Parliament

کیا خواتین ریزرویشن بل مودی حکومت کا جملہ محض ہے؟

ویڈیو: مودی حکومت نے لوک سبھا اور تمام ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے کے لیے 128 ویں آئینی ترمیمی بل 2023 پیش کیا ہے۔ اس موضوع پر دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کا نظریہ۔

’مودی جی منی پور کو مرہم نہیں، زخم دے رہے ہیں‘

ویڈیو: منی پور میں جاری تشدد پر وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیامنٹ میں بیان کے مطالبے کو لے کر حکمراں این ڈی اے کو اپوزیشن ‘انڈیا’ اتحاد کے ساتھ تعطل سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔ ساتھ ہی اپوزیشن کی جانب سے مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی پیش کیا گیا ہے۔ اس بارے میں کانگریس ترجمان ڈاکٹر گورو ولبھ سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

سینگول کا شکریہ ادا کرنے کے لیے تمل ناڈو سے این ڈی اے کے 25 سے زیادہ ایم پی منتخب کر کے بھیجیں: وزیر داخلہ

مودی حکومت کے نو سال پورےہونے پر بی جے پی کی جانب سے چلائی جا رہی ایک مہم کے تحت ویلور میں وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ نئی پارلیامنٹ میں ‘سینگول’ کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرنے کے لیےریاست کے لوگ وہاں سےآئندہ لوک سبھا انتخابات میں این ڈی اے کے 25 ایم پی منتخب کریں۔

نائب صدر اور وزیر قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر

بامبے لائرز ایسوسی ایشن نے عدالت عظمیٰ میں دائر اپنی درخواست میں کہا ہےکہ نائب صدر جگدیپ دھن کھڑ اور مرکزی وزیر قانون کرن رجیجو نے آئین میں ‘عدم اعتماد’ کا اظہار کرتے ہوئےاس کے ادارے یعنی سپریم کورٹ پر حملہ کرکے آئینی عہدوں کے لیے اپنے آپ کو نااہل ثابت کر دیا ہے۔

سال 2018 سے دلتوں پر حملے کے تقریباً 189000معاملے درج کیے گئے: مرکز

پارلیامنٹ میں ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجئے کمار مشرا نے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چار سالوں میں دلت کمیونٹی کے خلاف جرائم کے کم از کم 189945معاملے درج کیے گئے ہیں۔

جمہوریت پر حملہ ہو رہا ہے، کسی اپوزیشن لیڈر کو ایوان میں بولنے نہیں دیا جا رہا: مہوا موئترا

ٹی ایم سی ایم پی مہوا موئترا نے کہا ہے کہ گزشتہ تین دنوں میں لوک سبھا اسپیکر اوم بڑلا نے صرف بی جے پی کے وزراء کو بولنے کی اجازت دی اور پھر پارلیامنٹ کو ملتوی کردیا، انہوں نے اپوزیشن کے کسی بھی رکن کو بولنے کی اجازت نہیں دی۔ اسی طرح کے الزامات لگاتے ہوئے کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے بھی بڑلا کو خط لکھا ہے۔

نائب صدر جگدیپ دھن کھڑ کے حالیہ تبصروں کے پس پردہ مقاصد کیا ہیں؟

نائب صدر جگدیپ دھن کھڑ نے کیسوانند بھارتی کیس کے فیصلے کے قانونی جواز پر سوال اٹھایا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ پارلیامنٹ کو آئین میں ترمیم کرنے کا خودمختار حق ہونا چاہیے، چاہے یہ آئین کے بنیادی ڈھانچے اور اصولوں کی خلاف ورزی ہی کیوں نہ ہو۔

حکومت نے پارلیامنٹ میں کہا – رام سیتو کے وجود کا کوئی حتمی ثبوت نہیں ہے

راجیہ سبھا میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت جتیندر سنگھ نےبتایا کہ سیٹلائٹ تصاویر میں جزیرہ اور چونا پتھر والے اتھلے کنارے نظر آتے ہیں، لیکن انہیں ‘حتمی طور پر’ پل کی باقیات نہیں کہا جاسکتا۔

