین ہیں، انہیں ادائیگی کے لیے اپنے ووٹر آئی ڈی کا ای پی آئی سی نمبر اور بایومیٹرک تصدیق کرانی ہوگی۔ اب وہی ان کا آدھار ہے، اسی کی بنیاد پر ادائیگی کی جائے گی۔‘
تاہم، انہوں نے ان اسکیموں کا واضح طور پر ذکر نہیں کیا جن میں مجوزہ نظام نافذ کیا جائے گا۔
اس اعلان کے بعد مجوزہ نظام کے دائرہ کار کو لے کر سوال اٹھنے لگے ہیں، کیونکہ وزارت پنچایتی راج براہ راست ایسی اسکیمیں نہیں چلاتی جن کے تحت مستفیدین کو رقم کی ادائیگی کی جاتی ہو۔ تاہم، دیہی رہائشی امداد، پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم کسان) اور سماجی تحفظ کی پنشن سمیت مرکزی حکومت کی کئی دیگر اسکیموں میں مستفیدین کی شناخت اور ادائیگی کے لیے آدھار کا استعمال کیا جاتا ہے۔