پرینکا گاندھی کے بیٹے ریحان کی نمائش سے نوجوانوں کے احتجاج کی 74 تصویریں ہٹائی گئیں، پرینکا بولیں – نوجوانوں کی آواز دبانے کی کوشش

بیکانیر ہاؤس میں ریحان واڈرا۔ پس منظر میں ان کی نمائش کی تصویریں۔ تصویر: ایکس / پرینکا گاندھی

آرٹسٹ اور فوٹوگرافر ریحان واڈرا نے الزام لگایا ہے کہ دہلی کے بیکانیر ہاؤس میں 25 اکتوبر تک چلنے والی ان کی تصویروں کی نمائش سے نوجوانوں کے حالیہ احتجاج کو درج کرنے والی تقریباً 74 تصویریں ہٹا دی گئی ہیں۔ ان سے ہندوستانی ترنگے کی دو تصویریں بھی ہٹانے کو کہا گیا تھا، لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔

نئی دہلی:دہلی کے بیکانیر ہاؤس  پرآرٹسٹ اور فوٹوگرافر ریحان واڈرا نے الزام لگایا ہے کہ ان کی سولو تصویری نمائش’نو آئیڈیا از فائنل‘کے آغاز سے پہلے مینجمنٹ نے ان سے نوجوانوں کے حالیہ احتجاج کو درج کرنے والی تقریباً 74 تصویریں ہٹانے کو کہا۔

ریحان واڈرا کانگریس کی رکن پارلیامنٹ پرینکا گاندھی واڈرا اور کاروباری شخصیت رابرٹ واڈرا کے بیٹے ہیں۔

یہ پہلی بار تھا جب ریحان اپنے کام کے ذریعے عہد حاضر کے حالات کی عکاسی کر رہے تھے۔ ریحان نے دی وائرکی صحافی انترا بروآ کو بتایا کہ 21اکتوبر کو ان کی نمائش شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے بیکانیر ہاؤس کی جانب سے ان سے 105تصویروں میں سے 75کو ہٹانے کو کہا گہا۔ انہیں20اکتوبر کی شام تقریباً چھ بجے مینجمنٹ کی جانب سے فون آیا اور بتایا گیا کہ ان کے کام کا کچھ حصہ بیکانیر ہاؤس کی ’عریانیت اور سیاسی مواد‘سے متعلق پالیسی کے خلاف ہے۔

جن تصویروں کو ہٹانے کے لیے کہا گیا، ان میں زیادہ تر دہلی میں ہوئے حالیہ مظاہروں سے متعلق بلیک اینڈ وہائٹ تصویریں ہیں- کہیں احتجاج میں شامل ایک اکیلے کو پکڑتا پولیس اہلکاروں کا ایک گروپ، کہیں اکیلے آئین کو ہاتھ میں لیے کھڑا  شخص، تو کہیں سپریم کورٹ تک راہل گاندھی کے مارچ میں امڈنے والا ہجوم۔

انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں ریحان نے لکھا،’آج شام سات بجے شروع ہونے والی میری نمائش ’نو آئیڈیا از فائنل‘میں دکھائے جانے والے زیادہ تر فن پاروں کو ہٹانے کے لیے بیکانیر ہاؤس کی انتظامیہ نے مجھے محض پانچ گھنٹے پہلے مجبور کیا۔ یہ تصویریں دہلی میں نوجوانوں کے احتجاجی مظاہرے کی تھیں۔ ظاہر ہے، یہ مواد ’قابل اعتراض‘ہے۔ انہوں نے مجھ سے ترنگے کی دو تصویریں ہٹانے کے لیے بھی کہا۔ میں نے انکار کر دیا۔ میں ہندوستانی ترنگے کی تصویر نہیں ہٹاؤں گا۔‘

نمائش بدھ کو مقررہ وقت پر شروع ہوئی، تاہم اس میں تقریباً 40تصویریں ہی دکھائی گئیں۔ وائلڈ لائف فوٹوگرافی، تجریدی فن پاروں اور حالیہ نوجوانوں کی تحریکوں کی تصویروں پر مشتمل یہ نمائش اتوار تک چلنے والی ہے۔

ریحان نے دی وائرسے کہا،’مجھے جو کچھ بھی ہوا ،اس کوسمجھنے میں وقت لگا۔ میرے لیے ان تصویروں کی نمائش کرنا بہت ضروری تھا۔ آپ اس کےسیاق وسباق اور میرے بیک گراؤنڈکو ایک طرف رکھ کر سوچیے- دہلی میں رہنے والے ایک آرٹسٹ، جو بہت سے مظاہروں میں جاتا ہے- کیا یہاں ان کا شو نہیں  ہو سکتا؟‘