مودی حکومت منظم طریقے سے عدلیہ کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے: سونیا گاندھی

کانگریس پارلیامانی پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی نے پارٹی کی پارلیامانی پارٹی کی میٹنگ میں مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزراء اور اعلیٰ آئینی عہدوں پر فائز لوگوں کے عدلیہ پر تبصرے مناسب اصلاحات تجویز کرنے کی کوشش نہیں، بلکہ عوام نظروں میں عدلیہ کی ساکھ کو کم کرنے کی کوشش ہیں۔

توانگ تصادم: اسٹیٹس کو سے چھیڑ چھاڑ  کرنے کی چین کی یک طرفہ کوشش، فوج نے ان کو واپس لوٹنے پر مجبور کیا: وزیر دفاع

اروناچل پردیش کے توانگ میں ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان جھڑپ کے بعد وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پارلیامنٹ میں کہا کہ اس معاملے کو چینی فریق کے ساتھ سفارتی سطح پر اٹھایا گیا ہے۔ اس جھڑپ میں کوئی بھی ہندوستانی فوجی ہلاک نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی شدید طور پر زخمی ہوا ہے۔

چھ دسمبر: جرم اور ناانصافی کی جیت

ویڈیو: 400 سال پرانی بابری مسجد کا انہدام ملک کی سیاست کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا ہے۔ اس انہدام کے 30 سال مکمل ہونے پر اس بارے میں دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

کیا نیو انڈیا میں ہونے والے آزادی کے جشن میں جواہر لعل نہرو کی کوئی جگہ نہیں ہے

ہندوستان کی آزادی کے 75 سال کا جشن منانے کے لیے جاری ‘آزادی کے امرت مہوتسو’ کے سرکاری ذرائع ابلاغ میں ملک کے موجودہ اور واحد ‘محبوب لیڈر’ کا ہی تذکرہ کیا جا رہا ہے اور ان ہی کی تصویریں نظر آ رہی ہیں۔

پارلیامنٹ میں اب ’جملہ جیوی‘، ’وناش پرش‘، ’تانا شاہ‘ اور ’تڑی پار‘ جیسے لفظ  پر پابندی

پارلیامنٹ کے مانسون سیشن سے ٹھیک پہلے لوک سبھا سکریٹریٹ نے ‘غیر پارلیامانی لفظ2021’کے عنوان سے ایسے الفاظ اور جملوں کا ایک نیا مجموعہ تیار کیا ہے، جنہیں ‘غیر پارلیامانی اظہار’ کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ اس قدم پر اپوزیشن نے کہا ہے کہ مودی حکومت کی سچائی کو ظاہر کرنے والے تمام الفاظ اب ‘غیر پارلیامانی’ مانے جائیں گے۔

سیڈیشن پر پابندی بجا ہے، لیکن عدالتوں کو حکومت کے جابرانہ رویوں کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے

اس بات کا امکان ہے کہ سیڈیشن کے جلد خاتمہ کے بعد صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں ،حزب اختلاف کے رہنماؤں کو چپ کرانے اور ناقدین کو ڈرانے کے لیے ملک بھر کی پولیس (اور ان کے آقا) دوسرے قوانین کے استعمال کی طرف قدم بڑھائے گی۔

سپریم کورٹ نے قانون پر نظر ثانی تک سیڈیشن معاملوں کی کارروائی پر روک لگائی

سپریم کورٹ کی ایک خصوصی بنچ نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ مرکز اور ریاستی حکومتیں کسی بھی ایف آئی آر کو درج کرنے، جانچ جاری رکھنے یا آئی پی سی کی دفعہ 124 اے (سیڈیشن) کے تحت زبردستی قدم اٹھانے سے تب تک گریز کریں گی، جب تک کہ اس پر نظر ثانی نہیں کر لی جاتی ۔ یہ مناسب ہوگا کہ اس پر نظرثانی ہونے تک قانون کی اس شق کااستعمال نہ کیا جائے۔

