یو پی: اسلام قبول کرنے پر گھر میں نظر بند کیے گئے شاملی کے نوجوان کو ہائی کورٹ نے آزاد کروایا

الہ آباد ہائی کورٹ نے گھر میں نظر بند کیے گئے شاملی کے 31 سالہ آیوش ملک کو آزاد کر دیا، جنہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کرنے اور ایک مسلم خاتون سے شادی کرنے کی بات کہی تھی۔ ملک نے الزام لگایا تھا کہ اس کے بعد ان کے والد نے انہیں دھمکا کر گھر میں نظر بند کر دیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ بالغ شخص کو اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے اور شریک حیات چننے کا حق ہے۔

آیوش ملک۔ (تصویر بہ شکریہ: ایکس)

نئی دہلی: الہ آباد ہائی کورٹ نے بدھ (16 ستمبر) کو گھر میں نظر بند کیے گئے شاملی کے 31 سالہ آیوش ملک کو آزاد کر دیا ہے۔

اس سے پہلے عدالت کے سامنے ملک نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور ایک مسلم خاتون سے شادی کی ہے۔ ان کا الزام تھا کہ اس کے بعد ان کے والد نے انہیں دھمکا کر گھر میں بند کر دیا۔

جسٹس سندیپ جین کی بنچ کے سامنے ملک نے کہا کہ اسلام قبول کرنا ان کا اپنا فیصلہ تھا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ان پر کسی طرح  کا دباؤ، دھمکی یا زبردستی نہیں تھی۔

ہبیس کارپس کی درخواست پر شنوائی کے دوران عدالت نے کہا کہ ملک نے واضح طور پر بتایا ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا۔ عدالت کے مطابق، ریکارڈ میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جس سے ان کے بیان پر شک کیا جا سکے۔

ملک نے اس سے پہلے الزام لگایا تھا کہ انہیں 4 جون 2026 سے گھر میں نظر بند رکھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کے والد نے انہیں دھمکایا اور ان کی آزادی پر روک لگا دی۔

وہیں، ملک کے والد نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ ان کے بیٹے کو ورغلایا گیا ہے یا اس کا ’برین واش‘کیا گیا ہے اور اس نے اپنی مرضی سے اسلام قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بیٹے کی سلامتی کی فکر ہے اور وہ اس کے اسلام قبول کرنے اور چاندنی قریشی سے شادی کرنے کے فیصلے سے متفق نہیں ہیں۔

عدالت نے اس پر کہا کہ کسی بالغ شخص کا یہ فیصلہ کہ وہ کس سے شادی کرنا چاہتا ہے یا کس کے ساتھ تعلق رکھنا چاہتا ہے، اس کی شخصی آزادی اور خودمختاری کا حصہ ہے۔

دوست نے دائر کی تھی عرضی

قابل ذکر ہے کہ ملک کے دوست محمد سلطان نے حبس بے جا (ہیبیس کارپس)کی درخواست دائر کر کے کہا تھا کہ ملک نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے۔ ان کا الزام تھا کہ ملک کے والد نے سرکاری حکام کے ساتھ مل کر انہیں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا ہے۔

گزشتہ 9 ستمبر کو جسٹس جین نے اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے ملک کے والد اور سرکاری حکام کو انہیں عدالت کے سامنے پیش کرنے کو کہا تھا۔

غور طلب ہے کہ بدھ کو عدالت نے ملک کو آزاد کر دیا۔

اس سلسلے میں عدالت نے کہا کہ وہ اپنی پسند کی جگہ اور اپنی پسند کے شخص کے ساتھ رہنے کے لیے آزاد ہیں۔ وہ اپنی پسند کے مذہب کو ماننے اور اس پر عمل کرنے کے لیے بھی آزاد ہوں گے۔ ساتھ ہی، وہ قانون کے مطابق اپنے ازدواجی زندگی کے حوالے سے درست فیصلہ لے سکتے ہیں۔