ریحان واڈرا نے بتایا کہ انہوں نے سیاسی شخصیات  سے متعلق ان  کےسابقہ کام، جن کی نمائش بیکانیر ہاؤس  میں ہوئی تھی، اس کے بارے میں بتایا تھا۔بدھ کو بیکانیر ہاؤس کے پرنسپل ریذیڈنٹ کمشنر روہت کمار اس کام کا جائزہ لینے وہاں پہنچے تھے۔ دی وائرنے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا جواب موصول ہونے پر اس خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔

ریحان بتاتے ہیں،  ’انہوں وہاں مجھ سے جو وقت چل رہا ہےاور جو تناظرہے اس  بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پورے شہر میں قلعہ بندی  کر دی گئی ، جواس کو سیاسی بناتا ہے؛اور یہ صحیح وقت نہیں ہے۔‘

’ پہلی بات تو یہ ہے کہ صرف’سیاسی مواد‘بھر کہہ دینا گمراہ کن ہے، اورجن تصویروں میں نعرے تھے، وہ میں پہلے ہی ہٹا چکا تھا۔‘ ریحان کاکہنا تھا کہ وہ کچھ تصویروں کے بارے میں بات چیت کرنے کے لیے تیار تھے، لیکن بعض تصویروں کے معاملے میں کسی قسم کی گفت و شنید نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا  ہےکہ وہ انڈین یوتھ کانگریس کے حوالے کو ہٹانے کو راضی تھے۔

ریحان نے مزید بتایا کہ انہیں کہا گیا کہ اس نمائش کے معاملے میں راجستھان حکومت  کی بھی مداخلت ہے اور اس بات پر ’اتفاق‘ہو چکا ہے کہ کسی بھی طرح  کا سیاسی مواد دکھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ریحان کے مطابق، ان کی نمائش کے بارے میں کانسیپٹ نوٹ، لے آؤٹ شیئر کیے جانے کے باوجود ایسا  ہوا۔ انہیں 21اکتوبر کی شام پانچ بجے تک کا الٹی میٹم دیا گیا تھا،ورنہ تمام تصویریں ہٹا دی جائیں گی ۔

ریحان بتاتے ہیں کہ انہوں نے یہ بھی سوچا تھا کہ اس ہدایت پر عمل کرتے ہوئے کینوس کو پلٹ دیں گے،جس سے انکار کر دیا گیا۔ ’یہ بذات خود ایک بیان ہوتا۔‘ اس کے بعد انہوں نے سوچا کہ ان تصویروں کو ایک کونے میں رکھ دیں، لیکن آخرکار انہیں نمائش سے ہٹا کر الگ رکھ دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان سے ہندوستانی قومی پرچم کی دو تصویریں ہٹانے کے لیے بھی کہا گیا تھا، مگر انہوں نے انکار کر دیا۔

ریحان نے کہا،’میں نے کہہ دیا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا۔  وہ چاہیں تو خود آکر انہیں ہٹا سکتے ہیں۔انہوں نے ایک تصویر وہاں چھوڑی، اس  میں کوئی شخص نہیں ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں،’میرا پورا کریئر یہی ہے-  75فوٹو ہٹانا۔ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ اگر کوئی اور فن کار ہوتا تو کیا وہ ( بیکانیر ہاؤس) ایسا کرتے؟‘

ریحان نےدی وائرسے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ان کی اورنمائشوں کے سلسلے میں بھی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، اگرچہ فی الحال ان کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ دسمبر میں وہ اس نمائش کو بنگلورو لے جانے والے ہیں۔

تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ دہلی میں اس نمائش کےلیے پُرعزم ہیں، کیونکہ یہ وہی شہر ہے، وہ  جہاں کے  ہیں، وہی شہرہ ہے، جوان احتجاجی مظاہروں کاگواہ رہا ہے۔

ریحان کہتے ہیں،’میں یہاں وائلڈ لائف کی تصویروں پر مشتمل نمائش نہیں لگا سکتا کہ بس یہ دکھاؤں کہ سب کچھ کتنا خوبصورت ہے۔ ایسا کرنا میرے لیے بے ایمانی ہوتی۔ اگر میں ایسا کرتا تو لگتا کہ میں خوف زدہ ہوں۔ مجھے یہ فکر ہونے لگتی کہ لوگ سمجھیں گے کہ میں سیاست میں آنے والا ہوں۔‘

’پورے ملک میں نوجوانوں کی آواز دبائی جا رہی ہے‘

ریحان کی ماں اور کانگریس کی رکن پارلیامنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے تصویریں ہٹائے جانے کے مبینہ قدم کی مذمت کرتے ہوئے اسے نوجوانوں کی آواز دبانے کی کوشش قرار دیا۔