کارپوریٹ کمپنیاں سوشل میڈیا کے ذریعے جمہوریت کا گلا گھونٹنے کا کام کر رہی ہیں

بی جے پی نے اب اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ملک سال بھر انتخابی بخار میں مبتلارہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ہر دوسرے دن ہیجانی مسائل پیدا کیے جاتے ہیں، اور ایک بحث لوگوں پر زبردستی مسلط کی جاتی ہے۔ یہ حجاب پہننے کا مسئلہ ہو سکتا ہے، مسلمان تاجروں کا ہندو عبادت گاہوں کے قریب دکانیں کھولنا یا پھر 1990 میں کشمیری ہندوؤں کے اخراج پر بننے والی فلم کے اوپر گفتگو۔

کرمنل پروسیجر (آئیڈنٹٹی) بل پارلیامنٹ میں پیش، اپوزیشن نے کہا – یہ سخت اور غیر قانونی ہے

کرمنل پروسیجر (آئیڈنٹٹی) بل 2022 کی منظوری کے بعد کسی بھی مجرم یا ملزم کی شناخت کے لیے اس کے بایولاجیکل سیمپل، فنگر پرنٹس، پیروں کے نشان اور دیگر ضروری نمونے لینے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس ڈیٹا کو 75 سال تک محفوظ رکھا جاسکےگا۔

کیا تفرقہ انگیز مواد کی وجہ سے ہی فیس بک نے رعایتی شرح پر بی جے پی  کے اشتہارات لگائے

بی جے پی حامی اور پولرائز کرنے والے اس کے مواد نے فیس بک کے الگورتھم پر سستی شرح پر اشتہارات حاصل کرنے میں مدد کی، جس کی وجہ سے بی جے پی کی رسائی میں میں غیرمعمو لی اضافہ ہوا۔

انتخابی سیاست میں سوشل میڈیا کمپنیوں کی منصوبہ بند مداخلت پر پابندی عائد کی  جائے: سونیا گاندھی

لوک سبھا میں وقفہ صفر کے دوران کانگریس صدرسونیا گاندھی نے الجزیرہ اور دی رپورٹرز کلیکٹو کی فیس بک الگورتھم سے متعلق رپورٹس کا حوالہ دیا، جن میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ بی جے پی مخالف سیاسی جماعتوں کے مقابلے سستی شرحوں پر سوشل میڈیا کمپنی کو اشتہارات دے رہی اور اپنا پروپیگنڈہ کر رہی تھی۔

فیس بک اشتہارات معاملہ: فیس بک نے بی جے پی کو کانگریس کے مقابلے سستی شرحوں پر زیادہ ووٹروں تک پہنچنے میں مدد کی

سستی شرحوں پرفیس بک نے ہندوستان میں اپنے سب سے بڑے سیاسی کلائنٹ – بھارتیہ جنتا پارٹی کو کم لاگت والے سیاسی اشتہارات کے ذریعے زیادہ ووٹروں تک پہنچنے میں مدد کی۔

فیس بک پر بی جے پی کے لیے اشتہار دینے والے گمنام ایڈورٹائزر کون ہیں؟

فیس بک نے کئی سروگیٹ ایڈورٹائزر کو خفیہ طور پر بی جے پی کی پروپیگنڈہ مہم کو فنڈ کرنے کی اجازت دی،جس کے باعث بنا کسی جوابدہی کے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پارٹی کی رسائی کو ممکن بنایا گیا ۔

ریلائنس کی مالی اعانت سے چلنے والی فرم نے فیس بک پر بی جے پی کی فرضی اور مسلمان مخالف مہم کو آگے بڑھایا

خصوصی رپورٹ: مکیش امبانی کی ملکیت والی ریلائنس کی مالی اعانت سے چلنے والی کمپنی نے 2019 کے عام انتخابات اور کئی اسمبلی انتخابات کے دوران فیس بک پر خبروں کی شکل میں بی جے پی کے حق میں ایسے اشتہارات چلائے جو پروپیگنڈہ اور فرضی نیریٹو سے بھرے ہوئے تھے۔

الیکشن کمیشن اور میڈیا کے دوستانہ سلوک کے سہارے انتخابی ضابطوں کو انگوٹھا دکھاتے نریندر مودی

عوامی نمائندگی ایکٹ کےمطابق ووٹنگ ختم ہونے سے پہلے کے 48 گھنٹے میں کسی بھی شکل میں انتخابی مواد کی نمائش پر پابندی عائد ہے، اس کے تحت ووٹر پر اثر ڈالنے والے ٹیلی ویژن یا کسی اور میڈیم کا استعمال نہیں کیا جا سکتا، حالاں کہ وزیر اعظم مودی نے قانون کو بالائے طاق رکھ کر اپنے من کا کام کیا۔

آئین سازی کے دوران سوشلسٹ پارٹی کا لہجہ الگ کیوں تھا؟

دسمبر 1946 میں جب آزاد ہندوستان کے لیےآئین سازی کی مشق شروع ہوئی اور دستور ساز اسمبلی کی تشکیل ہوئی تو کانگریس سوشلسٹ پارٹی کے رہنماؤں نے یہ کہتے ہوئےاس مجوزہ دستور ساز اسمبلی کا بائیکاٹ کیاکہ یہ ‘ایڈلٹ فرنچائز’ یعنی بالغ حق رائے دہی کی بنیاد پر منتخب اسمبلی نہیں ہے۔

مقتدرہ جماعت نہ صرف ہیٹ اسپیچ پر خاموش ہیں، بلکہ اس کو بڑھاوا بھی دے رہے ہیں: جسٹس نریمن

سپریم کورٹ کے سابق جج روہنٹن نریمن نے لاء کالج کے ایک پروگرام میں کہا کہ اظہار رائے کی آزادی سب سے اہم انسانی حق ہے، لیکن بدقسمتی سے آج کل اس ملک میں نوجوان، طالبعلم، کامیڈین جیسےکئی لوگوں کی جانب سےحکومت کی تنقیدکیے جانے پر نوآبادیاتی سیڈیشن قانون کے تحت معاملہ درج کیا جا رہا ہے۔

رام مندر کی تحریک آزادی کی جدوجہد سے بڑی تھی: وشو ہندو پریشد

وی ایچ پی کے جوائنٹ جنرل سکریٹری سریندر جین نے کہا کہ ملک کو سیاسی آزادی1947میں ملی لیکن مذہبی اور ثقافتی آزادی رام مندر کی تحریک کے ذریعے حاصل ہوئی۔ جین نے یہ بھی کہا کہ چندے کی مہم نے پورے ملک کو ساتھ لاکر بتایا کہ صرف رام ہی ملک کو متحد کر سکتے ہیں۔ سیکولر سیاست نے صرف ملک کو تقسیم ہی کیا ہے۔

لوگ آزادی سے سانس لے سکیں، اس لیے یو اے پی اے اور سیڈیشن قانون کو رد کرنا چاہیے: جسٹس نریمن

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس روہنٹن نریمن نے کہا کہ شاید یہی وجہ ہے کہ ان جابرانہ قوانین کی وجہ سےبولنے کی آزادی پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔اگرآپ ان قوانین کے تحت صحافیوں سمیت تمام لوگوں کو گرفتار کر رہے ہیں، تو لوگ اپنے دل کی بات نہیں کہہ پائیں گے۔

وزارت داخلہ نے دہلی میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار لوگوں کے نام بتانے سے کیوں انکار کیا

گزشتہ دنوں لوک سبھا میں وزیرمملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے ‘عوامی مفاد’کا حوالہ دیتے ہوئے دہلی پولیس کی جانب سے درج یو اے پی اےمعاملوں کی جانکاری دینے سےمنع کردیا۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس بارے میں ساری جانکاری عوامی طور پر دستیاب ہے۔ یہ بھی قابل غور ہے کہ دہلی میں اس سخت قانون کے تحت گرفتار 34 لوگوں میں اکثر مذہبی اقلیت ہیں۔