انہوں نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے کہا،’میرے خیال میں یہ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ آپ کو کیا لگتا ہے؟ وہ ایک نوجوان لڑکا ہے، لیکن میرا ماننا ہے کہ آپ جانتے ہیں، پورے ملک میں نوجوانوں کی آواز دبائی جا رہی ہے۔ اس لیے یہ توقع کے عین مطابق ہے کہ وہ کسی کے ساتھ بھی ایسا کریں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا،’احتجاجی مظاہروں کی جو تصویریں انہوں نے کھینچی تھیں، ان میں کوئی تبصرہ نہیں تھا اور نہ ہی کوئی ایسی چیز تھی جو کسی کے لیے توہین آمیز ہو؛ یہ  تو بس احتجاجی مظاہروں کا ایک بصری نمونہ تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی سوچ کیا ہے۔ اب یہ جمہوریت نہیں رہی۔ آج یہ ان کے ساتھ ہوا ہے، کل کسی اور فن کار کے ساتھ ہوگا۔‘

ایکس پر ایک پوسٹ میں پرینکا گاندھی نے آزادی اظہار سے متعلق ایک پیغام بھی شیئر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب اقتدار میں بیٹھے لوگ دوسروں کے اظہار خیال سے ڈرنے لگتے ہیں، تو وہ دراصل خود اپنے اقتدار کو کمزور کر لیتے ہیں۔

ان کی پوسٹ میں لکھا تھا،’جب کوئی طاقتور شخص دوسرے کے اظہار سے ڈرنے لگتا ہے، تو اسے اس کا احساس نہیں ہوتا، لیکن وہ پہلے ہی اس طاقت کو کھو چکا ہوتا ہے جسے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تم سچائی کے حق میں کھڑے رہو اور ہر خوب صورت چیز خود بخود تمہارےپاس پہنچنے کا راستہ تلاش کر لے گی۔ مجھے تم پر فخر ہے اور ہمیشہ رہے گا۔‘

اس واقعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ریحان کے والد رابرٹ واڈرا نے کہا کہ نمائش شروع ہونے سے محض دو گھنٹے پہلے ان کے بیٹے پر تصویریں ہٹانے کے لیے شدید دباؤ ڈالا گیا تھا۔

انہوں نے کہا،’اس پر سب کچھ ہٹانے کے لیے بہت دباؤ تھا اور یہ واقعہ اس کی نمائش شروع ہونے سے محض دو گھنٹے پہلے پیش آیا۔ یہ حیران کن تھا، کیونکہ حکام کو ایک ہفتہ پہلے ہی پی ڈی ایف فائل مل گئی تھی اور انہیں نمائش کے بارے میں جانکاری بھی دے دی گئی تھی۔‘

آخری وقت میں حکام کی مداخلت کو حیران کن قرار دیتے ہوئے رابرٹ واڈرا نے سوال اٹھایا کہ بغیر کسی وضاحت کے حالات کیسے بدل گئے۔ انہوں نےکئی تصویریں ہٹائے جانے کے باوجود نمائش جاری رکھنے کے لیے ریحان کی تعریف کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نمائش کے لیے جن لوگوں کومدعو کیا گیا تھا، وہ تقریب میں پہنچے تھے۔

رابرٹ واڈرا نے کہا کہ بیکانیر ہاؤس راجستھان حکومت کے ماتحت آتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سیاست کو تخلیقی دنیا کے ساتھ نہیں ملانا چاہیے اور جمہوریت میں ہر شخص کو اپنے خیالات کے اظہار کی آزادی حاصل ہونی چاہیے۔

کانگریس کے سینئر رہنما پون کھیڑا نے بھی مبینہ سنسرشپ پر تنقید کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ احتجاجی مظاہروں کو درج کرنے  والی تصویروں کو آخر قابل اعتراض کیوں مانا گیا۔

انہوں نے کہا،’جب ترنگا بھی سنسرشپ کی قینچی سے محفوظ نہیں ہے تو شاید مسئلہ فن میں نہیں، بلکہ حکومت کرنے والوں میں ہے۔ ریحان واڈرا کے فن کی نمائش ’نو آئیڈیا اِز فائنل‘شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے ہی بیکانیر ہاؤس نے ’سیاسی‘ہونے کی بنیاد پر 74فن پارے- یعنی نمائش کا تقریباً نصف حصہ- ہٹا دیا۔ ان تصویروں میں صرف احتجاجی مظاہروں کو درج  کیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک بھی تصویر توہین آمیز یا اشتعال انگیز نہیں تھی۔ تو آخر جرم کیا تھا؟‘