جموں وکشمیر: 2019 سے یو اے پی اے کے تحت 2300 سے زیادہ لوگوں پر کیس، لگ بھگ آدھے ابھی بھی جیل میں

اس بیچ مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ 2019 میں یو اے پی اے کے تحت 1948 لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور 34 ملزمین کو قصوروار ٹھہرایا گیا۔ ایک اور سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ 31 دسمبر 2019 تک ملک کی مختلف جیلوں میں478600قیدی بند تھے،جن میں144125 قصوروار ٹھہرائے گئے تھے جبکہ 330487 زیر سماعت و 19913 خواتین تھیں۔

رافیل سودا: فرانس میں جانچ کے حکم کے بعد اپوزیشن  نے اٹھائی ملک میں جانچ کی مانگ

رافیل سودے کو لےکر فرانس کے ایک جج کوسونپی گئی جانچ کو لےکراپوزیشن نے مرکز کی مودی حکومت کو نشانے پر لیا ہے۔ فرانسیسی ویب سائٹ میڈیا پارٹ نے گزشتہ دو مہینوں میں اس سودے سے متعلق ممکنہ جرائم کو لےکر کئی خبریں شائع کی تھیں، جس کے بعد جانچ کےحکم دیے گئے ہیں۔

فرانس: میکروں-مودی کو صدمہ، ہندوستان کے ساتھ ہوئے رافیل سودے کی جانچ کے حکم

پیرس کی ویب سائٹ میڈیا پارٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داسو ایوی ایشن نے انل امبانی گروپ کے ساتھ پہلا ایم او یو 26 مارچ 2015 کو کیا تھا۔اس کے دو ہفتے بعد ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے 126 رافیل طیاروں کےسودے کومنسوخ کرتے ہوئے 36 وطیاروں کی خریداری کے فیصلے کاعوامی اعلان کیا تھا۔

وزیر اعظم مودی نے اپنے آنسوؤں کو سیاست کی قلابازیوں میں کیوں بدل دیا ہے

نریندر مودی کواقتدارسنبھالے ساڑھے چھ سال ہو چکے ہیں اور اس دوران وہ لگ بھگ اتنی ہی بار رو چکے ہیں۔ حالانکہ یہ ان کی سیاست ہی طے کرتی ہے کہ ان کے آنسوؤں کو کب بہنا ہے اور کب سوکھ جانا ہے۔

سال 2016-2019 کے دوران یو اے پی اے کے تحت 5922 لوگوں کو گرفتار کیا گیا: سرکار

راجیہ سبھا میں مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ جی کشن ریڈی نے بتایا کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے تازہ ترین اعدادوشمارکےمطابق سال2019 میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیے گئےافراد کی کل تعداد 1948 ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2016 سے 2019 کے دوران قصوروار ثابت ہوئے افراد کی تعداد132 ہے۔

سی بی ایس ای: دہلی میں دلت طلبا کی بورڈ اگزام  فیس 50 روپے سے 2100 روپے تک کیسے بڑھی؟

اس سال دہلی کے مختلف اسکولوں میں سی بی ایس ای نے اگلے سال کے لیےاگزام رجسٹریشن فیس اکٹھا کرنا شروع کر دیا، جو دلت طلبا کے لیے اوسطاً 2000 روپے سے زیادہ ہے۔ پچھلے سال دہلی سرکار نے یہ فیس معاف کر دیا تھا، لیکن اس سال سرکار نے ہاتھ پیچھے کھینچ لیے ہیں۔

سال 2016-18 کے بیچ یو اے پی اے کے تحت 3005 معاملے درج، صرف 821 کیس میں چارج شیٹ داخل: سرکار

سرکار نے پارلیامنٹ میں یہ جانکاری بھی دی کہ سال 2017 اور 2018 میں ملک بھر میں 1198 لوگوں کواین ایس اےکے تحت حراست میں لیا گیا۔ مدھیہ پردیش میں این ایس اے کے تحت سال 2017 اور 2018 میں سب سے زیادہ لوگوں کو حراست میں لیا گیا۔ اس کے بعد اتر پردیش کا نمبر ہے۔